چیت کے دکھ
برسات آنے کو ہے۔ مگر اس سال جو چیت آیا تو پہلے ہی خدا کے فضل سے کچھ نابالغ اولادوں نے چھوٹے سے شہر کی کچی آبادی میں اپنے آنے والے چھوٹے چھوٹے لنگوٹوں کے لیے آبادکاری کے نام پر ادھم مچا رکھا تھا جیسے کئی برس پہلے انگلیسیہ کے ہاتھوں پیدا ہوئی جائز مگر نابالغ اولاد جہاں بھر کی پالن ہار بن بیٹھی اور حقیقی زمین داروں کے خون کی ندیاں بہا ڈالیں۔ کچھ آب و ہوا بھی ناساز رہی، کچھ کربلا کے مناظر بھی برقی پیغام رساں اداروں کے ذریعے جلدی جلدی لوگوں کے گھروں تک پہنچ کر اپنا اثر دکھا رہے تھے۔
جہاں دنیا بھر میں چند نا سمجھ سمجھے جانے والے سمجھداروں نے اس آبادکاری کی بھرپور مخالفت کی وہیں ان نابالغ لونڈوں لپاڑوں کو رکنا تھا نہ رکے۔ چیت کے چڑھنے سے پہلے بھی زمین لال تھی۔ چیت چڑھتے سمے بھی لال ہی رہی۔ ذرا کو دیر زمین سانس لیتی اور پھر سے لال ہو جاتی۔ چیت کو یہ دکھ لے بیٹھا کہ میں تو سورج کی مانند سنہری ہوا کرتی تھی۔ یہ لال کیل کہاں سے شامل ہوئی۔ پتہ کرنے پر کچھ درختوں نے ہمت جٹائی اور اپنی جلی ہوئی جٹاوٴں کو چیت کی بانہوں میں پھیلا دیا۔
چیت نے آخری بار ان جٹاوٴں کو سینے سے لگایا اور ان درختوں کے تمام دکھ سمیٹ لیے۔ کچھ اوپر اُڑنے کو پنکھ کھولے ہی تھے کہ ایک اور لال سیاہی مائل بارش نے آ گھیرا۔ لال بارش کے آنسو زمین پر پڑتے اور زمین ان آنسووٴں سے یوں تر ہوتی جیسے وہ آنسو خود زمین کے ہوں۔ چیت نے زمین کو سینے سے لگایا اور تمام دکھ سمیٹ لیے۔ چیت کو علم ہو چکا تھا کہ اس بار وہ زمین اور اس سے جڑی ہر جیو جنتو کے دکھ سمیٹنے آئی ہے مگر یہ کیا۔ وہ ہر جیو جنتو کو گلے سے لگاتی اور خود دکھ سے بھر جاتی۔ ہر بار یوں محسوس موتا جیسے اور دُکھ سمیٹ نہیں سکے گی۔ جو اور دکھ سمیٹے تو سوئے دار پر گھوم جائے گی، باقی نہیں رہے گی۔ ہر بار ہمت کرتی۔
شدت تھکان سے چور چیت نے بیساکھی کو آواز لگائی۔ بیساکھی اپنے ساتھ سورج کی گرمی لا رہی تھی مگر یہ کیا بیساکھی کو گلے لگاتے ہی چیت کے آنسو گرے اور بیساکھی نے چیت کے تمام دکھ سن لیے۔ یہ وہ تمام دکھ تھے جسے چیت نے تمام جیو جنتو سے سمیٹ رکھے تھے۔ بیساکھی نے چیت کو دکھ سنبھال رکھنے کو کہا۔ چیت نے واپسی کی راہ تو پکڑی مگر قدم کہاں اُٹھ سک رہے تھے۔ ہر قدم اوکھا ہر سانس بھاری۔
تو ہوا یوں کہ دنیا کے کئی کونوں میں آگ لگی بندھی ہے جسے بجھانے میں بین الاقوامی جامعات کے طلبا و طالبات جنگ بندی کے لیے اپنا اپنا حصہ شامل کرنے کے لیے ہڑتال کیے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں گنہگار آنکھوں نے دیکھا کہ پاکستانی جامعات میں کس زور و شور سے پڑھائی چل رہی تھی۔ یہاں چھوٹے سے شہر کے ایک علاقے میں کس طرح جھگڑا طول پکڑا اور مذہبی منافرت کی بنیاد پہ انسانی جان کھلونا بنی اور کئی جان سے گئے۔ ایسے میں بہت سے ایمان سے گئے۔ مگر مجال جو کسی کمائی میں حرج آئے۔ آ بھی نہیں سکتا۔ آنا بھی نہیں چاہیے کہ 6 لاکھ فیس ہو یا دن بھر کی ذلالت، صرف حرج کرانے تھوڑی نہ کر رکھی ہے۔
قصہ تمام یوں ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں تمام سکھ جل رہے تھے اور ہیں۔ سُکھوں کے نام پہ خواب جل رہے تھے اور ہیں۔ خوابوں کے جلنے کا صدمہ بڑا گہرا ہوتا ہے۔ چیت سے بس یہی اک دکھ سمیٹا نہیں گیا۔ چیت کے تمام دکھوں کے گھڑے بھر چکے تھے۔ چڑیا کے بچوں کے تازہ فضا میں دانہ چگنے کے خواب جل چکے تھے اس لیے کہ جس شاخ پر چڑیا کے بچے پل بڑھ رہے تھے وہ درخت جل چکا تھا۔ بیا کے بچے بھی اسی آگ کی راکھ ہوئے۔ لال نیلی سیاہ روشن چڑیوں کے آنسو سنبھالے نہ سنبھلے کیونکہ ان کے گھروندوں کو بھی جلایا جا چکا تھا اور ان گھروندوں میں رکھے نرم نازک معصوم بچے جل مرے تھے۔ چیت آخری سانس اس امید کے ساتھ لے رہی وہ خواب جلنے کا دُکھ سمیٹ نہ سکی کوئی، شاید یہ ذمہ داری نبھا ڈالے۔


