اندلس کی تاریخ اور اہمیت


یورپ کے انتہائی جنوب مغرب میں 582، 860 مربع کلومیٹر پر پھیلا۔ جزیرہ نما آئبیریا ( Iberian Peninsua ) واقع ہے جو موجودہ اسپین اور پرتگال کے علاوہ شمالی فرانس کے کچھ علاقے پر مشتمل ہے جنوب اور مشرق میں اس کی سرحدیں بحیرہ روم اور شمال اور مغرب میں بحر اوقیانوس سے ملتی ہیں۔ اس کے شمالی حصے میں کوہستان پیرینیز (Pyrenees) ہے جو اسے یورپ سے منسلک کرتا ہے جنوب میں افریقہ کا شمالی ساحل اس کے قریب پڑتا ہے دوسری صدی عیسوی سے یہ جزیرہ نما رومن سلطنت کے زیر تسلط آ گیا (رومن تسلط سے پہلے جزیرہ نما کے مشرقی اور جنوبی ساحلوں پر فونیشین، کارتھیج (موجودہ تیونس) اور یونان نے تجارتی بستیاں قائم کی تھیں ) ۔

رومن آئبیریا جزیرہ نما کو ”ہسپانیہ“ کہتے تھے جس سے اس کا نام ”اسپین“ پڑ گیا۔ 5 ویں صدی عیسوی میں مغربی رومن سلطنت کے زوال پر اس کے دوسرے کئی علاقوں کی طرح اسپین بھی جرمن قبائل کے نرغے میں آیا۔ اور یہاں جرمن قبیلے ”وسی گوتھ“ نے تسلط حاصل کر کے بادشاہت قائم کر لی۔ دمشق کے اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک ( 711 تا 750 ) کے دور میں اس کے شمالی افریقہ کے گورنر ”موسی بن نصیر“ کے زیر سرپرستی طارق بن زیاد نے اسپین (جس کو عرب اندلس کہتے تھے ) پر قبضہ کرنے کا آغاز کیا۔

711 میں طارق نے وسی گوتھ بادشاہ راڈرک (Roderic) کو شکست دی اگلے سال موسی بن نصیر بھی مزید فوج کے ساتھ اسپین پہنچا اور 718 تک زیادہ تر اسپین مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا اور مزید مغربی جانب بڑھ کر فرانس کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا مگر 732 میں شمالی فرانس میں تورز (Tour) کے مقام پر مغربی جرمنک فرانکس قبیلے کے بادشاہ ”چارلس مارٹل“ کے ہاتھوں شکست کھانے سے ان کی مغربی جانب پیش قدمی رک گئی۔ 750 تک اندلس امیہ خلافت کی ولایت (صوبہ) رہا۔

عباسیوں کے ہاتھوں امیہ خلافت کا خاتمہ ہونے پر عباسی حکمرانوں کے تحت آ گیا مگر 756 میں ایک اموی شہزادے ”عبدالرحمان اول“ نے اسپین میں عباسی گورنر کو ہٹا کر آزاد اموی امارات قائم کر لی۔ قرطبہ (Cardoba) کو دارالحکومت بنایا جو جلد بحیرہ روم کے خطے کا ایک بڑا ترقی یافتہ شہر بن گیا۔ 9 ویں صدی تک قرطبہ کے حکمران اپنے لیے امیر یا سلطان کا لقب استعمال کرتے تھے اور بغداد کے عباسیوں کی خلافت کے مقابلے کوئی دعوی نہیں کیا۔

10 ویں صدی کے اوائل میں قرطبہ کی امارت کو سیاسی انتشار کا سامنا ہوا۔ تاہم 912 میں عبدالرحمان سوم نے برسراقتدار آ کر نہ صرف اندلس میں اموی اقتدار کو بحال کیا بلکہ اسے شمالی افریقہ کے مغربی حصے تک بڑھایا۔ مصر کے فاطمی حکمرانوں ( جنہوں نے خلافت بغداد کے متقابل اپنی الگ خلافت بنا لی تھی) سے حملے کے خطرے کے پیش نظر عبدالرحمان سوم نے 929 میں خلیفہ کا لقب اختیار کر کے اندلس میں اپنی خلافت قائم کردی عبدالرحمان سوم کے 49 سال طویل دور ( 912 تا 961 ) میں اندلس نے تجارتی اور علمی ترقی کے ساتھ شاندار تعمیرات کیے جس میں محلات، قلعوں اور متعدد مساجد کے علاوہ قرطبہ کی شاندار جامع مسجد شامل ہے۔

اس کے دور میں قرطبہ مغربی یورپ کا بہت اہم علمی مرکز تھا جو اس کے جانشین ”حکم ثانی“ کے دورِ خلافت ( 961 ء تا 976 ء) میں عالمگیر شہرت اِختیار کر گیا تھا اس کی قائم کردہ لائبریری میں مختلف علوم و فنون پر مشتمل کئی لاکھ کتب موجود تھیں عبدالرحمان سوم اور حکم ثانی کے بعد کچھ عرصے تک قرطبہ خلافت میں استحکام رہا مگر خلیفہ ”ہشام دوم“ کو تخت سے اتارنے پر شروع ہونی والی خانہ جنگی ( 1009 تا 1013 ) کے باعث خلافت برائے نام رہ گئی اندلس متعدد طائفہ (چھوٹی چھوٹی راج دھانیوں ) میں تقسیم ہو گیا جس کو طوائف املوکی دور کہا جاتا ہے 1031 میں خلافت قرطبہ کا باضابطہ خاتمہ ہو، گیا۔ نتیجتاً 33 طائفے قائم ہوئے۔ جن میں بعض کو زیادہ طاقتور طائفوں نے ضم کیا

سرقسطہ (Zaragoza) ، آشبیلیہ (Saville ) بطلیوس (Badajoza) اور طلیطلہ (Toledo بڑے طائفے تھے۔ باہمی برسرپیکار یہ طائفے ایک دوسرے کے خلاف شمالی اسپین کے عیسائی ریاستوں سے عسکری امداد طلب کرتے جو اس کے عوض بھاری خراج لیتے۔ 1080 کی دہائی میں عیسائی ریاست ”قستیلا“ (Castile) کے حکمران ”الفانسو ششم“ بڑا خطرہ بن گیا 1085 میں اس نے طلیطلہ (Toledo) پر قبضہ کر لیا تو طائفہ حکمرانوں نے مراکش کے مرابطین (Almoravid) سلسلے کے بربر حکمران ”یوسف بن تاشفین“ 1090 تا 1106 سے مدد طلب کی۔

جس نے اندلس آ کر الفانسو ششم کو شکست دی۔ پھر 1090 میں طائفہ حکمرانوں کی نا اتفاقی سے مایوس ہو کر اندلس پر بذات خود قبضہ کرنے کی ٹھان لی اور 1094 تک ”سرقسطہ“ کے سوا سارے طائفہ راجدھانیوں کا الحاق کرایا۔ یوں اسپین شمالی افریقہ (مراکش) کے مرابطین بادشاہت کے تحت آ گیا۔ 1147 میں شمالی افریقہ میں ایک دوسرے بربر قبیلہ کے عبدالمومین نے المورید کا تختہ الٹ کر

موحدین ”( Almohad) کے نام سے نیا شاہی سلسلہ قائم کیا۔ جس سے اندلس میں طوائف الملوکی کا ایک دوسرا دور شروع ہوا تو عیسائی بادشاہتیں حالات سے فائدہ اٹھا کر پھر سے جنوبی اندلس کی طرف توسیع کرنی لگیں اس پر الموحد حکمران نے مداخلت کر کے اندلس پر تسلط جما لیا۔ ایک الموحد بادشاہ یعقوب المنصور نے 1195 میں قستیلا (Castile) کے الفانسو ہشتم پر فتح حاصل کی مگر کچھ سال بعد الفانسو ہشتم نے پاپائے روم“ اینوسینٹ سوم ”سے اندلس کے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کا فتوی اور اجازت لے کر شمالی اسپین کے عیسائی ریاستوں کا متحدہ لشکر بنا لیا۔

1212 میں موحدین فوج کو اشبیلیہ کے قصبے العقاب ( Las Navas) میں شکست دے دی جس سے اندلس پر ان کا تسلط کمزور پڑ گیا۔ 1228 میں بالآخر موحدین حکمران اندلس سے دستبردار ہو کر نکل گئے۔ جہاں سیاسی خلا کے باعث طائفہ امارتوں کا ایک اور سلسلہ امڈ آیا۔ جن کو پرتگال۔ قستیلا اور اراگان کے عیسائی حکمران بتدریج فتح کرنے لگے۔ 1236 میں قرطبہ اور 1248 میں آشبیلیہ پر قبضہ کر لیا جبکہ بعض مسلمان شہری ریاستیں 1260 کے دہائی تک قستیلا کی باج گزار حیثیت میں قائم رہیں اندلس میں آخری مسلم راجدہانی غرناتا (Graneda) تھی جو 1230 میں“ محمدبن الحمر ”نے قائم کی تھی اور اس کے خاندان بنو نصر کے تحت اگلے ڈھائی صدیوں تک محفوظ رہ کر علم و فن اور تہذیب و تمدن کا مرکز رہی 1469 میں“ قستلا ”کی ملکہ“ ائزابیلا ”کی ریاست“ اروگان ”کے بادشاہ“ فرڈیننڈ ”سے شادی ہونے کے بعد دونوں عیسائی ریاستوں کا الحاق ہو گیا۔ جنہوں نے 1492 میں اسپین کی اس آخری مسلمان راجدھانی غرناتا پر قبضہ کر کے تمام مسلمانوں اور یہودیوں کو نکال کر اسپین کو ایک متحدہ عیسائی ملک بنا دیا۔ یوں مغربی یورپ میں انگلینڈ اور فرانس کے ساتھ اسپین میں بھی ایک مضبوط قومی ریاست قائم ہو گئی

مسلم اسپین کی علمی اور تہذیبی خدمات اور اہمیت۔ @اگرچہ اندلس میں مسلمان دور حکومت سیاسی لحاظ سے نشیب و فراز پر مبنی رہا مگر اس کے باوجود علمی اور تہذیبی ترقی شاندار رہی۔ مسلمان حکمرانوں کے زیر سرپرستی نہ صرف یونانی علوم و فنون کے ترجمے کر کے انہیں محفوظ کیا گیا بلکہ طب، فلکیات، جغرافیہ، تاریخ، فلسفہ، علم نباتات، زوالوجی کیمیا، حساب، جہاز رانی آبپاشی۔ آرٹ، تعمیرات وغیرہ میں قابل قدر اضافے کیے گئے۔ اندلس میں اگرچہ علوم و فنون کا بڑا اور اہم مرکز اموی دور خلافت میں قرطبہ رہا ہے تاہم اس علاوہ کئی دوسرے شہر (غرناتا اور طلیطلہ وغیرہ) بھی بڑے علمی مرکز رہے جہاں کے تعلیمی اداروں میں یورپ بالخصوص فرانس اور اٹلی سے طالب علم آتے تھے۔

اندلس میں مختلف علمی اور تہذیبی شعبوں کے نامور ماہرین شمس الدین قرطبی (مفسر) الزہراوی (سرجن) ، ابن باجہ، ابن عربی اور ابن رشد (مفکر ) یحیی ابن السمینہ۔ الزرقالی اور البطروجی (ماہرینِ فلکیات) ابن خلدون ( تاریخ دان اور ماہر عمرانیات) ابن الہیثم (طبیب) جیسی شخصیات شامل ہیں۔ جدید دور اور بالخصوص جدید یورپ کے فکری اور تہذیبی ارتقا میں اندلس (مسلم اسپین) کی علمی تخلیقات کا اہم حصہ ہے یورپ میں 14 ویں صدی میں شروع ہونی والی نشاتہ الثانیہ کی اہم تحریک کی بنیاد مسلم اسپین کا علمی اور تہذیبی ورثہ بنا۔ اہل مغرب جدید مغربی فلسفہ کے ضمن میں اندلس کے ابن رشد اور فلسفہ تاریخ اور عمرانیات میں ابن خلدون کی خدمات اور اہمیت کے معترف ہیں

Facebook Comments HS