عشق کرنے کی حسرت

یہ معاملہ بھی ہوا کہ ایک ساتھ دو سہیلیاں ان پر مر مٹیں، ایک نے حسد کے مارے دوسری کو کچھ کہا تو اس نے خود کشی کرنے کو سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ یہ اسے نکال کر ہسپتال لے گئے تو وہاں کی ڈاکٹر ان پر فریفتہ ہو گئیں۔
ارے…. جوش ملیح آبادی نہ ہوئے، مستنصر حسین تارڑ ہو گئے۔ ہم تو جلن کے مارے بل کھا رہے ہیں۔
ہائے کاش! ہم بھی ایسے خوش نصیب ہوتے۔ کوئی جمال ہم پر بھی جال پھینکتا، کوئی صیاد ہم پر بھی گھات لگاتا۔ ہم بھی گرفتار ہوتے، ہم بھی شکار ہوتے۔ کسی کافر زلف کا بادل ہماری تپتی جوانی کو بھی سایہ کرتا، ہماری تحریروں سے بھی کوئی رنگین و شاداب لمحے ٹپکتے۔ کوئی ہمیں مڑ مڑ کر دیکھتا اور ہم بے نیازی سے سر جھٹک کر آگے بڑھ جاتے۔ ہم آنکھ اٹھاتے اور بجلی لپلپا جاتی، نظروں کے تیر دلوں میں کھب جاتے۔
کبھی گھر واپسی پر ہماری شرٹ سے گز بھر لمبا سرمئی بال برآمد ہوتا، اور جینا وبال ہوتا۔ بیگم کرسی سے باندھ کر ہم پر وائپر برساتیں اور اس کلموہی کا نام پوچھتیں۔ جواب میں
ہم چپ رہے، ہم’رو‘ دیے، منظور تھا پردہ تیرا
کی تصویر بنے ہوتے۔
ذرا ہماری شرافت، احتیاط یا تخیل کا افلاس دیکھئے، معاشقوں کی خواہش میں بھی بیگم در آئی ہیں۔
اب یہ بیگم کے ذکر کا فیضان ہے، اپنی بے بسی و حسرت لکھ دینے کی کرامت ہے یا انگور کھٹے ہونے کی حکمت۔ دوبارہ سوچتے ہیں، معاشقہ لڑانا سراسر گھاٹے کا سودا نظر آتا ہے۔ شاید اس کام کے لیے بے حسی، دلیری اور اخلاق باختگی درکار ہوتی ہو۔ ورنہ جس میل جول پر پکڑے جانے کا ہول رہے، وہ رشتہ ہی کیسا۔ جب کسی ایک سے وفاداری کا پیمان کر لیا تو کسی دوسرے سے تعلق داری کیوں کر؟
لہٰذا کچھ تو اقدار کا خیال، کچھ حوصلے کا کال اور کچھ تیزی سے سفید ہوتے بالوں کاخیال۔ ہم بخوشی اپنی حسرت سے دست بردار ہوتے ہیں۔

