ڈائینوسس
اپالو اور ڈائینوسس حسن کے دو متضاد کُرے ہیں۔ اپالو تفکر، تعقل، توازن اور ترتیب کا استعارہ ہے ؛ ڈائینوسس جوش، جرات، جذبے اور جنون کی علامت ہے۔ اپالو کا حسن دھیما اور باوقار ہے ؛ ڈائینوسس کا حسن وحشت اور دیوانگی سے لبریز ہے ؛ اپالو کی خوب صورتی آنکھوں میں ٹھنڈک اور دل میں نور پیدا کرتی ہے ؛ ڈائینوسس کی خوب صورتی جلا کر راکھ کر دیتی ہے ؛ اپالو تخلیق کا دیوتا ہے، ڈائنوسس تخریب کی شکتی ہے ؛ اپالو ضبط، میانہ روی اور ڈسپلن کا نمائندہ ہے ؛ ڈائینوسس آزادی اور بغاوت کا ایجنٹ ہے۔ اپالو ڈاونچی، مائیکل اینجلو، غلام عباس اور ٹالسٹائی ہے ؛ ڈائینوسس پکاسو، وان گوگ، ڈینئل ڈے لوئیس اور استاد نصرت فتح علی خان ہے۔
سچ کہوں تو اپالو سے کہیں زیادہ میں ڈائینوسس کا قائل ہوں۔ عناصر کی ترتیب سے زیادہ مجھے ان کی بے ترتیبی اچھی لگتی ہے۔ مجھے وہ حسن زیادہ پُرکشش لگتا ہے جو دھیمے دھیمے اثر کرنے کے بجائے سیدھا حواس پر حملہ آور ہو، جس کا ایک ہی نظارہ آنکھوں کو چندھیا کر رکھ دے، جسے دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر رونے کو جی چاہے، جو آپ پر آسیب بن کر سوار ہو جائے اور آپ کی ریڑھ کی ہڈی توڑ ڈالے۔ مجھے ریاضیاتی اعتبار سے مکمل سانچوں کے بجائے ایسے ادھورے اور بے ہنگم فریمز زیادہ پسند ہیں، جن کی جدت طرازی اور انفرادیت میں ایک چیختی چنگھاڑتی بغاوت مجسم دکھائی دے۔ آپ کو شاید یہ سن کر ہنسی آئے لیکن مجھے مس ورلڈ ایشوریا رائے یا پریانکا چوپڑا کے حسن نے کبھی متاثر نہیں کیا۔ ان کے مقابلے میں رانی مکھرجی، ودیا بالن اور پرینیتی چوپڑا مجھے زیادہ خوب صورت لگتی ہیں۔ مجھے نور محل اور بادشاہی مسجد سے کہیں زیادہ شہرِ ملتان کی فصیل اور دراوڑ فورٹ نے حیران کیا۔ میں نازیہ حسن، علیشاء چنائے اور کشور کمار کا مداح ہوں۔ ایسا نہیں کہ مجھے مہدی حسن، لتا منگیشکر اور محمد رفیع سے کوئی تعصب ہے یا میں ان کی فنکارانہ عظمت کا منکر ہوں، لیکن مجھے ان کے مقابلے میں کے۔ ایل سہگل، شمشاد بیگم، سنیدھی چوہان اور اے۔ آر۔ رحمان کی آواز زیادہ مدھر اور کیچی لگتی ہے۔ میں امرتا شیر گِل اور صادقین کا عاشق ہوں، ایم۔ ایف حسین اور عبدالرحمان چغتائی مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ میں جانتا ہوں کہ ریتھک روشن، سلمان خان، جان ابراہام اور ارجن رامپال قدیم یونانی دیوتاؤں سے مشابہہ ہیں، لیکن مجھے امریش پوری، عرفان خان، سنیل شیٹھی اور سنجے دت ان سے کہیں زیادہ وجیہہ اور ہینڈسم دکھائی دیتے ہیں۔ آپ چاہے مجھے احمق یا بد ذوق کہیں لیکن اِس کا خطاوار میں نہیں، میرے اندر کنڈلی مار کر بیٹھا ہوا ڈائینوسس ہے، جس نے اوائل عمری ہی میں مجھے تسخیر کر لیا تھا۔
میں پہلی بار ڈائینوسس سے کب ملا تھا؟ شاید اپنے بچپن میں، جب وہ ایک فاسٹ باؤلر کی شکل میں میرے سامنے آیا تھا۔ اُن دنوں اُس کا نام وقار یونس ہوا کرتا تھا لیکن وہ خود کو شعیب اختر اور عمران خان کی درمیانی کڑی سمجھتا تھا۔ پھر میں نے اُسے محلہ عزیز آباد کے ایک چھوٹے سے گھر میں سونی کے ٹیپ ریکارڈر پر گاتے سنا اور اس کا نام پوچھا تو اس نے خود کو ایس۔ پی۔ بالا کہہ کر متعارف کروایا۔ اگلی بار وہ ایک افسانہ نگار کی صورت میں ظاہر ہوا۔ دنیا اُسے سعادت حسن منٹو کے نام سے جانتی تھی مگر ’منٹو‘ بننے کے لیے اُسے ’سعادت حسن‘ کو قتل کرنا پڑا۔ ایک دفعہ وہ مجھے ”کبڑا عاشق“ نامی ایک فلم میں دکھائی دیا۔ اس کا نام سعید خان عرف رنگیلا تھا اور وہ اداکار اور ہدایت کار ہی نہیں، مصنف، گلوکار اور موسیقار بھی تھا۔ جب میں ساتویں کلاس میں تھا تو وہ مجھے اپنی ایک کلاس فیلو، مائرہ خان کے روپ میں نظر آیا لیکن اس سے پہلے کہ میں اسے اپنی جانب متوجہ کرتا، اس نے کوئی منتر پھونکا اور میری زبان بند کر دی۔ کئی مرتبہ وہ مجھے نیو ہاؤسنگ کالونی شجاع آباد کے ایک پارک میں بیٹنگ کرتا ہوا ملا۔ اس نے بتایا یہ اس کا دوسرا جنم ہے، پہلے جنم میں اس کا نام ویوین رچرڈز تھا اور تیسرے جنم میں وہ کرس گیل، برینڈن میکولم اور اے۔ بی ڈویلیرز کی تری مورتی بن کر نمودار ہو گا۔
میں نے اسے فلسفے اور فکشن میں جا بہ جا پایا، نطشے اور سارتر بھی وہی تھا اور کنڈیرا اور بورخیس بھی۔ وہ کبھی کسی باغیچے، باغ یا کھیت میں دکھائی نہیں دیا، ہر بار اسے ڈھونڈنے کے لیے کسی جنگل یا ریگستان کا سفر کرنا پڑا۔ وہ دریاؤں اور سمندروں کا شیدائی تھا۔ جب تک ہوائیں ساکت اور لہریں شانت رہتیں وہ اپنے مسکن میں چھپا رہتا، لیکن جونہی ہوائیں رقص کرتیں اور لہریں غراتیں تو وہ کسی درندے کی طرح مجھ پر جھپٹا اور میری ران پر کاٹ لیتا۔ ایک مرتبہ وہ مجھے راحیل فاروق نامی ایک شاعر کے بہروپ میں ملا جسے یہ مغالطہ تھا کہ وہ اپالو ہے لیکن اصل میں وہ ڈائینوسس تھا۔
ڈائینوسس کہیں بھی مل سکتا ہے، کسی بھی جگہ نظر آ سکتا ہے۔ میں نے اسے اپنے کئی دوستوں اور استادوں میں شناخت کیا۔ وہ علامہ اقبال پبلک سکول شجاع آباد کا پرنسپل تھا، وہ ایمرسن کالج میں فزکس کا ایک استاد تھا، وہ نشتر میڈیکل کالج میں میرا ایک سینئر تھا، وہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف ماس کمیونیکشن کی ایک اداس لڑکی تھی، وہ کراچی کا ایک ذہین ٹرانس جینڈر تھا، وہ بہاولپور کا ایک معروف شاعر تھا، وہ فیصل آباد کی ایک گمنام رقاصہ تھی، وہ میرا سب سے چھوٹا ماموں تھا۔ وہ ملتان آرٹس فورم میں خالد سعید، مبشر مہدی، محبوب تابش اور ساحر شفیق کی صورت میں موجود تھا، وہ فکشن کلب بہاولپور میں ضیغم رضا، کاشف بخاری، عاقب قریشی اور درِنجف جہانگیر کی شکل میں زندہ رہا۔
چند ماہ قبل وہ ابوبکر سلطان نامی ایک انیس سالہ لڑکے کا لبادہ اوڑھ کر مجھ سے ملنے آیا اور میں اس کا حسن اور توانائی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ انہی دنوں وہ اسلام آباد سے پیدل چلتا ہوا بہاول پور آیا اور یہاں دو راتیں اور دو دن گزار کر لاہوت لامکاں کی طرف روانہ ہو گیا۔ لوگ کہتے ہیں اس کا نام مدثر عباس ہے، مگر مجھے لگتا ہے وہ ایک ازلی مسافر ہے جو ہزاروں برس قبل زمان و مکان کی حد سے ماورا ہو گیا تھا۔
پچھلے ماہ وہ مجھے کراچی کے ساحلِ پر ملا۔ اب کی بار وہ جیم عباسی نامی ایک ناول نگار کے بھیس میں آیا تھا۔ میں نے اسے بتایا وہ جس بھی روپ میں آئے گا، میں اسے پہچان لوں گا۔
چھ جون دو ہزار چوبیس کی شام کو وہ مجھے ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں ملا۔ وہ بار بار شکلیں بدلتا رہا، لیکن جونہی اس نے ”بیٹوین دا مائل سٹونز“ کے عنوان سے اپنی ایک تحریر سنانا شروع کی، میں نے فوراً اسے شناخت کر لیا۔ وہ زندگی کے مختلف ادوار میں میرا دوست، دشمن، ناصح، استاد، شاگرد اور رقیب رہ چکا تھا۔ وہ چاہتا تو اپالو بھی بن سکتا تھا مگر اس نے ڈائینوسس بننے کا فیصلہ کیا۔ اِس میں کچھ کردار میرا بھی تھا، لیکن سب سے زیادہ کردار اس سریلے بدن والی لڑکی کا تھا، جس نے اِسے اتنی وارفتگی اور شدت سے چوما تھا کہ اس کی کھال جھلس گئی اور پسلیوں کے عقب میں چھپی مقدس دیوانگی باہر آ گئی۔
آخری بار میں نے اسے آٹھ جون کی شام کو اناری ٹاپ پر دیکھا تھا۔ اُس کے دو چہرے، دس آنکھیں اور سینکڑوں ہاتھ تھے۔ وہ ایک عالی شان پہاڑ تھا اور ایک گیارہ سال کا بچہ بھی۔ وہ کوہِ سلیمان تھا جس کی شدت اور جلال نے اس کے حسن کو نویکلا اور منفرد بنا دیا تھا۔ وہ میرا بیٹا ریان تھا، جو اُس کے بے پناہ جمال کی تاب نہ لا کر رو پڑا۔


