امتیازی سلوک کی واحد مثبت مثال!


سکرین پر نظر پڑی تو یاد دہانی ضروری سمجھی اور یہ آگاہ کرنا مناسب تھا کہ یہ پروگرام سیریز، گزشتہ چھ سات برسوں سے مسلسل ایک مخصوص موقع پر آن ائر کی جاتی رہی ہے گویا ہر اعتبار سے کلیر ہے، اس لئے اسے پری ویو یا سینسر کے مراحل سے ( مزید ) گزارنا، کہیں وقت کا ضیاع نہ ہو۔ یہ مشاورت اس لئے تھی کہ شاید یہ وقت کسی اور زیر نظر پروگرام پر صرف کیا جاسکتا ہو مگر جواب میں جتایا گیا، ذمہ داری تو ذمہ داری ہے۔ جب دی گئی ہے، نبھانا تو ہے!

آئیے، اس سے پہلے کہ پروگرام کی یہ پریویوئنگ ختم ہو، اسی خاص شخصیت کے حوالے سے احساس ذمہ داری کا احاطہ کرتے چلیں۔

اپنی روایت پسندی کا اظہار، نیک نیتی کے ساتھ ہمیشہ بر ملا کیا اور اس کی پیروی میں اپنے رجحان اور طرزعمل کو کبھی پوشیدہ نہ رکھا۔ تضاد اور اختلاف رائے کی صورت میں یہ پہلو ہمیشہ نمایاں رہا کہ فرد اور ادارے کی بہتری نظروں سے اوجھل نہ ہو۔ امانت، دیانت اور فرض شناسی کی راہ کا جو انتخاب اپنے لیے کیا، اس کے پھیلاؤ کے لئے تلقین ( اور تاکید ) سے کبھی نہ کترائے۔ سدھار کی جس روش کو درست جانا، پورے خلوص اور جذبے سے گردونواح میں موجود سب کو شامل رکھنے کی صرف خواہش ہی نہ کی، اُس کی ترغیب میں کوئی کثر نہ اٹھا رکھی۔

وہ پروفیشنل، جو اپنی تخلیقات کے لئے خوب سے خوب تر کا متلاشی ہو، یہ کس طرح ممکن ہے کہ اپنی پروڈکشنز کے کسی بھی مرحلے میں فوری طور پر مطمئن ہو جائے، سو یہاں اطمینان کی حد، موقع محل پر موجود ( کم و بیش ) اکثریت کی تائید میں پوشیدہ ہوتی۔ اس جستجو ( اور تڑپ ) میں ہر نئی تخلیق کے دوران خود کو ہمیشہ مضطرب رکھا جاتا اور عکس بندی دہرانے (اور دہراتے رہنے کا ) ان تھک سلسلہ پورے جوش و جذبے سے، بالآخر، متفقہ ہی، اختتام پذیر ہوتا۔

اس تمام صورت حال میں یہ اندازہ لگانا بھلا کیوں کر مشکل ہو سکتا ہے کہ ہر عمل اور ہر قدم پر ، بارک بینی کی یہ روش، قرب و جوار میں موجود کتنوں کو خوش رکھ سکتی تھی۔

کام چلاؤ کی عادی خلقت اتنی احتیاط پسندی اور خود احتسابی پر اپنے دیرینہ مزاج سے دست بردار ہونے پر کیوں کر آمادہ ہو سکتی تھی۔ اصلاح کے لئے دی گئی ہدایات اور حکایات پر فوری عمومی ردعمل ( جو اکثر دیرپا بھی ثابت ہوتا ) ، وہ سرکشی، رو گردانی اور حکم عدولی کا ہی ہوتا۔ ”یہ کس زمانے کی بات کرتے ہیں“ ایسی اور اس سے ملتی جلتی دلیلیں، ایسے موقعوں پر ، دل کے بہلانے کو ، ڈھال کے طور پر استعمال ہوتیں۔

بدلتے وقت، بدلتے مزاج اور بدلتے حالات، انسانی شعور کے سامنے نئے سوالات ( اور امکانات ) کو جنم دیتے ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ الجھنیں خود کو خود آشکار کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ نہ سمجھ آنے والی چیزیں کسی پیچیدگی کے بغیر سادہ اور سہل دکھائی دینے لگتی ہیں۔ کل اپنی جس بات پر اصرار تھا، وہ آج شرمندگی اور افسردگی کا انبار دکھائی دیتا ہے۔ ندامت کا احساس قوی تر ہوتا چلا جاتا ہے کہ کسی کی دانائی، دور بینی، اور دانش مندی، تب سر کے اوپر سے کیوں گزر جاتی تھی، دل میں کیوں نہ اتر آتی تھی۔ شعور کی کم سطح پر پہنچنے والے کا دل اور ذہن بھی اقرار جرم کے لئے ہمہ وقت آمادگی پر مائل رہنے لگتا ہے۔ اسی اعتراف کا شاید یہ نتیجہ ہو کہ ایسی صورت حال سے گزرنے والے کے لئے دوران گفتگو، ماضی، حال کا سب سے پسندیدہ موضوع بنتا چلا جاتا ہے۔

جانے کس مٹی کے ہوتے ہوں گے وہ لوگ جو امانت، دیانت اور فرض شناسی کے لئے اپنا امیج تک قربان کر دیں۔ اصول سے وفاداری کی خاطر، مقبول ہونے پر ، تنقید کا نشانہ ہونے کو ترجیح دیں۔ عام ملازمین جنہیں اپنا مہتمم دیکھنے میں کم خوشی محسوس کرتے ہوں اور حقیقت پسندی کی اس سے زیادہ بلندی کیا ہوگی کہ فرائض منصبی کی ادائیگی کا جنون اسے بھی اپنا اعزاز تصور کرے۔ جہاں بھانت بھانت کی آوازیں حقوق ( اور صرف حقوق ) کی گردان کے لئے ہمہ وقت مصروف ہوں، وہاں فرائض کی ( دیانتدارانہ اور مخلصانہ ) ادائیگی کی صدا کب کسی کا دل موہ لے سکتی ہے۔ جو خود دفتری کام کو ، دفتری کام نہیں، دفتر کی طرف سے اپنے پر واجب، کڑی آزمائش گردانتا ہو، اور ہر لمحے اس امتحان سے دوچار ہو کہ کہیں کوئی لغزش سرزد نہ ہو، وہ کس طرح دوسروں کے بے مہار چال چلن اور بے عمل کردار پر خوش رہ سکتا ہے۔

ذمہ داری کے اتنے گہرے احساسات رکھنے والے کو ، ذمہ داری نہ نبھانے پر کیسے قائل کیا جاسکتا تھا، سو پریویوئنگ اسی جذبے اور انہماک سے جاری رہی۔ گویا یہ مشورہ کہ کہیں یہ پریویوئنگ محض وقت کا ضیاع نہ ہو، پوری شدت سے ٹھکرا دیا گیا۔ مشورہ دینے اور مشورہ نہ ماننے، دونوں اطراف اپنی اپنی نوعیت کی مصروفیات جاری رہیں۔ ٹیپ کی ریوائینڈ اور فار ورڈ کی وقفے وقفے سے آنے والی آواز، پریویوئنگ کی سنجیدہ صورت حال واضح کرنے کے لئے کافی تھی۔ ایسے، جیسے، ذمہ دارانہ کردار، ہمیشہ کی طرح ذمہ داری کی نئی کہانی رقم کرنے کا خواہاں ہو۔

زیادہ وقت نہیں گزرا ہو گا کہ مشورہ کنندہ کے کاندھے پر ہلکی سی تھپکی دی گئی۔ اشارے سے اُسے، اُس وی سی آر کی طرف آنے کی دعوت دی گئی جس پر پریویوئنگ کا عمل جاری تھا۔ وی سی آر کو سرچ پر کر کے، سلو موشن میں منظر کو تھوڑا آگے پیچھے کرتے ہوئے ( بہت اعتماد سے ) پوچھا گیا، یہ کیا ہے۔ غور سے دیکھنے پر ، ڈھیروں شرمندگی مقابل تھی کہ ایسے میں پریویوئنگ نہ کرنے کا ( معصومانہ ) مشورہ، ناحق کیوں دیا گیا۔ باریک بینی ( اور اُس سے زیادہ، ذمہ داری ) کی داد دینے کے سوا یہاں اور کوئی چارہ نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ ایک شاٹ کے کچھ فریم ایڈٹ ہونے سے رہ گئے ہیں جس میں کسی مہمان شخصیت کو اسسٹنٹ کی طرف سے کوئی کاغذ دیتے ہوئے، بہ خوبی دیکھا جا سکتا تھا۔

ذمہ داری کی فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پر نمایاں تھی اور کیوں نہ ہو۔ پریویوئنگ سے گریز کا مشورہ کتنا ہی دوستانہ، ہم دردانہ اور کفایت شعارانہ رہا ہو، قبول کر لینے سے ذمہ داری کی ( غیر روایتی ) شکست یقینی تھی اور ایک ایسے ذمہ دار کے لئے جس کی ساری زندگی صرف اور صرف اسی اصول کی پاس داری میں گزری ہو، وہ اس سمجھوتے کے لئے خود کو کس طرح تیار کر پاتا۔

(پی ٹی وی کے نامور پروڈیوسر اور کنٹرولر جناب غفران امتیازی صاحب کا انتقال 25 جون۔ 2019 کے دن ہوا )

Facebook Comments HS