سرزنش نامہ!


پوچھا گیا!
بخشوا آئے ہو پچھلے گناہ؟
کہا!
حاضری لگوانے گیا تھا، نہ بخشش کی چاہ، نہ دیدار کی خواہش، نہ آنے کا پتا، نہ جانے کا غم۔

اسکے گھر کے سامنے ڈیرہ ڈال کر بیٹھ رہیے، آپ کی اندرونی کشمکش حال احوال خود ہی بیان کرتی رہے گی، بس خاموش رہیے اور اس گھر کو دیکھتے جائیے۔ کچھ مت مانگیں، مسکرائیں، غمگین کیوں ہوتے ہیں؟ خوشی و شادمانی کا مقام ہے۔ آپ ان چند گنے چنے لوگوں میں شمار ہو چکے ہیں جن کو یہ سفر نصیب ہوا، یہ مقام عطا ہوا۔ پژمردگی کاہے کی، اس حاضری کا لطف اٹھائیں۔

گناہوں سے آلودہ زندگی لے کر آپ اس کے گھر کے سامنے آ بیٹھے ہیں جو رحمان و رحیم اور کریم ہے۔ جلال میں بھی آئے گا، مگر اتنی دور سے بندہ چل کر گھر آ جائے تو سارا غصہ، رنج، جلال خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتا ہے۔

وہ کہے گا!
آ گئے ہو، کیا لائے ہو؟ گناہ ہی گناہ! کوئی نیک عمل؟ کوئی صالح عمل؟
جواب مت دینا! بس مسکرا دینا۔

جلال عروج پر ہو گا، کہا جائے گا، میری عطا کی ہوئی پاکیزہ زندگی کو آلودہ و پراگندہ کر دیا تم نے۔ کوئی شرم ہے تم میں، اب منہ اٹھا کے آ گئے ہو بخشوانے!

خاموش رہنا، ہونٹوں کو سی لینا، بس ٹکر ٹکر دیکھتے رہنا۔ ہلکا ہلکا مسکراتے رہنا۔ ہاتھ اٹھا کر مت مانگنا، جھولی مت پھیلانا۔ مدعا کیا ہے؟ مت بتانا۔ زبان کھُل جائے تو بھید کھُل جاتا ہے۔ وہ اندر کے بھید بخوبی جانتا ہے۔ منگتا باہر آن بیٹھا ہے دہلیز پر، چاہتا کیا ہے؟ بتاتا نہیں۔ سب اہلِ نظر و فکر حیران ہوں گے کہ یا باری تعالی یہ کیسا بندہ ہے تیرا، اپنے گندا مندہ جسم لے کر آلودگی سے بھرپور زندگی گزار کر ادھر آ گیا ہے، چاہتا کیا ہے؟ بولتا نہیں، مانگتا نہیں، کیا چاہیے جانتا نہیں، ایک میکانکی سا طواف کر کے، واجبی سی سعی کر کے گھر کے سامنے براجمان ہو گیا ہے۔ وقتِ نماز ادھ ادھورا سا کھڑا ہو جاتا ہے، بس میکانکی انداز میں فرائض ادا کرتا ہے پھر وہی بیٹھ جاتا ہے۔ اس کے اندر والا بھید کیا ہے؟

جلالیت یہ سب سن کر ہلکا سا مسکرائے گی، رحمانیت جلالیت پر غلبہ پا لے گی۔ ربِ کریم اپنے بندے کو دیکھ کر مسکرا دے گا، بس اتنا سا کام ہے، یہی ایک مسکراہٹ چاہیے۔ یہ مسکراہٹ نہیں عطاؤں کی بارش ہے۔ اس رحمان کی ایک مسکان تمام آلودگیاں دھو ڈالے گی۔ یاد رکھیں، وہ بلاتا ہے تو ہم جاتے ہیں، یہی مشیتِ ایزدی ہے۔ اس لئے تیار ہو کر جائیں کہ تھوڑی بہت کلاس ضرور ہو گی، لیکن اس زعم میں مت رہئے گا کہ ہم آ گئے ہیں تو بخشے گا ضرور۔ ہلکا سا ایسا خیال بھی دل میں مت لائیے، بس حاضر ہو جائیں، باقی کام خود بخود ہوتے چلیں جائیں گے۔ وہاں سے کوئی خالی نہیں لوٹتا۔ ہم اکثر اس باطل خیال میں ڈوبے رہتے ہیں کہ حاضری قبول ہوئی یا نہیں؟ اگر وہاں جا کر بھی قبول نہیں ہونی تو اس گھر کا کیا مقصد؟ وہاں بلائے جانے کا کیا حاصل؟ یہ مجلس اور اکٹھ کیا بے مقصد و بے معنی ہوتے ہیں؟ نہیں قطعی ایسا نہیں! یہ تو عطاؤں کی محفل ہے، خطاؤں سے معافی کی حاضری ہے۔

اسکی رحمانیت و کریمیت تو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے، کوئی ایک منحنی سی نیکی، صلہ رحمی، صدقہ و خیرات، حسنِ اخلاق، احسان، کیا معلوم اس کریم کو کیا پسند آ جائے۔ قطعہ نظر ان سب کے، بندہ اس کے گھر جا پہنچے تو پھر کیا اس کی رحمت کو یہ گوارا ہو گا کہ میرا بندہ خالی لوٹ جائے۔

ممتاز مفتی صاحب نے کیا خوب کہا، اللہ کریم سے دوستی کرو، عاشق و معشوق کے جھگڑے میں مت پڑو، اس کو معشوق مت بناؤ۔

معشوق تو عاشق کی مت مار دیتا ہے، اس کی فرمائشیں ہی پوری نہیں ہوتی۔ ایسے ایسے امتحان لیتا ہے کہ اس میں چند معدودے ہی پاس ہوتے ہیں۔ اس لئے امتحان مت دو بلکہ امتحان لو، دوستی کا یاری کا۔ دوست دوستی نبھاتا ہے ہر مشکل میں مدد کرتا ہے، دست و بازو بنتا ہے۔ اس سے ایسا تعلق بنائیں جس میں جھجک نہ ہو، آپ بلا تکلف اپنا سب کچھ اس سے کہہ سکیں۔ پھر دیکھیں کیسے کیسے کمالات رونما ہوں گے ۔ برے کاموں پر سرزنش بھی ہو گی اور کبھی کبھی ناراضگی بھی، مگر یہ سب وقتی ہوں گی ۔

بارش زوروں پر تھی، گرج چمک میں سب کچھ صاف صاف دکھائی دے رہا تھا، مسجد و خانقاہ کی کمزور دیواریں لرز رہی تھیں۔ درویش مریدین کے ساتھ بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا، مریدین دعا کی استدعا کر رہے تھے، کہ یہ طوفان ٹل جائے وگرنہ سب کچھ غرق ہو جائے گا۔ درویش نے ہلکا سر اٹھایا، آسمان کی طرف دیکھا، کہا!

جو تیری رضا وہ میری رضا، جو تیری خوشی وہ میری خوشی، جو تو چاہے وہ میری چاہت! کرم فرما دے۔
پھر ایک طویل خاموشی، طوفان تیز سے تیز تر، ہر کوئی لرزہ بر اندام، سب کچھ اب گرا کہ تب گرا۔
درویش اٹھا، کھلے آسمان تلے کھڑا ہو گیا، بازو فضا میں بلند کیا، باآوازِ بلند کہا!
ڈھا دے، ڈھا دے، سب کچھ ڈھا دے!

واپس اپنے حجرے میں خود کو قید کر لیا، تھوڑی دیر بعد طوفان رک گیا، مریدین حجرے کی طرف بھاگے کہ خوشخبری سنائیں، درویش ڈھے چکا تھا۔ عشاق والا امتحان بہت سخت ہوتا ہے۔

عام رہیں، خاص مت بنیں۔ ہماری اوقات و بضاعت بس اتنی ہی ہے۔

Facebook Comments HS