بگٹی ماؤں کی زندگی
عید پر اجتماعی قربانی ہوتے وقت میں علیحدہ بیٹھے لوگوں کو دیکھ رہا تھا، جانوروں کو زور لگا کر گرانے اور اس پر چھری پھیرنے اور اس کے بعد اپنے حصہ کا گوشت لیے جانے کا منظر میرے سامنے تھا کہ اچانک کسی دوست کی کال موصول ہوئی۔ بھائی ایک اور آٹھ بچوں کی ماں، زچگی کے دوران بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے مر گئی ہے۔ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے میں نے دو سوال پوچھ لیے، یہ بتاؤ عمر کیا تھی اور کس جگہ موت واقع ہوئی!
کوئی چھبیس سائیس سال اور شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں انتقال کر گئی ہے۔ دوسرے طرف کچھ مہمان آتے نظر آئے۔ میں فون بند کر کے سوچنا لگا۔ سولہ سال کی عمر سے اب تک ہر سال ایک بچہ پیدا کر رہی تھی، پھر تو ویسے بھی اس کے جسم میں بچہ پیدا کرنا کی سکت نہیں ہو گی اور پچھلے ایک سال میں ان خواتین کی اموات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ اور اب کے وقت زیادہ تر جوان خواتین کی موت واقع ہو رہی ہے۔ اور اس دوست کے بتانے کی وجہ میری پچھلے دو برسوں کی اس حوالہ سے کوشش تھی۔ جو میں نے سوشل میڈیا پر کی تھی۔
اور اب لوگ علاقہ بھر کی خواتین کی موت کی خبر فون کر کے بتاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ذہن میں سوچ ہی رہا تھا کہ اتنی دیر میں مہمان بھی پہنچ گئے۔ پتہ لگا کہ میرے ڈاکٹر دوست ہیں۔ کچھ علامتی عید مبارک باد لینے کے بعد میں اسے لے کر بیٹھک کے کونے میں بیٹھ گیا۔ اور بڑھتی اموات کے حوالے سے اپنی تفتیش سامنے رکھی۔ ڈاکٹر بتانے لگے کہ بگٹی قبیلے میں خواتین کی کم عمری میں شادی ہوتی ہے۔ اور لوگوں کو فیملی پلاننگ کا کوئی علم نہیں ہے۔ اور اس کے ساتھ پرائمری ہیلتھ پروگرام کی حکومت کی طرف سے کوئی انتظام نہیں ہے اور حفاظتی ٹیکوں کی کوئی بندوبست نہیں ہے۔
مزید یہ کہ اب تک لوگوں کے دماغوں میں قبائلی نظام میں اپنی طاقت بڑھانے کا واحد طریقہ زیادہ بچے پیدا کرنے کو سمجھا جاتا ہے اور اس کے علاوہ نیم مولوی حضرات نے بچوں کی پیدائش کو روکنے کے عمل کو خلاف اسلام کے نام پر بیانیہ کو جاری کر رکھا ہے اور جس کو وہ دوہراتے رہتے ہیں۔
اور دوسری جانب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمین جن میں ہیلتھ افسران نرسنگ سٹاف اور لیڈی ہیلتھ ورکرز عرصہ دراز سے غیر حاضر ہیں۔ اور ادویات اور آ گہی مہم کے حوالے سے سیمینار کے پیسے اوپر بیٹھے کچھ افسران کے جیب میں چلی جاتی ہیں۔ اور مزید یہ کہ خواتین کو دوران زچگی دو سو کلومیٹر طویل سفر اور اس میں ہر چیک پوسٹ پر کئی گھنٹوں تک اجازت نہ ملنے کی وجہ سے روکے رکھنے کی وجہ سے موت واقع ہو جاتی ہے۔
مجھے ڈاکٹر کی باتیں سنتے ایسے لگا کہ بگٹی خواتین کو آج اس عید کی قربانی کی طرح ہر روز قربان کیا جا رہا ہے۔ جس میں قبائلی نظام اور اس میں پدرسری نظام اور اس مرنے والی خاتون کی خاندان، اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی حکومت یہ سب مل کر بگٹی ماؤں کو قربان کر رہے ہیں اور اب تک سینکڑوں خواتین اس ظلم کا شکار بن چکی ہیں اور مزید کئی موت کے قریب پہنچی ہوئی ہیں۔
پتہ نہیں کب کس کے گھر سے رونے کی آوازیں آنے لگے گی۔ مگر اب تک صوبائی حکومت کی چوں تک نہیں رینگی۔ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے ایر ایمبولنس کی نوید سنا رکھی ہے۔ جس کے چرچے ہر کوچے میں ہو رہے ہیں مگر اپنے حلقے کی خواتین آج بھی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ حکومت وقت کو ڈیرہ بگٹی میں ایمرجنسی نافذ کر کے اس معاملے کو سیریز لینے کی ضرورت ہے۔ اور کم عمری کی شادیوں پر پابندی عائد کر کے انسانوں کی زنگی بچایا جاسکتا ہے۔
اجڑ گیا ہے وہ باغ جس میں خرام کرتے تھے چاند چہرے
کلی کلی جو اداس تھے خوش خصال پہلے وہ اب نہیں


