امدادِ باہمی
یہ خطّہِ ارض جو اتفاق سے ہمارا وطن قرار پایا ہے اس بات یقیناً مستحق ہے کہ ہم یہاں زندگی کی ماہیت کا معروضی تجزیہ کر کے ان حقائق کا کھوج لگائیں جو معاشرے کے بظاہر نا ہموار رویّوں کے پسِ پردہ اپنی موجودگی کا احساس تو ضرور دلاتے ہیں مگر الفاظ کی صورت متشکل نہیں ہو پاتے۔ ساتھ ہی اس بات کا ادراک بھی لازم ہے کہ جو راستہ ہمارے لیے نا ہموار ہے ضروری نہیں باقیوں کی رائے بھی اس بارے میں وہی ہو۔ عین ممکن ہے بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہو جو اس کے پیچ و خم سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے لیے یہاں سے بسرعت اور بآسانی گزر جانا معمول کی بات ہے۔ یہ ایک ایسی غیر مرئی خلیج ہے جس نے معاشرے کو دو طبقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ ایک وہ جو اس سارے سسٹم کو اچھی طرح سمجھتا ہے، اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اسی کا حصّہ بنے رہنے پر دل و جان سے راضی ہے جبکہ دوسرا وہ جو کتابوں میں پناہ ڈھونڈتا اور انقلاب کے خواب دیکھتا ہے مگر زمینی حقائق سے بے بہرہ خواہش کے خبر بن جانے کا منتظر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ امدادِ باہمی کے ایک غیر مرئی جال میں پرویا ہوا ہے۔ صدیوں کے تجربات نے عدم تحفظ کے مارے عوام الناس کو جہاں ایک طرف بیرونی طالع آزماؤں کی جی حضوری پر مائل کیے رکھا وہیں ان کی دیسی دانش کا شاہکار ایک ایسا نظامِ حیات بھی بتدریج مرتب ہوتا گیا جو ان کے لیے کچھوے کے خول کی طرح مضبوط اور محفوظ تھا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی حکمران طبقے اور طاقت کے مراکز نے مصلحت اسی میں جانی کہ ”طالع آزماؤں“ کی روش کو ترک نہ کیا جائے۔ اس لیے اس نظام کی افادیت برقرار رہی بلکہ یہ ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔
اس نظام کا حصّہ بننے اور اس کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہونے کا کوئی معیّن طریقہ کار نہیں ہے، نہ کوئی تحریری یا زبانی معاہدہ اس کا رکن بننے کے لیے ضروری ہے۔ بس ایک گہری مگر غیر محسوس ہم آہنگی اور انڈر اسٹینڈنگ درکار ہے۔ پھر دیکھیں کیسے آپ کی زندگی آسان ہوتی ہے۔ کیسے ہر در کھلتا اور ہر عُقدہ کُشا ہوتا ہے۔ ہم پاکستانی لوگ الفاظ و تراکیب کے حقیقی معانی و مفاہیم کو ایک بالکل نیا اور جدا رنگ دے ڈالنے میں جو یدِ طولٔی رکھتے ہیں اس کا ایک شاہکار ”امدادِ باہمی“ کی یہ ترکیب بھی ہے۔
فرض کیجئے آپ کو کہیں، کسی جگہ، کسی سرکاری ادارے، دفتر، تھانہ کچہری، کالج، ہسپتال وغیرہ میں کوئی کام پڑ گیا ہے اور آپ امداد ِِباہمی کے اس نادیدہ جال سے غیر شعوری طور پر منسلک ہیں تو سب سے پہلے اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب، جان پہچان والوں میں کوئی ایسا فرد تلاش کرنے کی کوشش کریں گے جس کی وہاں رسائی ہو۔ آپ اپنی ساری توانائی اس کام میں جھونک کر آخر کار اندر کا کوئی شخص ڈھونڈ نکالیں گے اور پھر سارے قواعد و ضوابط بالائے طاق رکھتے ہوئے، کام کے جائز یا ناجائز ہونے کی بحث میں پڑے بغیر پورے اعتماد اور امّید کے ساتھ معاملہ اس کے سامنے رکھ دیں گے۔
جواباً وہ بھی دشمن ملک میں متعین ایک اسپیشل ایجنٹ کی طرح آپ کو مختلف راستوں اور بھول بھلیوں سے گزار کر مطلوبہ مقام تک لے جائے گا۔ آنکھوں کے اشاروں کے ساتھ دبی ہوئی آواز میں ذو معنی آدھے ادھورے مختصر جملوں کے ساتھ گفتگو ہو گی۔ کوشش پوری یہ ہو گی کہ بہر صورت آپ کا کام ہو جائے۔ اگر کوئی اڑچن آ گئی تو سب سر جوڑ کر سرگوشیوں میں اس کا حل بھی ڈھونڈ نکالیں گے۔ ’نہ‘ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپ ممنونِ احسان تو ہوں گے ہی، ساتھ ہی سسٹم سے وفاداری آپ کے رگ و پے میں سرایت کر جائے گی اور ممکن نہیں کہ کل کو سسٹم آپ سے کوئی ایسا ہی تقاضا کرے تو آپ کا ردّ عمل مختلف ہو۔
بیشتر سرکاری ملازم ایسے ہی ایجنٹ بنے ”دشمن ملک“ میں بیٹھے ہیں۔ ریاست کو ان ملک دشمنوں کی پہچان ہے نہ اس بات کا ادراک کہ اس دشمنی کو دوستی میں کیسے بدلا جائے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کتابی باتوں اور گھسے پٹے بھاشنوں سے اس سسٹم کی موٹی جلد پر ندامت کے پسینے کا ایک قطرہ بھی نہیں ابھارا جا سکتا۔ ریاستی پالیسیوں میں سعودی عرب جیسی جوہری تبدیلیاں لائیں اور پھر کوئی عملی قدم بھی اٹھائیں تو۔ مگر سوال پھر وہی ہے کہ پرواہ کسے ہے؟ ریاست کا کوئی والی وارث بھی تو ہو۔ عام آدمی کو اپنی دال روٹی سے مطلب ہے اور یہ کچھ غلط بھی نہیں مگر جو خاص ہیں ان میں بھی کوئی خاص بات ہم نے تو نہیں دیکھی۔ انھوں نے بھی سوائے دیہاڑیاں لگانے کے اور کیا کیا ہے؟ ہاں یہ ہے کہ دیہاڑیاں اچھی لگائی ہیں۔ تو پھر کس برتے پر عام آدمی صدیوں سے مروّج ایک نظام سے آپ کی چند ”نصیحت آموز“ باتیں سن کر بغاوت پر آمادہ ہو جائے۔
آپ بھلے اسے جاہل، کم عقل، کم علم، بلاتے رہیں، وہ پلٹ کر جواب بھی نہیں دے گا مگر شاید وہ آپ سے زیادہ سمجھدار بھی ہے اور با شعور بھی وہ کبھی آپ کے کہنے پر رسک نہیں لے گا۔ ریاست کو غاصب سمجھ کر مفادِ عامّہ سے لاتعلقی اور محض ذاتی مفادات کی پرورش و پرداخت صدیوں سے اس خطّے کے لوگوں کی مجبوری رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست ِِپاکستان کے پالیسی سازوں نے گزشتہ پون صدی میں اس سوچ کو بدلنے کی کوئی کوشش کی ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر امدادِ باہمی کے اس آزمودہ نسخے کو اکسیر مان لینے میں ہچکچاہٹ کیسی؟


