مظہر کلیم اپنے انٹرویو میں ابن صفی سے اپنا تقابل کرتے ہیں


ایکسپریس:۔ آپ کے اور ابن صفی کے موضوعات میں کیا فرق ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ابن صفی کے بعد آپ جاسوسی ادب کو کس مقام تک لے گئے ہیں۔ ؟

مظہر کلیم:۔ میرے خیال میں، میں نے ابن صفی کے بعد جاسوسی ا دب کو مزید ترفع اور تنوع دیا ہے۔ ابن صفی صاحب کے موضوعات جو تھے انہیں آپ نچلی سطح کے جرائم کہہ سکتے ہیں لیکن میرے ناولوں کے موضوعات بین الاقوامی سطح کے ہیں وہ لوگوں میں زیادہ پسند کیے جاتے ہیں ابن صفی صاحب نے جس دور میں لکھا بہت اچھا لکھا لیکن ان کے موضوعات اس سطح کو نہیں چھوتے جہاں تک میرے موضوعات کا پھیلاؤ ہے۔

جاسوسی ادب کی دنیا میں ابن صفی کے بعد بہت سے لوگ آئے، عمران سیریز بھی بہت سے لوگوں نے لکھنا شروع کی تھی لیکن سب چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ یہ ایک مشکل موضوع ہے۔ میرے اکثر ناولوں میں دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں، ان کی دوسرے ممالک کے خلاف کارروائیاں، سازشیں اور ان کے تدارک کے عمل کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ آسان نظر آتا ہے لیکن جب کوئی جاسوسی ادب لکھنے بیٹھتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ دنیا کا مشکل ترین موضوع ہے جس میں بین الاقوامی سطح کی سازشیں، جرائم اور مسائل ڈسکس ہوتے ہیں اور اس انداز سے ڈسکس ہوتے ہیں کہ پڑھنے والے کی دلچسپی بھی قائم رہے یہ بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، جاسوسی ادب کی یہ خصوصیت ہے کہ اگر یہ اچھا لکھا ہوا ہو گا تو پسند آئے گا وگرنہ کوئی پڑھے گا بھی نہیں۔ میں 50 سال سے جاسوسی ادب لکھ رہا ہوں اور میرا معیار بھی 50 سال سے ایک ہی چل رہا ہے۔

اسی لئے مجھے پسند بھی کیا جاتا ہے میں نے زندگی بھر اچھا ادب لکھنے کوشش کی۔ جاسوسی ادب میں نے جن موضوعات پر لکھا ہے ایسے موضوعات پر پہلے کبھی نہیں لکھا گیا۔ میں نے اپنی تحریروں میں سائنس کے ارتقاء، لوگوں کی کردار سازی اور ان کی ذہنی ترقی کے لئے آگے بڑھنے کا جو ماحول پیدا کیا ہے میرے خیال میں وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا، ہوا ہو گا تو بہت ہی کم ہوا ہو گا۔

ایکسپریس:۔ آپ کے خیال میں جاسوسی ادب کا معیار کیا ہے کیونکہ ہمارے ہاں ایک طویل عرصہ جاسوسی ادب کو ادب ہی نہیں گردانا گیا؟

مظہر کلیم:۔ میرے خیال میں جاسوسی ادب دنیا کے بہترین ادب میں شمار ہوتا ہے جو ہماری زندگیوں کو بہتر انداز میں سنوارتا ہے، رہنمائی کرتا ہے ہمیں اپنے ملک اور اپنے لوگوں سے جوڑتا ہے یہ ایسا ادب ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر ہمارے خلاف کیا کیا سازشیں ہو رہی ہیں اور ہم ان سے کیسے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ زندگی کی وہ جدوجہد ہے جو عام طور پر دکھائی نہیں دیتی، گو ہمارے ثقہ نقاد جاسوسی ادب کو ادب ہی نہیں گردانتے، وہ کہتے تھے کہ یہ ادب ہی نہیں ہے لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ جاسوسی ادب کو بھی ادب سمجھا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج جاسوسی ادب کی تفہیم بھی بہتر ہو رہی ہے اور اس میدان میں کچھ اچھے لوگ بھی آ گئے ہیں۔

ایکسپریس:۔ پاکستانی سماج میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ آنے کے بعد کیا آپ کی تفہیم آج کے قاری پر زیادہ بہتر انداز میں ہو رہی ہے؟

مظہر کلیم:۔ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر نے قاری کو جو معلومات فراہم کی ہیں پہلے کا قاری دنیا بھر کی ان معلومات سے بے بہرہ تھا اب دنیا بھر کی معلومات رکھنے والا قاری جب میرے ناول پڑھتا ہے تو اس کو وہ بھی عالمی معیار پر نظر آتا ہے۔ یہ بات واقعی ٹھیک ہے کہ آج میری تفہیم زیادہ بہتر انداز میں ہو رہی ہے۔

60 اور 70 کی دہائی کا قاری بھی مجھے اپنے ذہنی تناظر میں بہتر انداز میں سمجھ رہا تھا اور اس عہد کے لوگ جن کا ذہنی تناظر معلومات کی وجہ سے وسیع ہو چکا ہے وہ بھی مجھے زیادہ بہتر انداز میں سمجھ رہے ہیں۔ انٹر نیٹ کے عہد میں آج ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ذہن زیادہ آگے تک نہیں جاتا، جاسوسی ادب پڑھنے والوں کے اپنے اپنے ذہنی معیارات ہیں ہر کوئی اپنی ذہنی وسعت کے مطابق تفہیم کرتا ہے۔

میں نے شعوری طور پر کبھی کوئی ایسا اہتمام نہیں کیا کہ میں کمپیوٹر ایج کے لوگوں کے لئے لکھ رہا ہوں۔ میں دراصل سب کے لئے لکھ رہا ہوں، شاید آنے والے دور کا قاری مجھے اس سے بھی بہتر انداز میں سمجھے گا وہ اس لیے کہ قاری کے پاس جتنی معلومات زیادہ ہوتی چلی جائیں گی میری تفہیم زیادہ بہتر ہوتی چلی جائے گی کیونکہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں اس میں بات آگے ہی بڑھتی چلی جائے گی۔

ایکسپریس:۔ کچھ عرصہ پہلے ابن صفی کے حوالے سے پی ایچ ڈی سطح کے تحقیقی کام ہوئے، انڈیا میں ان کے ناولوں کو انگریزی میں ترجمہ بھی کیا گیا، کیا آپ پر بھی پاکستان کی کسی جامعہ میں کوئی تحقیقی کام ہوا۔ ؟

مظہر کلیم:۔ ابن صفی صاحب پر ہونے والے تحقیقی کام کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں ہے، ہاں انڈیا کے حوالے سے تو میں نے بھی سنا تھا وہاں کی تین جامعات میں مجھ پر بھی پی ایچ ڈی ہو رہی ہے لیکن یہ صرف سنی سنائی بات نکلی، ہوا ایسا کچھ بھی نہیں۔ باقی پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی نے آج تک مجھ پر کوئی تحقیقی کام نہیں کیا۔

ایکسپریس:۔ اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کچھ بتائیں، آپ کی شادی کب ہوئی، بچے کتنے ہیں یہ بھی بتائیں کہ اتنی مصروفیات کے باوجود آپ نے اپنی فیملی کو کیسے وقت دیا؟

مظہر کلیم:۔ 1965ء میں میری شادی برصغیر کے معروف شاعر علامہ اسد ملتانی کے ہاں ہوئی، علامہ اسد ملتانی علامہ اقبال کے پیروکار اور شاگرد تھے بلکہ علامہ صاحب نے ایک موقع پر کہا بھی تھا کہ اسد ملتانی اور ایم ڈی تاثیر میرے جانشین ہیں۔

میری اہلیہ جو اسد ملتانی کی بڑی صاحبزادی تھیں ان کا گزشتہ سال مارچ میں انتقال ہو گیا۔ میری اہلیہ میری خالہ زاد بھی تھیں ان کے گھر میں شاعری اور گفتگو کے آداب کی ایک روایت تھی لہٰذا مجھے گھر میں علمی و ادبی ماحول ملا اور میرے بچوں کو بھی ایسا ہی ماحول ملا۔ میرے علمی و ادبی کاموں میں میری اہلیہ نے ہمیشہ میری مدد ہی کی۔

میں نے بھی اپنی مصروفیات کے باوجود اپنے بچوں کو پورا وقت دیا کیونکہ جب تک یہ پورا سسٹم ٹھیک نہ ہو آدمی تخلیقی کام نہیں کر سکتا۔ میرے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، بڑا بیٹا فیصل جان بھی 27 سال کی عمر میں انتقال کر گیا اس نے ایم ایس سی میتھ کیا تھا اور ایل ایل بی کے تیسرے سال میں تھا، اب میرا ایک ہی بیٹا ہے فہد عثمان خان جس نے کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم ہے، میری چاروں بیٹیاں ماسٹرز ہیں، سب بچوں والی ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

Comments are closed.