آؤ روس چلیں
جناردن اپادھیائے کے قلم سے وجود پانے والا سفر نامہ ”آنکھوں دیکھا روس“ ایک ایسا سفر نامہ ہے جس میں جہاں روس کے مناظر دل لبھاتے ہیں وہاں روسی تہذیب و ثقافت اور معاشرتی رویوں کا ہندوستان سے تقابل دو ممالک کی تہذیبی حرکیات میں ایسے تخصیص کرتا ہے کہ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ کیا اقدامات ہیں جن کی بدولت روس طبقاتی تفریق سے نکل کر انسانیت کے درجے میں داخل ہوا۔ مختصر سفرنامہ ہونے کے باوجود مختلف جگہوں اور وہاں کے واقعات بیان کرنے کے لیے مصنف نے اسے بتیس سرخیوں میں بانٹ کر لکھا ہے۔ سفر نامے کا آغاز ہندوستان سے روس کی طرف جاتے ہوائی جہاز سے ہوتا ہے۔ مصنف دراصل اپنے بیٹے اور پوتوں سے ملنے روس کا سفر کر رہا ہے اور یہ سفر نامہ اسی سفر کی داستان ہے۔
روس کی طرف سفر کرتے ہوئے مصنف کو یہ خوشی ہے کہ وہ اس لینن کے ملک کی طرف محو سفر ہے جس کا ذکر وہ کلکتے میں سنا کرتا تھا اور جس نے روس میں مزدور کسانوں کے راج قائم کرنے کے لیے قیادت کا فریضہ سر انجام دیا تھا۔ مصنف کے اپنے الفاظ دیکھئے کہ:
”میں کلکتہ میں ٹرام مزدور کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے ٹریڈ یونین کارکن ساتھیوں کے نزدیک آیا تھا، انہی کے ذریعے انقلابیوں کی کہانیاں سننے کے ساتھ ساتھ روس کے عظیم قائد کامریڈ لینن کی قیادت میں زار شاہی کا خاتمہ اور 1917 ء میں روس میں انقلاب کی کامیابی کے نتیجے میں مزدور کسانوں کا راج قائم ہونے کی کہانی بھی میں نے سنی۔ آج اسی لینن کے ملک کی دار السلطنت ماسکو کی طرف جاتا ہوا میں سوچ رہا تھا کہ کامریڈ لینن کو دیکھنے کا میرا خواب آخر پورا ہونے جا رہا ہے۔
مصنف نے یہ بتایا ہے کہ روسی لوگ ہندوستانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور بڑے پیار سے نوازتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ماسکو میں سفر کے لیے میٹرو بس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پورے شہر میں میٹرو کے 107 اسٹیشن ہیں جہاں لوگ بآسانی سفر کر سکتے ہیں۔ ماسکو میں موجود لینن پہاڑی کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ میری ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ لینن پہاڑی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں، اور آخر وہ سپنا پورا ہوا۔
ماسکو میں کام کرتے مختلف لوگوں کے متعلق ان کا یہ موقف ہے کہ یہاں کے لوگوں کی عزت کا معیار ان کا پیشہ نہیں ہے بلکہ سب کو بحیثیت انسان عزت دی جاتی ہے۔ کوئی بھی شخص ہو، اسے بحیثیت شہری مساوی حقوق اور سہولیات حاصل ہیں۔
”یہاں پر کوئی جمعدار ہو، مستری ہو، مالی ہو، بابو ہو، ڈاکٹر ہو، وکیل ہو یا افسر ہو، ایک شہری ہونے کے ناتے ہر ایک مکان لینے کا حقدار ہے۔ سب ایک ہی طرح کے مکان اور آسانیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں انسان کو اس کے کام کے لحاظ سے چھوٹا بڑا نہیں کہا جاتا۔
ماسکو کے ڈائمنڈ میوزیم کا انہوں نے خصوصاً ذکر کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ ڈائمنڈ میوزیم میں بادشاہوں اور ان کی رانیوں کے تاج اور ہیرے جواہرات جڑے کپڑے رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ روس کی کانوں سے نکالے جا رہے قیمتی ہیروں کے نمونے بھی موجود ہیں۔ جہاں پر ہیرے جواہرات رکھے ہوئے ہیں وہاں روشنی نہ ہونے کے باوجود ساری جگہ جگمگاتی رہتی ہے۔
لینن کے مقبرے کا ذکر کرتے ہوئے مصنف کو تاریخی واقعات یاد آ جاتے ہیں اور وہ اس وقت میں ہو جاتا ہے جب لینن انقلابی مزدور کسانوں کی قیادت کر رہے تھے۔
روسی شہر ماسکو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے جغرافیائی معلومات پر زیادہ توجہ دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تفصیلات بہم پہنچائی ہیں جو مسافروں کے لیے گائیڈ بک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر جب وہ وہاں کے لوگوں کے رویوں پر بات کرتے ہیں تو یہ سفرنامہ ایک اہم تہذیبی دستاویز میں بدل جاتا ہے۔
”ماسکو کے رہنے والے مرد عورتیں نوجوان سبھی امن پسند ہیں۔ یہ دنیا کے کسی بھی ملک سے آئے لوگوں کو بہت پیار سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ اور دنیا کے کسی بھی حصے میں آزادی کی جد و جہد کے لیے ہمت کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ روسی لوگوں نے عظیم لینن اور اس زمانے کے انقلابیوں، عالموں، وکیلوں، دانشوروں اور شریف لوگوں سے جو اچھائی، فہم و فراست اور انسانی عظمت کا احساس حاصل کیا ہے، وہی ایک ایسی چیز ہے جس کے بل پر وہ ساری انسانیت کی آزادی اور خوشحالی کے لیے آگے بڑھ کر جد و جہد کرتے ہیں۔
روس میں بچوں کی پرورش کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی ابتدائی تعلیم و تربیت تک کی ذمہ داری روسی گورنمنٹ کی ہوتی ہے۔ بچے کی والدہ کی کام سے چھٹی مکمل ہونے کے بعد بچے کو پرورش ہاؤس میں رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی والدہ اطمینان سے اپنے کام میں دھیان دے سکے۔ ابتدائی تعلیم میں بچوں کو صرف دو مضامین پڑھائے جاتے ہیں پہلا حساب اور دوسرا روسی زبان۔ ابتدائی تعلیم میں بچوں کو کھیل کود کی طرف راغب کیا جاتا ہے اور انہیں عملی تجربات میں داخل کرنے کے خاطر مشینوں سے چیزوں کو جوڑنا بھی سکھایا جاتا ہے۔
روس کی مارکیٹوں کا حال لکھتے ہوئے انہوں نے بتایا ہے کہ چھٹی کے دن زیادہ لوگ خرید و فروخت کے لیے بازاروں کا رخ کرتے ہیں مگر عام دنوں میں بھی معاملہ اسی نوعیت کا ہوتا ہے۔
وہاں مصنف کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوتی ہے جو حلیے سے پاکستانی یا ہندوستانی معلوم پڑھتے ہیں اور دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے دکانوں سے چیزیں چوری اٹھا کر بھاگ جاتے ہیں۔
مصنف نے ان کے بارے میں یوں لکھا ہے کہ:
”یہ مرد، عورتیں ہوں یا بچے و بوڑھے کوئی کام نہیں کرتے۔ یہ لوگ بالکل ہمارے ملک کی طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔ عورتیں گھاگرا پہنتی ہیں، سر پر کپڑا باندھتی ہیں۔ چہرے کی بناوٹ بھی ہمارے دیش کے لوگوں جیسی ہے۔ یہاں کہا بھی جاتا ہے کہ یہ لوگ کسی زمانے میں ہندوستان پاکستان وغیرہ کے ملکوں سے آئے تھے۔ ان کو بسانے اور کام دینے کی ہر ممکن کوشش ابھی تک بیکار رہی اور یہ ویسے ہی دھوکے دھڑی سے رہنا پسند کرتے ہیں۔
لینن کے گاؤں جس کا نام گورکی گاؤں ہے کا ذکر مصنف نے بڑی عقیدت سے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ جگہ ماسکو شہر کے جنوب میں 35 کلومیٹر کی دوری پر چیڑ کے درختوں میں گری ہوئی ہے۔ اور چاروں طرف پرکشش منظر دکھائی دیتے ہیں۔ ”ہم سب خاص دروازے سے داخل ہو کر کچھ دور چلنے کے بعد اس جگہ پہنچے جہاں بہت سے مزدور لینن کے تابوت کو اٹھائے چلتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ تابوت پر عظیم لینن سکون سے سوئے ہوئے لگ رہے ہیں۔ بہت ہی وسیع اور خوبصورت مقام پر بنا ہوا یہ مقبرہ بہت ہی دلکش ہے۔ یہ منظر دیکھتے ہی دل بہت بے چین ہو جاتا ہے اور خودبخود تابوت کے سامنے عقیدت سے سر جھک جاتا ہے۔
دیکھئے کہ یہاں پر کتنی خوبصورتی سے مصنف نے جغرافیائی معلومات اور روحانی تجربات کا امتزاج پیش کیا ہے کہ پڑھنے والوں پر بھی ایک روحانی کیفیت طاری ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ مصنف نے لکھا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں پر صرف 1921 ء میں لینن نے 70 دستاویز اور مضامین قلم بند کیے جو بعد میں روسی قانون کا درجہ اختیار کر گئے۔
اسی طرح زار شہنشاہ کے گاؤں کا بھی ذکر انہوں نے بڑی عمدگی سے کیا ہے اور اس محل کا تذکرہ، جس کی چمک دمک کے لیے زار شہنشاہ نے ایک سو چالیس ٹن سونا استعمال کیا کا تذکرہ استحصال کی علامت کے طور پر کیا ہے۔ اس گاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے پشکن جو کہ روسی شاعر ہیں کو بھی یاد کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہی وہ گاؤں ہے جہاں پر پشکن پیدا ہوا۔ پشکن گاؤں کی طرف جائیں تو گاؤں سے سات کلومیٹر پہلے ہی پشکن کا مجسمہ نظر آنے لگتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے روس کے دیگر تاریخی مقامات میں پیٹر اور پال کا قلعہ، پیٹرو دواریٹس یعنی موسم گرما کا محل، سینٹ آئیزک کیتھڈرل اور پیڑز برگ شہر کی تاریخی حیثیت کا بھی تعارف کروانے کے ساتھ ساتھ وہاں کی سیر بھی کروائی ہے۔ پیٹرز برگ کا تذکرہ یوں کرتے ہیں کہ:
1703 ء میں قلعہ کی شکل ابھری اور 1712 ء میں یہ شہر پیٹر کا دار السلطنت بنا اور راجاؤں کے سرمائی محلوں، گرمائی محل، بڑے بڑے گرجوں اور بڑی بڑی عمارتوں میں پسی ہوئی روسی عوام کی دولت کا بہت بڑا حصہ یہاں آ کر جمع ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک اور بیرون ملکوں میں پیٹرز برگ کا نام مشہور ہو گیا۔ روس کے عوام کے استحصال کے خلاف اسی شہر سے آواز اٹھی۔ انقلابیوں کو جیل میں ٹھونسنے، جلاوطن کرنے اور پھانسی دینے کے احکامات یہیں سے جاری ہوتے تھے۔
لینن میوزیم ماسکو کا دورہ کرتے وقت مصنف پر ایک روحانی کیفیت چھائی ہوئی محسوس ملتی ہے اور وہ لینن سے وابستہ ہر چیز کا تذکرہ بڑی عقیدت سے کرتے ہیں۔ لینن میوزیم میں داخل ہوتے ہی جو منظر انہوں نے دیکھا وہ اس کو یوں لفظوں میں ڈھالتے ہیں کہ:
”دروازے سے داخل ہوتے ہی لینن کا ایک بہت بڑا مجسمہ ہے۔ اس کے بعد تہہ بہ تہہ چیزیں محفوظ رکھی ہوئی ہیں۔ لینن کے طرح طرح کے فوٹو دیواروں پر ٹنگے ہیں، بچپن سے لے کر ان بلوغت تک کے فوٹو ہیں۔ دو ایک تصویریں ایسی ہیں جن میں مزدوروں کے درمیان لینن تقریر کرتے نظر آتے ہیں یہ بہت ہی پر اثر ہیں۔ ایک جگہ پر لینن کا معمولی کوٹ پتلون اور چادر رکھی ہیں جو وہ انڈر گراؤنڈ زمانے میں پہنا کرتے تھے۔ ایک میز، کرسی، دوات، بھی رکھی ہے جس سے لینن اس زمانے میں لکھتے پڑھتے تھے۔
روسی تھیٹر کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ہندوستانی تھیٹر یاد آ جاتے ہیں اور وہ ان کی یاد میں کھو جاتے ہیں۔
لیو ٹالسٹائی کے گاؤں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹالسٹائی کا گاؤں یاسنایا پولیانا ماسکو سے دو سو کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ جیسے جیسے ماسکو سے باہر نکلتے ہیں ویسے ویسے پر طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آتی ہے۔ اور سڑک کے آس پاس بسے گاؤں حسین نظارہ پیش کرتے ہیں۔ وہاں ہر گھر میں پھلوں اور پھولوں والے پودے نظر آتے ہیں۔ اور جیسے جیسے آگے بڑھتے جاتے ہیں گھنے جنگل آتے جاتے ہیں۔ چراگاہوں میں گائے برتی ہوئی دکھائی پڑتی ہیں اور مشینوں سے زمین سینچی جا رہی ہوتی ہے۔ ٹالسٹائی کے گھر میں ایک کمرے میں مختصر سامان پڑا ہے تو دوسرے کمرے میں گاندھی سے ان کی خط و کتابت کی نقلیں آویزاں کی گئی ہیں۔ ٹالسٹائی کا قبر اسی گھر کے لان میں ہے اور اس کی وصیت کے مطابق کچی مٹی سے بنائی گئی ہے۔
آخر میں مصنف نے روس کی معاشی ترقی اور نمائش کا تذکرہ کرتے ہوئے سفرنامے کو ختم کر دیا ہے۔ یہ سفر نامہ مختصر ہونے کے باوجود کئی وجوہات سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ روسی مزاج سے آشنائی کروانے کے ساتھ ساتھ لینن کے حوالے سے بہت ہی مفید معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں اور ساتھ ساتھ تاریخی ورثے کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے اور کئی عظیم ہستیوں جیسا کہ لیو ٹالسٹائی کی نجی زندگی پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔


