رضا نے ٹھیک کہا تھا؟


ایف سی کالج میں جب پہلے ہی روز ہم کلاس میں اکٹھے ہوئے تو باہم تعارف پر یہ انکشاف ہوا کہ تقریباً سارے دوست ہی ایک یا دو سال ضائع کر چکے تھے اور ڈاکٹر بننے کی ناآسودہ خواہش کے زخم چاٹ رہے تھے۔ کوئی اسی نا آسودگی کے زیر اثر بہت بولتا تھا تو کسی نے مستقل چپ کا روزہ رکھا ہوا تھا۔ کوئی سراپا دانش بنا ہوا تھا تو کوئی تو کوئی ہنسی مذاق میں اپنے اپ کو غرق کر کے غم غلط کیے ہوئے تھا۔

رضا بھی ایک ایسا ہی کردار تھا جو عمر میں تو ہم سے بہت بڑا لگتا ہی تھا لیکن وزن کے لحاظ سے بھی خدا نے اس کو خوب نوازا تھا۔ اکثر و بیشتر ہم اس کا مذاق اڑاتے تو وہ مذاق میں ہم سے بھی کئی ہاتھ آگے نکل جاتا اور ہم بے حد محظوظ ہوتے۔ جب کبھی گفتگو علمی اور فکری۔ کی طرف مڑتی تو اس کا اصل ٹیلنٹ سامنے آتا۔ پھر وہی بولتا تھا اور ہم سنتے تھے اور سنتے چلے جاتے تھے۔

ان دنوں میرا طالبنائزیشن کی طرف بہت رجحان تھا۔ ٹخنوں سے اوپر شلوار اور کافی حد تک مذہب پسندی میری شخصیت کا عمومی خاصہ تھی۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت تازہ تازہ آئی تو انہوں نے بامیان کے بدھا کے مجسموں کو اڑا دیا اور بت شکن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ بن لادن اور اس جیسے تمام تشدد پسند عوامی ایڈوینچرز جو کیے گئے میں ان کا بہت بڑا معترف تھا۔ ایسے ہی کالج کے لان میں چلتے چلتے ایک دن میں نے رضا سے کہہ دیا کہ طالبان نے اسلام کو دنیا میں اس کی حقیقی احترام سے روشناس کروا دیا ہے۔ میں نے تفصیلاً اس کو وہ تمام قابل فخر کارنامے سنائے۔ وہ سنتا رہا سنتا رہا اور آخر میں اس نے صرف ایک جملہ بولا؛ رانجھا صاحب طالبان نے اسلام کو احترام نہی دیا بلکہ اسلام کو بدنام کر دیا ہے۔ اگر آپ سن سکتے ہیں تو میں وضاحت دیتا ہوں۔ اسے خدا جانے کیسے معلوم تھا کہ میں نہیں سن سکوں گا۔

اس ایک جملے سے ہی میرا سارا مان ٹوٹ کر بکھر گیا اور میں جو رضا سے شاباش حاصل کرنے کا منتظر تھا اپنی انا کا بت پاش ہوتے نہ برداشت کر سکا اور معذرت کر کے الگ ہو گیا اور باقی سیشن چاہتے ہوئے بھی اس سے راہ و رسم نہ بڑھا سکا۔ وقت پر لگا کر اڑ گیا اور ہم وقت کے سبک رفتار گھوڑے پر سوار عشروں دور آباد اپنی اپنی دنیاؤں میں جا اترے۔ مگر وہ جملہ، وہ روش پر ہماری واک، اور میرا ردعمل یہ سب ذہن کی تختی پر وہیں نقش ہو کر رک گیا تھا۔ آج اکیس سال بعد بھی وہیں رکا ہوا ہے۔ جس بات کی میں نے دلیل سننا بھی برداشت نہیں کی تھی طالب بھائیوں نے نہ صرف وہ کر دکھایا بلکہ منوا بھی دیا۔

دو دہائیوں بعد انہی یونیورسٹیوں، کالجوں، کی روشوں پر مباحثوں میں ہماری جگہ ہمارے بچے آ گئے ہیں۔ طالبان کی جگہ نئے ہیروز نے لے لی ہے۔ تشدد البتہ وہی ہے اور نوجوان ایندھن بھی وہی ہے۔ تشدد کی وہ آگ اب ہمسائے ملک سے ارض پاک پر منتقل ہو چکی ہے۔ شعلوں کی لپٹیں اب اپنے ہی درو دیوار کو چاٹ رہی ہیں۔ اس آگ کی تپش اور خون کے چھینٹے ہر کسی کو محسوس ہو رہے ہیں۔ مرد و زن، مسلم و غیر مسلم کی تخصیص سے بالا یہ آگ پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔

سروں کو تن سے جدا کرنے کے نعرے عام لگ رہے ہیں۔ اللہ کے مقدس گھروں کے سپیکر سے اک ندا اٹھتی ہے اور نبی رحمت ﷺ کے امتی محلوں کے محلے اجاڑتے، چوکوں اور چوراہوں پر ننگے ادھڑے، ادھ کٹے مسخ شدہ لاشوں کو پیٹ کر اور شعلوں کے سپرد کر کے اپنے تئیں اس مذہب کا بول بالا کر رہے ہیں جس کے معنی سلامتی کے ہیں۔ جس نے باقی دنیا کو احترام، انصاف، انسانی حقوق اور احترام انسانیت کا حقیقی سبق سکھایا۔ مذہب کی حرمت کے نام پر اٹھائی گئی یہ مقدس آگ کی دیوار کسی بھی مروج ضابطہ قانون، اخلاق، اور انصاف حتیٰ کہ جس مذہب کے نام پر اٹھائی گئی اسی کے دائرے سے بھی باہر نکل چکی ہے۔

ریاست بے بس ہے، علماء خاموش ہیں اور عوام پاگل ہجوم بن کر نعرے لگا رہی ہے اور مذہب کو احترام اور اس کا اصلی مقام دلا رہی ہے۔ میں البتہ اسی روش پر رضا کے بولے اس جملے کو دہرانا چاہتا ہوں کہ یہ مذہب کو احترام نہیں دے رہے بلکہ مذہب کو بدنام کر رہے مگر میں یہ نہیں کہہ پا رہا۔ شاید میں کہہ بھی نہیں پاؤں گا کہ وقت کی اس روش پر گامزن یہ سب لوگ میری طرح اپنے اخلاص کے بت کو پاش پاش ہوتے نہیں دیکھ سکیں گے۔ انہیں بھی میری طرح وقت ہی سکھائے گا۔

 

Facebook Comments HS