بینِ شیطان و دریائے عمیق


یونانی دیومالا میں بادشاہ اوڈیسس کو ایک دبدھا درپیش تھی،اسے سمندر میں ایک ایسی تنگنائے سے گزرنا تھا جس کے دونوں طرف دو عفریت تھے، بیچ کا راستہ اتنا تنگ تھا کہ ایک سے دور ہٹتا تو دوسرے کی زد میں آ جاتا، بھنور سے بچتا تو عفریت شش سر نگل لیتا، اسی صورتِ حال سے محاورہ نکلا ہے،

Between Scylla and Charybdis.

کچھ اسی طرح کا معاملہ ہرکولیس کو بھی پیش آیا جس سے محاورہ بنا،

On the horns of a dilemma.

’بینِ شیطان و دریائے عمیق‘ کا بھی یہی معنی ہے اور ’میانِ سنگ و یک شے سخت‘ کا بھی یہی مفہوم ہے۔ اور اگر شاعرسے رجوع کیا جائے تو فرماتے ہیں،” پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے … جو مشکل اب ہے یارب پھر وہی مشکل نہ بن جائے۔“ پرنس ہیملٹ جب کہتے ہیں ’ٹو بی اور ناٹ ٹو بی‘ تو وہ بھی اپنے انداز میں لگ بھک یہی کہہ رہے ہیں، بودن کہ نبودن، بہ قول شیخ ابراہیم ذوق ”اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے … مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔“ ( یہ بقر عید کے اثرات ہیں کہ کالم کی تمہید اوجھڑی کی طرح طویل ہو گئی ہے) اس تمہید میں بس ایک ہی نکتہ ہے، زندگی میں کبھی آپ کو دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ دونوں ہی خطرات سے اَٹے ہوئے ہیں، آپ اپنے تئیں ’چھوٹی برائی‘ کا انتخاب کرتے ہیں، جو ضروری نہیں کہ ’چھوٹی برائی‘ ہی ثابت ہو۔

مقبول سیاسی راہ نما عمران خان کو جیل میں لگ بھگ ایک سال ہو چلا ہے، ان کی رہائی کیلئے سڑکوں پر کوئی دباﺅ، کوئی ہاﺅ ہو نہیں ہے، لیکن زیرِ سطح ان کے حامیوں میں ایک اضطراب ہے جو اس وقت تک موجود رہے گا جب تک ان کے ’مرشد‘ مہر و ماہ کو روزنِ زنداں سے دیدار کرواتے رہیں گے۔سیاسی مبصر کہتے ہیں کہ ملک میں سیاسی استحکام کیلئے از حد ضروری ہے کہ سیاسی نظام کو ’نارمل‘ کیا جائے، اور اس کی اولین شرط یہ ہے کہ ابو زنداں کو رہا کیا جائے اور سیاست میں بلا کسی رکاوٹ شرکت کا موقع دیا جائے، ورنہ یہ ہنڈیا اندر ہی اندر کھولتی رہے گی اور کبھی نہ کبھی موقع پا کر چھلک جائے گی۔ یہ سچ ہے کہ پی ٹی آئی کے بہت سے دوست اتنے غصے میں ہیں کہ ریاست اور سیاست میں امتیاز نہیں کر پا رہے، پاکستانی ٹیم کے کسی کھیل میں ہارنے پر بغلیں بجاتے ہیں، اور معیشت کے حوالے سے اگر کوئی بھولی بھٹکی مثبت خبر آ ہی جائے تو ان کی پیشانیاں شکن آلود ہو جاتی ہیں۔اب آپ ہی بتائیے کہ ملکی آبادی کے ایک بڑے حصے کی اس تخریبی ذہنی حالت کے ساتھ ملک میں سیاسی استحکام کی توقع کیوں کر باندھی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف، پاکستانی سیاست کا ہر طالب علم اور عمران خان کی ذہنی ساخت سے آگاہ ہر شخص قطعیت سے یہ بات کہہ سکتا ہے کہ ابو زنداں رہا ہو کر ملک میں سیاسی افراتفری برپا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یعنی عمران کے جیل میں ہوتے ہوئے سیاسی استحکام نہیں آ سکتا، اور ان کے رہا ہونے سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ شہزاد صاحب یاد آ گئے، ”دو بلائیں میری آنکھوں کا مقدر شہزاد…ایک تو نیند ہے اور دوسرے بیداری ہے۔“

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ معاشی استحکام کی خشتِ اول سیاسی استواری ہوا کرتی ہے، اور اس وقت ہمارا مسئلہ اولین معاشی تزلزل ہے، یعنی بہتر معاشی مستقبل کا راستہ سیاسی انتشار سے نہیں نکل سکتا، بالکل نہیں نکل سکتا۔ تو پھر ان حالات میں کیا ہونا چاہیے؟ کیا ابو زنداں کو اس شرط پر رہا کیا جا سکتا ہے کہ وہ ملکی معیشت کو سنبھلنے کیلئے دو تین سال مرحمت فرمائیں گے؟ کوئی دوسرا تو کیا، اس ضمن میں عمران خان خود بھی اپنی ضمانت نہیں دے سکتے۔ جیل سیاست دانوں کا مکتب ہوتا ہے، عمران خان نے جیل سے کیا سیکھا ہو گا؟ واقفانِ حال کا اصرار ہے کہ جس قسم کی آسودہ جیل وہ کاٹ رہے ہیں، اس سے سیاست دان یا مجرم کچھ نہیں سیکھ سکتا، انہیں جیل میں وہ تنہائی بھی میسر نہیں جس میں بندہ خود سے گفتگو کرتا ہے، اپنے اندر جھانکتا ہے، اپنی گرہیں کھولتا ہے۔ ایک دِل چسپ بات سنیے۔ ایک اندرونی ذریعہ کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے ملاقاتیوں سے، بالخصوص اپنی بیگم صاحبہ سے گفتگو میں ایک ادارے کے اعلیٰ عہدے دار کے بارے مسلسل جارحانہ گفتگو فرماتے ہیں، بلکہ اکثر دشنام طرازی پر اتر آتے ہیں، یہ بات چیت ریکارڈ کی جاتی ہے، اور اس کا ٹرانس کرپٹ متعلقہ اداروں اور افسران تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس گفتگو میں عمران خان اپنی رہائی کے بعد سب سے پہلے جن اصحابِ شرف سے نبٹیںگے ان کا ذکرِ خیر بھی موجود ہوتا ہے۔ یعنی عمران خان اپنی رہائی کے بعد ملک میں سیاسی’ استحکام‘ کا ایک واضع نقشہ رکھتے ہیں، اور کارکنانِ قضاوقدر اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔جوزف ہیلرنے اپنے ایک ناول میں ایک اصطلاح ایجاد کی تھی، Catch 22 ، اس کا معنیٰ کچھ یوں ہے کہ آپ ایک کام نہیں کر سکتے جب تک آپ ایک دوسرا کام نہ کر لیں، لیکن وہ دوسرا کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ پہلا کام نہ ہو جائے۔اگر منطق کے اس گنجل سے آپ کا سر بھی میری طرح دکھنے لگا ہے تو کالم کو سمیٹ دینا ہی ہمارے حق میں افضل ہو گا۔

آخری دو سطریں لکھنا چاہ رہا تھا کہ اطلاع ملی کہ پیاری بیٹی باران کے چھوٹے سے کتورے Bingu کے گلے میں ہڈی پھنس گئی ہے جو اس سے اگلی جا رہی ہے نہ نگلی جا رہی ہے، یعنی… بِنگو کو بھی بالکل وطن عزیز جیسی صورتِ حال کا سامنا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments