لنگوٹ سنبھال کر بھاگتی حکومت
کم حکومتوں کو کسی اعلان کے بعد ایسی بدحواسی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس وقت شہباز شریف کی حکومت کو درپیش ہے۔ دو روز پہلے قومی ایکشن پلان کے تحت قائم ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ’آپریشن عزم استحکام‘ کا اعلان کرنے کے بعد سے یوں لگتا ہے کہ حکومت کمبل سے جان چھڑا نا چاہتی ہے مگر کمبل اسے نہیں چھوڑتا۔ اب وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ یہ کوئی نیا آپریشن نہیں ہو گا بلکہ پہلے سے جاری فوجی کارروائیوں کا تسلسل ہو گا۔
گویا دو روز تک جس فوجی آپریشن پر اپوزیشن پرجوش بیانات دے رہی تھی، خیبر پختون خوا سے اس کے خلاف پریشانی کا اظہار ہو رہا تھا اور صوبائی حکومت اس سے لاتعلقی کا اعلان کر رہی تھی، اب شہباز شریف کے الفاظ میں اس کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے بلکہ عزم استحکام کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کو اس معاملہ میں معلومات فراہم کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے ویژن کا نام ہی ’عزم استحکام‘ ہے۔ یہ کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو گا۔ البتہ ہفتے کے روز جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر مرکزی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں آپریشن ’عزم استحکام‘ کے آغاز کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی قومی مہم کو دوبارہ متحرک اور فعال کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
پہلے اپوزیشن کے احتجاج کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دے کر مسترد کیا گیا اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں کیے گئے فیصلوں کا حوالہ دے کر اپوزیشن کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی۔ لیکن جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی ایک بیان میں اسے ملک کمزور کرنے کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’عزم استحکام درحقیقت عدم استحکام‘ ثابت ہو گا تو ایک ایک کر کے سب سرکاری ترجمان پسپائی اختیار کرتے دکھائی دیے۔ بیساکھیوں کے سہارے چلتی یہ حکومت کسی مرحلے پر مولانا فضل الرحمان کو لالچ دے کر حکومت میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ البتہ یہ بیل ابھی تک منڈھے نہیں چڑھی اور مولانا بدستور جارحانہ موڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ اس بار وزیر اعظم نے عزم استحکام کے نام سے فوجی آپریشن کا نام نہاد حکم دے کر ایسے حالات پیدا کیے کہ اب اسے بھاگنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ لہذا اپنے ہی بیانات کو واپس لے کر اسے غلط فہمی کا نام دیا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا ہے کہ ’اپوزیشن کو اس معاملہ پر اعتماد میں لیا جائے گا۔ ہم کوئی کام مشاورت و مصالحت کے بغیر نہیں کرنا چاہتے۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف کارروائی کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے بلکہ یہ قومی ضرورت ہے‘ ۔ وزیر اعظم ہاؤس نے ایک بیان میں اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نیا بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو گا جس میں آبادیوں کو منتقل کرنے کے لیے کہا جائے بلکہ پہلے سے جاری فوجی آپریشنز میں ہم آہنگی پیدا کر کے انہیں موثر بنایا جائے گا۔ اب وزیر اعظم نے تو صاف الفاظ میں اعلان ہی کر دیا ہے کہ ’عزم استحکام‘ کسی فوجی آپریشن کا نام نہیں ہے بلکہ ملک میں امن و امان کی بحالی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیے ہمارے ویژن کا نام ہے۔ اول تو ایک سیاسی حکومت کو اپنے نام نہاد ’ویژن‘ کا اعلان کرنے کے لیے سکیورٹی اور دہشت گردی کے حوالے سے فیصلے کرنے والی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کو استعمال کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیا وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے ایک ذمہ دار سیاسی لیڈر کی طرح قومی اسمبلی کے اجلاس میں آ کر حال ہی میں انتہا پسندی کے حوالے سے پیدا ہونے والی شدید بے چینی پر اظہار خیال نہیں کیا۔ انہیں ایوان کو یقین دلانا چاہیے تھا کہ حکومت ملک سے دہشت گردی کے علاوہ مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کا مکمل ارادہ رکھتی ہے اور یہ اس کے سیاسی ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔
البتہ شہباز شریف ایسا نہیں کرسکے۔ بلکہ ایپکس کمیٹی کے اعلامیہ پر ہر طرف سے شدید تنقید سامنے آنے کے بعد پسپائی اختیار کرتے ہوئے ’عزم استحکام‘ کو ایک فوجی آپریشن کی بجائے ’سیاسی بیانیہ‘ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ البتہ اس دوران میں حکومت کی اتھارٹی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ شروع میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے اس معاملہ پر ایوان کو اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کیا تھا۔ البتہ اس وقت وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نئے آپریشن کو قومی سلامتی کے لیے اہم قرار دے کر قومی اتفاق رائے کا مشورہ دے رہے تھے۔ اور وزیر قانون نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایپکس کمیٹی کے جس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے، اس میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ بھی موجود تھے اور اتفاق رائے سے نیا فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس لیے اسے سیاسی مسئلہ نہ بنایا جائے۔ البتہ جلد ہی واضح ہو گیا کہ اس معاملہ پر تحریک انصاف تنہا نہیں ہے بلکہ ملک کی کم و بیش سب ہی پارٹیاں اس اعلان پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔ یہ اختلاف دو بنیادوں پر کیا جا رہا تھا۔ ایک یہ کہ اس بارے میں سیاسی اتفاق رائے کیوں پیدا نہیں کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ اس سے پہلے دہشت گردوں کے خاتمہ کے لیے جو آپریشنز کیے گئے ہیں، ان کے نتائج سامنے لائے جائیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ اب ایک نیا آپریشن شروع کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے۔
ایپکس کمیٹی میں ’عزم استحکام آپریشن‘ کے متعلق ہونے والے فیصلہ کے بارے میں اگر وزیر قانون کا بیان درست تھا تو ایک ہی روز بعد وزیر اعظم اس قسم کے کسی فوجی آپریشن کے وجود سے انحراف پر کیوں مجبور ہوئے؟ اس حوالے سے حکومتی طرز عمل نے قومی سلامتی سے متعلق ایک اہم معاملہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور عوام میں امن و امان کے حوالے سے شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بحث اور حکومت کی متضاد بیانی سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ اہم ریاستی امور سرانجام دینے کی ذمہ داری سنبھالنے والے لیڈروں میں یہ معاملات سمجھنے اور ان کے بارے میں درست فیصلے کرنے کی بنیادی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ریاستی ادارے سیاسی لیڈروں کو انگلیوں پر نچاتے ہیں اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے حکومت اسٹیبلشمنٹ کا موڈ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ معاملہ ملک میں سیاسی حکومت کی صلاحیت اور فیصلہ سازی کی اہلیت کے بارے میں سنگین سوالات سامنے لایا ہے۔ اس نقصان کی تلافی مستقبل قریب میں آسانی سے نہیں ہو سکے گی۔
اغلب قیاس یہی ہے کہ جمعہ کو اسلام آباد میں چینی وزیر لیو جیانگ چاؤ کی طرف سے ملک میں سکیورٹی کے حوالے سے جس تشویش کا اظہار کیا تھا، حکومتی اقدام اس کا جواب دینے کی کوشش تھی۔ البتہ لیو چیانگ چاؤ کی تقریر کو اگر پورے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی تو دہشت گردی کے واقعات اور قومی سلامتی کے حوالے سے انہوں نے درحقیقت سیاسی ہم آہنگی، قومی اتفاق رائے پیدا کرنے اور پاکستانیوں کو مل جل کر مسائل حل کرنے کی کوشش کا مشورہ دیا تھا تاکہ سی پیک جیسے منصوبے کسی رکاوٹ اور سیاسی بدمزگی کے بغیر مکمل کیے جا سکیں اور عوام تک اس کے معاشی فوائد پہنچ سکیں۔ البتہ بدحواسی کا شکار حکومت نے ایپکس کمیٹی کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے اپنے تئیں چین کی اس ’تشویش‘ کا جواب دینے کی کوشش کی۔ اور اس تقریر کو پورے سیاق و سباق میں سمجھنے اور حالات کی درستی کے لئے ’عزم‘ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی بین السطور اس کا ذکر ہے اور اب سرکاری ترجمانوں کے بیانات میں بھی یہ واضح ہو رہا ہے کہ ’عزم استحکام‘ آپریشن کا حقیقی مقصد ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے جامع قومی منصوبہ بندی کرنا تھا۔ سوات میں مدین کے مقام پر ایک شخص کو توہین قرآن کے الزام میں ہلاک کرنے اور جلا دینے کے واقعہ سے انتہاپسندی پر قومی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے قومی اسمبلی میں اس صورت حال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنے کی تجویز دی تھی۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ پارلیمانی قراردادیں یا کمیٹیاں اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ ملک میں مذہب کے نام پر جنونی رویوں کے اظہار کی ایسی صورت حال پیدا ہو چکی ہے جو قابو سے باہر ہے۔ مذہبی رہنما ایسے معاملات پر ’دکھ‘ کا اظہار کر بھی دیں تو بھی وہ کسی عملی اقدام پر تیار نہیں ہوتے۔ حکومت بے حد کمزور اور غیر موثر ہے۔ ایسے وقوعہ کے بعد اسے وفاق یا صوبوں کے دائرہ اختیار کا سوال بنا کر اس سے صاف بچ نکلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چند دن میں جب میڈیا کسی ایک واقعہ کے بارے میں بات کرنا بند کردے تو اسے بھلا دیا جاتا ہے۔
گزشتہ روز ہی گجرات کے گاؤں چک چھوڈو میں ایک 14 سالہ بچے نے کسی مذہبی مباحثہ میں بڑی عمر کے ایک آدمی کو چاقو کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا۔ قومی میڈیا مدین سانحہ کے بعد مذہبی انتہا پسندی پر سوالات اٹھا رہا تھا لیکن ایسا سنگین واقعہ ایک چھوٹی سی خبر بن کر رہ گیا۔ میڈیا یا سیاست دانوں نے اس واقعہ کو کوئی اہمیت دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ مذہبی رہنما تو یوں بھی ایسے واقعات کو مرنے والے کا قصور بتا کر خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے تو ایک کم سن بچے کی طرف سے مذہب کے نام پر ایسے بھیانک جرم کا ارتکاب درحقیقت قومی سلامتی میں ڈالے گئے اس شگاف کی کہانی سناتا ہے جسے بند کیے بغیر اس ملک میں امن بحال کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ ’عزم استحکام‘ اگر کسی آپریشن کا نام ہے یا یہ کوئی سیاسی بیانیہ ہے تو اسے بہر صورت مذہبی شدت پسندی کے سنگین رجحان کی روک تھام کے خلاف استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ کام ایپکس کمیٹی میں فیصلہ سازی کی بجائے پارلیمنٹ میں قانون سازی اور انتظامی طور سے سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت اقدامات سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
البتہ اگر سیاسی طور سے کمزور حکومت ایپکس کمیٹی کے پیچھے منہ چھپانے کی کوشش کرے گی اور مذہبی انتہاپسندی اور نفرت انگیزی جیسے مسائل پر توجہ نہیں دی جائے گی تو صورت حال تبدیل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ جس ملک میں ہجوم یا افراد قانون ہاتھ میں لینے میں عار محسوس نہ کریں اور اسے مذہب کا فرمان قرار دے کر جائز قرار دینے کی کوشش کی جائے، وہاں کیسے امن قائم ہو گا اور دہشت گردوں کو کیسے لگام دی جا سکے گی۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو یکساں طور سے جان لینا چاہیے کہ مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی، اسی مذہبی انتہاپسندی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے جس میں ایک 14 سال کا بچہ بے دریغ اپنے گاؤں کے بزرگ پر چاقو سے حملہ آور ہوتا ہے۔


