نظر آئی اک شکل مہتاب میں: میر کا خلل دماغ
ذہنی و نفسیاتی صحت، مکمل صحت کا اہم اور بڑا جزو ہونے کے باوجود سٹگما کا شکار ہے۔ وجہ، گرتی ہوئی نفسیاتی صحت کا غماز، انسانی رویے اور برتاؤ میں اتار چڑھاؤ کا ہونا ہے۔ سائیکارٹری کے شروع سے اینٹی۔ سائیکارٹری مہم کا سایہ بن کر ساتھ چلنا ایک دلچسپ بات ہے۔ ایک مکتبہ فکر کہتا ہے کہ سائیکارٹری ایک چھتری ہے، تمام ایسے انسانی رویوں کے لئے جو معمول سے ہٹ کے ہیں۔ انسانی رویوں کے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائیکارٹری ان تمام لوگوں کو بیماری کے زمرے میں ڈالتی ہے جن کے پاس کوئی غیر معمولی قوت ہوتی ہے۔ کوئی کنکشن یا الہامی کیفیت جو ایک خاص معیار پر انسانی رویوں کو پرکھنے والوں کو سمجھ میں نہیں آتی، بیماری کے زمرے میں ڈال دی جاتی ہے۔
یہ گتھی سلجھانا اتنا آسان نہیں، دو جمع دو چار والا معاملہ نہیں۔ خون میں شوگر کی مقدار بڑھ گئی، انسولین لگائی، کچھ منٹ بعد شوگر لیول واپس نارمل۔ ذہنی و نفسیاتی معاملات اتنے آسان نہیں۔ نارمل اور ابنارمل کا چکر بے حد گمبھیر ہے۔ نہ کیمیائی مادوں کے اتار چڑھاؤ کو مکمل طور پر نفسیاتی امراض کا مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سوچ میں تبدیلی کی بات سے مکمل تصویر بنتی ہے۔ ماحول کا اثر بھی بھی صرف پزل کے کچھ حصوں کے طور پر ہی استعمال ہو سکتا ہے۔
مروجہ پیمانے کے اوپر کی حد کراس کرتا ہوا رویہ یا برتاؤ، ایک علامات کے مجموعے کے ساتھ بیماری کے زمرے میں ڈالنا بطور معالج بے حد آسان ہے۔ کانوں میں آوازیں آنا جو دوسروں کو نہیں آ رہیں، کسی اور قوت کا جسم دماغ اور جذبات کا کنٹرول لے لینا، گمان یقین بن جانا اور جسم میں بے پناہ قوت کا آجانا۔ یہ یقین ہونا کہ کوئی خاص طاقت کوئی خاص کام لینا چاہتی ہے۔ یہ تمام علامات اگر بائی پولر یا شیزوفرینیا کے زمرے میں ڈال دی جائیں تو بہت سے لوگ اختلاف میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مذہبی اسکالر، صوفیا، ادیب شاعر یہاں تک کہ بہت ہائی آئی۔ کیو والے سائنسدان بھی بیماری کی اس چھتری کو اوڑھنے کے بجائے ذہانت، کرم یا وجدان کی بارش میں بھیگنا پسند کریں گے۔
شاعری کی روایت اور پھر اردو شاعری کی روایت زندگی سے ہی عبارت ہے۔ شاعری زندگی اور معاشرے کی عکاس ہی نہیں نباض بھی ہوتی ہے۔ انتہائی ذاتی واردات کی کہانی معلوم ہوتا شعر جگ بیتی کا احوال ہو تو ہی بڑا شعر کہلاتا ہے۔ حسن، درد اور موسیقیت کو ہر زبان میں اچھے شعر کی خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔ انسان رویہ سوچ اور لاشعوری گتھیوں سے مل کر بنتا ہے۔ شاعر کی گرفت رویے پربھی ہوتی ہے اور سوچ پر بھی اور انفرادی اور اجتماعی لاشعور پر بھی۔
ریاضت، گلوکاری کی طرح شاعری کے لئے بھی بنیادی جزو ہے۔ کڑی محنت ہی حروف اور الفاظ کے مجموعے کو وہ رنگ دے ڈالتی ہے کہ وہ عام انسانی کلام سے معتبر ہو جاتا ہے۔ کچھ ناقد، نفسیات دان، ادیب اور شاعر اس تخلیقی عمل کو نیم آسمانی گردانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”وحی سی“ اتر کر ان سے فن پارہ تخلیق کر آتی ہے۔ بحیثیت ایک سکائرٹرسٹ اور ادب اور شاعری کے قاری ایک فہرست سی آنکھوں کے آگے گھومتی ہے جو ہماری کتابوں میں بھی درج ہے۔ ادیب اور شاعر جو نفسیاتی بیماریوں کا شکار رہے۔ ورجینیا وولف، سلویا پلاتھ، مارلن منرو، ارشیل گورکی، شیلے، نپولین بونا پارٹ، اگاتھا کرسٹی، سعادت حسن منٹو، مینا کماری، گرودت اور فہرست ہے کہ تھمتی ہی نہیں۔
ایک مخمصہ جس کی گردان ہم بار بار کریں گے۔ یہ تمام اشخاص اپنے شعبے میں اس اونچائی پر پہنچے جہاں ہزاروں میں سے ایک پہنچتا ہے۔ وہ تخلیقی جوہر تھا جس کو دماغی خلل سمجھا گیا، خاص طور پر شروع میں۔ یا مینک اور سائیکوٹک فیز میں بڑھے ہوئے ڈوپامین نے ان سے شاہکار تخلیق کر آئے۔ ان پر وہ در وا کرائے جو برائے نام نارمل لوگوں پر نہیں ہوتے۔ یا پھر وہ تخلیق کا بیج تھا جس نے انہیں ذہنی مریضوں کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔
بقول جاوید اختر، غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے۔ اب تک عمومی رویہ یہی ہے کہ تخلیق کار چونکہ حساس ہوتا ہے لہٰذا نفسیاتی الجھنوں اور بیماریوں کے ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اردو میں کچھ کام غالب اور اقبال کی شاعری پر اور کچھ منٹو کی نثر پر سکارٹرسٹ حضرات نے کیا ہے مگر زیادہ تر یہ کام نقادوں کے ذمے ہی رہا جو نارمل نفسیات اور جنسیات کی تو جہات پر ادب اور شاعری کو پرکھتے رہے۔ منٹو، عصمت، ممتاز مفتی اور واجدہ تبسم نثر میں، فہمیدہ ریاض نظم میں تنقید نگاروں کا نشانہ بنی رہیں۔ قرۃالعین حیدر اور انتظار صاحب کے ہاں جنس کا نہ ہونا اور کرداروں کی نفسیات کا پروٹو ٹائپ ہونا بھی تنقید نگاروں کا موضوع رہا۔
میر کے کلام کی جہتوں کو کھنگالنا ہمارا مقصد نہیں۔ آہ میر کے کلام کا اہم اور غالب عنصر کیوں ٹھہرا اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں۔ چونکہ میر صاحب رحلت فرما چکے ہیں لہذا ہم ہی مختلف صورتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ایک جواب تو سیدھا سادہ ہے کہ میرا کلام، میری مرضی۔ میر کو زندگی کا یہ زاویہ بھا گیا اور غم و اندوہ کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھ کر انہوں نے اپنا کلام اس سے عبارت کر لیا یا اس سے ایک قدم آگے بڑھیں اور پزل کو مکمل کرنے کی کوشش کریں تو اگلا سوال یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے اس زاویے کو کیوں چنا اور اپنے کلام کو آہ کیوں بنایا۔
ان کی سوچ، شخصیت، ماحول اور تربیت میں ایسا کیا تھا کہ شاعری دل و جان سے اٹھتا ہوا دھواں بن گئی۔ گو بڑا شاعر ذاتی تجربات کو یا تو تخلیقی کام سے الگ رکھتا ہے یا انہیں جگ بیتی بنا ڈالتا ہے۔ ڈپریشن یا میلنکالیا کا بادل کئی دفعہ اس فلٹر کا کام کرتا ہے جو آپ کو ہر شے مغموم اور اداس ہی دکھاتا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل تاریک اور غموں سے بھرپور نظر آتے ہیں۔ اس کے برعکس جب دماغ کے کیمیائی اجزاء بڑھ جاتے ہیں تو حقیقت سے پرے تجربات ہوتے ہیں اور مینیا یا سائیکوسس کا لیبل لگ جاتا ہے۔
18 ویں صدی میں طبیبوں کے پاس یہ لیبل موجود نہیں تھے۔ جنوں کا لفظ سب ابنارمل رویوں کو ڈھانپ لیتا تھا۔ میر کی زندگی کا احوال بہت محدود حالت میں دستیاب ہے۔ ذکر میر میں زمانے بھر کے مصائب اور شورش کا ذکر ہے مگر اپنا حال بے حد مختصر ہے۔ میر کے جنوں کا اپنا احوال صرف ایک پیرے کی صورت میں موجود ہے۔ ناقدین نے کچھ اشعار اور کچھ اس پیرے کی روشنی میں ایک پروٹو ٹائپ بنا کر اس کی گردان کی۔ دستیاب معلومات اور شعروں کی مدد سے ذہنی صحت، شاعری اور تخلیق کے مختلف مسائل کا پزل جوڑنا بے حد مشکل ہے اور ہمارا ایجنڈا بھی نہیں۔ ہم صرف اس کھوج میں ہیں کہ کیا وہ ایک ہی بیج ہے جو تخلیق اور بیماری دونوں کی بنیاد بن سکتا ہے اور میر کے ہاں شاید دونوں صورتوں میں ظاہر ہوا۔
میر نے چونکہ خود واضح طور پر اپنی بیماری کے متعلق لکھا اور پھر ان کے اوپر کام کرنے والوں نے بھی، تو اس کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ ذہنی بیماریوں کو سائنسی حوالے سے دیکھیں تو وجوہات میں سب سے پہلے موروثیت آتی ہے۔ میر کے والد اور دادا کے متعلق ان ڈائریکٹ حوالوں سے اس طرف اشارہ ہے۔ کئی جسمانی بیماریاں بھی نفسیاتی بیماریوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ شراب اور منشیات کا استعمال بھی امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ سوچ کی خرابی بھی بیماری کا موجب بن سکتی ہے یا بیماری کی وجہ سے بھی سوچ خراب ہو سکتی ہے۔
معاشی و سماجی حالات بھی بیماری کی وجہ یا اس کو ظاہر کرانے کا سبب ہو سکتے ہیں۔ میر کی تمام سرگزشت (ذکر میر) کافی ہے، کوئی بھی نفسیاتی بیماری برپا کرنے کے لئے یا بیماری کے سوئے ہوئے بیج کو ماحول فراہم کرنے کے لیے کہ وہ پھل پھول کر ایک تناور درخت بن جائے۔ کچھ کیمیائی اجزاء ذہن کی دنیا میں توازن برقرار رکھتے ہیں۔ گو ذہنی اجزا کو انسولین یا دوسرے ہارمونز کی طرح ناپا نہیں جا سکتا مگر پھر بھی میڈیکل سائنس ان کے اتار چڑھاؤ کو ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کی وجہ ماننے پر متفق ہے۔
کیا انہی اجزا کا ہیر پھیر تھا کہ میر کو چاند میں صورت نظر آتی تھی۔ کیا انہیں اجزاء کی زیادتی نے وہ عظیم الشان شاعری تخلیق کرائی۔ سب سے بڑھ کر کیا ہم آج کے دور میں علاج کے نام پر ان اجزا کی کوالٹی اور کوانٹٹی کم کر کے لوگوں کی تخلیقی اور وجدانی صلاحیتوں کا قلع قمع کر دیتے ہیں۔ یہ سوال اس مضمون میں بارہا مختلف زاویوں سے آئیں گے۔ اس بابت میں یہ ڈسکلیمر ضروری ہے کہ ہمارا مقصد میر کو ذہنی مریض ثابت کرنا یا ان کے جنوں پر سائنسی مہر ثبت کرنا نہیں بلکہ ذہنی بیماریوں کی سائنسی وجہ اور تخلیقی عمل کی تانے بانے جوڑنا یا شاید توڑنا ہے۔
پہلے بات کرتے ہیں میلنکالیا یا ڈپریشن کی۔ کہتے ہیں کہ میلنکالیا اور امید بہترین کمبینیشن ہے، کسی کو بھی زندگی میں آگے بڑھانے کے لئے۔ آہ کی شاعری، میر کا سوز و گداز، غم کی کیفیت اور نہ جانے ایسے کتنے مرکبات شاعری کے طالب علم اوائل عمری سے ہی میر سے منسوب کرتے ہیں۔ کیا اسی کیفیت نے وہ عظیم تخلیقی کام کروایا؟ کیا وہ ڈپریشن کے مریض تھے؟ یہ بیماری بار بار آتی تھی یا ایک ڈستھائمیہ کی کیفیت تھی عمر بھر؟
یا ہم زیادہ جذباتی ہو کر پرانے نقادوں کی طرح شاعری کو آپ بیتی بنانے پر مصر ہیں۔ میر کی زندگی میر کی زبانی دیکھیے۔ دادا کے مزاج کا خلل، تایا کے مزاج کی بے اعتدالی، والد کے ایکسٹریم روئیے۔ پے در پہ ہجرتیں اور مصائب سے بھرپور زندگی جن کا ذکر ذکر میر میں جابجا ہے۔ بیج تو موجود تھا، اس کے لیے فضا سازگار ہو گئی، میلنکالیا کو جب شاعری کا راستہ ملا تو کبھی میر ٹک روتے روتے سو گیا، کبھی عہد جوانی رو رو کاٹا، کبھی رات کو رو رو صبح کیا، کبھی غم کھایا کیے اور لوہو پیا کیے ، کبھی غنچۂ افسردہ ہوئے تو کبھی مردود صبا۔
برسوں عذاب دیکھے، قرنوں صعب اٹھائے
یہ دل حزیں ہوا ہے کیا کیا جفائیں سہ کر
پے در پے بے گھری کا دکھ اس دور میں انفرادی سے بڑھ کر اجتماعی تھا۔ وطن کی سیاسی، معاشی اور معاشرتی صورتحال بیشتر لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرتی تھی اور بار بار کرتی تھی۔
کر میر کے حال پر ترحم
وہ شہر غریب بے وطن ہے
اب اگر طبعی نکتہ نگاہ سے دیکھیں اور کچھ دیر کو فنون لطیفہ اور تخلیقی جوہر کی آنکھ بند کر لیں تو یہ ڈپریشن ہے یا ڈستھائمیا۔ اس میں میر نے ایک بیس لیول کی ٹھیک ذہنی صحت، جس میں خفقان کا گزر نہ ہو کبھی ٹچ کیا یا کوئی حکیمی دوائی، کوئی نسخہ استعمال کیا۔ یہ ڈپریشن اگر تھا اور لاعلاج تھا تو ان کی صحت اور زندگی پر کیا اثر ڈالا۔ شدید ڈپریشن ان کو خود کشی یا حقیقت سے دوری (سائیکوسس) کی طرف تو نہیں لے گیا یا وہ غم کا بیج، وہ میلنکولیا ایک چھلنی بن گیا جس سے چھن کر میر کے الفاظ ایسے شعروں میں ڈھل گئے جن کو دوام حاصل ہو گیا۔ اگر ہم ایک ٹیم کے طور پر ڈھونڈیں تو میر کی شاعری کی بہتر سمجھ کے ساتھ آج کے لوگوں جن کے اندر یہ بیج موجود ہے ان کے درد کی دوا شاید بہتر طریقے سے کر سکیں۔
سائنسی پوسٹ مارٹم جاری رکھیں تو ڈپریشن کی شدت پہلے نہلاسٹک رنگ لیتی ہے، پھر اپنی زندگی سے بیزاری اور اپنی جان کے جانے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔ مکمل خودکشی آخری سیڑھی ہوتی ہے۔ اجڑتی دلی، معاشرتی زوال اور ذاتی غم اس پیکج کو میر کے ہاں مکمل کرتا نظر آتا ہے۔
وقفہ مرگ اب ضروری ہے
عمر کرتے تھک رہے ہیں ہم


