7 کچھ تذکرہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک سرمن کا:لندن تا برمنگھم 


عین اِس وقت دریائے آکس کے کنارے آباد شہر آکسفورڈ میں بائیس اپریل دو ہزار چوبیس کی ابر آلود شام اپنی تمام تر رعنائیوں و حشر سامانیوں کے ساتھ پھیلنے کو ہے۔ شہر میں واقع دنیا کی نامی گرامی آکسفورڈ یونیورسٹی کی شارعِ عام پر واک کرتے کرتے ہلکی پھلکی بوندا باندی شروع ہو جاتی ہے تو راہ چلتی مخلوق کے سِر یک دم چھتریوں میں پنہاں ہو جاتے ہیں۔ کچھ لمحے بارش توقف کرتی ہے تو چھتریاں غائب اور چلتے پھرتے سِر نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہاں انسان اور چھتری کا چولی دامن کا ساتھ رہتا ہے۔ اِس دوران میں ٹھنڈی ٹھنڈی یخ بستہ ہوائیں ناک کا قبلہ مروڑ کر کانوں کا مساج کرتے ہوئے گُزر جاتی ہیں تو جسم میں کیرنٹ سا دوڑنے لگتا ہے۔ با خدا، یہ تو ایسا سُرور بھرا  خوابیدہ ماحول ہے کہ ہم جیسے گئے گذرے ذی روح کو نرم گرم لحاف اوڑھنے کی خواہش ستانے لگتی ہے۔ آنکھیں نیم باز کر کے، اور عاشق مزاج جوڑوں میں کسی بار کلب یا ریسٹورنٹ کا رُخ کیرنے کی خواہش انگڑائی لینے لگتی ہے۔ آنکھیں نیم باز کرتے ہوئے ایسے میں چند سرپھرے پڑھاکو بندوں کا ایک کارواں ہے جو یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال (ایل ایم ایچ) کالج میں اُس مقام کی جانب رواں دواں ہے جہاں کچھ ہی دیر میں ‘دی کوئیسٹ فار گاڈ’ یعنی خدا کا تصور کے عنوان پر ایک خصوصی لیکچر شروع ہونے والا ہے۔ ضیاء الدین یوسفزئی، تورپیکئی یوسفزئی، خوشحال خان یوسفزئی، ڈاکٹر حمید شاہ اور برخوردار ولید شاہ سمیت دو اور دوست بھی ہمارے ساتھ اِس کارواں کا حصہ ہیں۔ ہم اسی کالج کی سینئر لیکچرر ڈاکٹر عالیہ خالد کی معیت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ خوشی کی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کا تعلق ہمارے خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور سے ہے۔ ملنسار و خوش گفتار عالیہ بی بی ایک عرصہ یہاں گذارنے کے باوجود خالص پشتو میں بڑی روانی کے ساتھ بات کرتی ہیں، کسی اور زبان کے ٹوٹے لگائے بغیر۔ آپ بین الاقوامی علوم کے ساتھ ساتھ تعلیمِ نسواں سے متعلق برطانیہ اور پاکستان میں کئی منصوبوں کو لیڈ کرتی چلی آ رہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ انتھک محنت اور طویل جدوجہد کے نتیجے میں دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی میں اس عہدہ جلیلہ تک پہنچی ہیں۔

پُر شکوہ بلڈنگ کی دوسری چھت پر واقع ہال میں پہنچ کر ہم نشستیں سنبھال لیتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ کھلا ڈھلا ہال کھچا کھچ بھرنے کو ہے۔ کوئی سو، سوا سو کے قریب نامی گرامی پروفیسرز، فلاسفرز، سرگرم سماجی کارکن، کاروباری شخصیات اور طلباء و طالبات اس محفل میں شریک ہیں لیکن کمال ہے کہ موبائل کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، نہ ہمارے پاکستانی تقریبات کی طرح کوئی بے ہنگم شور شرابہ ہے۔ ہم وقفے وقفے کے ساتھ گردن گھما کر ایک نظر پیچھے کی طرف دوڑا لیتے ہیں، خود سے یہ سوال کیرنے کہ ہال میں سینکڑوں لوگ موجود ہیں تو پھر اتنا ‘مجرمانہ’ سناٹا کیوں ہے؟ تقریب میں کوئی مہمانِ خصوصی ہے، نہ اہم شخصیات کے لئے سٹیج پر بیٹھنے کی کوئی گنجائش۔ یہ لیکچر دنیا کے کئی ممالک میں لائیو نشر ہوگا، بنا بریں ہال میں کئی نشست ایسے لوگوں کے لئے مختص ہیں، جو کیمرے کی آنکھ سے باپردہ رہنا چاہتے ہیں، لو کر لو گل۔

ٹھیک چھ بجتے ہی ایک لڑکا مکمل غیر روایتی انداز میں سٹیج پر آ کر اعلان کرتا ہے۔ "معزز خواتین و حضرات، چند لمحوں میں محترمہ کیرن آرمسٹرانگ، ‘خدا کے تصور’ کے موضوع پر لیکچر دینے والی ہے جو پینتالیس منٹ دورانیہ پر مشتمل ہوگا، آخر میں سوالات و جوابات کا سیشن پندرہ منٹ پر محیط ہوگا۔ ہال کے باہر مہمانوں کی تواضع کے لئے ریفریشمنٹ کا انتظام موجود ہے۔” اعلان ختم ہونے کے ساتھ ہی انتہائی سادہ مگر پُروقار لباس میں ملبوس خاتون مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ نمودار ہو کر مائیک سنبھالتی ہیں، ابتدائی کلمات کے بعد اپنا مختصر تعارف پیش کرتی ہیں اور منتخب موضوع پر بات کی شروعات کرتی ہیں۔ عجب ہے، مذہبی علوم میں برطانیہ کی ایک اتھارٹی، اِس عظیم مصنفہ کا نا کوئی خصوصی استقبال ہوتا ہے نا اُن کی شان میں کوئی خیر کے کلمات ادا کئے جاتے ہیں، نا ان پر کوئی گل پاشی ہوتی ہے اور نا ہی حاضرین کو تالیاں بجانے کے عذاب سے گذارا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی تقریبات میں اگر تالیاں بجانے پر پابندی لگائی جائے تو ماحولیاتی آلودگی میں کافی بہتری ممکن ہے۔

بات ہو رہی تھی کیرن کی، مذاہب کے تقابلی جائزہ کے حوالے سے یورپ کے جن مصنفین کو عالمی شہرت ملی اُن میں، ہمارے سامنے کھڑی سرمن دینے والی اِس خاتون کا مقام سب سے نمایاں ہے۔ وہ دنیائے علم و ادب میں مذہبی روایات اور خدا سے تعلق کا گہرا ادراک رکھنے والی شخصیت کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔ اُن کی تصنیفات کا دنیا کی پینتالیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ خدا کا تصور کسی مخصوص مذہبی عقیدے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ انسانی تجربے کا حاصل ہے۔ مذہبی تجربات اور روحانی لمحات خدا کے وجود کی شناخت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف مذاہب میں خدا کی واحدانیت پر زور دیا گیا ہے، مگر ہر مذہب نے اس تصور کو اپنے طریقے سے بیان کیا ہے۔ واحدانیت ہی انسانی فکر کا اہم پہلو ہے جو مختلف مذاہب میں موجود ہے۔ وہ مذہبی تعصب اور اختلافات کو کم کیرنے پر زور دیتی ہیں، ان کے نزدیک مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک دوسرے کے عقائد اور خدا کے تصورات کو سمجھنے کی کوشش کیرنی چاہئے تاکہ مذہبی ہم آہنگی پیدا ہو۔ وہ مذہبی ہم آہنگی اور مختلف مذاہب کے درمیان مشترکہ اقدار کی تلاش کی حامی بھی ہیں، خواہاں بھی۔ ان کا خیال ہے کہ خدا کے بارے میں مختلف تصورات کو سمجھنے سے تمام مذاہب کے درمیان بہتر افہام و تفہیم اور امن قائم ہو سکتا ہے۔ مذاہب کے بارے میں میڈم کی تحریریں اور خیالات گہری بصیرت فراہم کرتی ہیں۔ اُن کی کتابیں مذہبی مطالعات اور خدا کے تصور کے ارتقاء پر ایک اہم حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔ اُن کا فرمانا ہے کہ خدا کو ڈھونڈنا ہو تو کائنات کے تنوع میں گھوم پھر کر ڈھونڈ۔ پھولوں کی خوش بو سونگھ کر ڈھونڈ۔ آبشار کے سُرور بھرے شور میں ڈوب کر ڈھونڈ۔ پرندوں کی چہچہاہٹ میں چہک چہک کر ڈھونڈ۔ خاموش سمندر  کے ساحلوں میں سو کر ڈھونڈ، رباب کی جھنکار اور شام کے خمار میں گم ہو کر ڈھونڈ۔

لیکچر کے آخر میں میڈم عالیہ، خوشحال خان یوسفزئی اور ڈاکٹر حمید شاہ نے دلچسپ سوالات کیے۔ لابی میں ریفریشمنٹ کے دوران کیرن آرم سٹرانگ لوگوں میں گھل مل گئیں، دیر تک گپ شپ کی اور تصاویر اُتاریں۔ اِسی طرح یہ معلوماتی اور دل چسپ نشست اپنے اختتام کو پہنچی تو شام کے سائے گہرے ہونے کو نہ تھے کیوں کہ یہاں تو ان دنوں سورج کی روشنی ‘عشاء تک دراز’ ہوتی ہے۔ یہاں تو اِن دنوں سورج شام کی سرحد پار کر کے عشاء کی سرحد میں گُھس جاتا ہے جب کہ رات چار پانچ گھنٹوں تک سکڑ جاتی ہے۔

ہمارے محدود علم میں اضافہ ہوا، یہ جان کر ، کہ پرانے زمانے میں رومیوں کا وقت کے منیجمنٹ کے سلسلے میں سیدھا سادہ طریقہ رائج تھا۔ دن کی روشنی بارہ گھنٹوں میں تقسیم ہوتی تھی، روشنی زیادہ تو گھنٹے لمبے اور روشنی کم تو گھنٹے چھوٹے۔ اس نظام نے روشنی سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد بھی دی اور وقت کے متعلق کسی کنفیوژن سے بھی چھٹکارہ دلایا۔ جدید وقت کا نظام موسمی تبدیلی سے بے نیاز ہے۔ اب ہر گھنٹہ ساٹھ منٹ کا ہوتا ہے، موسم کوئی بھی ہو اور روشنی کی مقدار جو بھی ہو، یہ معیاری نظام اب دنیا بھر میں یکساں طور پر مستعمل ہے، جو عالمی رابطے، سفر اور تجارت کو آسان بناتا ہے۔ ہم بات کر رہے تھے آکسفورڈ میں لیکچر کی اور یہ بتانا ہی بھول گئے کہ ہماری میزبان مہربان ڈاکٹر عالیہ صاحبہ نے یونیورسٹی کے طول و عرض میں ہمیں گھمایا پھرایا اور  کئی حوالوں سے زرخیز معلومات فراہم کیں۔ سرفہرست یونیورسٹیوں میں ایک عرصہ سے پہلے نمبر پر فائز یہ یونیورسٹی دنیا کے مستقبل کو بدلنے والی جدید ترین تحقیق کا مرکز ہے، دنیا کو بدلنے والی یہ یونیورسٹی کوئی ساڑھی آٹھ صدیاں قبل یعنی 1163ء میں بنی جب کہ برصغیر میں پہلی یونی ورسٹی اٹھارہ سو ستاون میں کلکتہ میں بنی یعنی صرف ایک سو ستاسٹھ سال قبل، اور پورے برصغیر کے طلباء  انٹرنس کا امتحان دینے  کلکتہ جاتے تھے۔

اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی دنیا کا اکلوتا دارالعلوم ہے جہاں تمام علوم کی راہداریاں آپس میں ملتی ہیں۔ یہ دنیا کی تمام یونیورسٹیوں کے علم کا قبلہ ہے۔ جہاں انسان کے اندر جرأت، ہمت، حوصلہ اور خود اعتمادی کا بیج پروان چڑھتا ہے۔ لگ بھگ چالیس کالجز پر منحصر اس دارالعلوم میں پندرہ سو لیبارٹریز، سو لائیبریریز اور کئی عجائب گھر موجود ہیں جن سے تمام طلباء استفادہ کر سکتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی شہرہ آفاق بوڈیلین لائبریری دنیا بھر کی سب سے بڑی لائبریری جانی جاتی ہے جہاں مطالعے کے اوقات میں ایسی پِن ڈراپ خاموشی ہوتی ہے کہ کوئی کتاب کا ورق پلٹاتے ہوئے بھی ارتعاش پیدا نہیں ہونے دیتا۔ دنیا کی چیدہ چیدہ ہزاروں شخصیات نے یہاں سے تعلیم حاصل کی۔ پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور عمران خان کے علاوہ کئی اور اہم شخصیات یہاں کے طالب علم رہے ہیں۔

دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے بھی اِس یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کی ڈگری حاصل کی ہے۔ دنیا بھر میں مصروف تین لاکھ سے زیادہ آکسفورڈ گریجویٹس ایک دوسرے کے ساتھ منسلک رہتے ہیں۔ وہ نئے طلباء کی مقدور بھر رہنمائی اور یونیورسٹی کی مالی معاونت بھی کرتے ہیں۔ یہاں پتہ چلا کہ کیمبرج یونیورسٹی بھی آکسفورڈ کے بطن سے نکلی ہے۔ ہوا یوں کہ 1209ء میں یہاں کے مقامی شہریوں اور طلباء کے درمیان ایک تنازعہ کھڑا ہوا، اِس دوران ایک خاتون کی موت واقع ہو گئی جس کا کئی اساتذہ اور طلباء کے ذہنوں پر شدید اثر ہوا۔ اُنہوں نے آکسفورڈ چھوڑنے کا فیصلہ کیا، کیمبرج شہر کی طرف روانہ ہوئے اور وہی تعلیمی سرگرمیاں شروع کیں جس سے سن بارہ سو اکتیس میں کیمبرج یونی ورسٹی کی بنیاد پڑی۔ آکسفورڈ اور کیمبرج دونوں پہلی یونیورسٹیاں بنیں، پھر شہر بنے اور آج کل دونوں کا آپس میں صحت مندانہ تعلیمی و ثقافتی مقابلہ جاری ہے جو ‘آکس بریج’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کالج کی عمارت سے باہر نکل کر کیا دیکھتے ہیں کہ مطلع صاف ہو چکا ہے  اور زندگی  کی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے۔

سفر پہ نکلو، ورنہ تم نسل پرست بن کے رہ جاؤ گے
اور تم اسی ایمان و گمان کے دائرے میں مقید رہو گے
کہ گویا صرف اور صرف تمہاری چمڑی کا رنگ ہی حق ہے
اور یہ کہ بس تمہاری ہی زبان رومانوی ہے،
اور یہ کہ بس تم ہی اولین تھے اور تم ہی اول رہو گے۔
سفر پر نکلو
کیوں کہ اگر تم سفر نہیں کرتے
تو تمہارے خیالات کو مضبوطی
نصیب نہیں ہو سکے گی
(اٹالین شاعر گایو آیون کے کچھ مصرعوں کا اردو مفہوم)
(سفر ابھی جاری ہے )

Facebook Comments HS

2 thoughts on “7 کچھ تذکرہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک سرمن کا:لندن تا برمنگھم 

  • 28/06/2024 at 4:40 شام
    Permalink

    Great 👍 Stay blessed Dear Khan G brother.

    • 28/06/2024 at 5:44 شام
      Permalink

      Thanks Malgari. All the best

Comments are closed.