منشیات اور نوجوان نسل کی تباہی
سندھ میں منشیات کا کاروبار عروج پر چل رہا ہے اور اس پر آئی جی سندھ سمیت صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سمیت مختلف اعلیٰ قیادت ایک پیج پر ہیں کہ سندھ کو منشیات سے پاک کیا جائے گا مگر منشیات ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے سندھ کے ہر شہر اور دیہات میں منشیات کا کاروبار روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے اس کو کنٹرول کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں مگر پتا نہیں منشیات پھر بھی چل رہی ہے۔
سندھ کا کوئی ایسا شہر نہیں کوئی ایسا گاؤں نہیں جہاں پر گٹکا، مین پوری، زید اکیس اور ایسی دیگر منشیات سرے عام چل رہی ہے حالانکہ پابندی ہے مگر چل ہر کیبن پر رہی ہے بس بڑھا ہے تو پولیس کا پتہ بڑھا ہے جس کی وجہ سے یہ کاروبار بند ہو نہیں پا رہا ہے۔ مین 1996 سے دیکھ رہا ہوں اس سے بھی پہلے یہ کاروبار ہو گا مگر میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تو اس منشیات کو ہر کیبن پر سرے عام بکتے دیکھا ہے پر اس پر تاحال کنٹرول نہیں ہوسکا ہے۔
اور ہر دور میں وزراء اور پولیس کے اعلیِ افسران منشیات کے خلاف کارروائیاں کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں مگر پتا نہیں ایسا کیا ہے کہ منشیات بند نہیں ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ نوجوان نسل بڑی تیزی کے ساتھ منشیات کی عادی ہو رہی ہے اور بہت سے نوجوان اس وقت کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ سندھ کے ہر شہر میں منشیات پولیس کی سرپرستی میں چل رہی ہے اور ہر کیبن سے حد کی پولیس کو باقاعدہ بھتہ جا رہا ہوتا ہے۔ ہر ضلع کے ایس ایس پی آفس سے شام کے اوقات میں پریس ریلیز آتی ہے کے منشیات کے خلاف اتنی کارروائیاں ہوئی ہیں اور اتنے مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ اس پر کنٹرول نہیں ہو پا رہا ہے۔
میرا اپنا خیال ہے کہ منشیات ہمارے معاشرے کا سمبل بن گئی ہیں جس کو دیکھو کوئی شیشہ استعمال کر رہا ہے تو کوئی ویپ استعمال کر رہا ہے تو کوئی مین پوری استعمال کر رہا ہے تو کوئی دیگر گٹکا وغیرہ جس سے ہر وقت کینسر جیسے موذی مرض ہونے کے خطرات لاحق ہوتے ہیں مگر نا تو نوجوانوں کو اس بات کا احساس ہے اور نا ہی والدین کو ہے جس کی وجہ سے تیزی سے یہ معاشرہ منشیات کے منہ میں جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں منشیات چل رہی ہوتی ہے مگر اس کی ایک حد مقرر ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو منشیات نہیں دی جاتی ہے مگر ہماری سندھ کا یہ المیہ ہے یہاں پر کوئی قانون نہیں ہے اور نا قانون کی پاسداری ہوتی ہے جس کی وجہ سے آپ کو ہر کیبن پر بارہ سال سے لے کر سولہ سترہ سال کے عمر کے بچے گٹکا، مین پوری ویپ اور شیشہ استعمال کرتے ہوئے نظر آئیں گے مگر ان سے کوئی یہ سوال نہیں کرے گا کہ آپ کی عمر کتنی ہے کہ آپ کو یہ منشیات استعمال کرنے کا حق حاصل بھی ہے کہ نہیں جس کی وجہ سے رات کے اوقات میں دیکھیں گے کہ فائیو اسٹار نما شیشہ پوائنٹ بنے ہوئے ہیں جس کا ماحول چل ہو گا اور وہاں پر پچاس پچاس کے قریب نوجوان شیشہ استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
سندھ کا المیہ یہ ہے کہ یہاں پر ہر نشے کو ایسا بنا کر پیش کیا جاتا ہے جیسے اس میں زندگی موجود ہو اور یہ زندگی کا اہم جز ہے جس کے بنا زندگی ادھوری ہے۔ ہر نشہ ایسے ریپر میں بنا کر خوبصورتی کے ساتھ رکھا جاتا ہے کہ نا پینے والے کا بھی دل چاہ رہا ہوتا ہے کہ کیوں نا اس کو استعمال کر کے دیکھا جائے۔ اچھا سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان تمام منشیات سے کینسر کو تو دعوت ہوتی ہی ہے مگر اس کے علاوہ ذہنی طور پر بھی انسانی کو مفلوج بنا دیتا ہے۔
ایک انٹرنیشنل سروے کے مطابق شیشے میں استعمال ہونے والے فلیور میں تین ہزار سے زائد کیمیکل استعمال ہوتا ہے اس سے اندازہ لگائیں کے وہ انسانی جس اور ذہن پر کتنا اثر چھوڑتا ہو گا۔ سندھ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں پر صرف اور صرف دعوے کیے جاتے ہیں مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے سب کو اس بات کا اندازہ ہے کہ ہونا کچھ نہیں ہے صرف اعلانات ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے سب کا من بڑھ گیا ہے اور کسی کو قانون کا کوئی خوف نہیں ہے اس کی بھی وجہ ہے کہ قانون کے رکھوالے خود بکے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ میں پولیس کو سب سے زیادہ بھتہ منشیات سے مل رہا ہوتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ میں منشیات ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ہے۔ میری کافی کیبن والوں سے بات ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ بھائی پولیس کو الگ بھتہ دینا پڑ رہا ہے صحافیوں کو الگ بھتہ دینا پڑتا ہے اور جو منشیات دیتے ہیں ان کو فی پیکٹ پر تین سو سے چار سو روپے بڑھا کر دینے ہوتے ہیں۔ سندھ میں منشیات بھی ایک کاروبار بن گیا ہے یہ ہی اگر آپ پنجاب میں جائیں گے تو وہاں پر آپ کو اس طرح سے سر عام منشیات نہیں ملیں گی بڑی بھاگ دوڑ کے بعد شاید ہی ملے مگر بہت ہی مشکل ہے جس طرح سے سندھ کے کونے کونے میں منشیات عام ہیں۔
اس منشیات سے بہت ہی خوبصورت نوجوان اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور آئی جی سندھ کو ایک ٹاسک فورس بنانی چاہِئے اگر وہ واقعی میں منشیات ختم کرنے کے لئے مخلص ہیں تو وہ اپنے بندے ہر شہر میں چھوڑیں اور وہ جاکر ہر کیبن سے منشیات خریدیں ان کو خود بخود پتا چل جائے گا کہ سندھ میں ہر جگہ پر منشیات سرے عام بک رہی ہیں۔ سندھ حکومت کو منشیات پر پابندی لگانے کے لئے سخت اقدامات اٹھانے چاہیں تاکہ نوجوان نسل موذی مرض میں مبتلا ہونے سے بچ سکے۔

