آ پا نثار فاطمہ کا احسن اقبال اور ملک میں بڑھتی ہوئی بربریت اور وحشت


وطن عزیز میں انسانیت سوز مظاہر بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، پہلے تو ایک دو ماہ کا وقفہ پڑ جاتا تھا لیکن اب تو ”موب لنچنگ“ کا یہ مارجن بھی کم ہونے لگا ہے۔

آئے روز سننے کو ملتا ہے کہ فلاں جگہ پر بلاسفیمی کے الزام میں بپھرے ہجوم نے ایک نہتے شہری کو پہلے مار مار کر ادھ موا کیا اور پھر اس کے جسد خاکی کو آگ لگا دی اور مذہب کی حقانیت کے نعرے لگاتے ہوئے وہاں سے رفو چکر ہو گئے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان آباد ہیں اور لگ بھگ 57 کے قریب مسلم اکثریت والے ممالک ہیں، وہاں اس قسم کے انسانیت کش مظاہرے دیکھنے میں کیوں نہیں آتے؟

توہین مذہب و رسالت ایسے ایشوز ہمارے ہاں ہی کیوں پائے جاتے ہیں؟
کیا ہم کوئی الگ طرح کے مسلمان ہیں یا مذہب کے متعلق ہمارا فہم دنیا بھر کی مذہبی فکر سے بالا ہے؟
”سر تن سے جدا“ ایسے نعرے ہمارے علاوہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں کہیں اور بھی لگتے ہیں؟
کیا سورج کی طرف منہ کر کے تھوکنے یا گالیوں کی بوچھاڑ کر دینے سے سورج کو کوئی فرق پڑتا ہے؟
کیا سورج یا چاند کی گستاخی کر دینے سے ان کی روشنی میں کوئی فرق پڑ جاتا ہے؟
جو حقیقت یا سچ اظہر من الشمس ہوتا ہے اسے جھٹلانے سے کیا اس کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

جبکہ دوسری طرف آپ کا یہ موقف بھی شد و مد کے ساتھ موجود ہے اور یہی موقف قرآن مجید میں لکھا ہے

”بے شک ہم نے ہی اس قرآن مجید کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں“
جس کی حفاظت کا ذمہ خود خدا تعالیٰ نے لیا ہو اسے بھلا کون ختم کر سکتا ہے؟

اگر آپ کا اس آیت پر پختہ یقین اور ایمان ہے اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہونا بھی چاہیے تو پھر محافظ بن کر یہ جتھے کہاں سے وارد ہو جاتے ہیں جو بلا تحقیق یا سوچنے سمجھنے کا قصد کیے بغیر ہی ایک نہتے انسان پر چڑھ دوڑتے ہیں اور خدائی اختیار کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے لاش تک کو جلا ڈالتے ہیں؟

سوال پوچھنا تو بنتا ہے نا!
آپ کو اس منصب پر کس نے فائز کیا ہے؟

آپ کے ہاتھوں میں ڈنڈے، اینٹیں، لوہے کے راڈ اور آگ لگانے کے لیے پیٹرول تک آ جانے کے پیچھے محرک، سبب یا علت کیا ہے؟

آخر معمولی سطح کے لوگ ہی ہر ہجوم کا حصہ کیوں ہوتے ہیں؟
کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اس اندھے ہجوم کی ”ڈرائیونگ فورس“ کہاں غائب ہو جاتی ہے؟

ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے ”طاقتوران مذہب“ جو اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کے لیے بھولے بھالے عوام کی جذباتیت کو استعمال کرتے ہیں، خود کبھی کسی ہجوم کا حصہ کیوں نہیں بنتے؟

آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کوئی بھی سانحہ رونما ہونے کے بعد ”خداوندان منبر و محراب“ بڑے آرام سے ایک مذمتی اعلامیہ جاری کر دیتے ہیں اور بڑے فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ مذہب تو امن و آشتی کا سبق دیتا ہے اور اس طرح کے انسانیت سوز مظاہرے کرنے والوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ بڑے بڑے سوالات ہیں جن پر غور کرنا ہر ذی شعور پر فرض اور لازم ہے۔
چونکہ ان سوالات میں عقل والوں کے لیے نشانیاں موجود ہیں۔

گزشتہ دنوں سوات میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جس میں ایک سیاح کو بلاسفیمی کے الزام میں دھر لیا گیا اور حسب سابق اس کی لاش کو بھی آگ لگا دی گئی۔

انسانیت سوزی کی اس حدت اور تپش کو پارلیمنٹ میں بھی محسوس کیا گیا اور سب سے زیادہ نفرت کی اس آگ کی تپش کو جس بندے نے محسوس کیا وہ آپا نثار فاطمہ کے فرزند ارجمند احسن اقبال ہیں، جو خود بھی اسی جنونیت کا شکار ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ یہ وہی آپا نثار فاطمہ ہیں جنہوں نے جنرل ضیا کی پارلیمنٹ میں توہین مذہب کے پہلے سے موجود قانون کی نوک پلک سنوارتے ہوئے اس قانون کو مزید سخت کرنے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔

ہائے! وقت بہت بے رحم قسم کا منصف ہوتا ہے، کون جانتا تھا حتیٰ کہ آپا کو بھی بھلا کہاں پتا تھا (بقول فرنود عالم) ” کہ ریاست کی تھمائی ہوئی بندوق سے نفرت کی جو گولی میں، آج فائر کر رہی ہوں تین عشروں بعد وہ گولی میرے اپنے ہی بیٹے احسن اقبال کے جسم میں اتر جائے گی“

احسن اقبال نے سوات کے واقعہ کے بعد پارلیمنٹ میں خود اپنی ذاتی مثال پیش کی اور اقرار کیا کہ ان کا زندہ بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا، جب ایک جنونی نے میری زندگی لینے کی کوشش کی اور وہ گولی آج بھی میرے جسم میں موجود ہے۔

اب تھوڑا موب لنچنگ ایسے واقعات کو ریشنلائز کر کے دیکھ لیتے ہیں۔
اہل عقیدہ کے نزدیک خدا تعالیٰ تمام تر اختیارات اور قدرت کا مالک ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

اب اسی تناظر میں بات کر لیتے ہیں، فرض کریں جس کسی نے بھی توہین مذہب یا رسالت کا ارتکاب کیا ہو یا قرآن مجید کو جلایا ہو تو خدا تعالیٰ کے لیے کیا مشکل ہے کہ اس بدبخت کو فی الفور کسی جانور میں تبدیل کر دے یا اس کی شکل بدل ڈالے یا زمین میں دفن کر ڈالے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو؟

سوال یہ ہے کہ سب طاقتوں کا مالک ہونے کے باوجود بھی وہ ایسا کرتا ہے؟
ہرگز نہیں۔
اگر وہ عبرت کے طور پر ایسا کر بھی دے تو کوئی اسے روک سکتا ہے؟

اگر قادر مطلق تمام تر اختیارات کا مالک ہوتے ہوئے بھی ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر ہم کون ہوتے ہیں اس بات کا فیصلہ کرنے والے کہ فلاں کو فی الفور جلا کر خاکستر کر دو تاکہ دوسروں کو عبرت ہو؟

کیا خدا کے بندے خدائی اختیار استعمال کر سکتے ہیں؟
اگر انسان بھی خدائی اختیار استعمال کرنے لگیں تو پھر خدائی منصب کا کیا؟
پھر انسان اور خدا میں کیا فرق ہوا؟

کیا خدا کو اپنی سچائی کے تحفظ کے لیے اس قسم کے ڈنڈا بردار زومبیز کی ضرورت ہے جو بلا تحقیق محض طیش میں آ کر کسی کو بھی روند ڈالیں؟ گھیراؤ جلاؤ، تباہ کاری یا اپنے عقیدے کے زعم میں دوسرے انسانوں کو روندنا کوئی نارمل رویہ نہیں کہلاتا بلکہ بیمار ذہنیت کی غمازی کرتا ہے۔

اسی لیے اگر کوئی حق گوئی یا حتمی سچ کے وہم یا مغالطے کا شکار ہو کر دوسرے مذاہب کی توہین کرتا ہے یا کتاب مقدس کو جلاتا ہے وہ کوئی نارمل انسان نہیں ہوتا۔

 

Facebook Comments HS