پاک پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کو ناپاک قرار دے دیا گیا

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ قومی خطاب میں کہا کہ وہ بہت جلد سرکاری سطح پر کفایت شعاری کی مہم شروع کر رہے ہیں ایسی تمام وزارتیں اور حکومتی ادارے جو عوام کی خدمت کرنے کے بجائے قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں اور کرپشن میں بھی ملوث ہیں ان کو ختم کر دیا جائے گا۔ یہاں تک تو یہ بیان بڑا خوش آئند ہے، ویسے تو پاکستان کا کوئی ادارہ اور کوئی ذی روح کرپشن سے مبرا نہیں۔ لیکن اس ضمن میں انہوں نے جس قدیم قومی ادارے کا نام حوالے کے طور پر لیا وہ بڑا حیرت انگیز ہے اس ادارے کا نام ہے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ جس کا مخفف ہے ”“ پی۔ ڈبلیو۔ ڈی ”یہ ادارہ آج سے 168 سال پہلے 21 اپریل 1854 کو ایسٹ انڈیا کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی نے قائم کیا تھا۔ اس وقت سے یہ ادارہ ہندوستان میں سڑکوں، عمارتوں، آبپاشی، ریلوے سے متعلق تعمیراتی منصوبوں اور مفاد عامہ کے کام انجام دینے کا ذمہ دار بن گیا۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد اس ادارے کے نام کے ساتھ لفظ“ پاک ”کا سابقہ کا بھی لگا دیا گیا اور یہ پاک پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کہلایا جانے لگا دلچسپ امر یہ ہے کہ متحدہ ہندوستان میں پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کے قیام سے پہلے یہ تمام امور“ ملٹری بورڈ آف امپیریل گورنمنٹ ”انجام دیتا تھا لیکن اس ضمن میں ملٹری بورڈ کی کارکردگی نہایت مایوس کن تھی۔ اس غیر تسلی بخش کارکردگی کی وجوہات جاننے کے لیے حکومت کی جانب سے 1850 میں ایک کمیشن قائم کیا گیا کمیشن کے ارکان نے متفقہ طور پر یہ رائے قائم کی کہ پبلک ور کس کا کام فوج نہیں کر سکتی کیونکہ ان کی تربیت ان خطوط پر نہیں ہوتی۔ اس لیے لارڈ ڈلہوزی نے یہ نیا ادارہ پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کے نام سے 1854 میں قائم کیا۔ اس ادارے کے ذمے سڑکوں، پلوں، حکومتی عمارات، مفاد عامہ کی عمارات کی تعمیر جیسے اسکول، ہسپتال اور نہروں کی تعمیر وغیرہ کا کام لگایا گیا اس سے پہلے ان تمام کاموں کو ملٹری بورڈ انجام دیتا تھا اب اس ادارے کا سربراہ چیف انجینیئر بنا دیا گیا اور پورا ادارہ پروفیشنلز کے سپرد کر دیا گیا۔ پنجاب کا نہری نظام جس پر آج ہم فخر کرتے ہیں اس عظیم منصوبے کی تعمیر اسی ادارے کی زیر نگرانی انجام دی گئی تھی۔ برطانوی راج کے زمانے میں متحدہ ہندوستان میں سڑکوں اور پلوں کا جال بچھا دیا گیا یہ سب پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کا ہی کارنامہ ہے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد اس ادارے کو کئی ایک بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ موجودہ پاکستان میں مہاجرین کا ایک سیل رواں داخل ہو گیا۔ جن کے لیے رہائش کا انتظام نہ تھا کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت قرار دے دیا گیا۔ لیکن یہاں سرکاری عمارات نہ ہونے کے برابر تھیں پاک پی۔ ڈبلیو۔ ڈی نے ہنگامی بنیادوں پر تعمیرات کا آغاز کیا۔ سرکاری ملازمین کے لیے مارٹن کلیٹن اور جہانگیر روڈ پر کوارٹر تعمیر کیے گئے۔ فیڈرل کیپیٹل ایریا کے نام سے اس وقت کے کراچی کے شمالی علاقے میں تین سو سے زیادہ کثیر المنزلہ عمارات کا ایک سلسلہ تعمیر کیا گیا جس میں تمام بنیادی سہولیات پانی، بجلی اور سیورج سسٹم وغیرہ سب فراہم کی گئیں۔ یہ تمام بستیاں آج بھی قائم ہیں یہ الگ بات ہے کہ اس وقت جس طرح پاکستان بدحال ہے ان بستیوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے اس کے ساتھ ساتھ کراچی میں سرکاری دفاتر کی عمارتیں بھی تعمیر کی گئیں۔ ہسپتال اور اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر بھی شروع کی گئی پاک پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کی بدقسمتی کا آغاز ایوبی آمریت کی ابتدا میں شروع ہو گیا ایوب خان کو کراچی شہر پسند نہیں تھا اس نے اپنی ذاتی پسند کی بنیاد پر کراچی سے دارالحکومت کی منتقلی کا منصوبہ بنایا اور ایک نئے شہر ”اسلام آباد“ کی تعمیر کی داغ بیل ڈالی۔ نئے شہر کی تعمیر کرنا پاک پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کا استحقاق تھا لیکن ایوب خان نے 1960 میں ایک نیا ادارہ ”کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی“ کے نام سے قائم کر دیا اور اس کا سر براہ اپنے ایک دست راست جنرل آغا محمّد یحییٰ خان کو بنا دیا۔ یعنی ایوب خان نے ایک سچے سابق برطانوی فوجی ہونے کا حق ادا کر دیا اور 106 سال پہلے جو کام اس کے ادارے سے چھین کر سویلین اور پروفیشنلز کے سپرد کر دیا گیا تھا دوبارہ اپنے ادارے کے ایک ساتھی کے حوالے کر دیا۔ فوجی حکمرانوں کے حوصلے اور بڑھے انہوں نے 1966 میں ایک اور ادارہ ”فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن“ کے نام سے قائم کیا۔ جس نے سڑکوں اور ڈیم وغیرہ کی تعمیر کے سرکاری کام سنبھال لئے اور اس ادارے کا سربراہ عام طور پر حاضر سروس جرنیل ہوتا ہے۔ 1978 میں پاکستان کے تیسرے فوجی آمر ضیا الحق نے ایک اور ادارہ ”نیشنل لاجسٹک سیل“ کے نام سے قائم کیا جس کا مقصد ملک میں ذرائع نقل و حمل کو بہتر بنانا تھا اس ادارے کے قیام سے ریلوے کا مال گاڑیوں کا کاروبار بالکل ٹھپ ہو گیا۔ بعد ازاں اس ادارے نے بھی سڑکوں کی تعمیر کے ٹھیکے حاصل کرنے شروع کر دیے۔
2001 میں پاکستان کے چوتھے آمر مشرف نے ایک اور ادارہ ”نیشنل ہائی وے اتھارٹی“ قائم کر دیا اس کا بنیادی مقصد تو قومی شاہراؤں کی دیکھ بھال مرمت اور انتظام و انصرام چلانا تھا لیکن انہوں نے بھی دھڑا دھڑ سڑکیں اور سرنگیں تعمیر کرنے کے ٹھیکے لینے شروع کر دیے اس ادارے کا سربراہ بھی عام طور پر جرنیل ہی ہوتا ہے۔ 2007 میں کراچی کے علاقے شیر شاہ میں این۔ ایچ۔ اے کا ایک نو تعمیر شدہ پل اچانک گر گیا اور سات افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عدالت عظمی کی ہدایت پر 2010 میں اس حادثے کے ذمہ داران پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ جس میں این۔ ایچ۔ اے کے سابق چیئرمین ریٹائرڈ میجر جنرل فرخ جاوید بھی شامل ہیں۔ لیکن اس مقدمے کا آج تک فیصلہ نہیں ہو سکا کہا جاتا ہے کہ ملزمان اتنے با اثر ہیں کہ وہ آج تک عدالت کے سامنے پیش ہی نہیں ہوئے۔
وزیر اعظم نے کہا بد عنوانی، نالائقی اور نا اہلی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وہ کہتے ہیں سسٹم کو کھو کھلا کرنے والوں کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ سسٹم کو پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کے اہل کاروں نے کھوکھلا نہیں کیا بلکہ اس ادارے کو برباد کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اس ادارے کو کام ہی نہیں کرنے دیا۔
شاہی خرچوں کو روکنے کا ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریلوے کے افسران یا پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کے اہلکار پراڈو اور ڈالوں میں گھومتے نظر نہیں آتے۔ ایف۔ ڈبلیو۔ او، این۔ ایل۔ سی اور این۔ ایچ۔ اے کے کرتا دھرتا بڑی بڑی گاڑیوں میں بندوق برداروں کہ جلوس میں اکثر سڑکوں پر سفر کرتے نظر آ جائیں گے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دو دو تنخواہیں لیتے ہیں ایک فوجی خدمت کے عوض اور دوسری ان اداروں سے۔ وزیراعظم صاحب خدارا حقائق سے چشم پوشی نہ کریں ہر شخص جانتا ہے ایف بی آر، واپڈا اور ماتحت عدالتیں کرپشن کا گڑھ ہیں اور آپ اس ادارے کو مورد الزام ٹھہرا رہے جس کے دانت ساٹھ کی دہائی کی ابتدا میں ہی نکال دیے گئے تھے۔ سایوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیں اور کرپشن کے حقیقی ذمہ داروں کی بیخ کنی کا بندوبست کریں آپ کے اس نمائشی اور نا عاقبت اندیشانہ فیصلے سے سات ہزار خاندان نان نفقے سے محروم ہو جائیں گے۔
.


بالکل، ایف ڈبلیو او، این ایل سی اور این ایچ اے بھی کرپٹ ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پی ڈبلیو ڈی کرپٹ نہیں ہے۔ اس ادارے نے بھی بدعنوانی اور عوامی وسائل کے ضیاع کی داستانیں رقم کررکھی ہیں۔ دوسرے اداروں کی مثال دے کر اور مظلوم سویلین ادارے کی بے بسی کا جھانسہ دے کر اس کے لیے ہمدردی کی فضا پیدا کرنا غلط ہے۔ مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ ایف ڈبلیو او، این ایل سی، اور پی ڈبلیو ڈی تینوں بند کیے جائیں۔ این ایچ اے کے کنویں سے جرنیل نکال کر پھینکا جائے اور مناسب تطہیر کے بعد اسے پروفیشنلز کے حوالے کیا جائے اور پروفیشنل صرف سول انجنئیر نہیں ہیں جو ملک کے ہر تکنیکی ادارے کو خاندانی جاگیر سمجھتے ہیں۔ سپر سپیشلائزیشن کا زمانہ ہے۔ سول انجنئیرز کو بھی مافیا والی سوچ سے نکلنا ہوگا۔ ہر محکمے کا کام متعلقہ ڈسپلن والے انجنئیرز اور دیگر پروفیشنلز کےحوالے ہونا چاہیے۔ ویسے بھی سول انجنئیرز نے سارے سرکاری سیٹ اپ میں کہیں بھی خود کو بیوروکریٹس سے کم کرپٹ ثابت نہیں کیا۔ ہر پروجیکٹ میں سول انجنئیراپنا حصہ اینٹھ کر سہولتکار بنتا ہے تو کرپشن ممکن ہوتی ہے۔ پی ڈبلیو ڈی مظلوموں کا قافلہ نہیں، راہزنوں کا ٹولہ ہے۔
براہ مہربانی ایف ڈبلیو او اور این ایل سی اپنے کھاتے اور اپنا کماتے ہیں۔ یہ سرکاری خزانے پر بوجھ نہیں ہین۔ ان کے تمام لوگ پروفشنل انجینئر یا لاجسٹکس کے ماہرین ہیں۔ ان میں کرپشن ہوبھی رہی ہوگی تو وہ قومی خزانے کا ضیاع نہیں ہوگا یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ آغا خان ہسپتال میں کوئی کرپشن کرے یا ایئر بلیو میں۔
فوج، فوجی اداروں اور فوجیوں سے آپ کی پرخاش اپنی جگہ مناسب ہوتا ہے اگر اعتراض اتنے درست ہوں کہ دوسرا انگلی نہ اٹھاسکے۔
1947 سے پہلے پی ڈبلیو ڈی کیا کرتا تھا مجھے اس سے کوئی دل چسپی نہیں وہ دور بذات خود ایک بہتر مگر بدترین آمریت یا غلامی کا دور تھا بس فرق یہ ہے کہ وہ آقا بھی اپنے غلاموں کے ساتھ عمومی انصاف روا رکھتے تھے۔
آزادی کے بعد پی ڈبلیو ڈی کے اہم کامون میں سرکاری دفاتر اور اہل کاروں کے لئے سرکاری رہائش کی تعمیر تھا۔ ساتھ ریکارڈ رکھنا کہ کون سی رہائش کس سرکاری ملازم کے پاس ہے اور اس ست کرایہ کا حصول۔ اسی طرح اگر کوئی سرکاری دفتر کرایہ کی عمارت میں ہے تو اسکے کرائے کی ادائیگی اور ان تمام آمدنیوں اور خرچے سے بچنے والی رقم سے موجودہ عمارات کی مینتی نینس۔
آپ کا یہ دعوی کہ اسلام آباد کی تعمیر پی ڈبلیو ڈی کا استحقاق تھی تو کیا آپ اس کا کوئی ثبوت پیش کرسکتے ہیں۔ 1947 کے بعد قائد آباد اور جوہر آباد جیسے نئے شہر آباد کئے گئے تو ان کی ٹائون پلاننگ اور آبادکاری کے لئے ایک نیا ادارہ تھل ڈیولیپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی تھی۔ کیا یہ علاقے پی ڈبلیو ڈی نے آباد کئے تھے۔
کراچی میں نئی آبادیاں اور ان کی پلاننگ کے لئے (نئی سرکاری عمارات کی تعمیرنہیں) پی ڈبلیو ڈی کو یہ موقع نہیں دیا گیا کیون کہ یہ ان کا کام نہیں تھا۔ لانڈھی کورنگی کھوکھراپار جیسے علاقے آباد ہوئے جہاں پی ڈبلیو ڈی کی کوئی عمارت شاید ہی موجود ہو۔
1957 میں کراچی امپروومنٹ اور واٹر بورڈ کو ملاکر اسکندر مرزا نے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی کے ڈی اے قائم کی۔ بہت بعد میں ایل ڈی اے بنی۔ اگر ایسا تھا تو پی ڈبلیوڈی کو کیوں یہ موقع نہیں ملا۔
یہی وجہ ہے کہ 1959 میں جب اسلام آباد کے لئے ایوب نے پلاننگ شروع کیں تو کام کی اہمیت سمجھتے ہوئے ایک نیا ادارہ ٹائون پلاننگ سے لے کر تعمیرات تک اس کے حوالے کردیا گیا یعنی کیپٹل ڈیلولپمنٹ اٹھارٹی یا سی ڈی اے۔
ہم پاکستانیوں کے دماغ میں ایک بات آج تک نہیں بیٹھ سکی کہ کسی بھی ادارے کی سب سے بڑی پوسٹ پر ضروری نہیں کہ کوئی ایسا شخص بیٹھے جو اس ادارے سے متعقہ ڈگری یا تعلیم بھی رکھتا ہو۔ اگر ایسا ہو تو اچھا ہے لیکن نہ ہو تو بھی کوئی قیامت نہیں آجاتی کیوں کہ یہ انتظامی سیٹ ہوتی ہیں۔
ٹھیک ہے اگر پمز یا آغا خان ہسپتال کا ہیڈ ایک داکٹر ہو لیکن یقین مانیں اگر ایک تجربہ کار انجینیئریا پائلٹ یا فوجی کو بھی لگادیں تو ہسپتال چلتا رہا گا کیوں کہ اس نے فیصلہ سازی کرنی ہے مریضوں کا آپریشن نہیں۔
پاکستان میں SECP نے قوانین بنائے ہیں جس کی رو کسی بھی ادارے کا سربراہ کم از کم سادہ ڈگری رکھتا ہو ساتھ کچھ انتظامی تجربہ۔ انٹر پاس شخص بھی قابل قبول ہوتا ہے اگر بہت اچھا انتظامی تجربہ رکھتا ہو۔
کچھ عرصے پہلے ایئر مارشل ارشد ملک کی پی آئی اے میں تعیناتی پر اعتراض اٹھایا گیا جو سپریم کورت میں آکر اسی لئے دم توڑ گیا کیوں کہ قوانین یہی کہتے ہیں جو میں نے لکھا۔
اس کی ایک کلاسیک مثال مشرف دور میں پی آئی اے کا سربراہ چوہدری احمد سعید کو لگایا گیا جو محض انٹر پاس تھے اور سروس جوتے بناتے تھے۔ ہم ہنسیں گے لیکن اس شخص کا دور واحد وقت تھا جب پی آئی اے نے منافع دکھایا تھا۔
ویسے تو ایوب جنگل کا بادشاہ تھا مگر اس نے اگر یحیی کو سی ڈی اے کا انچارج لگادیا تھا تو کیا مشکل یا طنز کی بات ہے۔ کیا اسلام آباد اس وقت صحیح طرح سے تعمیر نہیں ہوا تھا یہ تو بہت بعد میں سیاسی حکومتوں نے ضیا کے بعد اس خوب صورت شہرکا بیڑا غرق کیا۔ جیسے کراچی کے ساتھ کیا گیا۔
1947 کے بعد سے سرنگیں، پل اور سڑکیں بنانا پی ڈبلیو ڈی کا کبھی کام نہیں رہا۔ 1963 میں جب پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات مکمل صفر کرلئے تو ضرورت محسوس ہوئی کہ چین اور پاکستان کو سڑک کے ذریعے ملایا جائے۔ قراقرم ہائی وے بنانے پر دونوں ملکوں نے آمادگی ظاہر کی۔ چین کی طرف سے چینی فوج کے ماہرین اس کام کے لئے مقرر ہوئے۔ چونکہ یہ علاقہ اور سڑک انتہائی حساس ہونی تھی اس لئے پاکستان کی طرف سے بھی ایک نیا ادارہ KKH کو تعمیر کرنے کے لئے قائم کیا گیا۔ جس کے ماہرین نے چینی اداروں کے ساتھ مل کر ایک معجزہ کردکھایا۔ پاکستان کی طرف سے اس ایوبی ادارے کا نام فرنتیئر ورکس آرگنائزیشن رکھا گیا تھا۔ کیا FWO نے کوئی برا کام کیا تھا اگر اس کی تعمیر میں پاکستان آرمی کے سپاہی اور افسران نے بھی اپنی جانیں دیں۔
اس سڑک کی تعمیر کے بعد اس ادارے کے لوگوں کو پہاڑی علاقے میں سڑکیں پل اور سرنگیں بنانے کا جو زبردست تجربہ اور مشینیں دستیاب تھیں اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایف ڈبلیو کے اختیارات کو وسعت دے دی گئی۔
آج ایف ڈبلیو او ۔ خزانے پر بوجھ نہیں بلکہ اپنا کھاتا اور اپنا کماتا ہے۔
1998 میں ہم ایٹم بم کا دھماکہ کرنے کے بعد فخر سے اترا رہے تھے۔ کیا کوئی جانتا ہے کہ چاغی کے پہاڑوں میں کئی میل گہری سرنگیں راتوں رات تعمیر نہیں ہوئی تھیں بلکہ دس سال سے تیار موجود تھیں اور یہ سرنگیں اسی نااہل اور کرپٹ ادارے ایف ڈبلیو او کے سپاہیوں اور فوجیوں نے بنائی تھیں۔ دنیا بے چینی سے دھونڈ رہی تھی کہ پاکستان کہاں دھماکہ کرے گا۔ یہ دس سال سے راز اسی لئے چھپا ہوا تھا کیوں کہ فوجی ادارے سے کام کرایا گیا تھا۔ کیا پی ڈبلیو ڈی یا کسی نجی ادارے سے ہم یہ کام کرواتے۔
عمران خان کے دور میں محض نو سے دس مہینے میں اسی ایف دبلیو او نے کرتار پور کی حالت بدل دی۔ لیکن اس کی اہمیت کا احساس اسے ہی ہوسکتا ہے جو دس مہینے پہلے وہاں رہا ہو۔ سو سے زائد کنٹریکٹرز سے بیک وقت مختلف کام ایف ڈبلیو نے انجام دلوائے جن میں دریا پر پل سڑکیں اور بے انتہا نیہ تعمیرات اور متعدد الیکٹرانک سسٹم اور بجلی کی ترسیل کے ساتھ پانی اور سیوریج کے انتظام بھی شامل ہیں۔ Hats off to FWO
روس افغان جنگ کے اوائل کے دنوں میں شاید 1978 کے آس پاس شمالی علاقوں میں کراچی سے تیل مال گاڑیوں کے ذریعے جاتا تھا۔ ریلوے ملازمین نے ہڑتال کردی ساتھ شاید ٹرک والے بھی اس میں شامل ہوگئے کیوں کہ ضیا صاحب کا دور شروع ہوچکا تھا۔ فوجی سامان گاڑیوں، ٹینک اور ہوائی جہازوں کے لئے پنجاب اور صوبہ سرحد میں تیل موجود نہیں تھا جب ریلوے اس مسئلہ سے نہ نبٹ سکی تو فوج نے اپنا ذیلی ادارہ بناکر اس مسئلہ سے نبٹنے کے لئے این ایل سی قائم کردی۔ اگر آج مال گاڑیوں سے کوئی سامان بھیجنا نہیں چاہتا تو اس میں این ایل سی کو کیوں گالیاں دی جاتی ہیں۔ آپ جب اپنی چودھراہٹ دکھانے کے لئے بار بار کسی کو بلیک میل کریں گے تو کبھی نہ کبھی وہ دوسرا راستہ اختیار کرلے گا۔ پھر آپ روتے رہیں کہ میرے ساتھ ظلم ہوگیا۔
پاکستان کے بڑے سرکاری ادارے جو سفید ہاتھی ہیں اور جن کے لئے اربوں روپے ہر سال ضائع ہوتے ہیں۔ ان میں اسٹیل مل اور پی آئی اے ہی نہیں بلکہ سب سے زیادہ خسارہ دینے والا ادارہ این ایچ اے یا نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہے۔ اس کا نقصان پی آئی اے اسٹیل مل اور بجلی کی تقسیم والی کمپنیوں سب سے زیادہ ہے۔ یاد رہے اس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں جس طرح کہنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج بھی 2023 سے ایک سویلین انجینئر ارشد مہمند اس کا سربراہ ہے۔ مشرف نے اپنے دور میں این ایچ اے استیل مل اور پی آئی اے کے خساروں کو کم کرنے کے لئے فوجی اور سویلین لوگ لگائے تھے۔ این ایچ اے بھی بہتر ہوگیا تھا۔ اسٹیل مل ریکارڈ منآفع دے رہی تھی اور احمد سعید نے پی آئی کو بھی قابو میں کرلیا تھا۔ مشرف گیا اور سب گیا۔
باقی آپ آمر آمر کا راگ گاتے ہوئے روتے رہیں اور افتخار چوہدری کی جان کو روئییں اگر ظرف رکھتے ہوں تو۔
یہ بھی اس مضمون میں غلط لکھا ہے کہ این ایچ اے مشرف نے 2001 میں قائم کی تھی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف دور میں پارلیمان نے 1991 میں سے قائم کیا تھا۔ وہی جب ڈائیوو موٹروے بنارہی تھی۔ اس کا مقصد ملک کی اہم ترین سڑکوں اور ہائی وے کی تعمیر اور ان کی مینٹی نینس ہے۔
یہ اس ادارے کی بدقسمتی ہے کہ اس نے صرف خرچ کرنا ہوتا ہے۔ اپنی کرپشن سیاست دانوں کے غلط فیصلوں اور سرکاری معاملات کی سست روی سے پیروی اس کے نقصان کو مزید بڑھادیتی ہے۔ ایک زمانے میں اس کی چنگیوں کا ٹیکس اس کی آمدنی بڑھاتا تھا لیکن اس میں ہونے والی بے بہا کرپشن کے بعد یہ کام اب ایف ڈبلیو او اور کچھ دوسرے اداروں کو دے دیا گیا ہے جس سے ٹیکس وصولی بڑھ گئی ہے۔