ایم بی ایس کے نام ایک کھلا خط
محترم و معظم ولی عہد سعودی عرب محمد بن سلیمان صاحب جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں؟
فدویہ دراصل پاکستان کی ایک معمولی لکھاری ہے جی جی وہی پاکستان جس کو آپ نے اور ”پاکستانیوں“ نے الباکستان بنانے کا تجربہ کیا مگر جس کے نتائج بڑے عجیب و غریب اور خوفناک ہی نکلے ہیں اور نکلنے بھی تھے خیر وہ ایک الگ موضوع ہے جس کے لیے ایک طویل دفتر درکار ہے۔ ظل الہی مجھے معاف کیجیے گا جو میں بھٹک جاؤں یہ ہم رائٹرز کی ایک بڑی عمومی و مرغوب بیماری ہے۔ تو ہم سر سبز میدانوں اور دریاؤں کی زمینوں کے باسی کیسے سنگلاخ پہاڑوں اور صحراؤں جیسے مزاج کے حامل ہو سکتے ہیں بھلا۔ ہمارے مزاج میں جہاں محبتوں عقیدتوں کے بہت سے چراغ جلتے ہیں وہیں تواہم پرستی کے بہت سے بتکدے بھی ہمارے خون میں رچے بسے ہیں۔ تو اَے مستقبل کے شاہ اَرض مقدس آپ کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ حرمین کی محبت میں کھچے یہ عجمی خدا کی اس وسیع و عریض زمیں کے کن کن خِطوں اور علاقوں سے، کس کس مزاج اور کس کس عصبیت کو ترک کر کے محبت و عقیدت کی ایک ہی ڈوری سے بندھے چلے آتے ہیں وہ ہے اسلام کا پانچواں رکن۔
اس تمہید کا مقصد دراصل یہ ہے کہ اس عاجز کو اس مقدس سر زمین کا کچھ روز پہلے دوسری بار بلاوا آیا اور جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جی جی ظل الہی ہم میں سے اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ مال و منال کی تمام تر فراہمی کے باوجود اس ارض مقدس سے بلاوے کی منظوری ہو تو حاضری لگتی ہے۔
آج سے سولہ برس پہلے جب ارض مقدس نے میرے لیے دَر وا کیے تھے، سفری صعوبتوں اور ہمارے ایجنٹ کی دھوکے بازی کے باوجود یہ سفر میری روح میں کسی گلاب کی مانند مہکتا ہے۔ ہم تین لوگ تھے بھائی، بھائی کی ساس اور راقمہ۔ ہم جیسے روح کی کثافتوں سے لدے، اپنی خطاؤں اور گناہوں سے بوجھل اپنے رب کے حضور یہ بوجھ اتارنے جاتے ہیں، یہ احساس ہی کیسی لذت لیے ہوتا ہے کہ وہ جو کہتا ہے میں اس وسیع و عریض کائنات، جو حیطہ علم و عقل میں بھی نہیں آتی، وہ اس زمین میں اک مقام کو اپنا گھر، بیت اللہ قرار دیتا ہے اور پھر اس گھر میں ہمیں اپنا مہمان بناتا ہے، ہمارے ناز یوں اٹھاتا ہے کہ ہماری دعاؤں اور حاجتوں کی پٹاری کھل جاتی ہے اور وہ عرضیاں منظور کرتا جاتا ہے۔ اس کا جلال اس کے کرم پہ غالب ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے ہم جیسے سیاہ کار ہیں یا اس کے خاص نوازے بندے۔ سب بلاتفریق ایک ہی رنگ میں رنگے روتے ہیں، بلکتے ہیں، اپنی زبانوں میں یا پھر قرآنی یا مسنون دعائیں پڑھتے ہوئے دیوانہ وار اس بیت اللہ کا چکر کاٹتے ہیں۔ ہم بھی انہی دیوانوں میں تھے، میری روح نے محسوس کیا وہ اپنے ہر مہمان سے اپنی حد کمال جس کی حد نہیں کوئی اس شخص کے گمان کے مطابق مل رہا ہے۔
وہ دن زندگی کے یاد گار دن ٹھہرے کہ دن کا کثیر حصہ حرمین شریفین میں گزرا۔ جب دل چاہا اٹھ کر طواف کیا پھر اس سیاہ پوش گھر کو مرکز نگاہ کیے بیٹھ گئے۔ دل چاہا تو اس مقناطیسی گھر کو تکا کیے ، تلاوت کر لی نوافل ادا کر لیے یا پھر اٹھ کر یوں طواف کیا کہ اس مقدس غلاف سے لپٹ لپٹ کر اشک بہائے۔ اپنے سب پیپ زدہ زخم دکھائے، سب چھالے سامنے رکھ دیے، دل اور بھر آیا تو حطیم میں داخل ہو گئے اور وہاں جی بھر کر نوافل کی سعادت حاصل کر لی۔
اس وقت بھی دل میں ایک کانٹا بار بار چبھتا تھا کہ وہ تمام مقدس مقامات، وہ زیارات وسعت کعبہ کے نام پہ روپوش کر دی گئیں اور پوچھنے پہ کوئی کچھ نہیں بتاتا سوائے معافی، مشکل یا ہٰذا شرک کہہ کر چپ۔ زبان کی بہت بڑی رکاوٹ سامنے کہ انگلش انہیں نہیں آتی عربی سے ہم بے بہرہ۔ اب ان کو کوئی کیسے بتائے کہ اگر زائر یا سیاح جو اس مقدس سیاحت کو آیا ہے وہ ابو طالب رضی اللہ عنہ کا گھر، حضرت ابوبکر، حضرت عمر کے گھر کی سیاحت کرنا چاہتا ہے تو اس میں شرک کیا ہے بھلا؟ اور جو کرتے ہیں ان سے نمٹنے کے طریقے تو حکومت کو بہت خوب آتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب توسیع صحن کعبہ کے نام پہ شامی محلہ منہدم کیا جا رہا تھا اور بہت سے لوگ اشک بار نگاہوں سے کہتے تھے یہاں بہت سے صحابہ کے گھر تھے۔ بہت زیارات تھیں خیر یہ کانٹا دل میں ہر مقام پہ چبھتا رہا چاہے وہ غار حرا ہو جہاں ارد گرد کوڑا کرکٹ کے ڈھیر اور بے تحاشا بندر تھے اور لوگ ہمت کر کے چڑھتے تھے اور غار میں خود ہی ڈسپلن سے نوافل پڑھتے تھے۔ اس پتھر سے جو مہک آتی تھی وہ شرک شرک کرنے والوں کے لیے سوال ضرور کھڑا کرتی ہے۔ لاکھ میرے عقل پسند دماغ نے تاویلیں دی کہ ہو سکتا ہے کوئی خوشبو کی بوتل انڈیل گیا ہو مگر اتنی شدید تپش، گرمی نہ پتھر پہ کوئی دھبہ نظر آتا تھا، خوشبو کا ماخذ سمجھ میں نہ آیا جبکہ اردگرد کوئی ستھرائی کے نہ انتظام تھے، زائر خود ہی باری سے آتے لائن میں لگے نوافل پڑھ کر نکل جاتے، شاید یہ ڈسپلن بھی اسی لیے تھا کہ وہاں کوئی ڈنڈا بردار نہیں تھا اور دسترس کا ہوکا بھی لاحق نہیں تھا۔
اَب بلاوا دوسری بار نصیب ہوا ہے ظل الہی۔ ہم رب کریم کے مہمان تو ہیں ہی مگر یہ ارض مقدس جس کے خادمین کا ٹائٹل تاحال آپ کے پاس ہے اور اس کی ہی برکت ہے کہ اس مالک و خالق نے آپ کو رزق کی برکت اور امن کی دولت عطا کردی، گرمی سردی کے تجارتی اسفار کو ممکن کر دیا، اسی بیت اللہ کی برکت سے۔ ہمیں اس پہ اعتراض کیسے ہو سکتا ہے بھلا کہ یہ آپ سے وعدہ ہے اس رب رحیم کا مگر ظل الہی اس کے ساتھ شرط یہی رکھی کہ اس گھر کی عبادت کیجیے۔
بلاشک و شبہ بیت اللہ کی حفاظت، صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامات قابل رشک ہیں اور اس پہ دل سے دعائیں اور اطمینان ظاہر ہوتا ہے۔ زائرین کے بے تحاشا رش اور ہجوم کے باوجود صفائی ستھرائی ہمہ دم جاری رہتی ہے۔ غلاف کعبہ، مطاف اور حجر اسود کو قیمتی عود و عنبر سے نہلا دیا جاتا ہے۔ لیکن ظل الہی اک سوال کی اجازت دیجیے کیا آپ کی اور ہماری مقدس کتاب ہی یہ نہیں کہتی کہ کیا حاجیوں کو پانی پلانا و دیگر اس جیسے امور بنیادی امر کے برابر ہو سکتے ہیں؟
اس دفعہ طواف کعبہ کو اس قدر مشکل کر دیا گیا ہے کہ آپ کو دن میں بہت کاوش سے جبکہ آپ کے ہوٹل سٹی کلاک ٹاور یا مکہ ٹاور میں ہوں تو دو ہی طواف کر پاتے ہیں۔ احرام کو لازم کر دیا گیا ہے مردوں پہ اور اگر آپ احرام میں نہیں ہیں تو آپ کو ان گیلریوں میں دھکیلا جاتا ہے جہاں ہمیں ہمارا کالا کوٹھا ہمارا سیاہ پوش نظر ہی نہیں آتا۔ ظل الہی یقین کیجیے دنیا بھر سے آنے والے زائرین جن کے درمیان زبان کی رکاوٹ بہت بڑی آڑ ہے اس پہ ملول و برافروختہ ہے کہ جذبات کی اپنی زبان ہوا کرتی ہے۔ ہر زائر کی دوڑ بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ ایسی جگہ کا یا کی متمنی ہے جہاں سے مرکز نگاہ کعبہ رہے کہ وہ کعبہ کو دیکھنے اور مسلسل دیکھنے کو ہی تو یہاں حاضر ہوا ہے۔
حضور مانا کہ آپ اس ملک کے بادشاہ ہیں اور مسلمانوں کا یہ کعبہ آپ کی دسترس میں ہے مگر اصل مسئلہ تو اسی دسترس، کا ہے۔ ہماری دسترس میں تو یہی چند دن ہفتے یا بمشکل ایک مہینہ ہی ہوتا ہے اور ہم نے اس عرصے میں اس دسترس کا جی بھر کر حظ اٹھانا ہے ہمارے لیے کعبہ کو دیکھنا عبادت ہے لذت ہے مگر آپ نے اس لذت پہ بھی پابندی لگا دی ہے۔ طواف وہ واحد عبادت ہے جو یہیں ممکن و میسر ہے مگر طواف کو مشکل تر کر دیا گیا ہے۔
ظل الہی کیا میں یہ سوال پوچھ سکتی ہوں کہ اس کی وجہ کیا ہے؟
کیا اس کی وجہ جگہ کی کمی ہے؟
مگر لگاتار وسعت کا کام جاری رہنے کے باوجود ایسا کیوں ہے؟
آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں؟
(جاری ہے )



دل سے لکھی گئی تحریر
۔۔ سوال تو بنتا ہے
۔اگلی قسط کا انتظار