اِمتیاز امانت! آموں کا اِنتظار ہے یار
گزشتہ برس جون کے ابتدائی ایام میں ہم ملکہِ کوہسار مری کے دامن میں واقع ہوٹل میں ایک کانفرنس میں مشغول تھے۔ باہر کا موسم ہوا کی خُنکی کو ساتھ لئے خود ہی خود بارش میں نہائے جا رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے بھیگے بھیگے جھونکے اٹکھیلیاں کرتے اچانک سے کھڑکی رستے کمرے میں داخل ہوتے تو ہماری توجہ مقرر کی گفتگو سے ہٹا کے پریوں کے کسی تصوراتی دیس لے جاتے۔
کھٹرکیوں سے رمِ جھم کی بھینی بھینی پُھوار موسم کا مزا دوبالا کر رہی تھی۔ دوسری جانب ذہن میں ابھی تک دوستوں کے ساتھ گُزری رات کے یادگار لمحات منظر در منظر گھوم رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم اب بھی ناہموار و نا معلوم رستوں پر مدھم روشنی میں قدم سے قدم ملائے چہل قدمی میں محو ہیں اور درختوں کی ٹہنیوں پر ٹھہرا پانی ٹپک ٹپک کر بدن کو تر کر رہا ہے۔ سخت پتھروں میں پیوست بلند قامت درختوں کے جھومنے کا خیال ہو یا پرندوں کا اندھیرے میں پھڑپھڑا کر ایک ساتھ اُڑان بھرنے کا منظر سب کچھ آنکھ میں نقش ہو چکا تھا۔
اور پھر اردگرد کے ماحول میں پنہاں ہمارے خیالات اور محسوسات ایک لمحے میں یکا یک منتشر ہو گئے جیسے رات کے پچھلے پہر میں ٹوٹا ہوا تارا نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے یا جیسے بارش کے پانی کا بُلبلہ۔
کراچی میں مقیم ہمارے دوست نعمان پیٹر کی جانب سے ارسال کردہ مواصلاتی پیغام نے گویا ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکال دی ہو یا دماغ میں کوئی بھونچال آ گیا ہو۔ ہمیں قسم سے کچھ معلوم نہیں۔ نعمان نے فقط یہ لکھا تھا کہ ”امتیاز امانت اب ہم میں نہیں رہے“ ۔
ہم نے اُس پیغام کو ایک بار پڑھا، دوسری بار پڑھا پھر تیسری بار پڑھا مگر نہ تو آنکھوں پر یقین آ رہا تھا نہ ہی دِل یہ بات ماننے پر راضی۔ ہم اس پیغام کو غلط قرار دینے کے لئے اِسے بار بار پڑھتے رہے یہ سوچ کر کہ شاید اب کی بار اِلفاظ بدل جائیں، کہ شاید کسی کا پیغام غلطی سے ہمیں موصول ہو گیا ہو مگر یہ انہونی ہو چکی تھی۔ جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ امتیاز امانت کی روح حرکتَ قلب بند ہونے پر پرواز کرچکی تھی، دِل بے وفائی کر چکا اور ساتھ چھوڑ چکا تھا اور ہم ایک شاندار دوست سے محروم ہو چکے تھے۔ ہماری کیفیت ایسی تھی گویا زمیں کششِ ثقل سے نکل گئی ہو۔
رِم جِھم کے موسم کا سارا نشہ کافور ہو چکا تھا۔ دل و دماغ پرچھائی چارسُو ہریالی اور سُریلے مناظر ریتلے صحراؤں میں بدل چکے تھے۔ بارشوں کے نظارے طوفانی تباہی اور سبزے سے ڈھکے پہاڑی سلسلے بنجر میدانوں کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ گویا خوشی سے غم کے عملی سلسلے کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک لمحے میں چمن کی بہار لُٹ چکی اور خزاں ڈیرے جما چکی تھی۔ اُس لمحے میرے دماغ میں امتیاز امانت کے ساتھ دو دہائیوں پر محیط دوستی کے حسین لمحات تیز ترین رفتار سے گھومنے لگے۔
امتیاز کے ساتھ دوستی کا آغاز 2004 میں اُس وقت ہوا جب غمِ روزگار راقم کو پشاور سے لاہور لے آیا اور ہم دونوں امن و انصاف کی جدوجہد کے ساتھی بن گئے۔ امتیاز کا قیام حیدرآباد میں تھا اور ہم نے لاہور کو اپنا ٹھکانا بنا لیا۔ دونوں کے بیچ زمینی فاصلہ سینکڑوں میلوں کا تھا مگر ذہنی ہم آہنگی، احترام کے تعلق اور سماج میں بہتر بدلاؤ کے جنون میں کچھ بھی حائل نہ تھا۔
امتیاز بہت ہی با کمال اور نفیس انسان تھا۔ سادہ طبیعت مگر آس پاس کے ماحول سے ہمہ وقت چوکنا رہتا۔ دُوسروں کے لئے حساس دل رکھتا مگر طبعتاً تحقیقی تھا۔ معلومات سے بھرا شخص تھا مگر خود کو حلیم اور خالی محسوس اور پیش کرتا۔ مالی معاملات میں متوسط درجہ رہا مگر دوستوں کی دولت سے مالا مال تھا۔ عموماً کم گو واقعہ ہوا مگر طبیعت میں بلا کا اعتماد رکھتا تھا۔ صدر نشینی کا کبھی شیدائی، طالب و مشتاق نہیں رہا۔ ایک بار لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں مدعو کیا گیا تو موصوف اسٹیج پر دھیمے انداز کی گفتگو میں رسمی ذمہ داری نبھا کے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
ہم دونوں نے انسانی حقوق کی تعلیم و تربیت اور فروغِ امن کے سلسلے میں سندھ بھر کے دُور دراز علاقوں کے درجنوں دورے کیے ہیں۔ رستوں کی پہچان کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کا اُس جیسا فن میں نے کسی میں نہیں دیکھا۔
آبا و اجداد پنجاب سے ہجرت کر کے سندھ گئے تو یہ نسل خود کو پنجابی اور سندھی کہلانے میں فخر محسوس کرنے لگی۔ اِمتیاز ہمارے ہمعصروں میں انسانی حقوق کا سرگرم رکن تھا اور انتہائی کھرا اور ہیرا انسان تھا۔ ایمان عقیدے کی بحث سے پرے وہ پِسے اور پسماندہ طبقات کے حقوق، تحفظ، امن کے فروغ اور انسانی وقار کی ترویج کے لئے مشغول رہا۔
دو ہونہار بیٹیوں اور دو بیٹوں کے درخشاں مستقبل کے لئے بہت فکرمند رہتا۔ سماجی اثر و رسوخ اور صاحبِ حیثیت افراد کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود اِن تعلقات کو کبھی ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا۔ امتیاز امانت کی زندگی بھر کی جدوجہد کا عملی اظہار اُس کے بچوں کی عمدہ اور سُلجھی تربیت میں نظر آتا ہے۔ ہم دونوں کے ہم خیال ہونے اور گہری دوستی کی بنا پر دونوں خاندان بھی ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور احترام میں بندھ گئے۔
ہماری سماجی تنظیم ڈِگنٹی فرسٹ کے ابتدائی سالوں میں امتیاز نے بہت محنت، تعاون اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ سندھ میں انتظامی امور دیکھنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بروقت رپورٹنگ اور مذہبی شناخت کے متاثرین کا بلامعاوضہ بھر پور ساتھ دیتا رہا۔
اِمتیاز نے 1996 میں انسانی حقوق کی جدوجہد میں قدم رکھا تو اس حوالے سے ملک بھر میں متعدد تربیتی ورکشاپس میں شامل ہوتا اور اپنے علم میں اضافہ کرتا رہا۔ محنت اور لگن تو گویا اُس کی شخصیت میں کُوٹ کُوٹ کر بھری تھی لہٰذا رضا کارانہ خدمات سے تنظیم کا سرگرم کارکن بنا۔ بعد ازاں ترقی پا کر قومی کمیشن برائے امن و انصاف میں آرگنائزر کی ذمہ داری بھی اُس کے کندھوں پر آن پڑی۔ 26 سالہ تجربہ، وفاداری، لگن اور محنت کی بنیاد پر مارچ 2023 میں اُسے ادارے کا سندھ ریجن کا ڈائریکٹر مقرر کر دیا۔ اُس نے مخلص دوستی کی بنیاد پر یہ خبر بھی سب سے پہلے راقم کو انتہائی خوشی سے سُنائی۔ ادارے کی ترقی اور بہتر سماج کے لئے وہ کئی خواب رکھتا تھا مگر افسوس کہ وہ اس عہدے پر 10 جون 2023 تک فقط تین ماہ ہی کام کر سکا۔
امتیاز کئی سالوں سے میرے منع کرنے کے باوجود سندھ سے باقاعدگی سے موسمِ گرما کا شاہی پھل آم مجھے تحفتاً بھیجا کرتا تھا۔ اُن آموں میں سندھ کی دھرتی کی مٹھاس اور چاہت کے ساتھ ساتھ امتیاز کی بے لوث محبت اور اپنائیت کا ذائقہ بھی شامل ہوتا تھا۔
امتیاز سے میری آخری ملاقات 28 مئی 2023 کو (وفات سے 10 دن قبل) حیدرآباد میں ایک سیمینار میں ہوئی۔ روایتی جوش اور دوستانہ بے تکلفی کے ساتھ ساتھ اہم دفتری امور پر بھی گفتگو رہی۔ میری لاہور روانگی کے وقت ایک بار پھر مختلف آموں کی اقسام کے تین ٹوکرے میرے سامان میں یہ کہہ کر شامل کر دیے کہ ”یہ سِرل (میرے بیٹے ) کے لئے ہیں“ ۔ اُس کی جانب دیکھتے ہوئے میں جو اباً اُسے مُسکرا کے گہری جپھی ڈالے اور کچھ نہ کہہ سکا۔ آج لگتا ہے وہ الوداع کہنے کی جپھی تھی۔
آم تو اس سال بھی آئے ہیں مگر اب نہ امتیاز ہے نہ امتیاز کے بھیجے ہوئے سندھی آم اور نہ ہی کہیں امتیاز کی شخصیت جیسی چاشنی۔ امتیاز بے پناہ چاہتیں، خلوص، محبت، اور احترام بانٹنے اور سمیٹنے کے بعد 10 جون 2023 کو اس جہانِ فانی سے کُوچ کر گیا۔ امتیاز کی غیر متوقع رخصتی سے ایک خلا تو ہے مگر اُس کا حوصلہ اور عزم آج بھی ہمارے کام میں ہمارے ساتھ ہے۔ آج اگر کوئی کمی ہے تو صرف امتیاز کی اور انتظار ہے تو بس اُس کے بھیجے ہوئے آموں کا ۔
اِمتیاز! تیرے آموں کا انتظار ہے یار۔


