بورخیس کا الف، لوسا کا پیرو اور پاکستان کا تارڑ

ایسے جذبات جو مخصوص نظریات رکھنے والوں کو دوسروں سے محبت کرنا سکھا دیں۔ ایسی تحاریر جن کے الفاظ سے فاکنر کی گرمی محسوس ہو تو اچیبے کے افریقی قبائل کے رقص میں پنہاں زندگی کا احساس، میخائل شولوکوف کے ڈان کا بہاو¿ یا میلان کنڈیرا کی چیکوسلواکیہ کی طرف مراجعت، ٹوماس ٹرانسٹرومر کے سویڈن کے طویل سرما کی ٹھنڈک یا اورحان کمال کے ترکوں کی نفسیات۔ یہی چیزیں بیک وقت پاکستان کے طول و عروض کی اقوام کی سماجیات، نفسیات، کیفیات، معاشیات اور احساسات میں جیتی جاگتی نظر آئیں۔ جس کے ناول بین الاقوامی تہذیب و اقوام کے آہنگ سے لبریز ہوں تو سفرنامے جو صحراو¿ں اور گھاٹیوں کو ہپناٹائز کر دیں اور وہ خود آ کر کہیں کہ دیکھو یہ میں ہوں جس کا ذکر فلاں شخص نے فلاں کتاب کے فلاں صفحہ پر کیا۔
ہاں ایسا ممکن ہے، ایسا ممکن ہے اور وہ پیرو، وہ الف مستنصر حسین تارڑ ہیں اور انہی تحاریر کی بدولت ’ای بک‘ کے دور میں کہیں تکیہ تارڑ کا انعقاد ہوتا ہے تو کبھی نوجوان صبح سویرے ماڈل ٹاو¿ن پارک میں ان کا تھڑا بیٹھتے ہیں۔ یہی فن ان کے کالموں کا خاصہ ہے 
جس نے سارتر کی مانند کبھی اپنے نام کو کسی ادارے سے نہ جوڑا۔ جس نے زندگی میں ایسی عزت اور خلوص کمایا جو اکثر مرے ہوو¿ں کو بھی نصیب نہیں ہو پاتا۔ جس کی تحریروں میں موجود پرندے خواجہ عطار کی منطق الطیر کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ جسے سوچتے شیخ سعدی یاد آ جاتا ہے۔ تب بین الاقوامی ادب کا طالب علم سوچتا ہے کہ مستنصر حسین تارڑ پاکستانی تہذیب و ثقافت کا پیرو ہے، وہ بورخیس کا الف ہے۔

