پاکستان میں خواجہ سراؤں کا قتل


Sohail Ahmad usa

انیس سال کی عمر خواب دیکھنے کی ہوتی ہے۔ چہرے پر رنگ اترتے ہیں اور آنکھیں مسکراتی ہیں۔ انسان لاکھ چھپائے لیکن تاثرات چہرے پر کھلتے رنگوں کی صورت میں عیاں ہو کر رہتے ہیں۔ مایا کی عمر بھی انیس سال تھی لیکن اس کے چہرے پر منجمد تاثرات انتہائی خوفناک تھے۔ بے بسی، وحشت، خوف اور دہشت اس کے خوبصورت چہرے کو خوف کی علامت بنا رہی تھے۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی پڑی تھیں۔ انیس برس کی مایا کی لاش پولیس کو دریائے کابل کے پاس ملی تھی۔ اسے اس کے اپنے باپ نے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ پولیس نے اس کے والد کو گرفتار کر لیا لیکن مایا کی آنکھوں میں مچلتے خوابوں میں کبھی حقیقت کے رنگ نہ بھرے جا سکے۔

مایا کا اصل نام آفتاب تھا لیکن خدا نے اسے مایا بنا کر پیدا کیا۔ یہ بات نہ تو اس کے والد نے قبول کی اور نہ ہی بھائیوں نے۔ یہ کہانی صرف ایک مایا کی نہیں ہے بلکہ پاکستان میں سیکڑوں خواجہ سراؤں کی یہی کہانی ہے۔ انہیں اپنے ہی گھر سے نفرت کا پہلا سبق ملتا ہے۔ ایک اور خوجہ سرا نرگس نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ بچپن میں ہی اس کے چلنے کے انداز پر اس کا باپ سیخ پا ہو جاتا تھا اور ڈنڈا اٹھا کر مارنے کو دوڑتا تھا۔

ایک روز سکول سے گھر آتے ہوئے وہ اپنے باپ کی دکان کے پاس سے گزر رہی تھی کہ چند اوباشوں نے اسے فزیکل ٹچ کرتے ہوئے جملے کسے۔ یہ منظر اس کے باپ نے دیکھ لیا۔ اس کا خیال تھا کہ باپ ان اوباشوں کو سبق سکھائے گا لیکن اس کے باپ نے بھرے بازار میں اسے ہی تھپڑ رسید کر دیا اور غصہ سے دکان بند کرنے لگا۔ نرگس بھاگتی ہوئی گھر پہنچی، تاہم اس سے پہلے ماں تک یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ اس کا سخت مزاج شوہر آج اپنی ہی اولاد سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑانے گھر آ رہا ہے۔

ماں نے نرگس کی زندگی بچانے کے لیے اسے گھر میں موجود خالہ کے ساتھ فوراً ان کے گھر روانہ کر دیا، جہاں پہلی رات اسے تحفظ کا احساس ہوا۔ وہ اپنے ظالم باپ کے ہاتھوں مرنے سے بچ گئی تھی لیکن دوسرے دن خالہ صورت حال جاننے کے لیے اس کے گھر گئی تو تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے خالو نے زبردستی اسے جنسی درندگی کا نشانہ بنا لیا۔ خالہ گھر لوٹی تو اسے قریبی ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ شیطان صفت خالو تو اسی گھر میں رہا لیکن نرگس کو خالہ نے مزید اس گھر میں رکھنے سے انکار کر دیا۔ جس پر اسے خواجہ سراؤں کے حوالے کر دیا گیا۔ نرگس کا کہنا تھا کہ معاشرہ بہت بعد میں آتا ہے، ہم تو اپنے ہی گھروں میں محفوظ نہیں ہوتیں۔ وہ رشتے جنہیں محافظ سمجھا جاتا ہے وہی یا تو ہمیں قتل کر دیتے ہیں یا پھر ہماری عزت لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان میں تقریباً ہر خواجہ سرا کے دامن سے ایسی ہی خوف زدہ کر دینے والی کہانی لپٹی ہوئی ملے گی۔ عام انسانوں سے قدرے مختلف خدو خال، جسمانی ساخت اور سوچ کے حامل ان شہریوں کو یہ معاشرہ نہ تو رہنے کے لیے کرایہ پر گھر دیتا ہے اور نہ ہی راہ چلتے عزت۔ یہ ملازمت کرنا چاہیں تو کوئی ملازمت دینے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ اگر بالفرض کہیں ملازمت مل بھی جائے تو انہیں ہر طرح کی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں خواجہ سراؤں کو سیکس ورکر، بھکاری اور ناچ گانے تک محدود کیا جا چکا ہے۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک انہیں چھَکا، کیک، شہزادہ اور کھُسرا جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ راہ جاتے طنزیہ نظریں اور رکیک جملے ان کا استقبال کرتے ہیں۔

دوسری جانب اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں ہر سال درجنوں خواجہ سراؤں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ صرف خیبر پختون خواہ میں ہی سال 2015 ءسے 2019 ءتک مجموعی طور پر 63 خواجہ سرا قتل کیے گئے۔ مجموعی طور پر خواجہ سراؤں کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ صوبہ کے پی کے ہی ہے، بدقسمتی سے وہاں صرف خواتین سے ہی اسلامی تعلیمات پر سختی سے عمل درآمد کروایا جاتا ہے۔

2015 میں 26 خواجہ سراؤں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، 2016 ءمیں 22 خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیا۔ 2017 میں 8 خواجہ سرا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، 2018 ءمیں بھی 8 خواجہ سرا قتل ہوئے۔ پولیس کے مطابق سال 2019 میں سوات کے خواجہ سراؤں پر تشدد کے دو مقدمات درج ہوئے سال 2020 میں صرف ایک مقدمہ درج ہوا جبکہ سال 2021 میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا اور سوات پولیس کے پاس 9 مقدمات درج ہوئیں۔ جبکہ 2015 کے بعد خیبر پختونخوا میں 79 تک خواجہ سرا قتل جبکہ 2 ہزار سے زائد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہیں۔ خواجہ سراؤں کا سب سے زیادہ قتل پشاور اور کے پی کے کے علاقوں میں ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق بعض اوقات خواجہ سرا کی طرف سے مقدمات درج ہی نہیں ہوتے کیونکہ یا تو آپس میں صلح ہو جاتی ہے، یا ان افراد سے ڈرنے کی وجہ سے خواجہ سرا پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرواتے۔

آگے بڑھیں تو جنوری 2020 سے جون 2022 تک خواجہ سراؤں کے قتل، ریپ اور تشدد کے ملک بھر میں 82 کیسز سامنے آئے۔ ملک بھر میں اس دورانیے میں 12 خواجہ سراؤں کا ریپ کیا گیا۔ اسلام میں 1، پنجاب میں 3، خیبر پختونخوا میں 8 خواجہ سراؤں کا ریپ کیا گیا۔ اس دورانیے میں 25 خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیا۔ سندھ میں 7، خیبر پختونخوا میں 8، پنجاب میں 9 جبکہ اسلام آباد میں 1 خواجہ سرا قتل کیا گیا۔ ملک بھر میں 39 خواجہ سراؤں پر مختلف قسم کا تشدد کیا گیا۔ ہیومین رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں کم ازکم نو خواجہ سرا افراد غیرت سے متعلق جرائم اور 11 جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔ رواں سال بھی خواجہ سرا غیر محفوظ ہی ہیں اور ان پر تشدد اور قتل کے چار سے پانچ سنگین واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

پاکستان میں خواجہ سراؤں کی تعداد کے حوالے سے بھی خواجہ سراؤں کی تنظیموں کی جانب سے الگ الگ دعوی اور اعداد و شمار دیے جاتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے اگر رواں سال عام قومی انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کو دیکھیں تو ملک بھر سے 3029 خواجہ سرا ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا، 2018 کے انتخابات کی نسبت رجسٹرڈ خواجہ سرا ووٹرز کی تعداد میں 11 سو 16 کا اضافہ ہوا۔ کئی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں اب خواجہ سراؤں کے لیے بہتر اور محفوظ طرز زندگی کے حصول کے لیے کوشاں ہیں تاکہ سماج کے اس پسے ہوئے اور محروم طبقے کو سماجی قومی دھارے میں شامل کر کے مفید شہری بنایا جا سکے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے ہم بھی اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ خواجہ سراؤں میں تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ پنجاب پولیس کے خدمت مراکز میں بھی انہیں تعینات کیا گیا ہے۔ ان کے لیے تعلیمی اداروں میں بھی گنجائش نکالی جا رہی ہے، عوامی سطح پر اگرچہ یہ منزل بہت دور ہے لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستانی خواجہ سرا کیمونٹی ایک محفوظ اور بیلنس کردار کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہو جائے گی، وہیں سماج کو بھی ان کی تذلیل ترک کرنی ہو گی کیونکہ یہ ایسے کیوں ہیں اس کا جواب ان کے اپنے پاس ہوتا تو یہ ایسے نہ ہوتے۔

Facebook Comments HS