ہمارے معاشرتی زوال کے اسباب!


خیبر پختون خوا کے شہر سوات میں مقامی لوگوں نے توہین قرآن کے الزام میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاح کو پولیس اسٹیشن سے نکال کر قتل کرنے کے بعد نعش کو جلا ڈالا، قبل ازیں 2017 میں مردان یونیورسٹی کے 23 سالہ سٹوڈنٹ مشال خان کو بھی مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں اسی انداز میں قتل کر دیا تھا، ہماری جدید تاریخ میں 1947 سے لے کر اب تک ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے 103 افراد میں سے 1992 تک صرف 3 شہری ہلاک ہوئے جبکہ 1992 سے 2024 تک 100 انسان ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے۔

1995 میں ہجوم کے ہاتھوں اسٹریٹ جسٹس کا پہلا واقع گوجرانوالا میں اُس وقت پیش آیا جب مشتعل ہجوم نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے حافظ فاروق کو پولیس کی حراست میں توہین قرآن کے الزام میں قتل کر ڈالا تاہم پچھلی دو دہائیوں کے درمیان گورننس کی ناکامیوں کے باعث بتدریج معاشرتی زوال اور اسٹریٹ جسٹس کے رجحان میں جس طرح تیزی آئی وہ تباہ کن نتائج کی حامل ثابت ہوئی۔ سنہ 2010 میں گوجرانوالا میں مشتعل ہجوم نے ڈکیتی کے الزام میں پولیس تھانہ میں پناہ لینے والے دو بھائیوں کو نکال کر بیدردی سے ہلاک کر دیا، اوکاڑہ میں توہین مذہب کے الزام میں ہجوم نے اسلامی جمعیت طلبہ کے دو نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

جنوری 2011 میں گورنر پنجاب سلیمان تاثیر کو توہین رسالت کے الزام میں اپنے ہی سیکیورٹی گارڈ نے مار ڈالا۔ سنہ 2020 میں توہین مذہب کے الزام میں سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے ہجوم کے ہاتھوں قتل سمیت کراچی، سندھ اور پنجاب میں مبینہ ڈاکووں کے علاوہ اقلیتوں کی آبادیوں پہ مشتعل ہجوم کے حملوں پہ ریاستی اتھارٹی کی مجرمانہ خاموشی اور عدالتی مقتدرہ کی بزدلانہ پسپائی نے شہریوں کے سماجی روّیوں کو بُری طرح متاثر کیا، افسوس کہ ہم نے جن کے گرد مقبولیت کا ہالہ کھینچا، ان کی ممتاز ترین صفت بزدلی ہے، یہی سرکاری افسران اپنے غرور کی بنا پر معاشرتی بقا کے تقاضوں سے بے خبر رہتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں، ریاست بجائے خود سماج کے وجود پہ محمول ہوتی ہے اس لئے معاشرے کو ریگولیٹ کرنا ریاست کی اپنی بقا کا اولین تقاضا ہے۔ ناقص گورننس جس طرح اقتصادی ترقی میں رکاوٹ، غربت، عدم مساوات اور سماجی بدامنی کا محرک بنتی ہے، اسی طرح ایک کامیاب ریاست ترغیب اور قانونی تادیب کے ذریعے افراد کی سیرت و کردار کی تعمیر سے صحت مند معاشرہ برپا کر سکتی ہے لیکن ہماری حکومت جب چند احمقوں پہ قابو نہیں پا سکتی تو سب کو احمق بنانے پہ تل جاتی ہے، یہاں ہر منفی پکار بہت جلد لوگوں کو مسحور کر کے اپنے مقصد کے لئے استعمال کر سکتی ہے حالانکہ ملک میں ایسی فضا پیدا کرنے کی ضرورت تھی جس میں استحکام پیدا ہو، اصول اور قانون کی حکمرانی قائم ہو اور ہم عدل و انصاف کو اصول زندگی بنا سکیں لیکن اس ملفوف آمریت نے لوگوں کی قوت تخیل کو مفلوج کر دیا، ہماری مصیبت زدہ نسل اب آزادی کی مشتاق نہیں رہی بلکہ وہ شدت کے ساتھ تحفظ، نظم و ضبط اور امن کی خواہشمند ہے۔

بلاشبہ تہذیب، ضبط نفس کے بغیر ناممکن ہے، جدید دنیا میں اعلی مہارتوں کے حامل رجال کار کے علاوہ اچھے اخلاق کے مالک دیانتدار اہلکار اور ایماندار شہری بھی مملکت کا سرمایہ سمجھے جاتے ہیں لیکن ہماری ریاست کی ترجیحات میں بہترین ہیومین ریسورس مہیا کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔ بلاشبہ پُرامن معاشرے کے قیام میں ایمانداری اہم اقدار، صفات اور تعلیمات میں سے ایک ہے، جس کا انسانی زندگی کے مختلف پہلووں اور اجتماعی حیات کے تمام شعبوں پہ گہرا اثر پڑتا ہے۔

چونکہ ہمارے اعلی ترین طبقات افلاس کو اپنی عظمت کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں، اس لئے بن کمائی دولت کا زہر ہماری سوسائٹی کے رگ و ریشہ تک اتر گیا، کرپشن نے ان کی بصیرت کو کند کر دیا، اگر انہیں اوپر کی کمائی نہ ملے تو پورا عمل انہضام بگڑ جاتا ہے۔ علی ہذالقیاس، تاریخ گواہ کہ انسانی زندگی میں سماجی اور سیاسی علوم کو لازمی شرط اور بنیادی ضرورت کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ کسی بھی معاشرے کا سکون اور سماجی اعتماد ایمانداری اور سچائی سے مربوط رہتا ہے بلکہ ایمانداری کسی بھی معاشرے کے اتحاد کا سب سے اہم عنصر ہے۔

سماجیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ سماجی اثاثوں کا سب سے اہم عنصر باہمی اعتماد اور وہ بھروسا ہے جس کی اساس ایمانداری پہ رکھی ہوتی ہے، ذہنی دیانت کسی بھی معاشرے کی فلاح و بہبود، معاشی ترقی، باہمی ربط، اعتدال اور سربلندی کا سب سے بڑا محرک ہے۔ بیسویں صدی کے معروف ماہر عمرانیات لابک کا کہنا ہے کہ ”بھروسا اور ایمانداری ایسا سماجی اثاثہ ہے اگر اسے تباہ کر دیا جائے تو معاشرے برباد ہو جاتے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ غیر معقول اور بزدلوں کا ایسا ملغوبہ بن چکا ہے جو دراصل اخلاقی معیارات اور سماجی اصولوں سے خوفزدہ ہے، یہ لوگ فاتح کی حوصلہ افزائی اور شکست خوردہ کی تضحیک میں خوشی محسوس کرتے ہیں، ذہنی طور پہ پراگندہ لوگوں کا معاشرہ ہمہ وقت اپنی سمت بدلنے کے لئے ہر شیطان کے قبضے میں آنے کو تیار ہوتا ہے، اس کے برعکس زندہ و بیدار معاشروں کے افراد ایسی سوچ کے حامل ہوتے ہیں جو قربانی، ایثار اور ضبط نفس پہ قادر ہو۔

غیر معقول سوچ وہ سوچ ہے جو نہ تو ابدی حقائق سے مطابقت رکھتی ہے نہ اس کی تائید کرتی ہے، چونکہ ہم ایک غیر عقلی معاشرے کے رکن ہیں اس لئے صحت مند رجحانات سے منسلک رہنے کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ بہرحال یہاں گورننس سے ہماری مراد ریاستی ڈھانچہ کا مجموعی رد عمل ہے جس میں انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ جیسے وہ تمام ادارے شامل ہیں جو قومی سلامتی یا معاشرتی عوامل سے ڈیل کرتے ہیں۔ چنانچہ فی الوقت ہماری قومی سلامتی اور عوامی زندگی کو ناقص گورننس کی وجہ سے سنگین نتائج کا سامنا ہے۔

جس طرح معاشرتی بگاڑ دراصل فرد کے ذہنی زوال کا مظہر ہوتا ہے، اسی طرح بدعنوانی اور گڈ گورننس کے تصور بھی ایک دوسرے سے نسبت معکوس رکھتے ہیں۔ چنانچہ اصلاح احوال کے لئے ذہنی و عملی دیانت ناگزیر ہے، محض طاقت اور قانونی تشدد کے ذریعے زندگی کے اجتماعی دھارے کو ریگولیٹ کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے ہمارا سسٹم پلوٹو کریسی سے مماثل ہے بلکہ جس دنیا میں ہم رہتے ہیں وہ دولت مندوں کی حکومت، دولت مندوں کے لئے، دولت مندوں کے ذریعے کے اصول پہ قائم ہے۔

انہی لوگوں کے کنٹرول میں بڑی صنعتیں، بگ فارما، فوڈ کمپنیاں، بینک، انشورنس انڈسٹری، میڈیا، ائر لائنز، کار کمپنیاں اور تیل، کوئلہ، سونا اور تانبے کی کان کنی کے کارپوریشنز ہیں۔ عالمی مقتدرہ کے تابع موجودہ نظام عوام کے لئے تشدد، خوف، بیماریاں اور وبائی امراض کی لہریں اٹھاتا ہے، ہماری زمین پہ کل آبادی کا کم و بیش ایک فیصد ایسے لوگ ہیں جو پورے سیارے کے وسائل پہ قابض ہیں لیکن وہ دوسروں انسانوں سے کچھ بانٹنا نہیں چاہتے، حیرت انگیز طور پر دنیا کی 46 % دولت صرف ایک فیصد افراد کے ہاتھ میں ہے لیکن وہ اب بھی مزید چاہتے ہیں۔

لہذا، اب وہ کوویڈ سے موسمیاتی تبدیلی کی طرف بڑھ رہے ہیں، کوویڈ کے ساتھ، انہوں نے کرہ ارض کو ایک ایسے وائرس پر یقین کرنے کا جھانسا دیا جو کبھی بھی انسان سے الگ تھلگ نہیں رہا، تاکہ دولت کی منتقلی، شہریوں پر کنٹرول اور انہیں ایسی ویکسین لینے پہ مجبور کیا جا سکے جس سے لاکھوں افراد ہلاک ہو جائیں۔ اب وہ آب و ہوا کو تبدیل کرنے کے لیے جیو انجینیئرنگ کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ وہ ہم پر پابندیاں اور ٹیکس لگا سکیں۔

فارم کی زبردستی بندش، مویشیوں کی ہلاکت، بھوک، خریداری پر ڈیجیٹل پابندیاں تاکہ لاکھوں مزید جانیں لے لی جائیں گی اور یہ سب کچھ ہمیں صحت اور خوشی فراہم کرنے کی آڑ میں کیا جائے گا۔ طاقت اگرچہ دوسرے لوگوں کے ذریعے کام کروانے کی صلاحیت کا نام ہے، ریاست کے پاس جتنی زیادہ طاقت ہے، اتنا موثر کام کر سکے گی تاہم قوت محض قانون کا کوڑا نہیں بلکہ طاقت، امانت و دیانت اور عدل و انصاف کی نمائندگی کرتی ہے۔ زیادہ طاقت کی خواہش میں اخلاقی طور پر کوئی حرج نہیں مگر “ طاقتِ محض ”فقط تقسیم کرتی، یہ صرف صداقت ہے جو دھڑے بندی نہیں کرتی اور ریاست کو بہترین حالات کی تشکیل اور دوسروں پر اثر انداز ہونے کی اجازت دیتی ہے، کنٹرول کی یہ خواہش سیکورٹی اور خودمختاری کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ان فیصلوں سے پیدا ہوتی ہے جو عوام کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، طاقت غیر منقطع رویے اور حد سے زیادہ اعتماد کو بھی فروغ دیتی ہے۔

عدل و انصاف کے اصولوں سے معری طاقت بے لگام رویوں، لامحدود آزادی، اور مراعات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی شکل اختیار کر لیتی ہے جبکہ عدل و انصاف اور ذہنی دیانت سماجی رویوں کو منضبط رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ صداقت کی صرف تھوڑی سی طاقت کے ساتھ، آپ معاشرے کے تاثرات، احساسات اور رویوں میں تبدیلیوں کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپ اچھا محسوس کرتے ہیں، آپ زیادہ پُراعتماد اور خود کو زیادہ فیصلہ کن اور زیادہ عمل پر مبنی محسوس کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ہمارے معاشرتی زوال کے اسباب!

  • 26/06/2024 at 9:48 صبح
    Permalink

    A great writeup.

Comments are closed.