حرف کی حرمت کا سوال


صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے، جس کی ناپائیداری جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا اور ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں ملکی بہبود میں بڑی رکاوٹ کا محرک بن سکتی ہے۔ صحافت لوگوں کے مفاد اور ملک کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہو تو معاشرہ استحکام اور فلاح کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے، اور اگر اس کے بر عکس اس میں صداقت و شفافیت نہ ہو تو یہ زہر ہلاہل کا کام کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حکومت اور عوام کے باہمی ارتباط کا عمل صحافت کا ہوتا ہے جس کے ذریعہ بڑی سے بڑی جنگ جیتی جا سکتی اور معاشرے میں امن و آشتی کا پیغام عام کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عہد حاضر میں صحافت کے بنیادی اصولوں سے صرف نظر کرتے ہوئے اس پیشے میں بھی حکومت کے آلہ کار شامل ہو گئے ہیں۔ ایسے افراد جو ظاہری طور پر صحافی نظر آتے ہیں لیکن وہ شب و روز اپنے قول و عمل سے آمر کی آمریت کو نعمت ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کسی نے درست کہا ہے ایسے نام نہاد صحافی دراصل معاشرے کے ناسور ہیں، جو سماج میں ذہنی بیماری، اور فکری مایوسی پھیلانے کا سبب بنتے ہیں، جو قوم کو خوشحال، با اختیار اور روشن خیال بنانے میں سد راہ ہوتے ہیں۔

ہمارے ملک میں بھی صحافیوں کی ایک ایسی جماعت موجود ہے جو ہندوستان کی زعفرانی سیاست کو ہوا دینے اور فرقہ واریت کو فروغ دینے میں اہم کردار رہی ہے، گزشتہ ایک دہائی سے ہندوستان میں صحافت کا کردار خاصا مشکوک رہا ہے اور اس نے جمہوریت کی بنیادوں کو تقویت پہنچانے کے بجائے مزید کمزور کرنے کا کام کیا ہے، حتیٰ کہ فسطائی طاقتوں کا آلہ کار بن کر ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انگریزی اور ہندی صحافت کے ساتھ ساتھ اردو صحافت کا معیار بھی گرتا جا رہا ہے۔ ارباب اقتدار کی خوشامد پر مبنی صحافت کا زور بڑھ رہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس طرح کی صحافت کسی بھی ملک و قوم کے لئے ضرر رساں ہی ثابت ہوگی اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ اب صحافت سے کس قدر بیزار ہو رہے جو پیشہ کبھی مقدس سمجھا جاتا تھا اب لوگ اس سے خوف کھا رہے ہیں۔

صحافت اور صداقت و شفافیت کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیشے کو بیچ کر کھانے والے کبھی ضمیر کی آواز پر چونکتے ہیں تو سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ پیشہ ورانہ اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر ذاتی آراء اور صاحب اقتدار کی بولی بولنے لگتے ہیں، دراصل ایسے لوگ ذہنی بیماری کے شکار ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ جب راقم السطور ایک معاملے کی رپورٹنگ کے لئے گزشتہ دنوں پریس کلب آف انڈیا میں گیا تو ایک بڑے کارپوریٹ ادارے سے وابستہ ایک مشہور صحافی کہنے لگے : ”اصل صحافت تو آپ لوگ کر رہے ہیں، مجھے پتہ ہے آپ لوگوں کو زیادہ پیسے نہیں ملتے لیکن کم از کم جو لکھتے ہیں اس پر مطمئن تو رہتے ہیں، اندرون کی تسکین تو ہوتی ہے۔ سچ بتاؤں تو ہم لوگوں کو پیسے تو اچھے ملتے ہیں مگر غیر معیاری صحافت روح کی تسکین کا سبب نہیں بن پاتی، بلکہ اکثر و بیشتر تو ہمارا اپنا ضمیر ہی ہمیں سخت ملامت کر رہا ہوتا ہے۔ ہم میدان صحافت میں اس لیے آئے تھے کہ ملک و قوم کی بہبود میں ہمارا بھی حصہ ہو، پسماندہ طبقات کی آواز بنیں، لیکن ذاتی آسائش اور مال کی ہوس، اور جان کے خوف نے ایسا کرنے سے روک رکھا ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے انھیں میر کا شعر سنایا:

منصور کی حقیقت تم نے سنی ہی ہو گی
حق جو کہے ہے، اس کو یاں دار کھینچتے ہیں

پھر میں نے ان سے کہا: صحافت میں اگر مزاحمتی آہنگ، اور ظلم و تشدد کے خلاف بولنے کی سکت باقی نہ رہے تو وہ علامتی صحافت یا بے تحقیق خبروں کا آشیانہ بن کر رہ جاتا ہے۔ صحافت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ ہر اس شخص یا گروہ پر سوال اٹھایا جائے جس پر سوال اٹھانا کسی بھی حوالے سے مفاد عامہ کے لیے ضروری ہو اور لوگ اس پر سوال اٹھاتے ہوئے ہچکچاتے ہوں۔ معاملے کی تہہ تک پہنچنا اور اس کے خد و خال، نفع و ضرر کو بروئے کار لانا اور اس سلسلے میں مخالف طاقتوں کو خاطر میں لائے بغیر اپنا فریضہ انجام دینا ہی صحافت ہے۔

گفتگو کے درمیان میری نظر ان لوگوں پر پڑی جو زرد صحافت میں ملوث ہیں اور جن کے بارے میں عوام کی رائے ہے کہ یہ لوگ حکومت کے زیر اثر صحافت کرتے ہیں۔ اتفاق سے وہ بھی پوری طرح ہماری طرف متوجہ تھے توان ”گودی اینکروں“ کو سنانے کے لیے میں نے اپنی آواز ذرا بلند کردی۔

صحافت میں یہ بات بہت اہم ہے کہ سوال کیسے اٹھایا جائے؟ اس کا طریقہ کار کیا ہو؟ صداقت پر مبنی خبریں کیسے عوام تک پہنچائی جائیں۔ تعمیری صحافت کے ان رموز سے صحافی بہ خوبی واقف ہوتے ہیں۔ آپ یہ بھی یقین جانیں کہ آزاد صحافت اور زرد صحافت یا زعفرانی صحافت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اگر تعمیری صحافت ملک و قوم کی خدمت ہے تو زرد صحافت قوم اور وطن کی مٹی سے غداری ہے، ملک کو تباہی کی جانب دھکیلنا ہے۔ مکالمہ ختم ہوا اور میں نے پریس کلب آف انڈیا سے بوجھل قدموں کے ساتھ باہر قدم رکھا تو افکار و خیالات باہم دگر الجھ گئے۔ اور یہ خیال دل و دماغ کو بار بار کچوکے لگا رہا تھا کہ ہمارے یہاں صحافیوں میں ایک قسم کی بے حسی، بے فکری اور ملک کے تئیں وفاداری کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ بر سر اقتدار جماعتوں سے سوال نہ کرنا، حقائق سے چشم پوشی کرنا، اور طاقت کے آگے سرنگوں ہوجانا ان کا شیوہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ عوام کو ذہنی و فکری پستی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ معاشرے کو حقائق و واقعات سے لا علم رکھ کر افسانوی ماحول بنا نے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سب کچھ مضبوط بنیادوں پر استوار، صدق و اخلاص پر مبنی اور وسائل سے مالامال صحافتی ادارے، میڈیا ہاؤسز ”آزادانہ صحافت“ کے نام پر کرتے ہیں۔ حالانکہ حکومت اور دیگر محکموں نے اس کام کے لیے اپنے تعلقات عامہ کے شعبے قائم کرنے کے علاوہ ترجمان متعین کر رکھے ہیں۔ ان کی پوری آئی ٹی سیل ان کے نظریات کو پھیلانے کے لیے سرگرم رہتی ہے۔

صحافی حقائق کا ترجمان ہوتا ہے، ملک و قوم کا وفا دار ہوتا ہے، جانب داری اور کسی خاص پارٹی یا جماعت کی ترجمانی اسے زیب نہیں دیتی۔ سرکاری اطلاعات اور ان کے نظریات بنام صحافت، سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپوں میں ڈالتے رہنا بھی کوئی صحافتی کارنامہ نہیں ہے۔ سرکاری افسران کی تقرریوں اور ترقیوں پر مبارک بادوں کی تصاویر نشر کرنا ذاتی تعلقات کو بہتر بنانا تو کہلا سکتا ہے، مگر صحافت ہرگز نہیں۔ ایسی صحافت کو زرد صحافت کہا جاتا ہے جس کی مہذب معاشرے اور سماج میں کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

صحافت، عموماً ہندوستانی صحافت، عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ ان کی اقتدار پرستی نے ملک و قوم کا نقصان کیا ہے، ان کے تئیں عام آدمی میں بہت غصہ پایا جا رہا ہے کہ وہ راستہ چلتے ایسے بے شرم، اقتدار کے سر میں سر ملانے والے صحافیوں کو طعن و تشنیع اور ملامت کا نشانہ بناتے ہیں، انہیں آئینہ دکھاتے ہیں، ہندوستان میں بے باک صحافیوں کو تشدد پسند لابی، اور بھگوا دھاری عناصر کی جانب سے ہراساں کیا جاتا ہے۔

بہر کیف بات بس اتنی سی ہے کہ مسند نشینوں کی چاپلوسی کرنے والی قومی میڈیا بنام گودی میڈیا کی نیوز اور خبروں سے خود کو دور رکھیں۔ ان کو نظر انداز کرنا ہی در اصل ان کا بہترین علاج ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں ایسے صحافی اور ان کے ادارے تنزلی کا شکار ہیں اور ان کے چینلوں پر ناظرین دن بہ دن گھٹتے اور محدود ہوتے جا رہے ہیں، جو کہ خوش آئند بات ہے۔ جو شخص بھی آپ کو اہم معلومات ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ دے وہ قابل احترام ہے۔ مفاد عامہ سے جڑا کوئی بھی معاملہ ہو، عوام کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے بارے میں درست اور صحیح معلومات حاصل کریں۔ مفاد عامہ سے جڑے کسی بھی معاملے میں اگر کوئی ہیر پھیر ہو رہی ہے تو صحافی کا کام ہے کہ وہ عوام کو بروقت آگاہ کرے۔ تمام صحافتی برادری پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ ملک کا آئین اور اس کی بالادستی کے لیے جمہوریت کی بقا اور اس کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ جو آزاد، بے باک اور تعمیری صحافت کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر اس کی پاسداری میں فرق آ رہا ہو تو صحافی کیسے خاموش رہ سکتا ہے۔

اس دن پریس کلب سے روانہ ہوتے ہوئے میں خوش تھا۔ مسرت کی لہریں دل و دماغ کو مست کر رہی تھیں اور میں ان نشاط انگیز خیالات کے ساتھ آفس پہنچا اور اپنے کام سے فارغ ہو کر میں تیز تیز قدموں کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ آفس سے اپنے کمرے کے درمیان کے فاصلے کو طے کرتے وقت میں زرد صحافت کے علمبردار ان صحافیوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اتنے تجربہ کار اور اتنے مشہور ہونے کے باوجود ان کی آواز شور میں تبدیل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ میڈیا کے وہ چہرے جو کبھی معتبر سمجھے جاتے تھے اب ان کا اعتبار کیوں ختم ہوتا جا رہا ہے؟

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی
Latest posts by محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 177 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah