پرائیویٹ سکول یا لوٹ مار
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں۔ کاغذ کا ایک صفحہ ہو جس کو سمر ٹاسک کا نام دیا گیا ہو اور آپ کو کہا جائے جناب اس کے 600 روپے دے دیجیے۔ جی بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے۔ کوالٹی تعلیم حاصل کرنا اب اسان نہیں رہا۔ میں اکثر کہتا ہوں۔ اب آپ اپنے بچوں کے لیے ڈگری خرید رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنے دور کے تعلیمی نظام اور موجودہ تعلیمی نظام کا موازنہ کریں تو اپ کو زمین اسمان کا فرق نظر آئے گا۔ ہمارے دور کا تعلیمی نظام بڑا سہل اور خرچ نہ ہونے کے برابر تھا ایک جوڑا کپڑوں کا جس کو ملیشیا کا کپڑا کہتے تھے۔
ایک کپڑے کا بستہ ہوتا تھا جس میں چند کتابیں ایک سلیٹ اور ایک تختی ہوا کرتی تھی۔ اس وقت غریب امیر ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی انا شروع ہو گئی پرائیویٹ سکول آنا شروع ہو گئے پرائیویٹ سکولوں نے پینٹ شرٹ کا رواج نکال دیا۔ بس پھر کیا تھا دیکھا دیکھی لوگوں کا پرائیویٹ سکولوں کی طرف رجحان ہونے لگا۔ اخراجات بڑھنے لگے پرائیویٹ سکولوں میں بھی مقابلے کا رجحان پیدا ہو گیا۔ جو زیادہ امیر تھے ان کے لیے بڑے نام کے سکول بن گئے جو درمیانے امیر تھے ان کے لیے درمیانے درجے کے پرائیویٹ سکول بن گئے اور جو امیر نہیں تھے لیکن ان کی مائیں چاہتی تھیں کہ ہمارے بچے بھی پینٹ شرٹ والے سکول میں جائیں ان کے لیے بھی گلی محلوں میں پرائیویٹ سکول کھل گئے۔
ایسے سکولوں کی حالت ایسی ہے جیسے میں اکثر کہتا ہوں۔ جب پڑھانے والی میٹرک پاس ہوں گی اور ان کی تنخواہ دو یا تین ہزار روپے ماہانہ ہوگی تو کیا وہ آپ کے بچے کو علامہ اقبال بنائیں گی۔ پرائیویٹ سیکٹر کے ان سکولوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کو اپنا کاروبار بنا لیا۔ سکولوں کے اندر ٹک شاپ کھل گئی ہیں۔ اندر ہی سٹیشنری سٹور بھی کھل گئے یہاں تک کہ کاپیاں کتابیں بھی اندر سے ہی ملنا شروع ہو گئی۔ جیسے ہمارا بجلی کا بل اتا ہے اسی طرح ایسے ایسے پیسے بٹورنے کے ہتھکنڈے بنا دیے گئے۔
والدین کے لیے اپنے بچوں کو تعلیم دینا ناممکن بنا دیا گیا ہر سکول نے اپنے اپنے واٹس ایپ گروپ بنا بنا لیے ان گروپس میں ما سوائے والدین کی اذیت کے اور کچھ نہیں فلاں تاریخ کو فیس جمع کرانی ہے۔ سمر ٹاسک لے جائیے اینول فنڈ دے دیجیے سٹیشنری چارجز جمع کرائیے۔ فیئر ویل پارٹی کے چارجز جمع کرائیے۔ نئی ٹوپی نیا بیچ لے جائیے۔ بس عجب تماشا ہے یہ تعلیم کے ساتھ گھناؤنا کھلواڑ ہے۔ ایسے والدین جن کے بچے دو سے زیادہ ہیں ان کے لیے اب پرائیویٹ سیکٹر میں تعلیم حاصل کرنا اور بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔
والدین جائیں تو جائیں کہاں اخباری رپورٹ کے مطابق اگر میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنی ہے۔ تو اس وقت کم از کم ڈیڑھ کروڑ اخراجات پاس ہونے چاہیے۔ اسی طرح انجینئرنگ کی تعلیم بھی اسان نہیں ہے اب بچوں کو تعلیم دینا بھی ایک طرح کی سرمایہ کاری ہے۔ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ متاثر سفید پوش طبقہ ہوا ہے۔ جو معاشرے میں اپنا بھرم بھی رکھنا چاہتا ہے لیکن اس کے پاس وسائل بھی محدود ہیں اخر میں میرا ذاتی تجربہ یہ ہے اگر آپ کے وسائل نہیں ہیں تو آپ کو اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے گورنمنٹ سیکٹر کا رخ کرنا چاہیے۔
یقیناً موجودہ دور میں گورنمنٹ سیکٹر میں بچوں پر سخت محنت کی جا رہی ہے اور سکول انتظامیہ کی کڑی نگرانی بھی کی جا رہی ہے اور اگر آپ کے وسائل ہیں تو پھر بچوں کو معیاری تعلیم دیں اور کوشش کریں ان کو ٹیکنیکل تعلیم کی طرف لے کر جائیں۔ اس طرح ہمارے ملک میں ہنر مند افراد زیادہ پیدا ہوں گے اور ان کے لیے کام کرنے کے مواقع بھی زیادہ میسر ہوں گے۔ دیگر ان کی مانگ بیرون ملک بھی کافی زیادہ ہے۔ ہنر مند تعلیم کی طرف رجحان میٹرک کے بعد ہی کر لینا چاہیے یہی عصر حاضر کا تقاضا ہے۔



https://sannahf00.substack.com/p/title-the-education-conundrum?r=njoz3
https://sannahf00.substack.com/p/title-the-education-conundrum?r=njoz3