پناہ کی بستی


فجر کی اذان بہت افسردہ کر دینے والی ہوتی ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ لاہور اندرون میں ہمارے ننھیال کے آبائی گھر کی پچھلی گلی میں مسجد ہوا کرتی تھی۔ تب چھتوں پر سونے کا رواج تھا تو ہم نانا ابو اور نانی اماں کے ساتھ بڑے شوق سے پر چھت پر سویا کرتے تھے۔ رات کے پہر آنکھ تو کم کھلا کرتی مگر جب بھی کھلتی تاروں سے بھرا آسمان ہمارے سر پر جیسے مسکراتا ہو نظر آتا۔ ماحولیاتی آلودگی بھی کم تھی تو ستارے بھی نہایت شفاف نظر آتے۔ شاید بچپن میں بینائی ایسی تھی کہ ہر ستارے کا رنگ دوسرے سے مختلف نظر آتا۔

چھت کی نکڑ پر مسجد کا مینار تھا اور وہیں پر مسجد کا اسپیکر بھی لگا ہوا تھا۔ اسی لئے ہم کبھی شکوہ نہیں کر سکتے تھے کہ ہمیں اذان کی آواز نہیں آئی۔ اسپیکر سے اذان دی جاتی تو میں نیند میں ڈر جاتی تھی۔ میرے بارے گھر میں مشہور ہو گیا تھا کہ میں اذانوں سے ڈر جاتی ہوں۔ مجھے فجر کے اوقات یاد پڑتے ہیں جب میں اذان کی آواز سے ڈر کر اٹھتی تو میری نانی اماں مجھے سینے سے لگا لیتی تھیں۔ ماؤں اور نانیوں کے سینے کس قدر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ خیر، سلامتی، حفاظت، اور سکون کا ملاپ۔ جہاں کوئی بھی نقصان نہ پہنچا سکتا ہو۔ یہاں تک کہ بلائیں اور آفتیں بھی اپنا استحقاق یہاں چھوڑ جاتی ہیں۔

اذان کی آواز سے جیسے ہی میں اٹھتی، پھر روتی اور نانی اماں کی بانہیں اور میرا سر ہوتا۔ یہ ہمارا روز کا معمول تھا۔

آج نانی اماں نہیں رہیں مگر ان کی سب سے پرانی یاد ہمیشہ یہی رہے گی کہ وہ مجھے اٹھ کر سینے سے لگاتی تھیں۔ ان کی ہزاروں یادوں میں سے یہ یاد بہت ہی بیش قیمت ہے۔ فجر کے اندھیرے میں ڈر کر اٹھی ہوئی کمسن بچی بھی گھنگھریالے بالوں والی نانی کی شبیہ کو تاکتی تھی کہ جیسے ہی وہ مجھے نظر آئے گی تو سب اچھا ہو جائے گا۔

میرے نانا کا انتقال بھی بائیس جون کو ہوا تھا اور چودہ سال بعد میری نانی اماں نے دنیا عین اسی تاریخ پر چھوڑ دی ہے۔ اعداد کا یہ کون سا کمال ہے یا ان دونوں کا آپس میں کون سا وعدہ تھا، مجھے نہیں معلوم مگر ان کی زندگیوں کے اتفاقات بتاتے ہیں کہ شاید یہ آئے بھی ایک ہی روز ہوں گے۔

سنہ 1948 میں صوبہ پنجاب کے فسادات ریاست جموں پہنچے تو مسلمانوں کے لئے کوئی اچھی نوید نہ لائے۔ جموں میں پنجابیوں کی تب بھی اکثریت تھی اور آج بھی ہے۔ جموں کے پنجابی صوبے پنجاب اور ہزارہ کے پنجابیوں کے مابین خاندانی مراسم رہے ہیں۔ مختلف ذاتوں کے لوگ اپنی اپنی ذات اور خاندان میں رشتے بنانے کو ترجیح دیتے تھے چاہے وہ کتنے ہی دور کیوں نہ ہوں یا پنجابی کا کون سا لہجہ بولتے ہوں۔ اس لئے پنجاب کے ان تین خطوں کے لوگ آپس میں جڑے رہے ہیں۔

جموں میں مسلمان پنجابیوں کی نسل کشی کے بیشتر شواہد موجود ہیں۔ دو ماہ کے قلیل عرصے میں دو لاکھ افراد قتل کیے گئے۔ جو انسانیت سوز مناظر آج ہم غزہ میں دیکھتے ہیں، ویسے ہی مناظر جموں نسل کشی سے بچ جانے والے اپنی اولادوں اور محققین کو بتاتے آئے ہیں۔ میرے نانا ابو بھی بچ جانے والوں میں سے تھے۔ اپنی چھوٹی بہن اور بھائیوں کو کھو دینے کے بعد وہ اپنے ننھیالی شہر لاہور آئے۔

نانا ابو کبھی بھی مقبوضہ جموں کو بھول نہیں پائے۔ ان کے دل کو آس تھی کہ شاید ان کی بہن کنیز فاطمہ بچ گئیں ہوں اور کیا معلوم ان کی اولاد مقبوضہ جموں میں ہو یا وہ یہاں آ گئے ہوں۔ بس اک ڈھارس تھی جو بندھی ہوئی تھی۔ مجھے اتنا ضرور یاد ہے کہ اپنے آخری ایام میں وہ جموں کی طرف رخ کر کے اپنے بہن بھائیوں کو پکارتے تھے۔ شاید وہ ان کو دیکھ پاتے ہوں۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ آیا ان کی روح سیدھا مقبوضہ جموں کے اس گاؤں گئی ہوگی جہاں ان کا بچپن گزرا، جہاں ان کے والدین، بہن بھائیوں، نانا دادا اور دوستوں کی قبریں ہوں گی۔ شاید ایسا ہی ہو۔

میری نانی اماں کی کہانی بھی میرے نانا سے مختلف نہیں۔ دادا دادی، اور نانا مقبوضہ جموں سے مسلمان قومیت کی بنیاد پر نکالے گئے تو نانی اماں کو ان کی پنجابی قومیت کی بنیاد پر موجودہ دور کے پختون علاقوں سے نکالا گیا۔ ایک جگہ نکالنے والوں نے اپنا مذہبی عناد سامنے رکھا تو دوسری طرف مذہب کے نام پر ہمدردیاں سمیٹنے والوں نے مذہب کی لاج رکھنے کی بجائے اپنے اندر نسل پرستی اور تعصب کی سیوا کی۔

نانی اماں کا خاندان قبائلی علاقہ جات اور نوشہرہ میں رہنے والے پنجابی خاندانوں میں سے تھا۔ وہاں دہائیوں سے پنجابی آباد تھے۔ پھر تقسیم سے پہلے اور بعد میں آہستہ آہستہ افغانوں کو آباد کیا جانے لگا اور مقامی پنجابی جو باہر پشتو اور گھر میں ہندکو، پشوری یا پہاڑی بولتے تھے کو پیچھے دھکیلا جانے لگا۔ کچھ ہی عرصے میں جان و مال کے خوف سے بہت سے مقامی پنجابی وہاں سے کوچ کر کے کہ ہزارہ، جموں، یا پوٹھوہار آباد ہونے لگے۔ ہاں، یہ باتیں بہت سوں کے کیے عجوبہ صفت کی ہوں گی کیونکہ ہمارے یہاں تاریخ کے ان اوراق کو بہت پہلے ہی جلا دیا گیا ہے مگر انسانوں کے مابین زندہ رہنے والے تلخ تجربات نسلوں تک زندہ رہتے ہیں۔

بس ایک ایسی ہی رات تھی، جب میری سات سالہ نانی اماں، ان کی پانچ سالہ بہن، بارہ سالہ بھائی اور تئیس سالہ بیوہ ماں کو بھی گھر صرف جان بچانے کے لئے چھوڑنا پڑا۔ یہ سب بہت جلدی جلدی ہوا۔ بڑی نانی نے بچوں کو نیند سے ایسی خاموش سے جگایا کہ کانوں کان کسی باہر والے کو خبر نہ ہو۔ نانی اماں کے کم سن چچا نے سرحد پار کرایا اور وہ لوگ دنوں کی مسافت کے بعد بالآخر پوٹھوہار آن پہنچے۔ خود وہ ایبٹ آباد گئے تاکہ کوئی پیچھے بھی آئے تو بچوں تک نہ پہنچ سکے۔ کچھ سال کلر کہار رہنے کے بعد وہ پنجابیوں کے قبلے لاہور آ گئے۔ جہاں سے ان کو معلوم تھا کہ کوئی ان کو اس لئے نہیں نکال سکتا کہ وہ نسل کے پنجابی، ذات کے آرائیں، اور رنگ کے ”سانولے“ ہیں۔ اس بے دخل پنجابی بولنے والے رنگ کے ”سانولے“ خاندان نے ساری عمر لاہور میں گزاری۔

پنجاب کی دھرتی ہر رات کے اوقات میں ڈر جانے والے کو سینے سے لگاتی مامتا کا تصور ہے۔ لاہور کے اونچے برج گھنگھریالے بالوں والی نرگسی امان کی وہ شبیہ بناتے ہیں کہ چار سو اندھیروں میں بھی انسان بس انہی کو ڈھونڈتا ہے کہ وہ گلے سے لگائیں گے اور سب اچھا ہو جائے گا۔ تحفظ، پناہ، اور قیام کی یہ سرزمین اپنوں کو مایوس نہیں کرتی۔ اس زمین نے اپنے پروں میں ہر رنگ کی تصویر کندہ کی ہے۔ پیار اور تحفظ کی اس بستی نے اس کی بولیاں بولنے والوں کو ہی نہیں، اس سے امتیاز برتنے والوں کا بھی ہاتھ تھاما ہے۔ اس زمین کو اس کے اپنوں کی ضرورت ہے، جو اس کی مامتا کا وہ قرض چکائیں جس کی اس کو ضرورت ہے۔

اپنے گھر سے انا اور حرص کی خاطر بے دخل کیے ہوئے لوگوں کے خواب کیسے ہوتے ہوں گے، وہ اس گھر، گاؤں، اور پیاروں کو تاعمر دیکھتے رہے ہوں گے۔ اگلی صبح بیدار ہو کر بے چین کرنے والے خواب ان کے بدن کو کیسے توڑ کر رکھ دیتے ہوں گے۔ ہم ان کے دکھ کو کبھی سمجھ پائے ہی نہیں۔ ہمارے اور ان کے غموں میں کوئی قدر مشترک ہو ہی نہیں سکتی۔

Facebook Comments HS