یونس ادیب کا شہر لاہور
وہ کتاب پڑھنے سے پہلے مجھے پرانے شہر سے زیادہ آشنائی نہیں تھا۔ گو کہ میں پرانے شہر میں کئی بار جا چکا تھا۔ وہاں جانا مجھے اچھا بھی لگتا تھا۔ لیکن میں پرانے شہر کو جانتا نہیں تھا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ اجنبی زبان میں موسیقی سن کر اسے پسند کرنے لگیں۔ لیکن ایسا کیوں؟ شاید ہمارا ایک نامعلوم شے سے لاشعوری واسطہ قائم ہو جاتا ہے۔ بس ہم اس تعلق کو زبان نہیں دے پاتے۔ جس کے لیے ہمیں ایک رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہی کام اس کتاب نے کیا۔ جسے پڑھنے سے پہلے میں پرانے شہر کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ میں کبھی دوستوں کے ساتھ، کبھی تنہا قدیم دروازوں سے پرانے شہر میں داخل ہو چکا تھا۔ کبھی کسی کام سے، کبھی بس یوں ہی۔ یا اس لیے کے وہ رستے میں آن پڑا۔ ایک بار میں ایک دوست کے ساتھ دہلی دروازے سے پرانے شہر میں داخل ہوا۔ مہر داس کلچے والے کی دکان پر ناشتہ کیا۔ اس کے بعد جیدے کی لسی پی۔ پرانے شہر کی تاریک، پیچیدہ گلیوں میں کئی گھنٹے گمنام، گمشدہ پھرتے رہے۔
ایک دفعہ کچھ کزنوں کے ساتھ بادشاہی مسجد سے انارکلی جانے کا پروگرام بنا۔ میں ان کا رہنما تھا لیکن اناڑی۔ میں اپنے تخمینے کے مطابق انہیں لیے جا رہا تھا۔ میرا یہ خیال تھا کہ فوڈ سٹریٹ والے روڈ سے دائیں طرف مڑتے ہوئے ہم انارکلی کے سامنے لوہاری گیٹ سے نکل آئیں گے۔ لیکن پرانے شہر کی گلیوں نے ہم سے وہ داؤ پیچ کھیلے کہ ہم وزیر خان مسجد کے پاس سے گزرتے ہوئے اکبری منڈی میں نکلے۔
پھر مجھے پرانے شہر جانے کا چسکا سا پڑ گیا۔ موقع دیکھ کر میں پرانے شہر کے کسی بھی دروازے کے باہر اکیلا پہنچ جاتا۔ کبھی بھاٹی گیٹ سے داخل ہوا۔ ایک تنگ بازار سے گزرتا ہوا بادشاہی مسجد کے پاس نکلا۔ رستے میں زیادہ کھانے پینے کی دکانیں اور بڑی بڑی حویلیاں تھیں۔ کبھی لوہاری گیٹ سے اندر آیا اور دائیں جانب شالمی کی طرف مڑ گیا۔ جہاں ضروریات زندگی کی قریبا ہر چیز کے بازار تھے۔ ایک بار ٹکسالی گیٹ سے اندر داخل ہوا تو لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھنے لگے۔ ایک شخص نے تو میرا تعاقب بھی شروع کر دیا۔ ایسا سٹپٹایا کہ عارف چٹخارہ تک جا کر کہیں سانس بحال ہوئی۔
یوں پرانے شہر سے میری بنیادی جان پہچان تو ہو گئی۔ لیکن میں اس کے رمز، اس کے فسوں سے ہنوز ناواقف تھا۔ مجھے پرانے شہر کا محل وقوع سمجھ آ گیا تھا۔ لیکن ہم کسی کا سراپا دیکھ کر اس کے کردار کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔ سو مجھے پرانے شہر کی روح میں اترنا تھا۔ اس کا ماضی، اس کا ریت رواج سمجھنا تھا۔ اس کے لوگوں کا ڈھنگ، عمارتوں کا آہنگ اور بازاروں کا مزاج پرکھنا تھا۔ المختصر میں پرانے شہر کو دور سے دیکھ رہا تھا اور میرے لیے یہ ایک اجنبی تھا۔ ایک ایسا اجنبی جس سے کوئی راہ رسم پیدا کرنا چاہے۔ اور اس میں اسے دشواری کا سامنا ہو۔
پھر میں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا۔ کتاب کا نام تھا ”میرا شہر لاہور“ از یونس ادیب۔ مجھے معلوم ہوا کہ یونس ادیب کے آبا و اجداد کئی نسلوں سے پرانے شہر میں آباد تھے۔ یونس ادیب نے ساری عمر ان دروازوں میں محصور گلی، کوچوں، کریوں میں گزار دی۔ ہر دروازے سے ان کی جدا وابستگی تھی۔ ہر بازار سے گزرے ہوئے تھے۔ ہر اونچ نیچ کے عینی شاہد تھے۔ تہواروں، میلوں اور عرسوں میں شرکت کرتے تھے۔ بہت سی حویلیوں میں ان کا آنا جانا تھا۔ تھڑوں، حماموں اور مزاروں پر ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ یہاں تک کہ قیام پاکستان کے وقت شہر کے سیاسی بٹوارے کے بھی چشم دید گواہ تھے۔ المختصر وہ پرانے شہر کے مثالی نباض تھے۔ وہی رہنما جس کی مجھے تلاش تھی۔
کتاب پڑھنے کے بعد میرا پرانے شہر کو دیکھنے کا زاویہ ہی بدل گیا۔ ایک روز میں کشمیری گیٹ سے پرانے شہر میں داخل ہوا۔ خواتین کے بے ہنگم بازار میں میں نے گلی کابلی مل کو تلاش کیا۔ جہاں یونس ادیب کا آبائی گھر تھا۔ معلوم نہیں کہ تب وہ گھر وہاں موجود تھا یا نہیں۔ اگر ہوا بھی تو میں اسے ڈھونڈ نہ پاتا۔ کمرشل ازم کی یلغار میں وہ کہیں دبک کر بیٹھا ہو گا۔ اور کپڑوں، زیور اور جوتوں کی دکانوں کی بھیڑ میں مجھے قلم کے اس سپاہی کے بارے میں کسی سے پوچھنا بھی مناسب نہیں لگا۔ مبادا وہ مجھے گھورنے لگے کہ میں کس سیارے کی مخلوق ہوں۔ لیکن کم از کم میں نے اس گلی میں اپنا نقش پا ثبت کر دیا جس سے یونس ادیب گزرتے ہوں گے۔
اب میں پرانے شہر کو اجنبی محسوس نہیں کر رہا تھا۔ گو کہ میرے لیے اس کے باسی، دکاندار اور گاہک اجنبی ہی تھے۔ مگر اب میں پرانے شہر کی عظمت رفتہ، حال کا ردھم اور مستقبل کی پیش قدمی کو سمجھ گیا تھا۔ اب میرے اعتماد کا گراف بھی بڑھ گیا تھا۔ میں اوروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ اس کے ظاہر سے منسلک تھے۔ اور میں اس کے باطن سے واقف تھا۔ وہ ان گلی کوچوں کے باسی تھے۔ اور وہ گلی محلے میرے اندر گھر کر گئے تھے۔ اب میں پورے وثوق سے یونس ادیب کے شہر کو اپنا شہر کہہ سکتا تھا۔
اب میں پرانے شہر سے اچھی طرح واقف ہو چکا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ مجھے احساس ہوا کہ اب یہ وہ شہر نہیں جیسا یونس ادیب کے دور میں تھا۔ اب یہ یونس ادیب کا شہر نہیں تھا! پھر یہ کس کا شہر تھا؟ اب یہ بڑھتی آبادی، آلودگی اور شور شرابے کا شہر تھا۔ اب یہ شہر وہ شہر نہیں تھا۔ وہ شہر مر چکا تھا۔ اس کے جسد سے روح کوچ کر گئی تھی۔ اور اس کی جگہ کسی بے کل، بے بس اور بے قابو وجود نے لے لی تھی۔ اب یہ لاہور نہیں تھا!
میں سوچتا ہوں کہ کاش میں وہ کتاب نہ پڑھتا! کاش میں پرانے شہر کا واقف حال نہ ہوتا۔ اور کاش میں یونس ادیب کے بارے میں بھی نہ جانتا۔ تب میں پرانے شہر میں ایک گمنام کی طرح گھومتا رہتا۔ تب پرانا شہر میرے لیے اجنبی ہی رہتا۔ اور تب میں یہی سمجھتا کہ لاہور، لاہور ہے!


