بجٹ 2024-25: انکم ٹیکس میں مجوزہ اضافے کے بعد آپ کی تنخواہ سے کتنا ٹیکس کٹے گا؟

محمد صہیب - بی بی سی اردو


tax
گذشتہ روز جب وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی طویل بجٹ تقریر میں انکم ٹیکس کی اصطلاح پہلی بار آئی تو پاکستان میں تنخواہ پر گزر بسر کرنے والے تمام ہی افراد ہمہ تن گوش ہوئے۔

تاہم وزیرِ خزانہ صرف یہی کہہ کہ آگے بڑھ گئے کہ ’انکم ٹیکس سلیب ریٹس میں رد و بدل کیا گیا ہے‘ جس سے یہ تاثر ملا کہ شاید کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں کی گئی۔

یہ معاملہ اصل میں کتنا غیر معمولی ہے یہ اس وقت واضح ہوا جب وزارتِ خزانہ نے گذشتہ رات اپنی ویب سائٹ پر فنانس بل 2024-25 شائع کیا جس میں نہ صرف ٹیکس سلیب ریٹس میں ردوبدل کی تفصیلات درج تھیں بلکہ سلیب بھی تبدیل کیے گئے تھے۔

پاکستان میں سرکاری ملازمین جو کچھ دیر پہلے حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں 25 فیصد تک کے اضافے کو ایک ’بہترین سرپرائز‘ قرار دے رہے تھے ٹیکسز میں اس اضافے کے بعد یہ سوچ رہے ہیں کہ تنخواہوں میں سارا اضافہ تو ٹیکس میں اضافے سے تقریباً ختم ہی ہو گیا۔

ایک سرکاری ملازم جن کی تنخواہ میں اس بجٹ میں 20 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، نے اس حوالے سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’ویسے تو ہماری تنخواہ میں 11 ہزار کا اضافہ ہونا ہے لیکن ٹیکس میں اضافہ کے بعد یہ صرف 1500 رہ جائے گا۔‘

’اپنی طرف سے انھوں (حکومت) نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری کہ تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ کر دیا لیکن جو اصل میں اضافہ کیا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔‘

ادھر نجی اداروں میں کام کرنے والے افراد بھی ٹیکسوں میں اس مجوزہ اضافے کے بارے میں خاصے پریشان ہیں جو ان کی تنخواہوں کو مزید گھٹا دے گا۔

اگر آپ گذشتہ روز کسی وجہ سے ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے تفصیلات نہیں جان پائے تو درج ذیل معلومات آپ کو اپنے انکم ٹیکس کا حساب لگانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

tax

تنخواہ دار طبقے کے نئے مجوزہ سلیبز کیا ہیں؟

رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی کُل ٹیکس سلیب چھ ہی ہیں تاہم چار سلیبز اور ان کے ریٹس میں تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے مجوزہ سلیبز کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

  • پہلا سلیب: تنخواہ چھ لاکھ روپے سالانہ
  • دوسرا سلیب: تنخواہ چھ لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ
  • تیسرا سلیب: تنخواہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 12-24 لاکھ تھا)
  • چوتھا سلیب: تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 24-36 لاکھ تھا)
  • پانچواں سلیب: تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 36-60 لاکھ تھا)
  • چھٹا سلیب: تنخواہ 41 لاکھ سے زیادہ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 60 لاکھ سے زیادہ تنخواہ والے افراد کے لیے تھا)

واضح رہے کہ 30 جون تک رواں مالی سال ہے جبکہ یکم جولائی 2024 سے اگلا مالی سال شروع ہو گا۔

tax

تنخواہوں پر ٹیکس کے نئے ریٹس کیا ہیں؟

تنخواہوں کے نئے سلیب کا جائزہ لینے کے بعد آئیے جانتے ہیں کہ نئے ریٹس کیا ہیں۔ اس سال پانچ سلیبز کے ریٹس میں تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔

  • پہلے سلیب میں ایسے افراد شامل ہیں جن کی تنخواہ چھ لاکھ روپے سالانہ ہے اور ان پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔
  • دوسرا سلیب ایسے افراد کا ہے، جن کی سالانہ آمدن چھ لاکھ سے زیادہ مگر 12 لاکھ تک ہے۔ ایسے افراد کو چھ لاکھ سے زیادہ آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔ (یہ رواں مالی سال میں ڈھائی فیصد تھا)
  • تیسرا سلیب سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ کی آمدن والے افراد کے لیے ہے۔ ان کے لیے 30 ہزار فکسڈ ٹیکس ہو گا جبکہ اس کے علاوہ 12 لاکھ سے زائد کی آمدن پر 15 فیصد ٹیکس لگے گا۔ (یہ رواں مالی سال میں 15 ہزار فکسڈ اور 12 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 12.5 فیصد تھا)
  • چوتھا سلیب ان افراد کے لیے ہے جن کی سالانہ تنخواہ 22 لاکھ سے زیادہ اور 32 لاکھ تک ہے۔ انھیں سالانہ ایک لاکھ 80 ہزار فکسڈ اور 22 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 25 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ (یہ رواں مالی سال میں ایک لاکھ 65 ہزار فکسڈ اور 24 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 22.5 فیصد تھا)
  • پانچواں سلیب 32 لاکھ سے 41 لاکھ کی سالانہ آمدن والے افراد کے لیے ہے، جنھیں چار لاکھ 30 ہزار فکسڈ ٹیکس اور 32 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 30 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ (یہ پہلے چار لاکھ 35 ہزار فکسڈ ٹیکس اور 36 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 27.5 فیصد تھا)
  • چھٹا سلیب 41 لاکھ سے زائد آمدنی والے تنخواہ دار طبقے پر سات لاکھ فکسڈ انکم ٹیکس اور 41 لاکھ سے زائد آمدن پر 35 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا۔ (یہ پہلے دس لاکھ 95 ہزار فکسڈ اور 60 لاکھ سے زائد آمدن پر 35 فیصد تھا)
govt

آپ کا ٹیکس کتنا بڑھے گا؟

  • اگر آپ کی آمدن پچاس ہزار روپے ماہانہ ہے تو آپ کو کوئی انکم ٹیکس نہیں دینا ہو گا۔ تاہم اگر یہ آمدن 50 ہزار اور ایک لاکھ روپے ماہانہ کے درمیان ہے یعنی مثال کے طور پر80 ہزار ہے تو آپ کو ماہانہ چار ہزار روپے ٹیکس دینا پڑے گا جو گذشتہ برس دو ہزار تھا۔
  • ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے آمدن کی صورت میں گذشتہ برس آپ کو 7500 روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرنا ہوتا تھا، تاہم اب یہ رقم بڑھ کر 10 ہزار روپے ماہانہ ہو جائے گی۔
  • دو لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں کو گذشتہ برس تک 13750 روپے ماہانہ ٹیکس دینا پڑتا تھا، تاہم اب ان کا سلیب تبدیل ہو گیا ہے اور انھیں 19,166 روپے ماہانہ ٹیکس دینا پڑے گا۔
  • ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدن ڈھائی لاکھ روپے ہے وہ اس سے قبل 25 ہزار روپے ماہانہ ٹیکس کی مد میں دیا کرتے تھے، اب یہ 31666 روپے ماہانہ انکم ٹیکس دیں گے۔
  • تین لاکھ ماہانہ کمانے والے افراد پہلے ماہانہ 36250 روپے انکم ٹیکس دیتے تھے اور اب اس رقم پر ان کا ماہانہ ٹیکس 45833 روپے بنے گا۔
  • ساڑھے تین لاکھ کمانے والوں کا ماضی میں ماہانہ انکم ٹیکس 50 ہزار روپے تھا، جو اب بڑھ کر 61250 روپے ہو جائے گا۔
  • ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدن چار لاکھ روپے ہے وہ اس سے قبل 63750 روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرتے تھے، اب یہ رقم بڑھ کر 78750 روپے ہو جائے گی۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہر ٹیکس امور ذیشان مرچنٹ نے صحافی تنویر ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹیکس کی شرح کو عام فہم انداز میں سمجھا جائے تو ایک فرد جو ماہانہ 75000 روپے کما رہا ہے وہ سال بھر میں 900000 روپے کماتا ہے۔

’وہ موجودہ مالی سال میں ڈھائی فیصد کی شرح سے سالانہ 7500 روپے حکومت کے خزانے میں جمع کرواتا ہے اگلے مالی سال میں پانچ فیصد کی شرح سے 15000 روپے جمع کرانا ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر ظلم کیا ہے کیونکہ یہی شعبہ ٹیکس دیتا ہے اور اسے سب سے زیادہ ٹیکس کا سامنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ لانے میں ناکامی کے بعد اس شعبے پر ٹیکس کا زیادہ نفاذ کر دیا جو پہلے سے ٹیکس دے رہا تھا۔

’جو شرح بڑھائی گئی ہے اس کے بعد تنخواہ دار طبقے کی جیب پر زیادہ بوجھ پڑے گا۔‘

ماہر معاشیات عمار خان نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ جس نے بھی یہ سلیب بنائیں ہیں انھوں نے یہ حساب لگایا ہے کہ ان کے نتیجے میں ٹیکس میں اضافہ کتنا زیادہ ہو گا۔‘

بی بی سی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33385 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments