کراچی یاترا۔ (آخری قسط)
برنس روڈ کا پھیرا
اب سے چند سال پہلے میں جب بھی کراچی جاتا تھا تو برنس روڈ کا کم از کم ایک پھیرا ضرور لگاتا تھا اور یہ پھیرا گھر کی گاڑی یا ٹیکسی میں نہیں ہوتا تھا بلکہ پبلک بس میں ہوتا تھا۔ اس پھیرے کی کئی وجوہات تھیں۔
پہلی بات تو یہ تھی کی میں کراچی کی بسوں میں لٹک کر سفر کرنے کی اپنی پرانی روایات کو چیک کرتا تھا کہ کیا میں اب بھی دوڑ کر بس پکڑ سکتا ہوں یا چلتی بس میں سے اتر سکتا ہوں۔ بھری ہوئی بس میں عوام کے ساتھ میل ملاپ اور کنڈکٹر سے ٹکٹ لینے کی منہ ماری، عوامی زبان میں تکرار جیسے عوامل بھی اس کا حصہ تھے۔
یوں تو برنس روڈ کا پھیرا اصل میں اردو بازار کی وجہ سے لگتا تھا کہ وہاں اب تک میری انجینئرنگ کی کتابیں بک سٹورز سے فروخت ہوتی تھیں۔ اس بہانے دکانداروں سے سلام دعا ہو جاتی تھی اور مارکیٹ کی صورتحال بھی سامنے آ جاتی تھی۔
لیکن برنس روڈ کے پھیرے کا ایک بڑا مقصد برنس روڈ کی لسی اور نہاری سے لطف لینا ہوتا تھا۔ گھر میں بتاتا کہ برنس روڈ کا پھیرا لسی اور نہاری کو وجہ سے ہے تو میرے گھر والے تو شاید مجھے تالے میں ہی بند کر دیتے کہ کینیڈا سے آئے ہو یہ لسی اور نہاری تمہیں بد ہضمی ہی نہ کرا دے۔ خیر ہم بھی ایسے بھولے نہیں تھے، ہر دفعہ کوئی نہ کوئی بہانہ برنس روڈ اکیلے پھیرے لگانے کا نکال ہی لیتے تھے۔ لیکن چند سال پہلے اس کا ڈراپ سین ہو گیا۔
اس دن اردو بازار میں اپنی کتابوں کے پبلشر سے ملنے کے بعد باہر نکلا تو سامنے ہی بن کباب والے کا ٹھیلا کھڑا تھا۔ تازہ بن کباب آپ کے سامنے بن رہے ہوں تو کون زاہد و صابر صبر کر سکتا ہے۔ اس ناچیز نے اپنے اطراف کی فکر کیے بغیر بن کباب کا آرڈر دے دیا۔ میرے حساب سے بہت سستا سودا تھا کہ ایک بن کباب کی قیمت چند کینیڈین سینٹ تھی، ہم ویسے بھی کفایت شعاری کو پسند کرتے ہیں۔
اس کے بعد ہوا کچھ اس طرح کہ ہم بن کباب تناول فرمانے کے بعد برنس روڈ پہنچ گئے۔ پہلے نہاری اور نان سے انصاف کیا۔ پھر ندیدوں کی طرح لسی والے کی دکان پر پہنچ گئے۔ پہلے لسی کا بڑا گلاس پیا، لمبی ذکار لی اور ساتھ ہی ربڑی کا بھی آرڈر دے دیا۔ ربڑی سے فارغ ہو کر باہر نکلے۔ سوچا گھر والوں کے لئے کچھ چاٹ وغیرہ پیک کرا لیں تو اس میں دو قباحتیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ گھر والوں پر راز کھل جائے گا کہ اگر میں نے برنس روڈ سے چاٹ پیک کرائی ہے تو خود کیا کچھ نہیں کھایا ہو گا۔ اب ایسے ننھے بھی نہیں ہیں کہ برنس روڈ سے گھر والوں کے لئے تو چاٹ پیک کرا لیں اور خود منہ سکھا کر گھر آجائیں۔ دوسری قباحت یہ تھی کہ چاٹ کا پیک لے کر بس میں چڑھنا اور اسے حفاظت سے لے کر اترنا بھی بڑا چیلینج تھا، پتہ نہیں بس میں کتنا رش ہو۔
خیر مجھے برنس روڈ سے ناظم آباد کی بس مل گئی۔ رش زیادہ نہیں تھا، مجھے بیٹھنے کی جگہ مل گئی۔ بس پہلے صدر گئی، ایمپریس مارکیٹ، گرو مندر اور پھر لس بیلہ۔ ابھی تک سفر بالکل نارمل تھا، میں بھی اونگھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ برنس روڈ سے چاٹ پیک کروا ہی لی ہوتی تو اچھا تھا۔ ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ بس کنڈکٹر نے چلا کر بس کنڈکٹر کو مخاطب کیا
” استاد، اسی چوراسی پیچھے آ رہی ہے، دبی رکھ“
استاد نے فوراً ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھا اور بس فراٹے لینے لگی۔ زناٹے سے لس بیلہ کا پل کراس کیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا، اسی چوراسی بھی تیز رفتاری سے پیچھا کر رہی تھی۔
” بس رضویہ پر نہیں رکے گی۔ چورنگی پر ہلکی ہو گی، پھر سیدھا پیٹرول پمپ۔“
گویا بس انکوائری آفس پر بھی نہیں رکے گی۔
بس کنڈکٹر نے جیسے ہی اعلان کیا، مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ مجھے تو اپنی فکر پڑ گئی کہ بس پیٹرول پمپ کے بعد کہیں رکتی بھی ہے یا سیدھے سبھاؤ حیدری پہنچ کر دم لے گی۔ بس چورنگی پر ہلکی ہوئی، ایک دو مظلوم یا مجھ جیسے ایڈونچر کے مارے چلتی بس سے اترے، اترے کیا اترنے کے بعد بھی تھوڑی دیر تک دوڑتے رہے۔ مجھے اپنا حشر دکھائی دینے لگا۔ توقع کے عین مطابق پیٹرول پمپ گزارنے کے بعد بس بقائی ہسپتال پر بھی نہیں رکی۔ ”نارتھ کا پل کے بعد بس سیدھی حیدری جائے گی، بورڈ آفس پر کسی کو اترنا ہے تو بس ہلکی ہوگی، اتر جاؤ“ کنڈیکٹر نے اعلان کیا۔
مجھے بورڈ آفس ہی اترنا تھا۔ میں کھڑا ہوا تو کنڈکٹر نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا شاید وہ سوچ رہا تھا کہ بڑے میاں شاید اتر تو جائیں مگر آئندہ کسی بس میں چڑھنے کے قابل نہ رہیں۔ بورڈ آفس آ گیا، ڈرائیور نے بس ہلکی کی، کنڈکٹر نے اشارہ کیا اور بندے نے ”چھال“ مار دی۔ چھال تو مار دی، بندہ کہیں، بیک پیک کہیں۔ ذرا حواس بحال ہوئے تو اندازہ ہوا کہ جہاں میں بس سے اترا تھا وہاں سے میں کم از کم پندرہ گز دوڑتا ہوا، دوڑتا ہوا کیا رگڑتا ہوا پہنچا تھا۔ جسم کے سارے جوڑ ہل چکے تھے لیکن اللہ تعالٰی کا شکرانہ ادا کیا کہ کوئی چوٹ نہیں لگی۔ میں نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ آئندہ اس قسم کے ایڈونچر سے پرہیز کروں گا۔ برنس روڈ کی نہاری کھانی ہے تو رکشے ٹیکسی سے جاؤں گا، بس کے سفر سے بس ہو گئی ہے۔
ایک دوستانہ مکالمہ
اچھا اچھا۔ تو تم کینیڈا سے اگلے ہفتے کراچی پہنچ رہے ہو۔ چلو پہنچنے کی اطلاع دے دینا۔ ملنے کا پروگرام بناتے ہیں، کچھ گپ شپ رہے گی
اچھا پہنچ گئے۔ چلو تم بھی اپنے جیٹ لیگ سے فارغ ہو لو، میں بھی کچھ مصروف ہوں۔ ملاقات کا پروگرام بناتے ہیں۔ ابھی تو تم یہاں کراچی میں تین ہفتے کے لئے تو ہو نا۔
ارے یا ر کیا بتاؤں۔ پورا ہفتہ مصروف گزر گیا۔ ڈرائیور بھی چھٹی گیا ہوا ہے۔ چلو کچھ کرتے ہیں۔ ابھی تو تم کراچی میں دو ہفتے تو ٹھیرو گے؟
بس کیا بتاؤں۔ سر کھجانے کی فرصت نہیں ہے۔ تم ٹھیرے بھی ناظم آباد میں ہو۔ یہاں ڈیفینس سے تمہارے گھر کا فاصلہ، ٹریفک، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں۔ توبہ توبہ۔ سنو تم ایسا کیوں نہیں کرتے۔ میری طرف ڈیفنس آ جاؤ۔ تمہیں ڈیفنس کلب میں چائے پانی کرا دیں گے۔ کچھ بڑے لوگوں سے تمہاری ملاقات بھی کرا دیں گے۔ ہا ہا۔ یہ ٹھیک رہے گا
کیا کہا اگلے ہفتے واپس جا رہے۔ یار تمہیں کہا تو تھا کہ ادھر میری طرف آ جاؤ۔ ڈیفنس کلب میں تمہیں چائے شائے پلا دیں گے، کچھ بڑے لوگوں سے ملوا بھی دیں گے۔ لیکن تم نے میری بات ہی نہیں سنی۔ یار برا نہ ماننا۔ تم کینیڈا اور امریکہ والوں کے ساتھ یہ بڑی مصیبت ہے۔ اتنی لمبی فلائیٹ پکڑ کر کراچی تو آ جاتے ہو اور پھر گھر میں گھس کر بیٹھ جاتے ہو۔ چلو خیر اس دفعہ تو ملاقات نہیں ہو سکی اگلی بار دیکھتے ہیں۔ اللہ حافظ

