تقسیم ہند، فسادات اور لاہور
ہجرت و تقسیم دو ایسے الفاظ ہیں جو ہمارے ذہن میں تشدد، بدامنی اور خون خرابے کی کا عکس بناتے ہیں۔ یہ الفاظ مورخین و محققین کے لیے خاصی دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں۔ ہجرت، تشدد اور نقل مکانی جیسے موضوعات پر کئی مورخین بے شمار کتابیں تحریر کی جا چکی ہیں۔
اسی موضوع پر ابھی کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر عدنان طارق صاحب کی کتاب لاہور @ پارٹیشن کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ جس تقسیم ہندوستان کے دوران شہر لاہور کے حالات کا ایک اچھا تجزیہ کیا گیا ہے
موجودہ دور میں علم و آگاہی حاصل کرنا بہت آسان ہو گیا ہے نت نئے ذرائع ابلاغ نے انسانی محنت کو کم کر دیا ہے۔ اب چند لمحات میں دنیا کے کسی بھی موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر اس عجلت کے دور میں جو علم و عرفان کتابیں فراہم کرتی ہیں اس کا نعم البدل ملنا میرے نزدیک نا ممکنات میں پے۔ ہماری تاریخ میں ابھی تک کئی واقعات ایک ہیولے کی شکل میں موجود ہیں۔ ان پر مورخین و محققین دن رات محنت کر رہے ہیں مگر کسی ایک رائے پر متفق نہیں ہو پائے۔
انہی واقعات میں سے ایک واقعہ بر صغیر کی تقسیم ہے جس کے بارے میں بھی محقق و مورخین ابھی تک شش و پنج کا شکار ہیں اس واقعے پر درجنوں کتب لکھی جا چکی ہیں اور یہ ابھی سلسلہ جاری ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس واقعے پر ڈاکٹر عدنان طارق صاحب کی کتاب لاہور @ پارٹیشن کے نام سے منظر عام پر آئی ہے۔
ڈاکٹر عدنان طارق صاحب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے ادارہِ عالمی و تاریخی علوم کے شعبہ آرکائیوز میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب فارمین کرسچن کالج، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔
اس کتاب میں تقسیم ہند کے بعد لاہور کے پیچیدہ تجربات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے۔ مصنف کا کام روایتی اعلیٰ سیاسی بیانات اور مشاہدات سے ہٹ کر شہر لاہور میں ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کرتا ہے، فرقہ ورانہ تشدد، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، اور اس کے بعد ہونے والی سماجی و سیاسی تخلیق نو کا زمینی سطح کا منظر پیش کرتا ہے۔
اس کتاب کا پہلا باب لاہور میں تشدد کی چند بنیادی وجوہات پر روشنی ڈالتا ہے۔ اور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ وہ کون کون سے ایسے محرکات تھے جو فرقہ ورانہ فسادات کا موجب بنے اور ساتھ ہی ان امور پر بھی بات کرتے ہیں جو شہر کے فرقہ ورانہ کشیدگی کو وسیع تر قومی تحریکوں سے متصادم کرتے ہیں۔ ان کے استدلال کے مطابق، جہاں قومی سیاست نے اپنا کردار ادا کیا، وہیں لاہور میں تشدد کا ابھرنا مقامی انٹر کمیونٹی ڈائنامکس سے نمایاں طور پر متاثر ہوا۔ یہ باب اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح اس دور کی سیاسی آب و ہوا نے مقامی لوگوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دی۔ اس کے علاوہ دوران تقیسم ہونے والے تشدد کے بنیادی محرکات کا بڑی تفصیل ست جائزہ لیا گیا ہے۔
کتاب کے دوسرے باب میں ایک اہم واقعہ پر توجہ مرکوز کی جس نے لاہور کے فرقہ ورانہ تشدد اور اس کے نتیجے میں آبادیاتی تبدیلیوں کو ہوا دی۔ آگ، جس نے زیادہ تر ہندو کمیونٹی کے گھروں، کاروباری مراکز اور دکانوں کو جو شاہ عالمی بازار میں موجود تھیں کو تباہ کر دیا جو ایک بڑے پیمانے پر خوف و ہراس اور نقل مکانی کا باعث بن گیا۔ کتاب کا یہ باب اس انسانیت سوز واقع کا تفصیلی بیانیہ ہے جو اس واقعہ کو نقل مکانی اور خروج کے وسیع نمونوں سے جوڑتا ہے، اس حصہ میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ نسلی اور فرقہ ورانہ کشیدگی و فسادات نے کس طرح ایک ہنستے بستے شہر کو جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ ایک تاریخی مظہر ہے جس کے ذریعے شہری جگہوں پر تقسیم کے افراتفری کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح تقسیم انسان کی معاشی و معاشرتی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ راقم الحروف کو یہ کتاب دلی طور پر بہت پسند ہے اور یہ باب تو راقم کے دل میں خصوصی جگہ رکھتا ہے۔ جلد ہی اسی باب پر ایک تفصیلی مضمون لکھنے کا ارادہ ہے جس میں شاہ عالمی بازار کی اُس حالتِ غیر کا اس کتاب کے دوسرے باب کے توسط سے ایک خاکہ بیان کیا جائے گا۔
تیسرے اور چوتھے ابواب میں لاہور کی میٹامورفوسس کو ایک منقسم شہر سے ایک ایسے شہر تک پہنچاتے ہیں جو خود کو از سر نو تعمیر اور نئے سرے سے متعین کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ان دو ابواب میں تقسیم کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کو بیان کیا گیا ہے کہ اس شہر پر تقسیم اور بیجا تشدد کی وجہ سے کون کون سی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ مصنف بیان کرتے ہیں کہ کس طرح نئے گورننس ڈھانچے، شہری منصوبہ بندی، اور سماجی پالیسیوں نے مہاجرین کو مربوط کرنے اور فرقہ ورانہ داغوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ مہاجرین کی لاہور منتقلی اور اس وقت کے حالات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف بیانیہ کے تجزیہ کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے، زبانی تاریخوں اور مقامی بیانات کے استعمال سے تقسیم کے دوران اور بعد میں لاہور کی ایک واضح تصویر بناتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر مصنف نے عام شہریوں کے تجربات پر منحصر ہے، ان مقامی حکایات کو پیش کرتے ہوئے، کتاب میں تقسیم کے انسانی جہتوں کے بارے میں مزید نفیس تفہیم پیش کی گئی ہے۔
مصنف کا نیشنل آرکائیوز آف پاکستان اور مختلف برطانوی اداروں سے آرکائیو کا استعمال اس تجزیے کے لیے ایک مضبوط تجرباتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ ذرائع زیر مطالعہ مدت کے دوران انتظامی ردعمل، آبادی کے اعداد و شمار، اور شہری پالیسیوں کے ارتقاء کے بارے میں رہنمائی پیش کرتے ہیں۔ مصنف کا ان متنوع ماخذوں کا انضمام اور ان کا فہم استعمال لاہور کی اس دور کی معاشی و معاشرتی حالت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کتاب کا تقابلی فریم ورک لاہور کی تقسیم کے تجربے کو دیگر متاثرہ علاقوں جیسا کہ بنگال سے موازنہ کرتا ہے۔ مصنف اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کس طرح مختلف انتظامی، سماجی اور ثقافتی عوامل نے ان خطوں میں تشدد اور مقامی لوگوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دی۔ یہ تقابلی نقطہ نظر لاہور کی منفرد حالت زار کو نمایاں کرتا ہے اور برصغیر میں تقسیم کے مختلف اثرات کے بارے میں مزید جامع تفہیم پیش کرتا ہے۔
لاہور پر مصنف کی توجہ تقسیم کی تاریخ نگاری کے لیے ایک قابل قدر جہت ہے جس نے نئے آنے والے محققین کے لیے فہم و ادراک کے کئی راستے کھول دیے ہیں۔ اس کام کے ذریعے مقامی بیانات کے ذریعے تقسیم کو سمجھنے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ مصنف کا عوامی لوگوں سے میل جول اور انٹرویوز کے ذریعے سے معلومات کو اکٹھا کرنا اور ان کی مدد سے ایک سماجی تاریخ اور کمیونٹی بیانیے کو یکجا کرتے ہوئے اپنی خیالات کو پیش کرنے ایک قابل داد امر ہے۔ یہ کتاب ان غالب داستانوں کو چیلنج کرتی ہے جو اکثر عام لوگوں کے تجربات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور ایک ہی بیانیے کو بیانیے کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ کام جدید اسکالرشپ کے بڑھتے ہوئے ان اقدام میں حصہ ڈالتا ہے جو متنوع آوازوں اور نقطہ نظر کو شامل کر کے تاریخی بیانیے کو حقیقی بنانا چاہتے ہیں۔
شہری تخلیق نو کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا تجزیہ تقسیم کے بعد کے شہروں میں تعمیر نو اور سماجی انضمام کے عمل کے بارے میں اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ لاہور کی بحالی کی کوششوں کا جائزہ شہری برادریوں کی کے درمیان میانہ روی، سماجی ہم آہنگی اور معاشی بحالی کو فروغ دینے میں مقامی اقدامات کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
ڈاکٹر عدنان صاحب کا Lahore @ Partition تقسیم کے مطالعہ میں ایک اہم اضافہ ہے، جو تبدیلی کے دور میں لاہور کے تجربات کا تفصیلی بیان پیش کرتا ہے۔ مقامی داستانوں پر اپنی توجہ کے ذریعے، مصنف تقسیم کے انسانی جہتوں اور شہری تخلیق نو کے عمل کے بارے میں ہماری سمجھ کو بہتر بناتے ہیں۔
اس تجزیہ کے ذریعے راقم الحروف نے ڈاکٹر عدنان طارق صاحب کی کتاب کے موضوعاتی اور طریقہ کار کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے، یہ مضمون کتاب کی جدید اسکالرشپ میں شراکت پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح اس کتاب نے اُس ہنگامہ خیز دور میں لاہور کے مخصوص تجربات کو سمجھنے میں اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ میں اپنے مطالعے کے شوقین اور ایسے موضوعات کے بارے میں دلچسپی رکھنے والے دوستوں کو اس نایاب تصنیف کے مطالعہ کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر آپ اس کتاب کو خریدنے کے خواہشمند ہیں تو یہ وینگارڈ پبلشر کی ویب سائٹ پر موجود ہے جہاں آپ گھر بیٹھے باآسانی حاصل کر سکتے ہیں۔


