لوک سبھا چناؤ! 240 کا آنکڑہ اور ساجھے داری کی حکومت


بھارت کے ایوان زیریں کے تھکا دینے والے معرکے کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے، 2014 میں 282 اور 2019 میں 303 کی زور دار باری کھیلنے والی مودی جی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اس بار محض 240 سیٹیں ہی جوڑ پائی ہے، جبکہ 543 کے ایوان میں اسے سادہ اکثریت حاصل کرنے لیے کم از کم 272 نشستیں درکار تھیں جبکہ 14 جماعتی اتحاد این ڈی اے نے مجموعی طور پر 293 سیٹیں جیتی ہیں۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے بعد ریکارڈ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے والے نریندر مودی نے گزشتہ دونوں ادوار کے دوران لینڈ سلائیڈ وکٹری کے بل بوتے پر بنائی طاقتور سرکار کے تحت اپنے الیکشن مینی فیسٹو کے کئی سنگ میل عبور کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

بھارت کی مرکزی سیاست میں 1996 سے سرگرم بی جے پی نے 90 کی دہائی میں پہلی مرتبہ اٹل بہاری واجپائی کی سرکردگی میں مخلوط یعنی ساجھے داری کی حکومت بنائی تھی۔ جو صرف 13 دن بعد اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ جس کے بعد 1998 میں این ڈے اے اتحاد نے مرکز میں کامیابی حاصل کی مگر اس بار بھی 13 کے منحوس ہندسے نے واجپائی جی کو محض 13 مہینوں میں ہی چِت کر دیا۔ اس دفعہ جے للیتا کی پارٹی نے بی جے پی سرکار کے پیروں تلے سے اپنی حمایت کا کارپٹ کھینچ لیا تھا اور تحریک عدم پر نمبر شماری کے دوران صرف ایک ووٹ کے فرق سے بی جے پی اتحاد کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا، مگر واجپائی جیسے بلند پایہ سیاست دان نے کسی پر دشنام طرازی کا ایک شبد بولے بنا نتائج کو قبول کر لیا تھا۔

1999 کے الیکشن کے بعد تیسری مرتبہ حکومت بنانے والے واجپائی نے اس مرتبہ اپنے پانچ سال کامیابی سے مکمل کیے اور ساجھے داری کی اس سرکار کو بہترین انداز سے چلانے کے لیے مثالی فہم و فراست اور مشمولہ سیاست کا جادو دکھایا۔ کانگریس کے علاوہ یہ کسی سیاسی اکٹھ کی پہلی کامیاب سرکار تھی جس نے اپنی 5 سالہ مدت پوری کی تھی۔ مذکورہ اتحاد کو کامیابی سے چلانے کا کریڈٹ مکھ منتری! واجپائی صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے اتحادی سرکار کے لیے ایک دلچسپ اصطلاح ”کولیشن دھارما“ وضع کی۔ بھارت کی 80، 90 اور 2000 کی دہائی دراصل ساجھے داری یا کولیشن سپورٹ کے بل پر چلائی جانے والی حکومتوں کی دہائیاں مانی جاتی ہیں۔ جس دوران کانگریس اور مخالف اتحادوں کے مابین دلی کی مرکزی سرکار کی آنکھ مچولی کھیلتی جاتی رہی ہے۔

اتحاد کی حکومت چلانا کسی تنی ہوئی رسی ہر چلنے جیسا دشوار اور صبر آزما کھیل ہے۔ اس دوران مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع رکھنے کے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ 1951 کے پہلے الیکشن سے شروع ہونے والی بھارت کی 73 سالہ جمہوری تاریخ میں سے 32 سال ساجھے داری جبکہ بقیہ 31 سال اکثریتی حکومتوں کا چلن رہا ہے۔ بھارت کی پہلی ساجھے دار حکومت 1977 میں ایمرجنسی کے بعد ہونے والے انتخابات کے بعد وجود میں آئی تھی جو 1979 تک چل سکی۔ جس کے خاتمے کے بعد کسان رہنما چرن سنگھ کی قیادت میں بننے والی حکومت کو اندرا گاندھی کی کانگریس نے اپنی حمایت واپس لے کر محض 23 دن بعد گھر کا راستہ دکھا دیا تھا۔

کولیشن سرکار چلانے کے لیے وسعت فکر اور معاملہ فہمی کی ایک بہترین مثال واجپائی جی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں تلاش کی جا سکتی ہے جب اکھڑ ریلوے منسٹر ممتا بینرجی کو منانے کے لیے وزیراعظم واجپائی خود کولکتہ، ممتا بینرجی کے گھر پہنچے اور وہاں منسٹر صاحبہ کے بجائے ان کی والدہ سے بات چیت کے دوران ان کی بیٹی کے سخت گیر رویے پر جملے بازی سے ناراض اتحادی کو منا لیا۔ اسی تناظر میں ہم پاکستان میں موجودہ صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری کو کولیشن کا گرو مانا جاتا ہے۔ جنہوں 2008 میں گرتی پڑتی حکومت کو اتحادیوں کے ساتھ چلا کر ٹرم پوری کی اور تاریخ رقم کر دی تھی۔

2024 کے الیکشن نتائج نے مودی کے ”چار سو پار“ کے دعوے کو مسترد کر کے پارٹی کی سادہ اکثریت کو بھی کہیں نیچے دھکیل دیا ہے۔ ایوان زیریں میں 240 ووٹوں کی نسبتاً کمزور پوزیشن پر کھڑی بی جے پی، اتحادیوں کے 53 ووٹوں کے ساتھ مطلوبہ نمبرز تو پورے کر لے گی مگر گزشتہ دو ٹرمز کی اکثریت کا خمار مودی جی کے دماغ سے اترتے اترتے، ہی اترے گا۔ اس مشق کے لیے مودی جی کو اپنے سیاسی گرو، آنجہانی واجپائی جی کے سیاسی ویچاروں اور پینتروں کی بہت ضرورت پڑنے والی ہے۔ آنے والے دنوں میں تامل ناڈو کے چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی سی، بہار سے نیتیش کمار کی جنتا دل اور مہا راشٹرا سے شیو سینا سمیت دیگر چھوٹے حامیوں کی بڑی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے مودی صاحب کو بہت زیادہ حوصلے اور تدبر کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔

اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ اور مہا راشٹرا میں پری پرل جائزوں کے بر خلاف کم تر کارکردگی کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی نے ساؤتھ کی ریاستوں میں اپنے سابقہ ووٹ بنک میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے کیرالا سے لوک سبھا کی ایک سیٹ جیت کر ریاست میں اپنا سیاسی اکاؤنٹ بھی کھولا ہے۔ بھارت کے نارتھ کی پارٹی سمجھی جانے والی بی جے پی کو ساؤتھ میں اب تک کوئی پذیرائی نہ ملنے کے باوجود بی جے پی کی سیاسی قیادت اور پولٹیکل ورک فورس نے ہر ممکن ذرائع کو استعمال کر کے اپنا ووٹ بنک بڑھانے پر دن رات محنت کی ہے جو اپنے آپ میں ایک کیس سٹڈی ہے۔

ان ریاستوں کے اینٹی ہندوتوا رجحانات اور متنوع سیاسی لینڈ سکیپ میں، سیکولر لیفٹ ونگ سیاسی جماعتوں اور کانگریس کے ساتھ مسلم اور کرسچن اقلیتوں کی روایتی وابستگی رہی ہے۔ کیرالا میں بی جے پی کے بڑھتے سیاسی اثر و نفوذ کے پیچھے وہاں کام کرنے والے 5000 ہزار سے زائد ہندو دھرم کے پاٹھ شالوں کا بھی ہاتھ ہے، یاد رہے کہ مذہبی تعلیم دینے والے ان اداروں کی یہ تعداد یو پی کے بعد سب سے زیادہ شمار کی جاتی ہے۔

بھارتی الیکشن میں سرگرم سیاسی جماعتوں نے جدید ابلاغی رجحانات اور تقاضوں کے ساتھ ڈیٹا سائنس کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی ضروریات اور مانگوں کے مطابق سیاسی حکمت عملی کو ترتیب دے کر بھارت کے کونے تک اپنی آواز پہنچائی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی کلچر کے برعکس کسی دیدہ نا دیدہ سیاسی کوٹہ سسٹم کا پابند ہو کر گھٹے ہوئے ماحول میں سیاست کرنے کے بجائے اپنے ملک کے حیرت انگیز طور پر متنوع اور وسیع و عریض سیاسی کینوس میں اپنے نظریات اور سیاسی پیش رفت کے رنگ بھرے ہیں۔ جمہوری تسلسل اور سیاسی بلوغت کے اس پڑاؤ پر بھارت کا سیاسی ڈھانچہ ساری دنیا کے لیے ایک انوکھی اور آدھ بدھ مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ مودی جیسا ”لارجر دین لائف“ سمجھا جانے والا سیاسی بازی گر، اپنی مقبولیت اور گزشتہ کامیابیوں کے ساتھ اس بار ساجھے داری یعنی کولیشن سپورٹ پر کھڑی سرکار کو کتنی خوبی سے چلاتا ہے۔ 232 کی مضبوط اپوزیشن کے ساتھ نبردآزما رہتے ہوئے، اپنے سابقہ دو ادوار کی سماجی و معاشی ترقی کے اہداف سے بہتر پرفارمنس دینا، بی جے پی اور نریندر مودی کا اصل امتحان ہو گا۔ 2024 کے انتخابی نتائج نے جہاں بھارت میں میجوریٹیرین ازم کے بڑھتے خطرے کو کم کر کے اکثریت کے بجائے کانسٹیوشنل ازم اور لیجیٹیمسی پر ووٹ کی مہر لگائی ہے وہیں ملک کے روایتی سیکولر انکلوسیو کلچر کو بھی نئی توانائی بخشی ہے۔

پاکستان سمیت پوری دنیا کے جمہوریت پسندوں کے لیے لوک سبھا انتخابات! عوامی پذیرائی اور ووٹ کی طاقت سے نظام اور پالیسیز کو بدل دینے کی درخشندہ مثال پیش کرتے ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن اور پوری حکومتی مشینری نے تاریخ انسانی کی سب سے بڑی انتخابی ایکسرسائز کو کامیابی سے سر انجام دے کر جس بھرپور طریقے سے ڈیڑھ ارب سے زیادہ بھارتیوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں معاونت کی ہے، وہ اپنے آپ میں ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔

اپنے ہمسائے میں اتنی کامیاب جمہوری مشق کو دیکھتے ہوئے ہم پاکستانیوں کو بھی جمہوریت پر بھروسے اور ووٹ کی طاقت پر کامل یقین کے بل پر اپنے سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی۔ اس ضمن میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ، انتخابی نتائج خواہ اکثریتی پارٹی کی حکومت کے حق میں ہوں یا مخلوط سرکار کے، اقتدار بہرحال عوام کی امانت ہے اسے عوامی مینڈیٹ کے مطابق ہی چلایا جانا چاہیے۔ یہی سیاست کا اصل مدعا اور خوبی ہے۔

Facebook Comments HS