سوڈان جنگ میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے ڈرونز کا استعمال: ’ہتھیار بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور بلیک مارکیٹ اب سب کی پہنچ میں ہے‘

عبدالرحمٰن ابو طالب - بی بی سی عربی


ایران اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے سوڈان میں 14 ماہ سے جاری تنازع میں متحارب فریقوں کو ڈرون فراہم کرکے اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہم نے اس دعوے کی پشت پناہی کرنے والے ثبوتوں کا جائزہ لیا ہے۔

12 مارچ 2024 کی صبح سوڈانی حکومت کے فوجی ایک بڑی کامیابی اور اہم فوجی پیش قدمی کا جشن منا رہے تھے۔ آخر کار وہ دارالحکومت خرطوم میں سرکاری نشریاتی ادارے کے ہیڈ کوارٹر پر دوبارہ قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

شہر کے بیشتر حصوں کی طرح یہ عمارت بھی 11 ماہ قبل خانہ جنگی کے آغاز پر نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

فوج کی اس کامیابی اور فتح کے بارے میں قابل ذکر بات یہ تھی کہ ویڈیوز میں دکھایا گیا تھا کہ یہ حملہ ایرانی ساختہ ڈرونز کی مدد سے کیا گیا تھا۔

سوڈان ٹرانسپیرنسی اینڈ پالیسی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر سلیمان بالڈو کے مطابق جنگ کے ابتدائی مراحل میں فوج فضائیہ پر انحصار کرتی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مسلح افواج نے اپنی تمام ترجیحی افواج کو محصور پایا اور زمین پر ان کے پاس لڑنے والی کوئی نہیں تھا۔‘

آر ایس ایف نے سوڈان کے مغرب میں خرطوم اور دارفور کے زیادہ تر حصوں پر زمینی کنٹرول برقرار رکھا جبکہ فوج نے فضا میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔

جنوری 2024 کے اوائل میں ٹوئٹر پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں آر ایس ایف کی جانب سے مار گرائے گئے ایک فوجی ڈرون کو دکھایا گیا۔

ڈچ پیس آرگنائیزیشن پی اے ایکس میں ڈرون کے ماہر اور انسانی تخفیف اسلحہ منصوبے کے سربراہ ویم زویجن برگ کے مطابق اس کا ملبہ، انجن اور دم ایران کے تیار کردہ ڈرون موہجر-6 سے مماثلت رکھتے ہیں۔

موہجر-6 کی لمبائی 6.5 میٹر ہے یہ 2000 کلومیٹر (1240 میل) تک پرواز کر سکتا ہے اور گائیڈڈ فری فال گولہ بارود کے ساتھ فضائی حملے کر سکتا ہے۔

زویجن برگ نے خرطوم کے شمال میں واقع فوج کے وادی سیدنا فوجی اڈے کی سیٹلائٹ تصویر میں ڈرون کے ایک اور ورژن کی نشاندہی کی جو تین دن بعد لی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ڈرونز بہت مؤثر ہیں کیونکہ وہ کم سے کم تربیت کے ساتھ اہداف کی درست نشاندہی کر سکتے ہیں۔‘

موہجر-6 کو مار گرائے جانے کے تین ہفتے بعد آر ایس ایف کی جانب سے مار گرائے گئے ایک اور ڈرون کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔

زوجنبرگ نے اس ڈرون کا موازنہ ایرانی ابابیل-3 ڈرون کے مقامی طور پر تیار کردہ زجیل-3 ڈرون سے کیا۔

زجیل تھری ڈرونز سوڈان میں برسوں سے استعمال ہو رہے ہیں۔ لیکن بی بی سی اور پی اے ایکس کے مشاہدے کے مطابق جنوری میں پہلی بار انھیں اس جنگ میں شامل کیا گیا تھا۔

مارچ میں زویجن برگ نے وادی سیدنا کی سیٹلائٹ تصویر میں لی گئی زجیل-3 کے ایک اور ورژن کی نشاندہی کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سوڈانی فوج کے لیے ایرانی حمایت کا ایک اہم اشارہ ہے حالانکہ سوڈان کی گورننگ کونسل نے ایران سے ہتھیار حاصل کرنے کی تردید کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ڈرون گائیڈڈ گولہ بارود سے لیس ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں ایران کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا کیونکہ یہ ہتھیار سوڈان میں تیار نہیں کیے جاتے۔

دسمبر کے اوائل میں ایرانی کارگو کیریئر قاسم فرس ایئر کا بوئنگ 747 مسافر طیارہ ایران کے بندر عباس ہوائی اڈے سے بحیرہ احمر کی جانب روانہ ہوا اور ریڈار سے غائب ہو گیا۔

چند گھنٹوں بعد سیٹلائٹس نے ملک کے مشرق میں پورٹ سوڈان ہوائی اڈے پر اسی قسم کے ایک طیارے کی تصویر کھینچی، یہاں سوڈانی فوج کے اہلکار اس اڈے پر مقیم ہیں۔

رن وے پر اسی طیارے کی ایک تصویر بعد میں ٹوئٹر پر گردش کرنے لگی۔

سوڈان

’ہتھیار بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور بلیک مارکیٹ اب سب کی پہنچ میں ہے‘

جنوری کے آخر تک یہ پرواز پانچ مرتبہ مزید وہاں گئی، اسی مہینے ایرانی ڈرونز کے استعمال کو دستاویزی شکل دی گئی۔

کشم فرس ایئر کو مشرق وسطیٰ (خاص کر شام میں جو ایران کا اہم اتحادی ہے) میں ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی نقل و حمل کے متعدد الزامات کی وجہ سے امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔

سوڈان کی ایران کے ساتھ فوجی تعاون کی ایک طویل تاریخ تھی مگر سنہ 2016 میں سعودیہ ایران تنازع کے دوران سوڈان نے سعودی عرب کا ساتھ دیا اور یوں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات ختم ہو گئے۔

سوڈان ٹرانسپیرنسی اینڈ پالیسی آبزرویٹری سے تعلق رکھنے والے بالڈو کا کہنا ہے کہ ’بہت سے سوڈانی ہتھیار مقامی طور پر تیار کردہ ایرانی ماڈل کے ہی ورژن تھے۔‘

موجودہ تنازع کے آغاز کے بعد سے سوڈانی حکومت نے تہران کے ساتھ تعلقات بحال کیے ہیں۔

بالڈو کے مطابق ہر فریق کے اپنے مقاصد ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران خطے میں قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر انھیں جغرافیائی سٹریٹجک یا تزویراتی رعایتیں ملتی ہیں تو وہ یقینی طور پر زیادہ جدید اور متعدد ڈرون فراہم کریں گے۔

بی بی سی نے سوڈانی افواج، ایران کی وزارت خارجہ اور کشم فرس ایئر سے ان الزامات پر تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا کہ تنازع میں ایرانی ڈرون استعمال کیے جا رہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

تاہم بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سوڈان کی خودمختار کونسل کے نائب صدر ملک اگر نے کہا کہ ’ہمیں کسی بھی فریق کی جانب سے کوئی ہتھیار نہیں ملتا۔ ہتھیار بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور بلیک مارکیٹ اب سب کی پہنچ میں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

تاہم جنگ کے آغاز میں شواہد سامنے آئے کہ آر ایس ایف نے تجارتی اجزا سے بنے کواڈ کوپٹر ڈرونز کا استعمال کیا ہے، جو 120 ملی میٹر مارٹر گولے گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود تصاویر اور فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج نے ان میں سے کئی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ہتھیاروں کے ماہر برائن کاسٹنر متحدہ عرب امارات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایتھوپیا اور یمن جیسے دیگر تنازعات والے علاقوں میں بھی اپنے اتحادیوں کو یہی ڈرون فراہم کیے ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہوابازی پر نظر رکھنے والے ماہرین نے ایک سویلین طیارے کے فضائی سفر کا مشاہدہ کیا جو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے آر ایس ایف کو ہتھیار لے جا رہا تھا۔

یہ سفر ابوظہبی ہوائی اڈے سے شروع ہوتا ہے نیروبی اور کمپالا ہوائی اڈوں سے گزرتا ہے۔ جس کے بعد سوڈان کی مغربی سرحد سے چند کلومیٹر دور چاڈ کے امدجاراس ہوائی اڈے اور دارفور پر ختم ہوتا ہے۔ یہاں آر ایس ایف کا مضبوط گڑھ موجود ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مقامی ذرائع اور فوجی گروہوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہتھیار لے جانے والی گاڑیاں دارفور اور سوڈان کے باقی حصوں کا سفر کرنے سے پہلے ہفتے میں کئی بار امدجاراس ہوائی اڈے پر طیاروں میں لادھے جانے کے لیے ہتھیار وہاں پہنچاتی ہیں۔

بالڈو کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے سوڈان میں بھی اقتصادی مفادات ہیں اور وہ بحیرہ احمر پر قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بارہا ان پروازوں میں ہتھیاروں بھجوانے کی تردید کی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ انسانی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات ’ملک میں جاری تنازع کا پرامن حل‘ تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

آر ایس ایف نے بی بی سی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

خانہ جنگی میں فریقوں نے مبینہ طور پر جو ڈرون درآمد کیے ہیں وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2005 میں جاری کردہ قرارداد کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت دارفور میں سوڈانی حکومت اور مسلح دھڑوں کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی ہے۔

کاسٹنر کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل کو ذمہ داری لینی چاہیے اور سوڈان میں موجودہ صورتحال، آنے والے قحط کے خدشات اور ہلاک اور بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد پر غور کرنا چاہیے اور فوری طور پر پورے سوڈان پر اسلحے کی جامع پابندی عائد کرنی چاہیے۔

سوڈان کی فضا میں ڈرونز کی موجودگی کے بعد سے زمینی صورتحال جزوی طور پر تبدیل ہوئی ہے۔

سوڈانی فوج کئی مقامات پر اپنے فوجیوں پر عائد محاصرے کو توڑنے میں کامیاب رہی ہے۔

اور آر ایس ایف نے دارالحکومت کے مغرب میں کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹنے میں عافیت جانی ہے۔

بالڈو کے مطابق یہ تبدیلی ایرانی ڈرونز کی بدولت آئی ہے۔

آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ (اکلڈ) کے مطابق ایک سال سے زائد عرصے کی جنگ کے بعد اب تک کم از کم 16650 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تقریبا 90 لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جو کسی بھی دوسرے موجودہ تنازعے کے مقابلے میں اب تک سب سے زیادہ تعداد ہے۔

عبد اللہ مکہوی وہ شخص ہیں کہ جو اب مصر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ گذشتہ جولائی میں جنوبی خرطوم میں تھے، تو وہ اس وقت موت سے بال بال بچ گئے تھے، جب ان کے بقول آر ایس ایف کے ڈرون نے اُن پر حملہ کیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں ’میں جلدی سے گھر میں داخل ہوا، اور ہم نے کنکریٹ کی چھت والے کمرے میں پناہ لی۔۔۔ میری والدہ، چار بہن بھائی اور میں بستر کے نیچے چھپ گئے۔‘

مکاوی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈرون شیل کے اگلے کمرے پر گرنے کی آواز سنی، جس کی چھت لکڑی کی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم اُس کمرے میں ہوتے کہ جہاں ڈرون نے حملہ کیا تھا تو ہم سب کے سب مارے جاتے۔ ڈرون حملے میں ہمارا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔‘

2024 کے آغاز میں تنازعہ دارالحکومت سے باہر نئے علاقوں تک پھیل گیا۔ شمالی، مشرقی اور وسطی سوڈان میں پہلی بار ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔

مصر فرار ہونے سے پہلے مکاوی نے اپنے اہل خانہ کو پورٹ سوڈان میں چھوڑ دیا کیونکہ یہ ایک محفوظ مقام تھا۔ لیکن اب انھیں ڈر ہے کہ ڈرون وہاں بھی ان تک پہنچ سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سوڈانی عوام جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ بس اب جنگ ختم ہو۔ اگر بیرونی ممالک فریقوں کو ہتھیاروں دینا بند کر دیں تو یہ جنگ ختم ہو سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33319 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments