مظہر کلیم اپنے انٹرویو میں ابن صفی سے اپنا تقابل کرتے ہیں


ایکسپریس:۔ اب تک آپ کتنے ناول تحریر کر چکے ہیں یہ بھی بتائیں کہ آپ کی مقبولیت میں سب سے اہم کردار کس بات کا ہے؟

مظہر کلیم:۔ میرے اب تک شائع ہونیوالے نالوں کی تعداد 600 سے زائد ہے۔ یہ تعداد تو عمران سیریز کے ناولوں کی ہے، اس کے علاوہ بچوں کے لئے میں نے جو چھوٹی کہانیاں لکھیں ان کی تعداد بھی 5 ہزار سے زائد ہے اور اللہ تعالیٰ کا مجھ پر خاص کرم ہے کہ میری ساری کہانیاں ہی مقبول ہیں۔

میرے ناولوں میں سب سے اہم بات سسپنس ہے۔ جاسوسی ادب کا قاری سوچتا ہے کہ جب کہانی آگے بڑھے گی تو کیا ہو گا اس حوالے سے میں جو دلچسپ بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عام طور پر جاسوسی ادب کے قاری بہت تیز ہوتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو مسلسل جاسوسی ادب پڑھ رہے ہوں ان کی حسیات بہت تیز ہو جاتی ہیں اور وہ کہانی کے آغاز میں ہی بھانپ لیتے ہیں کہ آگے کیا ہو گا لیکن میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ میں کبھی بھی اپنے ذہن میں پورا ناول نہیں سوچتا نہ ہی میں اپنے ذہن میں پورے ناول کا کوئی خاکہ بناتا ہوں جیسے دیگر لوگ کرتے ہیں، میں تو صرف کہانی شروع کرتا ہوں اور پھر میرے ذہن میں ہی کہانی آگے بڑھتی رہتی ہے۔

جب مجھے خود ہی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کہانی میں آگے کیا ہو گا تو قاری کو کیسے پتہ چلے گا لہٰذا قاری نے اپنے ذہن میں جو کچھ سوچا ہوتا ہے وہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور کہانی اپنے انداز میں آگے بڑھتی رہتی ہے۔ یہی خوبی اور انفرادیت میری غیرمعمولی کامیابی اور شہرت کی وجہ ہے۔

ایکسپریس:۔ جاسوسی ادب لکھنے کے لئے آپ کی نظر میں مطالعہ، مشاہدہ اور دیگر کیا چیزیں اہم ہیں جو آپ کے تخلیقی کام میں معاون ثابت ہوئیں؟

مظہر کلیم:۔ جاسوسی ادب لکھنے کے لئے سب سے اہم چیز مطالعہ اور مشاہدہ ہے لیکن یہ جو جاسوسی ادب لکھنے کی صلاحیت ہے، یہ جو ایک خاص طرح کا مائنڈ سیٹ ہے یہ میرے خیال میں قدرتی ہے یہ مجھ پر ایک عطاء ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں جب مطالعہ کرتا ہوں، سائنسی ایجادات یا جاسوسی ادب پڑھتا ہوں تو پھر میں اپنے اس مطالعہ کو ایک خاص انداز سے اپنے موضوعات کے قریب لاتا ہوں، یہ سب ایڈجسٹمنٹ میرا ذہن کرتا ہے۔

میں سائنس کو اس انداز سے اپنی کہانیوں میں لاتا ہوں کہ وہ کہانی کا حصہ بن جاتی ہے، میں ایسا کیسے کر لیتا ہوں یہ خداداد صلاحیت ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ میں نے 600 سے زائد ناول لکھے ہیں اور ہر ناول کا موضوع اور پس منظر بھی الگ رکھا ہے اور یہ سب قاری کو پسند بھی آئے ہیں وگرنہ تو دو تین ناولوں کے بعد لکھاریوں کی تحریر میں یکسانیت آ جاتی ہے۔ لوگ آج بھی مجھے پسند کرتے ہیں، یہاں کی تین نسلیں میرے ناول پڑھ کر پروان چڑھی ہیں۔

ایکسپریس:۔ آپ کے ناول نوجوان طبقہ میں بہت زیادہ مقبول ہیں، آپ شعوری طور پر اپنے ناولوں میں نوجوانوں کو کیا پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں؟

مظہر کلیم:۔ پہلی بات یہ ہے کہ میری تحریر فحاشی سے بالکل پاک ہوتی ہے، حتیٰ کہ کوئی ذومعنی جملہ اور لفظ بھی میں اپنی کہانی میں نہیں لکھتا۔ میں نے اپنے سماج کے لئے لکھا ہے، میرے ناولوں میں عمران اوراس کے ساتھیوں کا جو کردار ہے وہ نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہے۔ عمران میرے ناولوں میں اپنے عمل کے ذریعے بتاتا ہے کہ کامیابی صرف اچھے کردار سے ملتی ہے، اگر کردار مضبوط ہے تو کامیابی ضرور ملے گی۔

میرا پیغام یہ ہے کہ انسان کسی بھی صورتحال میں گھبرائے نہ، خطرہ دیکھ کر پیچھے قدم نہ ہٹائے بلکہ ڈٹ جائے۔ ناکامیاں کامیابی میں بدل جاتی ہیں۔ مجھے ایسے والدین کے خطوط بھی ملتے رہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ آپ کی تحریریں پڑھ کر ہمارے بچوں کے کردار اچھے ہو گئے ہیں۔

ایکسپریس:۔ آپ کے جاسوسی ناول ہر ماہ شائع ہوتے ہیں اور طویل عرصہ سے آپ کا یہی معمول ہے، کیا آپ نے لکھنے کے لئے کوئی خاص شیڈول مرتب کر رکھا ہے؟

مظہر کلیم:۔ دیکھیں! میں ایک وکیل ہوں اور وکالت بھی کل وقتی کام ہے، اس کے علاوہ مجھے لکھنا بھی ہوتا ہے اور میں ریڈیو پاکستان ملتان پر بھی پروگرام کرتا ہوں، بس یہ دو تین کام کرنے کے بعد میرے پاس وقت ہی نہیں بچتا کہ میں کوئی اور کام کر سکوں۔

ناول لکھنے کا میرا معمول یہ ہے کہ جب میں کچہری سے فراغت کے بعد گھر آتا ہوں تو روزانہ 15 سے 20 صفحات ضرور لکھتا ہوں، پہلے میرا یہ معمول تھا کہ پاک گیٹ میں جہاں میرے پبلشر کا شو روم تھا میں روزانہ وہیں بیٹھ کر لکھتا تھا، اکثر ادیب خاموشی اور تنہائی میں لکھتے ہیں لیکن میرا معاملہ اُلٹ ہے، میں بازار کے شوروغل میں بیٹھ کرلکھتا رہتا تھا، اس دوران آنے جانیوالوں سے علیک سلیک بھی ہوتی رہتی تھی، میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ میں اگر تنہائی میں بیٹھ کر لکھوں تو تھوڑی دیر کے بعد ہی بور ہو جاتا ہوں۔

بس میرا یہی شیڈول ہے کہ میں روزانہ لکھتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میرا اپنے شہر کی سماجی زندگی میں کوئی کردار نہیں ہے میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے کہیں بھی آ جا نہیں سکتا، مجھے ہر ماہ ایک ناول دینا ہوتا ہے بلکہ میرا قاری تو یہ چاہتا ہے کہ میں مہینے میں دو ناول لکھوں کیونکہ قاری ایک دن میں ناول پڑھ لیتا ہے اور پھر مہینہ بھر نئے ناول کا بے چینی سے انتظار کرتا ہے۔
ایکسپریس:۔ جاسوسی ادب لکھتے لکھتے آپ ریڈیو کمپیئرنگ کی طرف کیسے چلے گئے؟

مظہر کلیم:۔ مجھے ریڈیو والوں نے دراصل زرعی فیچرز لکھنے کے لئے بلایا تھا بعدازاں میں نے ریڈیو کے لئے سرائیکی ڈرامہ بھی لکھا۔ فیچر اور ڈرامہ لکھتے لکھتے ہی مجھے آفر کی گئی کہ آپ کمپیئرنگ بھی کریں تو میں نے کمپیئرنگ بھی شروع کر دی۔

شمشیر حیدر ہاشمی جو ریڈیو ملتان کے پروگرام ”جمہور دی آواز“ کے کمپیئر تھے، میں نے ان کے ساتھ طویل عرصہ کام کیا، ان کی وفات کے بعد دوسرے لوگوں کے ساتھ کام کیا۔ ریڈیو پر جو میں نے ڈرامے لکھے ان میں سے ایک سرائیکی ڈرامہ ”آدھی رات کا سورج“ بہت زیادہ مقبول ہوا تھا لیکن آہستہ آہستہ میری مصروفیات زیادہ ہو گئیں تو میں نے ریڈیو ڈرامہ لکھنا چھوڑ دیا، اپنے سرائیکی ڈرامے چھپوانے کا نہ تو مجھے کبھی خیال آیا نہ ہی میں نے کبھی کسی سے کہا، میری اب بھی خواہش ہے کہ میں اخبار کے لئے کالم لکھوں، مسئلہ صرف یہ ہے اگر کالم لکھنے لگا تو مجھے ناول چھوڑنا پڑے گا جو میں نہیں کر سکتا۔

ایکسپریس:۔ ابن صفی نے اردو جاسوسی ادب کی روایت کو ایک مقام پر پہنچایا آپ ان کی جاسوسی ادب میں شہرت اور ان کے مقام کے بارے میں کیا کہیں گے؟

مظہر کلیم:۔ میں ابن صفی صاحب کو پڑھتا رہتا تھا ان کے ناول مجھے پسند بھی تھے یہ بات بھی کسی حد تک کہی جا سکتی ہے کہ ابتداء میں، میں ان کی تحریروں سے متاثر بھی تھا لیکن میری ان سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ ابن صفی شاعر بھی تھے اور بہت اچھے ادیب بھی اور ان کی جاسوسی ادب میں مقبولیت بھی بہت زیادہ تھی۔

ان کی کہانیوں میں کردار سازی بھی شاندار ہوتی تھی اور زبان و بیان بھی، وہ کہانی میں سسپنس بھی برقرار رکھتے تھے اس لئے لوگ انہیں پسند کرتے تھے لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ اردو میں ان سے بھی پہلے جاسوسی ادب لکھا جا رہا تھا۔

انڈیا کے اکرم الہ آبادی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عمران سیریز بھی پہلے پہل انہوں نے ہی شروع کی تھی لیکن جو مقبولیت ابن صفی کو حاصل ہوئی وہ اکرم الہ آبادی کو نہیں مل سکی بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کرنل فریدی اور کیپٹن حمید کے کردار بھی اکرم الہ آبادی کے کرداروں سپرنٹنڈنٹ خان اور بیلہ کا چربہ ہیں ایسا میں نے سنا ہے باقی خدا بہتر جانتا ہے کیونکہ اکرم الہ آبادی کے ناول میں نے نہیں پڑھے۔

ایکسپریس:۔ آپ کے ہاں عمران کا کردار ابن صفی کے ناولوں سے آیا یہ بتائیے کہ آپ کے اور ابن صفی کے ہاں عمران کا جو کردار ہے وہ کس حد تک مختلف ہے۔ ؟

مظہر کلیم:۔ دیکھیں! جب میں نے عمران سیریز لکھنا شروع کی تو ابن صفی صاحب کا انتقال ہو چکا تھا اور عمران کا کردار ان دنوں نقلی ابن صفیوں کے ہاتھ میں تھا لیکن اس کو میں نے لکھنا شروع کیا تو یہ کردار آہستہ آہستہ ڈویلپ ہوتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ عمران کا کردار ابن صفی کے ہاں اور میرے ہاں بالکل مختلف ہے بلکہ میں نے پہلی کہانی سے ہی عمران کی انفرادیت قائم کر دی تھی۔
ابن صفی کے ہاں عمران کا کردار ایک مسخرے کا تھا جو اپنی الٹی سیدھی حرکتوں سے مزاح پیدا کرتا ہے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے عمران کے کردار کو اس کے ایک معیار تک پہنچایا اور معیار بھی ایسا جو لوگوں نے پسند کیا، یوں میں لکھتا چلا گیا۔

ایکسپریس:۔ عمران سیریز میں آپ نے اپنی طرف سے بھی نئے کردار تخلیق کیے، کیا اپ کے کردار آج تک اسی طرح چل رہے ہیں، آپ کا اپنا پسندیدہ کردار کون سا ہے۔ ؟

مظہر کلیم:۔ جی ہاں جب میں نے عمران سیریز لکھنا شروع کی تو میں نے اپنے کچھ کردار بھی متعارف کرائے۔ جیسے ٹائیگر، جوزف، جولیانہ، کیپٹن شکیل، صالح اور تنویر وغیرہ میرے 600 سے زائد ناولوں میں میرے بیشتر کردار ساتھ ساتھ چل رہے ہیں جیسے عمران اور ٹائیگر اکثر ناولوں میں یہی دونوں مشن مکمل کر لیتے ہیں باقی ٹیم کو حرکت میں لانا ہی نہیں پڑتا۔

بعض ناولوں میں پوری ٹیم بھی کام کرتی ہے، مظہر کلیم ایم اے اگر میرے کسی کردار میں آ شکار ہوتا ہے تو وہ عمران کا کردار ہی ہے ویسے مجھے ذاتی طور پر عمران کی ٹیم میں شامل تنویر کا کردار زیادہ اچھا لگتا ہے کیونکہ تنویر ایک صاف دل اور صاف گو آدمی ہے جو دل میں آتا ہے کہہ دیتا ہے یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے کون ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ میں اپنے کرداروں کی جو خصوصیات اپنی کہانیوں میں پیش کر چکا ہوں اب انہیں میں تبدیل نہیں کر سکتا، جو کردا جس خصوصیت اور جس افتاد طبع کا مالک ہے وہ میرے سارے ناولوں میں ویسا ہی دکھائی دے گا، میرے نزدیک یہی میری کامیابی ہے اگر میں اپنے کرداروں کی خصوصیات تبدیل کر دوں تو یہ قاری کو اچھا نہیں لگے گا، وہ بدمزہ ہو جائے گا۔

ایکسپریس:۔ عمران کا کردار ابن صفی نے تخلیق کیا اور ایک طویل عرصے سے وہ لوگوں کا ہیرو چلا آ رہا ہے، آپ نے اپنے قاری کے لئے عمران کے کردار کو ہی کیوں آگے بڑھایا کوئی نیا کردار کیوں نہیں تخلیق کیا۔ ؟

مظہر کلیم:۔ نیا کردار تو میں بنا سکتا تھا، اب بھی بنا سکتا ہوں لیکن عمران جاسوسی ادب کا اتنا مقبول کردار ہے کہ لوگ اس کا منظر سے غائب ہونا برداشت نہیں کرتے۔ عمران ایک مقبول ترین کردار ہے لوگ اسے پڑھنا چاہتے ہیں۔

میرے خیال میں عمران پر لکھنا سب سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ عمران لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکا ہے۔ کچھ اور لوگوں نے بھی نئے کردار بنائے، میں نے بھی بنائے وہ کچھ عرصہ کامیاب بھی رہے لیکن جہاں عمران آ جاتا ہے وہاں یہ سارے کردار زیرو ہوجاتے ہیں، جیسے میں نے کچھ کہانیوں میں ٹائیگر کے کردار کو عمران سے اہم مشن سونپے اور عمران کا کردار کم کر دیا تو اس پر مجھے قارئین کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑا، سبھی نے یہ کہا کہ عمران کا کردار زیادہ رکھیں۔ عمران کے کردار کی ڈیمانڈ ہی اتنی ہے کہ اس سے ہٹ کر قاری اور کچھ چاہتا ہی نہیں۔

عمران مجموعی طور پر ایک پسندیدہ کردار ہے اس کی خصوصیات اور اس کا کردار لوگوں میں آئیڈیلائز ہو چکا ہے۔ مجھے اکثر قارئین کے ایسے خطوط ملتے ہیں جن میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہم عمران کی جگہ خود کو رکھ کر آپ کا ناول پڑھتے ہیں اب دیکھیں قاری تو خود کو عمران سمجھ رہا ہے میں قاری کو عمران سے الگ تو نہیں کر سکتا۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3 4 5

1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments