مظہر کلیم اپنے انٹرویو میں ابن صفی سے اپنا تقابل کرتے ہیں


ایکسپریس:۔ آپ نے اپنی کہانیوں میں بہت سی سائنسی ایجادات، آلات جاسوسی اور سائنسی اصطلاحات کا ذکر پاکستانی سماج کے تناظر میں وقت سے بہت پہلے کر دیا تھا جو لفظ اور چیزیں لوگ اب جان رہے ہیں وہ آپ کے ہاں بہت پہلے استعمال ہوئے، ایسا کیسے ممکن ہو سکا۔ ؟

مظہر کلیم:۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ میں نے کبھی بھی ایک موضوع پر مطالعہ نہیں کیا میں متنوع موضوعات پر کتابیں پڑھتا ہوں، سائنسی مضامین اور سائنسی کتابیں پڑھنا بھی میرا معمول رہا ہے ان میں سے مجھے جو معلومات ملتی ہیں میں انہیں ایک خاص انداز سے اپنی کہانیوں میں پھیلا لیتا ہوں، یہ سب ایک تخلیقی انداز سے ہوتا ہے مثلاً مجھے ایک ہتھیار کے بارے میں پتہ چلا کہ اس سے ریڈی ایشن نکلتی ہے اب وہ ہتھیار چوری ہو جاتا ہے اور اس ہتھیار تک پہنچنے کے لئے میں اپنے ذہن میں چند آلات بناتا ہوں کہ اس طرح کرنے سے ایسا ہو جائے گا یہ اور بات ہے کہ ایسا ہی دس پندرہ سال بعد کوئی ہتھیار دنیا میں آ جاتا ہے اور اس کا تدارک بھی ویسے ہی کیا جاتا ہے جیسے آپ ایک بیج کو زمین میں ڈالتے ہیں اس کو پانی دیتے ہیں تو زمین کے اندر ایک کیمیائی عمل شروع ہو جاتا ہے، یہی کیمیائی عمل اس بیج کو ایک پودا بنا کر زمین سے باہر نکال لاتا ہے۔

اسی طرح میرا ذہن بھی زرخیز زمین کی طرح ہے جو میرے مطالعہ میں آئی چیزوں کو ڈویلپ کرتا رہتا ہے میں نے کسی سائنسی ایجاد کے بارے میں پڑھا تو میرا ذہن اس کے ارتقا کی شکلیں بنانے لگتا ہے کہ یہ آگے کہاں تک جا سکتی ہے، اس کی انتہاء کیا ہے۔ اس لئے میں اپنی کہانیوں میں جن ایجادات کے بات کرتا ہوں تو اس انداز سے کرتا ہوں کہ وہ وقت سے پہلے بھی غیر منطقی اور ناقابل وجود نہ ہوں قاری یہ سمجھے کہ ایسا دنیا میں ممکن ہو سکتا ہے اور ایسا ہو بھی جاتا ہے۔ میرے ناولوں میں ایسی بے شمار ایجادات اور سائنسی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں جو شاید ابھی تک پاکستانی سماج میں متعارف یا رائج بھی نہ ہوئی ہوں۔

میرے اکثر دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ 10 سال پہلے کیسے معلوم کر لیتے ہیں کہ دنیا میں ایسی ایجادات ہونے جا رہی ہیں یا یہ سازش ہونے والی ہے یا یہ ہتھیار یا آلہ ایجاد ہونے والا ہے، جیسے ماسٹر کمپیوٹر کا لفظ میری کہانیوں میں بہت پہلے ہی آگیا تھا اور ایسی بے شمار چیزیں ہیں جو میں نے 10، 8 سال پہلے اپنی کہانیوں میں لکھیں جس پر قاری حیران بھی ہوئے کہ یہ کیسے ممکن ہے لیکن پھر 10 سال بعد انہی قارئین کے خط آئے کہ ایسا ممکن ہو گیا ہے اور ہم باقاعدہ اس ایجاد کو دیکھ چکے ہیں۔

دیکھیں یہ آگہی قدرت کی دین ہے میرا اس میں کوئی کمال نہیں نہ میں سائنس دان ہوں نہ میرا ایسا کوئی دعویٰ ہے بس یہ وقت سے پہلے سوچنے والا ذہن قدرت کی دین ہے۔ میرے ذہن میں اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی صلاحیت رکھ دی ہے جو چیزوں کو وقت سے بہت پہلے ان کی ارتقائی شکل میں دیکھ لیتی ہے، دیکھیں! میں نے اپنے قاری کے لئے جو بہتر سمجھا وہ اسے بتایا بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو میں نے اپنے ناولوں کی ضرورت کے لئے اپنے ذہن میں ایجاد کیں لیکن بعد میں وہ دنیا میں ایجاد ہو گئیں۔ ایسا کرتے ہوئے میں نے بس ایک بات کا خیال رکھا کہ اس کو پڑھ کر کوئی یہ نہ کہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ کہے ایسا ہو سکتا ہے۔

اب میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ جن خطوط پر میں سوچ رہا تھا دنیا کے سائنس دان بھی ایسا ہی سوچ رہے تھے لیکن ایک بات طے ہے کہ میں جیسے سوچ رہا تھا ویسے ہی دنیا سوچ رہی تھی یا قدرت اس کا اہتمام کر رہی تھی بس اس نے مجھے یہ صلاحیت دے دی ہے کہ دنیا میں آئندہ ایسے ہونے جا رہا ہے میں نے لکھ دیا اور پھر ویسا ہو بھی گیا۔

ایکسپریس:۔ کیا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے ناولوں میں کتنے علوم کو ڈسکس کیا، یہ بھی بتائیں کہ اتنی بڑی تعداد میں جاسوسی ادب کیا محض تخیل کی بنیاد پر لکھا گیا یا اس میں معلومات اور دیگر عوامل کا بھی کوئی کردار ہے؟

مظہر کلیم:۔ میرے خیال میں اس کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ میں اپنے ناولوں میں اب تک کتنے علوم پر بات کر چکا ہوں لیکن بہت سے علوم ایسے تھے کہ جن پر میرے قارئین بھی حیران ہوتے تھے اور عمران جو میرا مرکزی کردار ہے وہ دراصل دنیا کے ہر موضوع پر گفتگو کرتا ہے اور ماہرانہ انداز میں کرتا ہے۔

آثار قدیمہ، سائنس، تاریخ، آرٹ اور دنیا کا کوئی بھی موضوع ہو عمران اس پر بات کرتا ہے اور بات کرنے کا طریقہ کار یہ ہے جیسے میرے ایک ناول میں مصر کے کسی قدیم مخطوطہ کے چوری ہونے کا معاملہ تھا، اب اس کی واپسی کے لئے عمران کو ٹاسک دیا گیا عمران جب مصر کے لوگوں کے ساتھ مل کر گفتگو کرتا تھا تو وہ بھی حیران ہوتے تھے مثلاً اس نے بتایا کہ یہ مخطوطہ خط کوفی میں لکھا ہوا ہے اس کے بعد خط کوفی کی ایجاد اس کی روایت اور بڑے بڑے اساتذہ کا بھی ذکر کیا گیا۔

سو میری پڑھی ہوئی چیزیں اور باتیں میرے ذہن میں کہیں محفوظ رہتی ہیں اور وقت آنے پر میں انہیں سامنے لے آتا ہوں۔ میں نے اتنی بڑی تعداد میں ناول اپنی قوت خیال کے زور پر لکھے ہیں کیونکہ جب خیال کو قوت مل جاتی ہے تو جیسے آپ کو پر لگ جاتے ہیں اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کہاں تک اُڑ سکتے ہیں۔ قوت خدا کی دین ہے تھوڑی بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی اس میں مطالعہ لازمی جزو ہے مطالعہ اور مشاہدہ تخیل کو پر لگا دیتے ہیں جتنا عمیق مطالعہ ہو گا جتنا مشاہدہ تیز ہوگا جب ان ساری قوتوں میں تخیل بھی شامل ہو جائے تو پھر کوئی ایسی چیز ہی بنے گی جو لوگوں کے لئے حیران کن ہوگی۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

Comments are closed.