یورپی پارلیمانی انتخابات: دائیں بازو کا سیاسی ابھار


یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے وہ انتخابی نتائج سامنے آ چکے ہیں جن کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ انتخابات پچھلے چند سالوں کے دوران، پورپ کے سیاسی رجحانات میں رونما ہونے والی بنیادی تبدیلیوں کی عوامی پذیرائی کو جانچنے کا ایک اہم پیمانہ ثابت ہوئے ہیں۔

یورپین پارلیمنٹ کی نوعیت اور اہمیت کے بارے میں چند باتیں جاننا ضروری ہیں۔ یورپین پارلیمنٹ کا قیام 1958 میں عمل میں آیا تھا۔ ابتدا میں یورپی یونین کے رکن ملک اپنی پارلیمنٹ سے ارکان منتخب کر کے یورپین پارلیمنٹ میں بھیجا کرتے تھے۔ 1979 سے یہ طریقہ تبدیل ہو گیا اور یورپین پارلیمنٹ کے ارکان براہ راست انتخابات کے ذریعے، پانچ سال کی مدت کے لئے منتخب کیے جانے لگے۔ یورپی یونین میں شامل ہونے والے ملکوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ پارلیمنٹ کے ارکان کی مجموعی تعداد بھی بڑھتی رہی۔ موجودہ قانون کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے 720 ارکان 27 رکن ملکوں کی نمایندگی کرتے ہیں۔ ہر یورپی رکن ملک کو اس کی آبادی کے لحاظ سے نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ جرمنی کو 96 فرانس کو 79 اٹلی کو 76 اور اسپین کو 59 نشستیں دی گئی ہیں۔ سب سے کم نشست والے ملک مالٹا، لکسمبرگ اور قبرص شامل ہیں جن کے پاس سات سے کم نشستیں ہیں۔

یورپین پارلیمنٹ میں سیاسی گروپ کی بنیاد پر نمائندگی کا اصول اپنایا گیا ہے۔ کسی بھی گروپ میں کم از کم 7 رکن ملکوں سے 23 منتخب ارکان کا شامل ہونا لازمی ہے۔ پارلیمنٹ میں 8 باضابطہ سیاسی شناخت رکھنے والے گروپ ہیں جبکہ نواں گروپ ایسے آزاد ارکان پر مشتمل ہوتا ہے جو ایوان میں موجود کسی سیاسی گروپ سے وابستہ نہیں ہوتے۔

یورپی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات میں یورپین پیپلز پارٹی (EPP، ) کو 189۔ رینیو یورپ گروپ (Renew Europe ) کو 79۔ سوشلسٹ اور ترقی پسند اتحاد (S&D ) کو 135۔ یورپی قدامت پرست اور اصلاح پسند گروپ (ECR ) کو 73۔ گرین گروپ اور یورپی فری الائنس (ECR ) کو 53۔ بائیں بازو کا گروپ (The Left) کو 36۔ شناخت اور جمہوری گروپ (ID ) کو 58، غیر وابستہ گروپ ( NI ) کو 45 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ دیگر نئی جماعتوں کے ارکان کی تعداد 52 ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے ان انتخابات میں اہل ووٹروں کی تعداد 35 کروڑ سے زیادہ تھی۔ ووٹروں کے نزدیک اس پارلیمنٹ کی حیثیت عموماً علامتی ہوا کرتی تھی۔ تاہم، کووڈ۔ 19 اور روس۔ یوکرین جنگ کے بعد یورپ میں معاشی کساد بازاری، افراط زر، مہنگائی، بے روزگاری، پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے حوالے سے ابھرنے والے مختلف نوعیت کے سماجی، معاشرتی اور معاشی مسائل کے باعث قوم پرست اور مقامیت پسندی کے جذبات تیزی سے ابھر رہے ہیں جس کے باعث یورپی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات کی حیثیت ماضی کی طرح علامتی نہیں تھی اور اس کے نتائج اہمیت کافی بڑھ چکی تھی کیونکہ ان کے ذریعے یہ اندازہ لگانا ممکن تھا کہ یورپ یونین کے ملکوں میں اعتدال پسند اور قوم پرست سیاسی سوچ کے درمیان جاری کشمکش کے حوالے سے کس رجحان کی عوامی پذیرائی میں کمی یا اضافہ ہو رہا ہے۔ مذکورہ انتخابات میں ووٹنگ کی % 51 شرح کو سیاسی تقسیم کی شدت کا ایک واضح مظہر کہا جا سکتا ہے۔

انتخاب کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتدال پسند یورپی پیپلز پارٹی (EPP) اور سوشلسٹ و ترقی پسند گروپ (S&D) نے پارلیمنٹ میں پہلے اور دوسرے سب سے بڑے گروپ کے طور پر اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھی ہے۔

تاہم، یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی کہ ووٹروں کئی حمایت کا رجحان دائیں بازو کی جانب رہے گا۔ فرانس کے صدر اور ان کی اعتدال پسند جماعت کے لیے حالیہ انتخابات ایک بھیانک خواب ثابت ہوئے ہیں۔ میرین لی پین کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی نے % 31 ووٹ لے کر زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی پارٹی نے ایمینیول میکرون کی جماعت سے غیر متوقع طور پر دو گنا سے زیادہ ووٹ لیے جس سے فرانس میں ایک سیاسی زلزلہ آ گیا اور صدر میکرون، قانون ساز اسمبلی کا انتخاب کرانے پر مجبور ہو گئے۔ اٹلی کی وزیراعظم اور یورپ کی طاقتور ترین خاتون جارجیا میلونی کی جماعت 0برادز آف اٹلی 0نے % 29 ووٹ لے کر شاندار کامیابی اپنے نام درج کر لئی۔ جرمنی میں بھی Alternate for Germany نامی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نے % 16 ووٹ لیے جو اس کی اب تک کئی سب سے بہترین انتخابی کارکردگی تھی۔ ان انتخابات میں سینٹر۔ لیفٹ اور لبرل جماعتوں کو نقصان ہوا ہے، گرین گروپ کو 18، رینیو یورپ کو 23، دی لیفٹ کو 1 اور ترقی پسند اتحاد کو 4 نشستوں کا خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔

یورپین پارلیمنٹ میں اعتدال پسند اور سخت گیر دائیں بازو کے گروپوں کے درمیان شدید تقسیم پیدا ہو چکی ہے لہٰذا باہمی مفاہمت کے بغیر نئی یورپین پارلیمنٹ کو چلانا بہت مشکل ثابت ہو گا۔

یورپی ملکوں کی اندرونی سیاست پر بھی ان انتخابات کے بڑے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ مستقبل کے منظر نامے میں اصل مقابلہ دائیں بازو کی اعتدال پسند اور دائیں بازو کی ہی سخت گیر موقف رکھنے والی سیاسی قوتوں کے درمیان ہو گا۔ اس حوالے سے دیگر یورپی ملکوں کے علاوہ فرانس اور جرمنی کی برسراقتدار حکومتوں کو بالخصوص اپنے قومی انتخابات میں بڑے سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا ہو گا۔ بائیں بازو کی تنظیموں کو بھئی سیاسی چیلنجز درپیش ہوں گے۔ وہ نوجوان طبقہ جو عموماً بائیں بازو کا حامی ہوا کرتا تھا اب مقبول قوم پرست نعروں میں کشش محسوس کر رہا ہے۔ جب تک یوکرین۔ روس جنگ جاری رہے گی اور ابھرتی ہوئی ایشیائی معیشتوں سے شراکت داری قائم نہیں ہو گی اس وقت تک یورپ کی معاشی مشکلات کم نہیں ہوں گی جس کے فطری نتیجے میں دائیں بازو کی قوم پرست سیاست کی عوامی مقبولیت بڑھتی جائے گی۔

Facebook Comments HS