قلم یا کیبورڈ – انتخاب کسی ایک کا
اشرف المخلوقات کہلائے جانے والے ہوموسیفین کی ایک خصوصیت ابد سے یہ رہی ہے کہ وہ تاریخ کی کتاب کے کسی بھی باب کے کسی ورق میں مستقل انجماد کا شکار نہیں رہے ہیں۔ اس تاریخی کتاب کے سطور میں بندہ بشر کی ترقی کا رفتار اگرچہ کبھی دھیما تو کبھی تیز رہا ہے مگر سفر البتہ کسی صورت نہیں رکا ہے اور یہی اس کی شاید وہ واحد صفت ہے جو اسے باقی خلق سے بعد میں جا کے ممتاز بنا دیتی ہے۔ ہمارا مدعا چونکہ تعلیمی نوعیت کا ہے لہذا ہم اپنی قلم تعلیم ہی کے مدار کے گرد مجبوراً ہی سہی مگر محدود رکھیں گے۔
قارئین! مسلسل و پیہم سفر میں تعلیم کا اور تعلیمی نظام کا اپنے تمام تر جزئیات کے ساتھ ترقی کے اس تاریخی سفر میں تشکیل و ارتقاء بھی ساتھ چلتا آ رہا ہے لہذا اس سے انکار ممکن نہیں کہ اس میں و قتاً فوقتاً تکثیر و تقصیر کا پہلو نہ پایا جائے پایا جائے۔ ایک وقت تھا کہ جب اس نظام میں ایک طرح کے نظریات رائج تھے مگر پھر وقت کے مسلسل ابدال نے دوسری کروٹ لی اور وہ من حیث الکل یا من حیث الجزء یا تو منسوخ ہوئے اور یا پھر غیر اہم قرار پائے۔ اس مظہر کا یوں ہونا اول تو ارتقاء کے بدلتے تقاضوں کے عین موافق تھا اور ثانی یہ انصاف کا تقاضا بھی تھا۔ مگر صوبہ بلوچستان کے تعلیمی منتظم اعلی جناب صالح محمد ناصر صاحب نے حال ہی میں وائس آف بلوچستان کے زیر سایہ ”سفر معلم“ کے نام سے منعقدہ اساتذہ کی تقریب سے اپنے زریں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انصاف و ارتقاء کے اس تقاضے کو ایک ایسا نقطہ زیر بحث لاکر اس سیمینار کا حصہ بنایا جو میرے خیال میں اس طویل تاریخی ارتقاء کے مظہر کی نفی کر رہا تھا جس کا ذکر ہم کرچکے ہیں۔
موصوف نے مہارتوں کی بابت اپنی تقریر میں فرمایا کہ ”ہمیں دوبارہ اس تختی کے اوپر جانا پڑے گا کہ جس کا استعمال ہم اب ترک کرچکے ہیں“ ۔ مستطیل لکڑی سے بنی تختی کی طرف لوٹنے اور اس کی کھوئی ہوئی وقار کو دور حاضر، کہ جس میں یاران دیار مصنوعی ذہانت کا لبادہ سکول کے بچوں تک کو اوڑھا چکے ہیں، میں دوبارہ بحال کرنے کا کچھ یوں آیا کہ جب باتوں باتوں میں بات بچوں کی ”رائٹنگ اسکلز“ یا لکھنے کی ہنر کو بہتر بنانے پہ آئی۔ یاد رہے کہ موصوف کی طرف سے جو لفظ بار بار دہرایا گیا وہ رائٹنگ نہیں بلکہ رایٹنگ اسکلز ہی کا تھا کہ جس کا کسی مستند تعریف میں تختی یا پھر تختی کے نوع کے کسی بھی دوسری شے سے دور دور کا کوئی سمبندھ تک نہیں، کیونکہ لکھنے کے عمل میں خوشخطی ایک بالکل مختلف چیز ہے اور لکھنے کا ہنر مختلف۔ مثلاً اگر ہم ہنر کی رو سے اس کی تعریف دیکھیں تو وہ یہ ہوگی کہ لکھنے کا ہنر ایک ایسا فن ہے جس میں لکھاری کی بات یا اس کا مقصد بغیر کسی پیچیدگی و ذہن کے الجھاؤ کے قاری کے سمجھ میں آئے۔ اس تعریف کی رو سے لکھنے کا سراسر مقصد قاری کو لکھاری کی کسی لکھی ہوئی بات کا سلیس انداز میں سمجھ آنا ہے اور کچھ بھی نہیں۔
میں یہاں پہ واضح کردوں کہ خاکسار کا تختی سے کوئی ذاتی معاملہ نہیں اگر ہے تو وہ یہ کہ اب تختی کی جگہ اس کے متبادل اوزار نے لے لی اور یہ حالات کے بدلتے اسباق نے ہمیں سکھایا ہے کہ جب کسی چیز کا بہتر متبادل دستیاب ہو جائے تو اسے بروئے کار لاؤ نہ کہ اس کا انکار بصورتِ نہ استعمال کرو۔ میرا ایسا لکھنا صرف ”لکھنے“ کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ اس کے احاطے میں پڑھنا، بولنا، سننا اور سمجھنا بھی بغیر مذکورے شامل ہو جاتے ہیں۔ اب اگر ہم منتظم اعلی صاحب کی تقریر کو یہاں پہ قیاس میں لائیں تو مقصد بالکل فوت ہوجاتا ہے، اور بات کہیں اور نکل جاتی ہے۔ اس واقعہ سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے مقتدرہ حلقے کا وہ طبقہ جس کے ہاتھ میں تعلیم کا کمان دیا گیا ہے وہ تعلیم فہمی اور تعلیم شناسی کے فن سے کتنے آگاہ اور اس کی بہتری کے لئے (انجانے میں ) بدخواہ ہیں۔ اب اس پہ مستزاد یہ کہ یہ بات اگر کسی اور کے دندان سے ہوکے ہمارے کانوں تک رسید ہوتی تو بات اور تھی مگر جب یہی بات ایک حساس شعبے کے منتظم کے سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے ہم تک پہنچے تو بات کی نوعیت یکسر تبدیل ہوجاتی ہے۔
قارئین! جس پیڑھی میں ہم رہ رہے ہیں وہ تبدیلی طلب پیڑھی ہے اس میں اگر ہم انہی ذاتی منجمد تصورات کو اجتماعیت پر لاگو کرتے ہوئے آگے چلیں گے کہ جن کو ہم سینہ در سینہ صدیوں صدیوں سے چلتے آرہے تو ہمارا مستقبل تو تاریک ہو گا ہی ہو گا ساتھ میں ہمارا آج کا ”حال“ بھی کچھ زیادہ اچھا نہ ہو گا۔ لہذا ہمارے مقتدرہ حلقوں کو مزید ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور سمجھ کر اس امر کو ماننا چاہیے کہ تختی مبارک کی جگہ اب ڈیجیٹل ٹیبلٹس لے چکے ہیں، جہاں پہلے اپنے فن میں قلم یکتا تھا وہاں اب کیبورڈ اپنا جلوہ دکھا رہا ہے، سلیٹ انٹراکٹیو ورک بک سے کب کا مات کھا چکا ہے اور ساتھ ہی دیگر تعلیمی برقی آلات بھی اس ضمن میں اب اپنے اپنے حصے کی شمعیں روشن کرنے میں مصروف ہیں، لہذا انہیں اب مزید ناسٹیلجیا کا شکار نہیں رہنا چاہیے اور اس طرف بھی مکمل توجہ دینا چاہیے۔


