سورج کے ساتھ ساتھ


ہم شاہ رخ خان کے عہد میں پیدا ہوئے۔ ہم نے ”ڈر“ ، ”کچھ کچھ ہوتا ہے“ ، ”کبھی خوشی کبھی غم“ ، ”دل والے دلہنیا لے جائیں گے“ ، ”دل تو پاگل ہے“ اور ”محبتیں“ جیسی رومان انگیز فلمیں دیکھیں اور اپنے آپ کو ایک چھوٹا موٹا راہول یا راج آریان سمجھنے لگے۔ ہم نے شدید خوابوں، خیالوں جیسا لڑکپن گزارا۔ ہماری زندگی کا واحد مطمعِ نظر کسی سمرن یا پوجا کی تلاش تھا، اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے اردگرد موجود ہر سمرن اور پوجا بھی اپنے دائیں بائیں کسی راہول یا راج ہی کو ڈھونڈ رہی تھی۔ کہنے کو تو پانچ ایجنٹس آف سوشلائزیشن ہیں، لیکن ہم مذہب، خاندان اور تعلیمی اداروں سے کہیں زیادہ فلموں، ڈراموں اور اپنے ہم جولیوں سے سیکھ رہے تھے، اور مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے ہم جولی بھی ہمارے جیسے تھے۔

ہم اندر ہی اندر شاہ رخ خان تو بن گئے، مگر ہمارے پاس اِس کے اِظہار کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ بھلے ہم نے سائیڈ سے مانگ نکال لی یا بلیک شرٹ کے ساتھ بلیک پتلون پہن لی، لیکن اُس کی طرح جذبات سے لبریز آواز میں مکالمے ادا نہ کیے تو کہاں کی ہیرو پنتی؟ جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹا گرام یا یو ٹیوب ہوتی تو شاید بات بن جاتی مگر ہمارے پاس پی۔ ٹی۔ وی، ایس۔ ٹی۔ این، گجر مارکہ پنجابی فلموں اور ریڈیو پاکستان کے علاوہ کوئی میڈیم دستیاب نہ تھا، اور ان میڈیمز پر شاہ رخ خان کے بجائے وحید مراد، محمد علی اور سلطان راہی کا سکہ چلتا تھا۔

سن دو ہزار دو میں پیمرا آرڈیننس کا اجرا ہوا، جس کی بدولت پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز اور ریڈیو سٹیشنز کے قیام کا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو پایا۔ ابتداء میں انٹرٹینمنٹ اور سپورٹس چینلز کا بول بالا رہا مگر اِس گیم کے اصل ونر جیو، آئے۔ آر۔ وائی اور ایکسپریس نیوز تھے، جن کو پہلے ”لائسنس ٹو لِو“ ، اور پھر ”لائسنس ٹو کِل“ ملا۔

نیوز چینلز کو ایسا عروج ملا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پرنٹ میڈیا کی فلک شگاف عمارت دھڑام سے زمین پر آ گری۔ کالم نگار جست لگا کر ٹی۔ وی اینکر بن گئے۔ نامہ نگاروں نے قلم چھوڑ کر مائیک اٹھا لیا۔ لوگوں نے اخبار پڑھنا اور ڈھابوں پر بیٹھنا چھوڑ دیا اور خود کو اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں کے حوالے کر دیا جہاں ایک ہی ٹکٹ میں ہیجان، دہشت، دھینگا مشتی، گالم گلوچ اور پھکڑپن جیسے لاتعداد مزے وافر مقدار میں موجود تھے۔ مچھر چھانے اور اونٹ نگلے گئے۔ انکلز اور گرینڈ پاز کا شغل میلہ لگا رہا۔ نوجوانوں کو مگر زرد صحافت اور پیلی سیاست زیادہ راس نہ آئی۔ انہیں سستے رومانوی مکالموں اور چالو ہندی گیتوں کی چاہ گھیر گھار کر نوزائیدہ ایف۔ ایم ریڈیو سٹیشنز کی جانب لے گئی جس نے ہر چالیس کلومیٹر کے دائرے میں بیس نئے سٹار پیدا کیے، جن کا استاد ساحر لودھی اور دادا استاد شاہ رخ خان تھا۔

ایک جانب تو بھائی لوگوں کی کرامت سے چمن میں ”دیدہ وروں“ کی تعداد بڑھ رہی تھی، دوسری جانب ایف ایم ریڈیو سٹیشنز کی یلغار راج آریان ملہوترا اور سمرن چڈا بننے کے مراحل آسان کر رہی تھی۔ خود میرے اپنی کئی دوست گول باغ ملتان اور ڈیرہ اڈہ چوک کے سپر اسٹار بن گئے تو میں نے بھی موقع غنیمت جان کر شوبز میں انٹری ڈال دی، مگر بدقسمتی سے میری آواز اتنی کھرچ دار اور غیر ریڈیائی تھی کہ پے در پے تین آڈیشنز اور لمبی چوڑی سفارشیں بھی کام نہ آ پائیں، میں ریڈیو کی دنیا میں باہرلا ہی رہا۔ وہ تو بھلا ہو جناب آصف نور اور محترم علی نقوی کا، جو ”نرکھ میں نرتکی“ کے چیدہ چیدہ افسانے ”کل ہو نہ ہو“ کے ساونڈ ٹریکس کے ساتھ ملا کر ملتانی ٹین ایجرز کی سماعتوں تک پہنچاتے رہے۔ خاص طور پر ”میٹھے چاولوں کی آخری پلیٹ“ نامی افسانہ تو اتنی بار پڑھا گیا کہ کئی گداز قلب دوشیزائیں اِس کا عنوان سنتے ہی آنسو بہانا شروع کر دیتیں۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ اِس کا کتاب کی فروخت پر کوئی مثبت اثر دیکھنے میں نہ آیا۔

انہی دنوں جناب شوذب کاظمی اور محترمہ عذرا شوذب نے ایف ایم ون او تھری ملتان پر میرا ایک طویل انٹرویو ریکارڈ کیا، جو بہ طور مصنف میری پہلی میڈیا اپئیرنس تھی۔ یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں میرے جتنے بھی انٹرویوز ہوئے، وہ سب ایف ایم بیسڈ تھے، ٹی۔ وی کی باری کہیں بہت بعد میں جا کر آئی۔ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود میں شاہ رخ خان یا ساحر لودھی تو نہ بن پایا، مگر ایف۔ ایم ون او ون اور ون او تھری ملتان نے مجھے ایک فکشن نگار کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کرنے کا موقع ضرور فراہم کیا، جسے میں نے اپنے عمومی مزاج کے برعکس کافی خوشدلی سے قبول کیا۔

سن دو ہزار دس کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ فیس بک اور یو ٹیوب سن دو ہزار چھ سے مارکیٹ میں تھے، لیکن ان کا استعمال ایک خاص طبقے تک محدود تھا۔ نیٹ کی سپیڈ بڑھنے اور سمارٹ فونز کے دھڑا دھڑ بکنے کا سب سے زیادہ فائدہ سوشل میڈیا اور سب سے بڑا نقصان ایف۔ ایم ریڈیو کو ہوا۔ سامعین آڈیو سے وڈیو اور وڈیو سے پوڈکاسٹ پر شفٹ ہو گئے۔ آر جیز کی جگہ وی لاگرز اور سٹینڈ ایپ کامیڈینز نے لے لی۔ عبدالقادر حسن انتقال کر گئے۔ بچے ”غیر سیاسی“ نہ رہے۔ شاہ رخ خان ایکشن ہیرو بن گیا۔ راج اور سمرن آؤٹ آف فیشن ہو گئے۔ معلوم انسانی دنیا کے تمام ذرائع ابلاغ چھ انچ کی ایک چھوٹی سی سکرین پر اکٹھے ہو گئے۔ محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی!

سن دو ہزار دس میں ایف ایم ریڈیو سے ناتا ٹوٹا تو اگلے چودہ برس نہ جڑ پایا۔ درمیان میں ایک آدھ بار طوبیٰ انجم ہاشمی نے ریڈیو پنجاب، کینیڈا کے لیے انگیج کیا مگر وہ رئیل سے کہیں زیادہ ایک ورچوئل تجربہ تھا، اُس میں سٹوڈیو فیکٹر مسنگ تھا، پینل اور مائیک نہیں تھے۔ وٹس ایپ کال یا زوم ایپ پر دیے گئے انٹرویوز بالعموم تشنہ رہ جاتے ہیں، خاص طور پر تب جب آپ ایک دقیانوسی اور اولڈ فیشنڈ آدمی ہوں۔

جون کی ایک تپتی ہوئی دوپہر کو جب محترمہ ریحانہ فلک نے ایف۔ ایم ون او ون بہاول پور میں انٹرویو کے لیے مدعو کیا تو میرا خیال تھا کہ سب کچھ ویسا ہی ہو گا، کچھ بھی نہ بدلا ہو گا، لیکن یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ دنیا ہی نہیں بدلی، ایف۔ ایم بھی بدل گیا ہے۔ نیا ایف۔ ایم آڈیو اور وڈیو کا، ریڈیو اور ٹی وی کا، پوڈکاسٹ اور براڈکاسٹ کا ملاپ ہے۔

”سورج کے ساتھ ساتھ“ نامی اِس ایک گھنٹہ طویل پروگرام کے درمیان مجھے بار بار اپنی زندگی کو فلیش بیک اور فلیش فارورڈ کرنے کا موقع ملا۔ ایک بار پھر یہ ادراک ہوا کہ ”نرکھ میں نرتکی“ صحیح وقت پر شائع نہ ہوئی ہوتی تو زندگی کا قرینہ کچھ اور ہوتا۔ اِس ایک کتاب کی بدولت ہی زندگی کی وہ سمت متعین ہو پائی، جو مجھے ہمیشہ سے درکار تھی۔ ”نرکھ میں نرتکی“ کے ساتھ شجاع آباد ہاؤس، اور شجاع آباد ہاؤس کے ساتھ اپنی والدہ کی یاد آئی، جنہوں نے اِس کتاب کو شائع کروانے کی خاطر اپنے کانوں کی بالیاں بیچ دی تھی اور جتانا تو دور، مجھے بتانا تک ضروری نہیں سمجھا تھا۔ کتنی بڑی ٹریجڈی تھی کہ میں پیدا تو شاہ رخ خان کے زمانے میں ہوا مگر میری لائف سٹوری ستر کی دہائی والے امیتابھ بچن جیسی تھی، جس کے پاس نہ دولت تھی نہ شہرت، مگر اُس کے پاس ماں تھی۔ اور جس کے پاس ماں ہو اسے اور کیا چاہیے؟

سورج کے ساتھ ساتھ چلتے شام ہو گئی تھی اور شام ہوتے ہی مجھے اپنا قطبی ستارہ مل گیا۔ میں نے روشنی کو زوم کیا اور اس کی ایک ہائی ڈیفینشن تصویر کھینچ کر اپنے دل کے البم میں آویزاں کر لی۔

Facebook Comments HS