عورت یا جنسی مشین
رات کافی بیت چکی تھی۔ سڑکیں ویران اور گلیاں سنسان تھیں۔ پورا شہر خاموشی کی اندھی چادر اوڑھے سو رہا تھا۔ بس کہیں کہیں کسی کتے کے رونے کی لمبی آواز، خاموشی کے اس عفریت کا سینہ چیرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
ایسے میں ایک بڑی سی گاڑی آ کر اس عالی شان گھر کے گیٹ پر رکی۔ یہ گھر دور سے دیکھنے پر بھی اس پورے علاقے میں نمایاں نظر آتا تھا۔ اس گاڑی کی قیمت، کسی بڑے شہر کے پوش ایریا میں واقع ایک کنال کے گھر سے بھی کچھ زیادہ ہی تھی۔
گاڑی رکی تو پہلے پچھلی سیٹوں سے دو مسلح گارڈ نیچے اترے اور انہوں نے سڑک کے دونوں اطراف میں پوزیشن سنبھال لیں۔ پھر گاڑی کے اندر سے ہی ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبایا گیا تو گیٹ کے پٹ دائیں بائیں ہٹ گئے۔ ساتھ ہی پورچ کی لائٹیں بھی روشن ہو گئیں۔ گاڑی پورچ میں داخل ہوئی اور وہ دونوں گارڈز بھی۔ ساتھ ہی گیٹ بھی بند ہو گیا۔
ڈرائیور نے نیچے اتر کر گاڑی کا دوسرا دروازہ کھولا۔ پینسٹھ سالہ مولانا قدرت اللہ معاویہ نے بسم اللہ پڑھتے پڑھتے اپنے پاؤں (امپورٹڈ جوتے پہنے ہوئے) گاڑی سے باہر رکھے۔ تب تک اندرونی دروازے پر ایک ملازم نمودار ہو چکا تھا۔ ملازم نے ان کے قریب پہنچتے ہی مؤدبانہ انداز میں سلام کیا۔ مولانا نے جواب میں صرف سر کو ہلکی سی جنبش دی اور اندر کی طرف بڑھ گئے۔
اندر وہ ایک کھلی کاریڈور سے گزرے، جہاں دونوں اطراف کی دیواریں رنگ برنگے نقلی پھولوں اور قرآنی آیات کی اعلٰی خطاطی کے نمونوں سے سجی ہوئی تھیں۔ فرش تمام کا تمام قیمتی ایرانی قالینوں میں چھپا ہوا تھا۔ اوپر چھت پر چیک ری پبلک سے درآمد شدہ کرسٹل کے خوشنما اور پر جلال فانوس لٹک رہے تھے۔ ایسے شاندار فانوس ان کے ہر کمرے کی زینت میں اضافہ کر رہے تھے۔
کاریڈور سے گزر کر وہ ٹی وی لاؤنج میں آئے۔ یہاں سامنے آدھی دیوار گھیرے ہوئے ایل ای ڈی ٹی وی سکرین سجی تھی۔ دو اطراف کی دیواروں کو اطلس و کمخواب کے پردوں نے ڈھانپ رکھا تھا اور یہیں بیٹھی تھی، بناؤ سنگھار کیے ان کی چوتھی بیوی۔ اسے مولانا کی طرف سے حکم تھا کہ ان کے آنے سے پہلے خوب سج دھج کے اور تیار ہو کے بیٹھا کرے۔
روشنی نام کی یہ پچیس سالہ لڑکی ان کی اب تک کی آخری بیوی تھی۔ اس سے پہلے ایک ایک کر کے ان کی تین بیویاں انہیں بہت سی اولادوں کے تحفے دے کر وفات پا چکی تھیں۔ وہ اولادیں جو کہ اب خود اولادوں والی اور علیحدہ علیحدہ رہائش پذیر تھیں۔ پہلی تین بیویوں اور اس چوتھی بیوی میں ایک نمایاں فرق تھا۔ پہلی تینوں بیویاں سادہ، سگھڑ اور مفعول قسم کی جنسی پارٹنر تھیں۔ لیکن یہ چوتھی بیوی بستر میں ایک فاعل کا کردار ادا کرتی تھی۔
اس نئی شادی سے قبل، مولانا نے اپنے خاندانی حکیم سے جو دوائیاں بنوا کر کھائی تھیں اب ان کا اثر زائل ہو چکا تھا۔ حکیم صاحب کے نئے نسخے اب ان کی کوئی مدد نہیں کر رہے تھے۔ مرغن کھانوں کی بہتات نے انہیں دل کا مریض بھی بنا دیا تھا۔
پورے شہر میں مولانا کا بہت رعب و دبدبہ تھا۔ وہ کسی بھی ناپسندیدہ شخص کے بارے میں کوئی فتویٰ جاری کر دیتے تو اس کا جینا حرام ہو جاتا۔ اس لئے اکثر لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ اگر کسی کو ان کا کوئی ڈر خوف نہیں تھا تو وہ ان کی یہی پچیس سالہ چوتھی بیوی تھی۔
جب وہ ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوئے تو روشنی اکیلی وہاں بیٹھی ٹی وی پر کوئی انگلش فلم دیکھ رہی تھی۔ وہ سلام دعا کر کے ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔ روشنی نے ایک چٹکتی ہوئی سی نظر ان پر ڈالی اور واپس فلم دیکھنے میں مصروف ہو گئی۔ مولانا نے دو تین لمحے تو اس کی توجہ کا انتظار کیا اور پھر بولنے پر مجبور ہو گئے
”یہ کیا دیکھ رہی ہو تم؟ واہیات فرنگیوں کی فلم“ ۔
”تو کیا کروں؟ مجھ سے اب پاکستانی ڈرامے نہیں دیکھے جاتے۔ وہی سو سال پرانی کہانیاں اور بار بار کے دیکھے ہوئے کردار“ ۔
”ڈرامے نہ دیکھو، کوئی مزاحیہ پروگرام ہی دیکھ لیا کرو“ ۔
”اور سارا دن کیا کرتی ہوں؟“ ۔
”میں نے تمہیں کہا بھی تھا، اگر مجھے زیادہ دیر ہو جائے تو سو جایا کرو۔ تم پھر بھی ابھی تک جاگ رہی ہو“ ۔
”آپ کا انتظار کر رہی تھی“ ۔
”لیکن کیوں؟“ ۔
”ایک نوجوان بیوی اس وقت تک اپنے خاوند کا انتظار کیوں کرتی ہے؟ اور وہ بھی یوں بن ٹھن کے، بناؤ سنگھار کے ساتھ“ ۔
”ہار سنگھار کا تو میں نے ہی بولا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ مجھے پلٹنے میں اتنی دیر بھی ہو جائے تو تم جاگتی رہو“ ۔
(روشنی ٹی وی بند کر کے مولانا کی طرف متوجہ ہو گئی)
”میں ابھی تک کیوں جاگ رہی تھی آپ کو اچھی طرح معلوم ہے“ ۔
”بھئی آج تو میں بہت تھک گیا ہوں۔ پہلے تو شہر سے باہر جانا پڑا۔ پھر ادھر قریب ہی ایک مسئلہ درپیش تھا۔ بعد میں اسی مسئلہ کی وجہ سے کچھ علما کے ساتھ مشاورت کرنا پڑی۔ آخر میں وہ ایک کھانے کی دعوت پر زبردستی لے گئے۔ اب جا کر جان چھوٹی ہے“ ۔
”اس میں نیا کیا ہے؟ گھر تو آپ روز تھکنے کے بعد ہی آتے ہیں۔ لیکن ادھر قریب ہی کیا مسئلہ تھا؟ جس کی وجہ سے آپ کو بھی دوسرے علما سے مشاورت کرنا پڑی“ ۔
”وہ ایک ناہنجار 65 سال کی ضعیف عورت ہے، اس نے ایک ساٹھ سالہ مرد سے دوسری شادی کر لی ہے۔ اب اس کا سارا محلہ پریشان ہے۔ مجھے بھی حیرت تھی کہ ایک عورت جو ماہانہ حیض سے بھی فارغ ہو چکی ہے اس نے دوسری شادی اور وہ بھی خود سے بھی کم عمر مرد سے کیوں کی ہے؟“ ۔
”تو کیا ایک 65 سالہ عورت کو شادی کی اجازت نہیں ہے؟“ ۔
”منع تو شاید نہ ہو لیکن ناپسندیدہ ضرور ہے۔ آس پاس کے لوگوں پر اس کا اثر بھی برا پڑتا ہے اس لئے ایسا نہیں کیا جاتا“ ۔
”پیریڈز بند ہو جانے کے بعد کیا عورت شادی نہیں کر سکتی؟“ ۔
”کیوں کرے گی؟ اور پھر مرد کے کس کام کی ہے وہ؟“ ۔
”مطلب اگر عورت بچے پیدا نہیں کر سکتی، جنسی مشین کے طور پر کارآمد نہیں تو اسے شادی کی اجازت بھی نہیں؟“ ۔
”بالکل! یہی کہہ رہا ہوں میں“ ۔
روشنی اٹھ کر دروازے کے قریب گئی۔ باہر جھانکا اور یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ ان کی باتیں کوئی اور تو نہیں سن رہا واپس آ کے مولانا سے یوں مخاطب ہوئی
”چلیں چھوڑیں اسے۔ یہ بتائیں، وہ جو میں نے آپ سے کہا تھا کسی ماہر سے رابطہ کرنے کا۔ اس کا کیا کیا آپ نے؟“ ۔
”دیکھو! میں دین کا خادم ہوں اور اس خدمت میں مجھے کتنا ہی بے آرام ہونا پڑے میں اس کی پروا نہیں کرتا۔ اسی لئے آج سارا دن بھی مصروف رہا۔ کل کوشش کروں گا اپنے حکیم سے ملنے کی“ ۔
”حکیموں کی سب گولیاں اب آپ کے لئے بے کار ہو چکی ہیں اور مجھے شادی کر کے آپ نے اس خوبصورت پنجرے میں قید کر رکھا ہے۔ میں خاوند سے ملنے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لئے ترستی رہتی ہوں۔ آپ سمجھتے کیوں نہیں؟ اب صرف انگریزی دوائیاں ہی آپ کی مدد کر سکتی ہیں اور اس طرح اس قید میں بھی مجھے تھوڑی بہت خوشی تو مل سکتی ہے“ ۔
”تمہیں یہاں ایسی ایسی سہولتیں میسر ہیں جن کا تم اپنی ماں کے گھر میں خواب بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔ روپے پیسے کی بھی کوئی کمی نہیں۔ پھر بھی تم اپنی زبان کو قابو میں نہیں رکھ سکتی ہو۔ اور میں نے تمہیں کتنی بار بتایا ہے، مجھے انگریزی دوائیاں سخت ناپسند ہیں۔ مجھے مغرب اور اس کی طرز زندگی سے سخت نفرت ہے۔ ان کے سب کام دین کے خلاف ہیں۔ پھر نجانے ان کی دوائیوں میں کیا کیا ناپاک چیزیں ملی ہوتی ہیں“ ۔
”ایک نوجوان لڑکی کی ضرورتوں کا تو ادراک نہیں ہے آپ کو اور بنے پھرتے ہیں دنیا جہان کے عالم۔ اور میں یہ بھی دیکھ رہی ہوں کہ آپ کو مغرب کی بے شمار چیزیں پسند ہیں سوائے ان کے جو ہماری ازدواجی زندگی کو صحت مند بنا سکیں“ ۔
”کیوں الزام دے رہی ہو؟ مجھے مغرب کی کون سی چیز پسند ہے؟“ ۔
”سچ پوچھیں تو کیا نہیں ہے؟ یہ گاڑی جس پر آپ نے بے شمار دولت خرچ کی ہے۔ آپ کے گارڈز کے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہتھیار۔ یہ ٹی وی سکرین، یہ موبائل فون جو دن رات آپ کے ہاتھوں میں رہتا ہے۔ یہ اے سی جو صبح شام آپ کو یہاں اور آپ کی گاڑیوں میں مطلوبہ سرد یا گرم ہوا دیتے ہیں۔ یہ روشنی کے بلب اور گھر میں ضرورت کی کتنی ہی مشینیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کیمرے جو آپ نے میرے استعمال والی گاڑی کے علاوہ گھر کے کونے کونے میں لگا رکھے ہیں۔ جن کے سامنے ہونے والی ہر حرکت آپ اپنے موبائل فون پر دیکھتے رہتے ہیں۔ انہی کی وجہ سے مجھے یہ گھر قید خانہ معلوم ہوتا ہے۔ اتنا کافی ہے یا کچھ اور بتاؤں؟“ ۔
”تم نے تو تقریر ہی شروع کر دی۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی ہر اچھی چیز مومن کی میراث ہے“ ۔
(یہ سب سن کر تو روشنی کو سخت غصہ آیا)
”تو وہ انگریزی دوائیاں جو ہماری ازدواجی زندگی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں وہ کیوں منع ہیں؟ کیا وہ اچھی چیز نہیں ہیں؟ کیا وہ مومن کی میراث نہیں ہو سکتیں؟ میں نے ماں سے کہا بھی تھا، میں غربت میں جی لوں گی مگر مجھے اس بڈھے سے نہ بیاہیں۔ مگر آپ نے پتہ نہیں اس پر کیا جادو کیا تھا کہ اس نے مجھے اچھی خاصی تعلیم دلوانے کے باوجود اس کنویں میں پھینک کر ہی سانس لیا۔ آپ خود بھی تو 65 سال کے ہیں اور اپنے بارے میں کچھ نہیں سوچتے مگر اس بے چاری عورت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں“ ۔
”تم تو پاگل ہو گئی ہو بالکل اور نافرمانی پر اتر آئی ہو۔ جانتی بھی ہو کہ ایک نافرمان بیوی کے لئے دین میں کیا سزا ہے؟ آج ایک فتویٰ جاری کر دوں تو کل لوگ تمہیں سنگسار کر دیں۔ اور یہ جو تم بار بار میری عمر کا ذکر کر رہی ہو تم تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے دین میں مرد کسی بھی عمر میں شادی کر سکتا ہے لیکن عورت نہیں۔ اس کے لئے کچھ حدود ہیں“ ۔
”چاہے مرد اپنی بیوی کے ازدواجی حقوق بھی پورے نہ کر سکتا ہو“ ۔
”میرے بارے میں یہ غلط فہمی بھی اپنے دماغ سے نکال دو۔ مجھے صرف بلڈ پریشر کی وجہ سے ڈاکٹر نے کچھ دیر کے لئے منع کر رکھا ہے۔ جیسے ہی ڈاکٹر اجازت دے گا میں تمہیں پھر سے اپنی مردانگی کے جوہر دکھا دوں گا“ ۔
”پھر سے کیا مطلب؟ کیا میں بھول گئی ہوں کہ حکیم صاحب کی گولیوں کے باوجود۔ خیر اس بحث کا کیا فائدہ؟“ ۔
”ایک بات تو تم یقیناً بھول رہی ہو کہ اگر میں آج اسی وقت تمہیں طلاق دے دوں تو تم سڑک پر آ جاؤ گی۔ تمہیں سہارا دینے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔ جبکہ میں چاہوں تو کل ہی کسی بیس سال کی لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ اس کے وارثوں کو تمہاری ماں سے کچھ بہتر رقم دینی پڑے“ ۔
”ہاں جی آپ کو تو یہ حق حاصل ہے کہ پہلے اپنا دل خوش کرنے کے لئے کسی زندہ انسان کو ایک کھلونے کی طرح خرید لیں اور پھر جب چاہیں اس چھت اور روٹی کپڑے کی بنیاد پر اسے بلیک میل کرتے رہیں۔ اور آپ کو تو بوڑھے ہو کر بھی یہ سب اجازت ہے کہ کسی بھی عمر کی لڑکی سے شادی کر لیں مگر عورت کی عمر ذرا زیادہ ہو جائے تو اس پر نکاح کا دروازہ بھی بند ہے“ ۔
”میں تمہیں صرف خبردار کر رہا ہوں اور تم ابھی تک اس عورت کے بارے میں سوچ رہی ہو؟ تم میری یعنی مولانا قدرت اللہ معاویہ کی بیوی ہو اور وہ ایک بے شرم عورت ہے، کلٹا ہے وہ۔ اس کی اس حرکت سے ماحول خراب ہو رہا ہے۔ میں کل ہی اسے طلاق لینے پر مجبور کر دوں گا۔ میری بات نہیں مانے گی تو اس کے محلے میں رہنا مشکل کر دوں گا اس کا۔ آخرت میں تو اس کے لئے جہنم ہی ٹھکانہ ہو گا۔ وہیں سڑتی رہے گی“ ۔
”آپ ٹھیک کہتے ہیں، کیونکہ آپ دین میں سے وہی نکات ڈھونڈ کر لاتے ہیں جو مردوں کی طرفداری کر رہے ہوں۔ اور ہاں! میری ماں صرف پیسوں کی وجہ سے نہیں مانی تھی۔ اسے آپ کے لوگوں نے ڈرایا بھی تھا۔ وہ ایک غریب بیوہ عورت آپ لوگوں کی دھمکیوں میں آ کر مجبور ہوئی تھی۔ اور کوئی جادو وغیرہ نہیں تھا آپ کے پاس ”۔
”اپنی بکواس بند کرو اور جا کر سو جاؤ۔ میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں، تمہارے ساتھ اور سر نہیں کھپا سکتا۔ ایک تو یہ بڑی مصیبت ہے، پینتیس چالیس سال کی عمر سے شادی کر لو تو اس کے دماغ کی پرانی سلیٹ صاف کرتے کرتے زمانہ بیت جاتا ہے اور اگر ایسی نوجوان سے کر لو تو بس ناز نخرے اٹھاتے رہو جیسے اس کے سوا ہمیں دنیا میں اور کوئی کام ہی نہیں“ ۔
(روشنی نے مولانا کو نہایت غصے سے دیکھا اور پھر نجانے کیا سوچ کر بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی۔ )
مولانا کافی دیر تک وہیں بیٹھے سوچ بچار کرتے رہے۔ پھر انہوں نے بھی بیڈ روم کا رخ کیا۔ بڑھتی ہوئی عمر کا تقاضا تھا یا مولانا حقیقتاً ہی تھکے ہوئے تھے، بستر پر لیٹتے ہی نیند کے پاتال میں ڈوب گئے۔ ساتھ میں لیٹی اور دل ہی دل میں انہیں کوستی ہوئی روشنی بھی کافی دیر ان کے خراٹوں سے بے زار رہنے کے بعد بالآخر سو گئی۔
صبح الارم کی آواز سے مولانا کی آنکھ کھلی۔ انہوں نے جلدی جلدی وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی اور پھر سو گئے۔ دوبارہ آنکھ کھلی تو ظہر کی نماز کا وقت نکلا جا رہا تھا۔ عصر کی نماز کے فوراً بعد انہیں اس 65 سالہ عورت کے گھر بھی جانا تھا، جس نے حال ہی میں دوسرا نکاح کیا تھا۔ روشنی ابھی ابھی بیوٹی پارلر سے واپس آ کر اب ملازمین کو دن کے باقی کاموں کے لئے ہدایات دے رہی تھی۔
مولانا نے ظہر کی نماز بھی گھر پر ہی ادا کی اور پھر دین کی خدمت کے لئے نکل گئے۔ ان کا پہلا ٹھکانا تو قریب کی مسجد ہی تھی، جہاں محلے کے کچھ لوگ پہلے سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ مولانا نے عصر کی نماز کے بعد ان سب کو ساتھ لیا اور اس خاتون (مولانا کی نظر میں دین کی مجرم) کے گھر جا پہنچے۔
اس خاتون اور اس کے شوہر نے ان سب کو بڑی عزت سے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور فوراً چائے مع دوسرے لوازمات کے انہیں پیش کر دی۔ ٹائمنگ بتا رہی تھی کہ چائے پہلے سے تیار کر لی گئی تھی۔ وہ خاتون اور اس کا خاوند آج گزشتہ کل کی نسبت بہت پراعتماد نظر آ رہے تھے۔ دونوں میاں بیوی کے اپنے اپنے بچے بھی اس وہاں موجود اور اپنی والدہ یا والد کے پیچھے کھڑے تھے۔
مولانا نے بے شک بھانپ لیا تھا کہ آج وہاں کا ماحول ان کے لئے اتنا سازگار نہیں جتنا کہ گزشتہ کل تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی اعتراضات بھری تقریر کا آغاز کر دیا۔ ان کے ساتھ آئے ہوئے لوگ مسلسل ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ مگر مولانا کو یہ دیکھ کر حیرت ہو رہی تھی کہ ان دونوں میاں بیوی اور ان کے بچوں کے چہروں پر خوف کا شائبہ تک نہیں تھا۔
جب اس خاتون نے محسوس کیا کہ مولانا کافی تقریر کر چکے ہیں۔ چائے اور اس کے ساتھ پیش کیے گئے لوازمات بھی ختم ہو چکے ہیں تو وہ براہ راست مولانا سے مخاطب ہوئی
”مولانا! ہم دونوں میاں بیوی اور ہمارے بچے آپ کے موقف کا احترام کرتے ہیں۔ اب آپ سے گزارش ہے، آپ کوئی بھی فیصلہ صادر کرنے سے پہلے میری ایک مجبوری بھی سن لیں“ ۔
حاضرین میں سے کچھ لوگوں نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ اپنا فیصلہ سنا دیں۔ سارا محلہ ان کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کو تیار بیٹھا ہے۔ اس سے پہلے اس مجرم (وہ اس خاتون کو مجرم گردان رہے تھے ) کی اب کوئی بھی بات سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ تبھی اس خاتون نے پھر مولانا کو مخاطب کیا
”مولانا اگر آپ میری مجبوری سنے بغیر کوئی فیصلہ سنا دیں گے تو ہو سکتا ہے اس میں شرعی لحاظ سے کوئی سقم رہ جائے“ ۔
یہ سنتے ہی مولانا نے لوگوں کو روکا اور اس خاتون کی بات سننے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
خاتون نے مولانا سے درخواست کی کہ چونکہ یہ مجبوری ان کا پرائیویٹ معاملہ ہے، اس لئے وہ اس کی بات علیحدگی میں سنیں۔ مولانا نے ہامی بھر لی اور وہ خاتون، مولانا کو لے کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
صرف تین منٹ بعد وہ دونوں کمرے سے باہر آ گئے۔ خاتون کے چہرے پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ تھی
باہر آتے ہی مولانا وہاں حاضرین سے مخاطب ہوئے
”حضرات! اس خاتون نے مجھے اپنی جس ذاتی مجبوری سے آگاہ کیا ہے، اس کی موجودگی میں مجھ پر لازم ہے کہ میں کوئی فیصلہ سنانے سے پہلے چند اور فقہا سے مشورہ کر لوں۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ذرا سی کوتاہی سے کوئی اقدام خلاف شریعت اٹھ جائے اور قیامت کے دن میں گنہگاروں میں گنا جاؤں۔ اس لئے آپ سب سے بھی درخواست ہے کہ آپ فی الحال اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ مسئلہ کی شرعی حیثیت جاننے کے بعد میں آپ سے رجوع کروں گا“ وہ خاتون ابھی بھی مسکرا رہی تھی۔
ان لوگوں میں سے کسی میں بھی اتنی جرات نہیں تھی کہ مولانا سے کوئی سوال کرے۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ کھسر پھسر کرتے ہوئے باری باری وہاں سے اٹھ گئے۔
مولانا وہاں سے فوراً واپس گھر پہنچے، سیدھے اپنے ذاتی کمرے میں گئے اور بیوی (روشنی) کو وہیں بلا لیا۔ وہ اندر آئی تو دروازہ بند کر کے اسے بیٹھنے کے لئے کہا۔ اس کے بیٹھتے ہی بغیر کسی تمہید کے سوال کر دیا
”تم آج گھر سے باہر کہیں گئی تھیں؟“ ۔
روشنی نے بڑے سکون سے جواب دیا ”جی گئی تھی“ ۔
”مگر کہاں؟ میرا مطلب ہے بیوٹی پالر کے علاوہ“ ۔
”جی میں بیوٹی پارلر کے علاوہ کہیں نہیں گئی۔ آپ بے شک ڈرائیور سے پوچھ لیں۔ بلکہ کسی سے بھی پوچھنے کی کیا ضرورت ہے، آپ اپنا موبائل کھولیے اور میری گاڑی کی تمام آمدورفت چیک کر لیجیے“ ۔
”وہ میں کر چکا ہوں۔ گاڑی تو بیوٹی پارلر تک ہی گئی اور وہاں سے سیدھی گھر واپس آئی ہے۔ مگر دو گھنٹے بیوٹی پارلر میں رہنے کے باوجود تم نے نہ وہاں سے میک اپ کرایا اور نا ہی فیشل وغیرہ۔ تو تم وہاں لینے کیا گئی تھیں؟“ ۔
”اس بیوٹی پارلر میں مساج کا بھی انتظام ہے اور میں اسی کے لئے گئی تھی۔ میں کل سے بہت ٹینشن میں تھی اور میرے پاس ریلیکس ہونے کے لئے اور کوئی طریقہ نہیں تھا“ ۔
”تم اگر صرف بیوٹی پارلر ہی گئی ہو تو وہ بات جو صرف ہم دونوں کے درمیان تھی، وہ اس ناہنجار عورت کو کیسے معلوم ہو گئی۔ آج اس نے اسی ایک بات کو لے کر مجھے بلیک میل کیا ہے۔ میں بہت شرمندہ ہو کر آیا ہوں اس کے سامنے سے۔ وہ تو شکر ہے کہ اس نے یہ بات میرے ساتھ علیحدگی میں کی۔ اگر لوگوں سے سامنے کرتی تو نجانے کیا ہو جاتا۔ ذرا یاد کرو، ممکن ہے تم نے کسی اور کو بتائی ہو، جو اس عورت کو بتا سکتا ہو“ ۔
”اول تو میں کسی سے ملتی جلتی نہیں۔ میری ساری دنیا آپ اور آپ کا یہ گھر ہے۔ لیکن اگر کسی باہر کے آدمی سے میری ملاقات ہو بھی، توبھی، میں اتنی بے وقوف نہیں ہوں کہ ہم میاں بیوی کے درمیان کی کوئی بات اسے بتاؤں گی۔ ہمارے درمیان کا ہر معاملہ ہمارا پرائیویٹ معاملہ ہے“ ۔
”مگر اس عورت کے پاس ہمارے بستر کی مکمل تفصیل موجود ہے“ ۔
”تو اپنے حکیموں سے پوچھیے، مجھے کیا کہتے ہیں؟“ ۔
مولانا خاموش رہے تو وہ بولی ”کیا میں اب جا سکتی ہوں؟ گھر کے کتنے کام پڑے ہیں کرنے کو“ ۔
”ہاں جاؤ!“ مولانا نے روشنی کو تو جانے کے لئے کہہ دیا
لیکن
وہ خود کئی ہفتوں تک اس محلے کے کسی آدمی کو ملنے کی بھی ہمت نہ کر سکے۔



Good 1
ویسے تو یہ ایک افسانہ ہی ہے لیکن اس کی بنیاد یقینا ان ہی غلط باتوں پر رکھی ہوئی ہے جو ہمارے اکثر نام نہاد عالم دین حضرات نے خود طے کرلی ہیں۔ یعنی بوڑھی عورت کی شادی۔ اور وہ بھی اپنے سے کم عمر شوہر کے ساتھ۔
یہاں ان کا ھوالہ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ شاید کسی کہ کبھی کام آجائے۔
قبل اسلام کی فی الوقت میں بات نہیں کرتا جہاں ستر اور اسی سال کی عمر میں بھی خواتین ماں بنیں جبکہ ان کے ماں بننے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
اسلام کی تاریخ میں دو شادیاں تو انتہائی مشہورہیں۔
پہلی تو ہر ایک کہ علم میں ہے کہ 25 سالہ پیارے نبی ص کی شادی 40 سالہ متمول تاجر خاتون خدیجہ الکبری رض کے ساتھ۔
دوسری شادی اس سے بھی زیادہ اہم تھی۔
نبی اکرم ص کی والدہ مدینہ سے مکہ واپس آرہی تھیں تو ابواء کے مقام پر بیمار پڑیں اور ان کا انتقال ہوگیا۔ ایسی حالت میں ننھے محمد ص کو ان کی والدہ کی کنیز "برکہ” واپس مکہ لاتی ہیں۔ اگلے بیس سال تک محمد ص نے اسی حبشی النسل کنیز کو اپنی والدہ کی جگہ محبت کرنے والی اور شفیق پایا۔ ہر مشکل اور مصیبت میں دعا دینے والی۔
برکہ ۔ حضرت عبداللہ اور آمنہ بنت وہب کے ساتھ ان کی شادی کے وقت سے تھیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ ان کی عمر محمد ص سے کم از کم 17 سے 18 سال زیادہ ہوگی۔
محمد ص نے اپنی شادی کے وقت ان خاتون کو آزاد کردیا۔ جو اب لگ بھگ 43 سال کی ہونگی۔ اور ان کی شادی بنو خزرج کہ ایک شخص عبید بن زید سے کروادی۔ اس شادی سے ایک ساحب زادی پیدا ہوئیں۔ ایمن بنت عبید اور یوں کل کی برکہ اب اہل عرب میں ام ایمن بن کر مشہور ہوگئیں (یعنی ایمن کی ماں)۔
محمد ص نے جب نبوت کے بعد سب کو اسلام کی دعوت دی۔ تو ام ایمن اسلام قبول کرنے والے پہلے لوگوں میں سے تھیں۔ اور اب ان کی عمر ساٹھ کے لگ بھگ ہوچکی تھی۔
اگلے دس برس تک مسلمانوں پر مکہ میں مشکلات بڑھ چکی تھیں۔ اور اس وقت ام ایمن رض کے شوہر ایک جنگ میں مارے جاتے ہیں۔ ستر سالہ بوڑھی بیوہ جو دنیا کی نظر میں حبشی النسل بھی ہے یعنی رنگ گہرا کالا ہے نقوش بھدے اور موٹے ساتھ ایک بیٹی کی ذمہ داری۔ کون اس کا ہاتھ تھامتا۔ ام ایمن کی پریشانی محمد ص کو صاف نظر آتی تھی۔
مکہ میں ہی ایک دن صحابہ اکرام رض کی جماعت کے سامنے محمد ص نے پوچھا کہ
کون ہے جو جنت میں داخلے کی مجھ سے گارنٹی چاہتا ہے۔ سب نے ہاتھ کھڑے کردیئے۔
کہا۔ ایک بیوہ سے شادی کرنی ہوگی۔ کچھ ہاتھ نیچے ہوگئے۔
پھر کہا۔ حبشی النسل۔ اور ہاتھ نیچے ہوگئے۔
لوگوں نے کہا۔ نام تو مسکراکر کہا۔ ام ایمن۔
صحابی اکرام کے ہاتھوں سے طوطے اڑگئے اور سب نے ہاتھ گرا کر جنت کے دعوی سے دست برداری کا اعلان کردیا ماسوائے ایک ہاتھ کے۔
یہ 35 سالہ زید بن حارث رض تھے۔ اور خود بھی شادی شدہ تھے۔ شاید ابولہب کی صاحب زادی کے ساتھ۔
ایک طرف نبی ص کا منہ بولا بیتا تھا اور دوسری طرف منہ بولی ماں۔
شادی ہوئی۔ اس عمر میں بھی ستر سالہ ام ایمن نے بعد ازاں ایک بیٹے کو جنم دیا۔ جن ہیں آج ہم عظیم المرتبت کامیاب اور جنگ جو صحابی سپہ سالار اسامہ بن زید رض کے نام سے جانتے ہیں۔
زید بن حارث رض نے بعد ازاں جنگ موتہ میں شہادت پائی۔ وہی جنگ جس میں تین مسلمان سپہ سالار شہید ہوئے۔ زید بن حارث رض جعفر ابن ابی طالب رض عبداللہ بن رواحہ رض
اور آخر کار خالد بن ولید رض نے مسلمانوں کی کمان سنبھالی اور نبی ص سے سیف اللہ کا لقب پایا۔
ام ایمن رض کچھ روایات کے مطابق نبی ص کے وصال کے سال ہی وفات پاگئیں۔ جب کہ کچھ کہ مطابق 90 سال کی عمر میں دور عثمان رض میں وفات پائیں۔
ام ایمن اور زید بن حارث رض کی شادی ایک ایسی مثال ہے جو نبی ص ہمارے لئے چھوڑ گئے۔
ویسے تو یہ ایک افسانہ ہی ہے لیکن اس کی بنیاد یقینا ان ہی غلط باتوں پر رکھی ہوئی ہے جو ہمارے اکثر نام نہاد عالم دین حضرات نے خود طے کرلی ہیں۔ یعنی بوڑھی عورت کی شادی۔ اور وہ بھی اپنے سے کم عمر شوہر کے ساتھ۔
یہاں دو اہم شادیوں کا حوالہ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ شاید کسی کہ کبھی کام آجائے۔
قبل اسلام کی فی الوقت میں بات نہیں کرتا جہاں ستر اور اسی سال کی عمر میں بھی خواتین ماں بنیں جبکہ ان کے ماں بننے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
اسلام کی تاریخ میں دو شادیاں جہاں بیوی عمر رسیدہ اور شوہر کم عمر تھا انتہائی مشہورہیں۔
پہلی تو ہر ایک کہ علم میں ہے کہ 25 سالہ پیارے نبی ص کی شادی 40 سالہ متمول تاجر خاتون خدیجہ الکبری رض کے ساتھ۔
دوسری شادی اس سے بھی زیادہ اہم تھی۔
نبی اکرم ص کی والدہ مدینہ سے مکہ واپس آرہی تھیں تو ابواء کے مقام پر بیمار پڑیں اور ان کا انتقال ہوگیا۔ ایسی حالت میں ننھے محمد ص کو ان کی والدہ کی کنیز "برکہ” واپس مکہ لاتی ہیں۔ اگلے بیس سال تک محمد ص نے اسی حبشی النسل کنیز کو اپنی والدہ کی جگہ محبت کرنے والی اور شفیق ماں جیسا پایا۔
ہر مشکل اور مصیبت میں دعا دینے والی۔
برکہ ۔ حضرت عبداللہ اور آمنہ بنت وہب کے ساتھ ان کی شادی کے وقت سے تھیں۔ اور آمنہ بنت وہب کے گھر میں پہلے سے کام کررہی تھیں۔
غالب امکان یہی ہے کہ ان کی عمر محمد ص سے کم از کم 17 سے 18 سال زیادہ ہوگی۔
محمد ص نے اپنی شادی کے وقت ان خاتون کو آزاد کردیا۔ جو اب لگ بھگ 43 سال کی ہونگی۔ اور ان کی شادی بنو خزرج کہ ایک شخص عبید بن زید سے کروادی۔ اس شادی سے ایک صاحب زادی پیدا ہوئیں۔ ایمن بنت عبید اور یوں کل کی برکہ اب اہل عرب میں ام ایمن بن کر مشہور ہوگئیں (یعنی ایمن کی ماں)۔
محمد ص نے جب نبوت کے بعد سب کو اسلام کی دعوت دی۔ تو ام ایمن اسلام قبول کرنے والے پہلے لوگوں میں سے تھیں۔ اور اب ان کی عمر ساٹھ کے لگ بھگ ہوچکی تھی۔
اگلے دس برس تک مسلمانوں پر مکہ میں مشکلات بڑھ چکی تھیں۔ اور اس وقت ام ایمن رض کے شوہر ایک جنگ میں مارے جاتے ہیں۔ ستر سالہ بوڑھی بیوہ جو دنیا کی نظر میں حبشی النسل بھی ہے یعنی رنگ گہرا کالا ہے نقوش بھدے اور موٹے ساتھ ایک بیٹی کی ذمہ داری۔ کون اس کا ہاتھ تھامتا۔ ام ایمن کی پریشانی محمد ص کو صاف نظر آتی تھی۔
مکہ میں ہی ایک دن صحابہ اکرام رض کی جماعت کے سامنے محمد ص نے پوچھا کہ
کون ہے جو جنت میں داخلے کی مجھ سے گارنٹی چاہتا ہے۔ سب نے ہاتھ کھڑے کردیئے۔
کہا۔ ایک بیوہ سے شادی کرنی ہوگی۔ کچھ ہاتھ نیچے ہوگئے۔
پھر کہا۔ حبشی النسل۔ مزید ہاتھ نیچے ہوگئے۔
لوگوں نے کہا۔ نام ۔۔۔ تو مسکراکر کہا۔ ام ایمن۔
صحابہ اکرام کے ہاتھوں سے طوطے اڑگئے اور سب نے ہاتھ گرا کر جنت کے دعوی سے دست برداری کا اعلان کردیا ماسوائے ایک ہاتھ کے۔
یہ 35 سالہ زید بن حارث رض تھے۔ اور خود بھی شادی شدہ تھے۔ شاید ابولہب کی صاحب زادی کے ساتھ۔
ایک طرف نبی ص کا 35 سالہ منہ بولا بیٹا تھا اور دوسری طرف 70 سالہ منہ بولی ماں۔
شادی ہوئی۔ اس عمر میں بھی ستر سالہ ام ایمن نے بعد ازاں ایک بیٹے کو جنم دیا۔ جن ہیں آج ہم عظیم المرتبت کامیاب اور جنگ جو صحابی سپہ سالار اسامہ بن زید رض کے نام سے جانتے ہیں۔
زید بن حارث رض نے بعد ازاں جنگ موتہ میں شہادت پائی۔ وہی جنگ جس میں تین مسلمان سپہ سالار شہید ہوئے۔ زید بن حارث رض جعفر ابن ابی طالب رض عبداللہ بن رواحہ رض
اور آخر کار خالد بن ولید رض نے مسلمانوں کی کمان سنبھالی اور نبی ص سے سیف اللہ کا لقب پایا۔
ام ایمن رض کچھ روایات کے مطابق نبی ص کے وصال کے سال ہی وفات پاگئیں۔ جب کہ کچھ کہ مطابق 90 سال کی عمر میں دور عثمان رض میں وفات پائیں۔
ام ایمن اور زید بن حارث رض کی شادی ایک ایسی مثال ہے جو نبی ص ہمارے لئے چھوڑ گئے۔