مزاحیہ اداکار ،گلوکار اور موسیقار خالد نظامی
pic
مجھے 20 جون کو پیارے دوست خالد نظامی کی بیٹی نے کراچی سے اطلاع دی کہ وہ اسپتال میں ہے۔ پھر گاہے بہ گاہے معلومات کا تبادلہ ہوتا رہا۔ طبیعت قدرے بہتر ہوئی اور وہ اپنے بیٹے شاہد کے ہاں منتقل ہو گئے۔ بہرحال گرنے کی وجہ سے سر میں چوٹ آئی لیکن اللہ نے کرم کیا کہ کوئی بہت زیادہ گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ ڈاکٹروں نے سر کی پیچیدہ سرجری کے بجائے دواؤں سے علاج کا بتلایا ہے اور عرصہ چھ ماہ میں امید ہے مکمل آرام آ جائے۔ حکومت، ادارے، انجمنیں وغیرہ فنکاروں کو اُن کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ میں اپنی اور نگار ویکلی کی جانب سے اپنے الفاظ، جملوں اور تحریر کی صورت خالد نظامی کو دل کی گہرائیوں سے اُن کی اسٹیج، ٹیلی وژن، فلم اور موسیقی کے میدانوں میں ان تھک محنت، اور لگن سے کام کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ دعا گو ہوں کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ فن کی دنیا میں آئیں!
خالد نظامی ایک مکمل فنکار:
خالد نظامی کو کون نہیں جانتا؟ وہ بیک وقت اسٹیج، ٹی وی اور فلمی اداکار، گلوکار اور موسیقار ہیں۔ اُس کو پاکستان ٹیلی وژن کے پہلے فیملی کامیڈی ڈرامے ’شہزوری‘ کے مزاحیہ اداکار ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ مجھے چونکہ موسیقی سے شغف ہے لہٰذا جب بھی خالد نظامی سے رابطہ ہوا ہماری بات موسیقی پر ہی ہوئی۔ خالد نظامی کی کہانی 1970 سے شروع ہوتی ہے جب اُس نے ون مین شو / اسٹینڈ اپ کامیڈی سے آغاز کیا۔ ڈانس ڈائریکٹر اور کامیڈین ماسٹر یعقوب سے باقاعدہ ردھم سیکھا۔ یہیں سے اسٹیج ڈرامہ ’بُدھو کہیں کا‘ میں کام کر نے کا موقع ملا۔ اِس ڈرامے میں اُس کے ساتھ جمشید انصاری بھی تھا۔ اُس وقت خالد کو معلوم نہیں تھا کہ وہ ٹیلی وژن پر بھی اداکاری کرتا ہے۔
میرا خالد نظامی سے 80 کی دہائی میں بہت زیادہ ملنا جلنا تھا۔ ٹیلی وژن ڈراموں میں اس کا نام منجھے ہوئے کامیڈین میں آتا تھا۔ کراچی اسٹیج میں یہ بہت مقبول تھا۔ اپنے کردار کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے وہ سب کچھ کر گزرتا۔ ڈرامہ پروڈیوسر قیصر فاروق اور شاہد اقبال پاشا صاحبان کے ساتھ ڈرامہ پروڈیوس کرتے ہوئے اُس کی ذہانت کا میں خود گواہ ہوں۔ ایک ڈرامے میں پھیری والے کا مزاحیہ کردار تھا جس کو ادا کرنا کوئی ایسا مشکل کام نہیں تھا۔ ریہرسل کے دوران اُس نے کہا کہ مجھے گھنٹہ بھر کی رخصت دو میں صدر اور پیر الٰہی بخش کالونی کا چکر لگا آؤں۔ پوچھا خیریت؟ جواب ملا ”ذرا پھیری والوں کی صداؤں اور ان کی جسمانی حرکات کا جائزہ لے آؤں“ ۔ ایسی کئی ایک مثالیں ہیں۔ میں نے خالد نظامی کو ہر لحاظ سے مکمل فنکار پایا۔ اگرچہ میں ڈرامے کا ماہر نہیں لیکن اپنے مشاہدے اور محسن علی، شہزاد خلیل، بختیار احمد، شعیب منصور، ظہیر خان، قیصر فاروق، حیدر امام رضوی، شاہد اقبال پاشا، سلطانہ صدیقی جیسے نامور پروڈیوسروں کی معاونت اور ان کے کام کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہ پیارا دوست کسی بھی طور ’ٹائپ اداکار‘ نہیں! یہ اداکاری میں ’لہجے‘ لے کر آیا۔ اداکار قوی خان نے اس سلسلے میں اُس کی تعریف اور ہمت افزائی کی۔
خالد نظامی کا فنکار گھرانا:
اُس نے ایک مرتبہ مجھے بتایا : ”میری والدہ، رشیدہ نظامی مصنفہ تھیں۔ اُنہوں نے 14 کتابیں لکھیں۔ 50 کی دہائی میں روزنامہ جنگ میں ان کی تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ اُن کی چند کتابیں : ’چوبارے‘ ، ’چہرہ مہرہ‘ اور ’کمندیں‘ خاصی مشہور ہیں۔ والد، رشید نظامی 1933 میں بمبئی میں بننے والی فلم ’چندر ریکھا‘ میں ہیرو آئے۔ میرا بڑا بیٹا شاہد نظامی فری لانس رائٹر، ایکٹر اور ڈی او پی ہے۔ اُس نے انجلینا ملک کا ڈرامہ ’کتنی گرہیں باقی ہیں‘ اور اُنہی کی ’کورٹ روم‘ سیریز کی ہے۔ دوسرا بیٹا راحیل نظامی ساؤنڈ انجینئیر ہے اور اس کا اپنا اسٹوڈیو اور موسیقی کا گروپ ’ڈومینیٹر‘ ہے۔ یہ بھی ایکٹر، رائٹر اور ڈائریکٹر ہے۔ خرم نظامی چھوٹا بیٹا ہے۔ یہ ڈائریکٹر، ساکت عکاس اور رائٹر ہے۔ 14 اگست سے متعلق اس نے ٹیلی فلم ’جھنڈے والا چوک‘ لکھی جس کو شاہد نظامی نے ڈائریکٹ کیا۔ ایک ٹیلی فلم ’سانس‘ بھی کی جس میں اداکار شفیع محمد نے اپنی زندگی کا آخری کام کیا۔ اِس میں پروین اکبر بھی تھی۔ میری بیگم نسرین نظامی ڈرامہ رائٹر ہیں جن کے ’جیو‘ سے ڈرامہ سیریل، ’گندی گلی‘ اور ’منجدھار‘ نشر ہو چکے ہیں۔ ڈرامہ ’کرن‘ کو خرم نظامی اور میری بیگم نسرین نظامی نے مل کر لکھا۔ جیو کہانی ہی میں ’ستم‘ بھی آن ائر ہوا جسے نسرین نظامی نے لکھا۔ میری بیٹی سطوت نظامی ایک پروڈکشن ہاؤس میں رائٹر پروڈیوسر ہے۔ پروڈکشن کے دوران یہ سیٹ ڈیزائنر کا بھی کام کر لیتی ہے۔ پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے ایک پرانے منجھے ہوئے سیٹ ڈیزائنر قیصر عباس نے اِس کے کام کی تعریف کی ہے“ ۔
خالد نظامی کا پاکستان ٹیلی وژن میں آنا:
وہ پاکستان ٹیلی وژن میں کیسے آئے؟ اس سوال پر انہوں نے بتایا : ”محسن علی بھائی نے ’آج کا انتخاب‘ ڈرامہ سیریز کرنا تھی۔ پہلی کہانی میں دو جڑواں مالک اور دو جڑواں نوکر ہوتے ہیں۔ ایک مالک شرارتی اور ایک شریف اور نوکر بھی ایک شرارتی اور ایک شریف۔ گویا دونوں کے ڈبل رول! مالک کا کردار جمشید انصاری کر رہے تھے۔ محسن بھائی نے کہا کہ کوئی ایسا آرٹسٹ ڈھونڈو جو نوکر کے کردار میں چلے۔ میں اُس زمانے میں نواب کیفی کا اسٹیج پلے ’بدھو کہیں کا‘ جمشید کے ساتھ کر رہا تھا۔ محسن بھائی وہ دیکھنے آئے۔ دیکھنے کے بعد کہا کہ آپ ٹی وی نہیں آتے؟ میں نے کہا آپ بلاتے ہی نہیں۔ ہنسنے لگے اور کہا کہ آپ کل آ جائیے۔ تو یوں میں نے ’آج کا انتخاب‘ میں اولین ٹی وی ڈرامہ ’غلط در غلط‘ کیا۔ ٹی وی پر آمد ایک مشکل ڈبل رول سے ہوئی۔ مجھے ٹی وی پر لانے کا سہرا جمشید انصاری کے سر ہے۔ اِس سیریل میں، میں وا حد اداکار تھا جِس نے پانچ اقساط میں کام کیا۔ پھر ’شہزوری‘ کیا جو میرا اور حسینہ معین دونوں کا پہلا سلسلہ وار ڈرامہ تھا۔ پھر سلسلہ چل نکلا۔ اس کے بعد 1971 میں بچوں کے لئے ڈرامہ
’ کھیل کھیل میں‘ اداکاری کی۔ ’ساتھی‘ قاسم جلالی کا بچوں کے لئے ایک سلسلہ وار ڈرامہ تھا۔ پھر ’سائبان‘ جِس میں طلعت اقبال اور سنبل ہیرو ہیروئن تھے۔ اِس کے بعد مشہورِ زمانہ ’انکل عرفی‘ کیا۔ اِس میں میرے ساتھ جمشید انصاری کا بھی کامیڈی کردار تھا۔ عوام میں یہ کردار بہت مقبول ہوا۔ میں نے سوچا میرا رشید بھائی کا کردار اتنا زیادہ مقبول نہیں جا رہا لہٰذا خود ہی کہانی سے نکل گیا تا کہ جمشید انصاری کو کھل کر کام کرنے کا موقع ملے۔ اس طرح میری گاڑی چل پڑی۔ شکیل، نیلو فر علیم، میں ( خالد نظامی ) ، محمد یوسف، محمود علی، قاضی واجد، جمشید انصاری وغیرہ کی یہ پوری ٹیم پاکستان ٹیلی وژن کے خوش قسمت تاریخ ساز لوگ ہیں۔ ہم سب اور حسینہ معین کا یہ پہلا ڈرامہ تھا جو ملکی تاریخ کا پہلا فیملی کامیڈی پلے ہے۔ میرا کردار آفاق بھائی کا تھا۔ مجھے اس کردار سے بے حد پبلسٹی / مشہوری نصیب ہوئی۔ آج کل جو لوگ کام کر رہے ہیں یہ دور اُنہیں کہاں نصیب! میں اُس کھیپ کا سینیئر فنکار ہوں۔ معین اختر کو میرے پاس پاکستان میوزک ہاؤس والے محمد یوسف لے کر آئے تھے۔ میں نے معین کو اسٹیج پر متعارف کروایا۔ پھر پی ٹی وی میں پروگرام ’سنڈے کے سنڈے‘ میں لایا۔ میں نے ہی اسی پروگرام میں عالمگیر کو متعارف کروایا۔ پروگرام ’سنڈے کے سنڈے‘ ( 1972 ) میرا لکھا ہوا اور میرا شو تھا ”۔
ایک اہم بات:
ایک اہم بات کی جانب اشارہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا: ”لوگ کہہ رہے ہیں ٹی وی پر پہلے جیسا کام نہیں ہو تا۔ کام اب بھی ہو رہا ہے۔ پچھلے دور میں لوگ پہلی قسط سے ڈرامہ دیکھتے تھے۔ سمجھ میں آتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ اچھا بھی لگتا تھا۔ اُس وقت کہنے کو ایک پی ٹی وی چینل تھا لیکن اصل میں وہ پانچ چینل تھے۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد اور پشاور۔ اگر 10 ڈرامے نشر ہوتے تو ان میں سے صرف 3 ہی مقبول ہوتے۔ 7 اچھے نہیں مانے جاتے تھے۔ اب 100 ڈرامے ہوتے ہیں ان میں سے 30 اچھے اور 70 کم اچھے ہوتے ہیں۔ تناسب وہی پر انا ہے“ ۔
تُم سنگ نیناں لاگے۔ :
مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں نے خالد نظامی سے پہلی ملاقات میں ”تُم سنگ نیناں لاگے۔ “ کے بارے میں پوچھا:
” خالد نظامی اس گیت کی مقبولیت کا کیا راز تھا؟“ ۔
تو اُس نے جواب میں کہا تھا: ”عارفین سے میری پرانی دوستی تھی۔ میں اکثر دھنیں بناتا اور اُس کو بھی سناتا۔ جب وہ ٹی وی پروڈیوسر بنا تو اُس نے مجھے بلوایا کہ کوئی اچھی دھن بناؤ، ریکارڈ کرواتے ہیں۔ میری دھنوں کی تمام استھایاں / مکھڑے میرے لکھے ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مکھڑا اُسے پسند تھا : ’تم سنگ نیناں لاگے لاگے نا ہی جیا را، پیا پیا بولے پیا من کا پپیہا را‘ ۔ اِس گیت کی استھائی بھی میری لکھی ہوئی ہے۔ انترے لکھنے کے لئے عارفین نے اسد محمد خان صاحب کو بلوایا۔ میں نے مکھڑا گا کر سنایا۔ کہنے لگے کہ بھئی ’لاگے‘ یہاں دو مرتبہ مہمل ہے، دوسرے لاگے کی جگہ ’مانے‘ کر دیا جس سے بول کے تسلسل اور گیت کے بہاؤ کا مزہ جاتا رہا۔ بہر حال اسد صاحب نے اُدھر انترے لکھے اِدھر میں نے اُن کی دھن بنائی۔ عارفین اور اسد صاحبان نے او کے کر دیا۔ اس کے بعد میں ریڈیو پاکستان کراچی گیا او ر سینئر میوزیشن محبوب اور اشرف صاحبان کو کہا کہ فلاں فلاں میوزیشن کو لے کر فلاں دن میری ریکارڈنگ کے لئے آ جائیں۔ وہ سب لوگ میری بات کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے کہ شوق میں ایک دھن بنا لی ہے۔ کہنے لگے کہ“ فکر نہیں کرو، ہم لوگ اِس دھن کی تہذیب کر لیں گے ”۔ پھر میں نے ریہرسل کے دوران اُنہیں بتایا کہ اِس گیت کا ارینجر اور کمپوزر میں ہی ہوں۔ یہ گیت درباری میں E۔ Minor سے ہے۔ ردھم کی چال سنگل کہروا ہے۔ پھر خود ہارمونیم بجا کر میوزیشنز کو ریہرسل کروائی تو وہ سب حیران رہ گئے۔ ستار، گٹار اور وائلن والوں کو اُن کے پیس اور کاؤنٹر خود یاد کروائے۔ عارفین نے یہ گیت ’فلر‘ کے طور پر بہت چلوایا۔ یوں یہ پورے ملک میں مشہور ہو گیا“ ۔
” اِس کی کمپوزیشن پر بعض احباب نے اعتراض کیا کہ بھارتی فلم“ جب جب پھول کھلے ” ( 1965 ) میں موسیقار بھائیوں کلیان جی آنند جی کی موسیقی میں لتا کی آواز میں گیت نگار آنند بخشی کے گیت“ یہ سماں، سماں ہے یہ پیار کا، کسی کے انتظار کا۔ ”کی نقل کی گئی ہے۔ حالاں کہ دونوں گیتوں میں محض“ اسکیل ”اور راگ کی مماثلت ہے۔ اِس طرح تو پھر میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ مالا کی آواز میں سہیل رعنا کی موسیقی میں مسرور انور کا لکھا فلم“ دوراہا ” ( 1967 ) کا گیت“ کوئی میرے دِل میں دھیرے دھیرے آ کے نندیا چرائے ”کا اسکیل بھارتی گیت“ جیا، لے گیو جی مورا سانوریا ”سے مماثل ہے“ ۔
اب میں ( شاہد لطیف) یہاں ایک مِثال دیتا ہوں۔ فلم ”سنگدل“ ( 1952 ) میں دلیپ کمار پر فلمایا ہوا طلعت محمود کی آواز میں راجندر کرشن کا لکھا گیت ”یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی۔“ موسیقار سجاد حسین نے کمپوز کیا۔ اسی میٹر میں موسیقار مدن موہن نے فلم ”آخری داؤ“ ( 1958 ) میں محمد رفیع کی آواز میں مجروح سلطان پوری کا گیت : ”تجھے کیا سناؤں میں دلربا۔“ کمپوز کیا۔ لہٰذا میری رائے کے مطابق خالد نظامی ہوں، کلیان جی آنند جی ہوں، سجاد حسین ہوں، مدن موہن یا سہیل رعنا جب بھی راگ کو بنیاد بنا کر کمپوزیشن کی جائے گی تو اُس کے اسکیل میں مماثلت ہوجاتی ہے۔
خالد نظامی نے میرے لئے دھنیں بنائیں :
پی ٹی وی میں شعبہ پروگرام میں آنے سے پہلے ہی مجھے علم تھا کہ روبینہ بدر کی آواز میں اسد محمد خان کا لکھا گیت ”تم سنگ نیناں لاگے“ کا موسیقار خالد نظامی ہے۔ ایک دِن ٹی وی کی کینٹین میں اسے پکڑ لیا اور اپنے موسیقی کے پروگرام ”آواز و انداز“ کے لئے نغمات کمپوز کرانے کا اقرار بھی کروا لیا۔ اُنہیں بتایا کہ گلوکار خالد وحید کو سامنے رکھ کر کام شروع کریں۔ خالد نظامی کے پاس کئی ایک دھنیں استھائی /مکھڑے کی صورت تیار رہتی تھیں اور وہ مجھے سناتا رہتا تھا۔ پہلے گیت کا مکھڑا یہ تھا : ”تیرا میرا کیا بندھن ہے، راہی تو اکیلا ہے۔“ ۔ اسی طرح کے چار گیت منتخب ہوئے۔ اُسی وقت گیت نگار محمد ناصر بھی پروڈیوسر سلطانہ صدیقی کے کمرے میں آ موجود ہوئے لہٰذا طے پایا کہ ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں“ یوں چاروں گیت ریکارڈ وقت میں موزوں ہو گئے۔ پروگرام کی آ ڈیو ریکارڈنگ کے لئے میرے کہنے پر پہلا گیت ’تیرا میرا کیا بندھن ہے۔ ‘ صدا بندی کے لئے تیار ہوا۔ میں نے پہلی دفعہ وائلن کے کاؤنٹر سے گیت شروع ہوتے دیکھا۔ کیا عجب کمپوزیشن تھی جو مجھے آج بھی ازبر ہے۔ اتفاق سے احمد رشدی بھی وہاں آ گئے۔ خالد نظامی کے لئے یہ بیشک ایک بڑا اعزاز ہے کہ احمد بھائی نے اُس کے کمپوز کیے ہوئے گیت کو پسند کیا اور گانے کی خواہش کی۔ صد افسوس کہ ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہ گیت صدا بند نہ ہو سکے۔ البتہ ’تیرا میرا کیا بندھن ہے۔ ‘ آج تک میرے دل پر نقش ہے۔
کیا خالد نظامی واقعی موسیقار ہیں :
خالد نظامی کے بارے میں یہ تنقید کی جاتی ہے کہ اگر وہ واقعی موسیقار ہوتے تو ان کے اور گیت بھی منظرِ عام پر آتے۔ اُنہوں نے مزید گیت کیوں ریکارڈ نہیں کروائے؟ اِس تنقید کا اُس نے یوں دفاع کیا :
” 1977 میں ای ایم آئی، گراموفون کمپنی آف پاکستان، لاہور اسٹوڈیو میں، میں نے گلوکار اے نیر کی آواز میں تین گیت ریکارڈ کروائے۔ ٹیلی وژن پروڈیوسر ساحرہ کاظمی کو نئے گانوں کی تلاش تھی وہ یہاں کے چیف ساؤنڈ ریکارڈسٹ آصف صاحب کے پاس نئے گیتوں کی تلاش میں آئیں۔ مختلف موسیقاروں کے گیت سن کر جب اے نیر کے گیت سُنے تو وہ پسند آئے۔ پوچھا کہ کون موسیقار ہے؟ میرا نام سن کر حیران ہوئیں اور تینوں گیت لے گئیں اور نیر کو بلوا کر وی ٹی آر کروا لیا۔ اُن میں سے ایک گیت : ’میں ہوں انجانا راہی پیار کا۔ ‘ کو پی ٹی وی کی جانب سے سال کے بہترین گیت کا ایوارڈ اور گلوکار کو 15,000 ہزار روپے نقد انعام مِلا“ ۔
میں نے پوچھا ”اور تُم کو کیا ملا؟“
” تم بہت ہنساتے ہو۔ ہی ہی ہی۔ اپنی مخصوص ہنسی ہنس کر کہا۔ کچھ نہیں! “ ۔
خالد نظامی نے اپنی موسیقی کے بارے میں مزید بتایا : ”میں نے لاہور میں 30 کے قریب گیت کمپوز اور ارینج کیے۔ لیکن جیسی مقبولیت میرے پہلے گیت ’تم سنگ نیناں لاگے۔ ‘ ۔ کو حاصل ہوئی ویسی کسی کونہ مل سکی۔ اصل میں میرے یہ گیت ’فلر‘ نہیں تھے نا!“ ۔
” اگر تم سے کہا جائے کہ ’تم سنگ نیناں لاگے۔ ‘ قسم کی کوئی چیز بناؤ تو۔“
میری بات کاٹتے ہوئے فوراً جواب دیا: ”بالکل بناؤں گا۔ میرے پاس ایسی بہت سی چیزیں ہیں۔ مجھے پوچھیں تو سہی! ارے مولانا! تم بھی جانتے ہو کہ مجھے کوئی بلاتا ہے تو میں شوق سے جاتا ہوں۔ پی ٹی وی والوں نے بھی بلایا تھا تو میں گیا تھا۔ مجھے کمپوزیشن کا شروع سے شوق ہے۔ مدن موہن، سلیل چوہدری، ایس ڈی برمن، آر ڈی برمن، رَوی، او پی نیر وغیرہ کو سن کر ہی میں نے سیکھا۔ لہٰذا مجھ میں وہی رنگ آ گیا۔ ’تم سنگ نینا لاگے۔ ‘ یہاں کا پاکستانی اسٹائل نہیں تھا۔ یہ گیت اب پھر ریکارڈ ہوا ہے۔ شبنم مجید نے گایا ہے۔ ان لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ تکلفاً ہی سہی، کم از کم پوچھ ہی لیتے! یا پھر نام ہی لے لیتے کہ یہ خالد نظامی کی کمپوزیشن ہے۔ یہ گھٹیا حرکت ہے“ ۔
خالد نظامی کا اشارہ اُن کے اسی گیت کا فلم ’8969‘ میں راحیل فیاض کی آواز میں گانا اور دوسرا گلوکارہ شبنم مجید کی آواز میں 57 / B Studio کی طرف سے جاری کردہ ہے۔ یہ یو ٹیوب پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
خالد نظامی کا کہنا تھا : ”ہاں! تقریباً دس سال پہلے صدف منیر نے مجھ سے پوچھا تھا کہ روبن جون کی موسیقی میں یہ ری ریکارڈ ہوا ہے۔ مجھے اس کا بعد میں علم ہوا کہ یہ آپ کی کمپوزیشن ہے۔ اب ’تم سنگ نیناں لاگے۔ ‘ کو انگریزی اسٹائل میں بیڑا غرق کر کے فلم میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ تو ہماری ثقافت کے اسٹائل کا گیت تھا۔ اس کا یہ حشر!“ ۔
” اسد محمد خان نے بھی اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ گیت ’تم سنگ نیناں لاگے۔ ‘ کے موسیقار عارفین ہیں۔ اُس فلر میں عارفین نے موسیقار میں میرا نام ہی نہیں دیا تھا! مولانا! تم جیسے گنتی کے لوگ ہی جانتے تھے کہ یہ گیت خالد نظامی کی کمپوزیشن ہے۔ لوگوں کو بہت بعد میں علم ہوا کہ اصل کمپوزر کون ہے۔ بعد میں، میں نے اپنے انٹرویوز میں بھی بتایا“ ۔ (واضح ہو کہ اب یو ٹیوب پر اصل پی ٹی وی ریکارڈنگ میں موسیقی خالد نظامی لکھا آتا ہے ) ۔
” اس وقت بھی میرے پاس اپنی 18 سے زیادہ کمپوزیشنز بنی ہوئی ہیں۔ میرے گانے تھیم سونگ میں بھی فٹ ہوتے ہیں اور وہ پورے پورے گانے بھی ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے ایسے گانے بھی ہیں جو پی ٹی وی لاہور سے ایک ایک بار چلے۔ انہیں اے نیر، شمسہ کنول، مجیب عالم، غلام علی، مہناز وغیرہ کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ میں سچویشن پر بھی نیا گانا بنا سکتا ہوں“ ۔
بارات گزر گئی جاناں :
” کوئی ٹی وی چینل سنجیدہ ہو، معقول بجٹ ہو تو غزل گیت کے پروگرام کو اسپانسر شپ ملنا کوئی مشکل نہیں ہے“ ۔ یہ کہتے ہوئے خالد نظامی نے گٹار اٹھایا ور پروین شاکر کا یہ گیت سنایا:
سندر کومل سپنوں کی بارات گزر گئی جاناں
دھوپ آنکھوں تک آ پہنچی ہے رات گزر گئی جاناں
” میں نے یہ گیت مجیب عالم سے گوایا تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ معین اختر مجیب عالم اور میں شو کرنے ملتان گئے۔ میرا، مجیب عالم اور معین اختر کا چوبیس گھنٹوں کا ساتھ تھا۔ وہاں علم ہوا کہ ریڈیو پاکستان کراچی کے عقیل اشرف صاحب یہاں کے ریجنل ڈائریکٹر لگے ہوئے ہیں۔ کیا کمال آدمی تھے۔ اب وہ ہیوسٹن میں ہیں۔ بہر حال وہ بہت خوش ہوئے۔ مجیب سے کہا کہ یہاں کچھ گانے ریکارڈ کروا دو۔ مجھے کہا ایک گانا تم بناؤ ایک دو یہاں کے کمپوزر سے بنواتا ہوں وہ بھی خوش ہو جائیں گے کہ اتنے بڑے گلوکار کو گوایا۔ میں
نے اُن کی ٹیبل پر پروین شاکر کا کلام پڑا ہوا دیکھا۔ اُس کو کھولا تو جو صفحہ سامنے آیا اُس پر یہ گیت لکھا ہوا تھا: ’سندر کومل سپنوں کی بارات گزر گئی جاناں۔ ‘ ۔ میں نے وہیں بیٹھ کر گانا بنایا، مجیب نے یاد کیا۔ وہیں اندر جا کر ریکارڈ ہوا۔ ریڈیو پاکستان ملتان کے میوزیشن یہ گانا کر کے خوش ہوئے۔ کہنے لگے یہ اسٹائل ہم نے آج تک نہیں سنا ” ( واقعی یہ کمپوزیشن موتیوں میں پرونے والی ہے اور میرے پاس خالد نظامی کی آواز میں گٹار کے ساتھ محفوظ ہے ) ۔
اخلاق احمد کو گلوکار بنوانا :
” کچھ اخلاق احمد کے بارے میں بھی گفتگو ہو جائے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” اخلاق بھی میرا پرانا ساتھی تھا۔ اُس زمانے میں آرٹ سرکل ہوا کرتے تھے۔ جیسے ’جوبلی آرٹ سرکل‘ ، ’نغمہ آرٹ سرکل‘ ، ’رم جھم آرٹ سرکل‘ وغیرہ۔ ایک ’بزمِ سنگیت‘ بھی تھی۔ اس میں استاد حبیب خان المعروف بیبے خان گارڈن والے تھے۔ جمال اکبر بھی یہاں گا تا تھا۔ میں جمال کے ساتھ وہاں چلا گیا۔ اخلاق یہاں بینجو بجاتا تھا ”۔
” کیا شوقیہ؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” نہیں! یہ وہاں با قاعدہ اُس گروپ میں بینجو نواز تھا۔ پہلے وہ سب کے ساتھ بینجو بجاتا پھر وہ محمد رفیع کے گانے بینجو بجا کر گاتا۔ ہم نے کچھ پروگرام ایک ساتھ کیے تو میں نے اس سے کہا کہ تم اچھے خاصے خوش شکل آدمی ہو اور گاتے بھی اچھا ہو۔ بینجو بجانا ہے تو بجاؤ لیکن گاتے ہوئے اس کو چھوڑ کر گلوکاروں کی طرح کھڑے ہو کر گاؤ۔ جیسے ہی بینجو چھوڑا یہ فنکشنوں میں ہِٹ ہو گیا۔ دو چیزیں اہم ہیں۔ ایک آپ کی محنت دوسری آپ کا نصیب۔ میں نے گوروں سے ایک بات سیکھی کہ نصیب آدمی خود بناتا ہے۔ اخلاق نے بھاگ دوڑ کی۔ کہیں ایسی جگہ گانا سنایا جہاں اثر و رسوخ والے لوگ بیٹھے تھے۔ یوں اسے اچھے مواقع مل گئے۔ پھر قسمت اسے روبن گھوش کے پاس لے گئی۔ فلم ’چاہت‘ ( 1974 ) میں اختر یوسف کے گیت ’ساون آئے ساون جائے۔ ‘ نے اخلاق کو سپر ہٹ کرا دیا۔ پھر وہ بڑا گلوکار بن گیا“ ۔
” تمہاری کہانی میں آخر ریڈیو کا ذکر کیوں نہیں آیا؟“ ۔ میں نے خالد نظامی سے پوچھا۔
اُس نے ہنستے ہوئے کہنا شروع کیا : ”ٹی وی میں کام کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی کے ایک نامور ڈرامہ پروڈیوسر نے مجھے ریڈیائی ڈرامے میں ایک کر دار کے لئے بلوایا۔ میں نے ریکارڈنگ میں حصہ بھی لیا لیکن مجھے پتا چل گیا کہ میں یہاں نہیں چل سکتا لہٰذا وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ میرے نزدیک دنیا کا مشکل ترین کام ریڈیو پر صدا کاری ہے۔ ویسے میں نے ریڈیو پاکستان لاہور میں بھی کمپوزیشنز کی ہیں۔ اے نیر نے مجھے کہا کہ ایک پروگرام آیا ہے۔ ریڈیو کے لئے کام کرو۔ اُس پروگرام میں، میں نے مہدی حسن، پرویز مہدی، فریدہ خانم، مہناز اور بہت سے دوسرے گلوکاروں کو گوایا ”۔
مقبول گیت میں موسیقار کی اہمیت:
” احمد رشدی اور سلیم رضا فلم کے اچھے گلو کار تھے لیکن ان کو صحیح کمپوزر نہیں ملے۔ کمپوزیشن ہِٹ ہوتی ہے سنگر ہٹ نہیں ہوتا! میں نے ملی نغمہ بھی کمپوز کیا: ’یہ وطن میرا وطن ایمان والوں کا وطن۔ ‘ اسے محمد افراہیم نے گایا تھا۔ کشور اور رفیع اچھے گلوکار تو تھے ہی لیکن ان کو کمپوزر بھی اچھے ملے۔ مدن موہن، سلیل چوہدری، ایس ڈی برمن، روی، آر ڈی برمن، کلیان جی آنند جی، لکشمی کانت پیارے لال، شنکر جے کشن وغیرہ۔ لتا، کشور اور رفیع کی جو کمپوزیشنز اچھی تھیں وہی چلیں۔ اچھا کمپوزر ہو تو کمزور سنگر بھی ہٹ ہو جاتا ہے۔ کریم شہاب الدین اور روبن گھوش اچھے کمپوزر اور میوزک ڈائریکٹر تھے“ ۔
فلموں میں جانے کی کہانی :
” پی ٹی وی کے ڈرامے“ ممی ”میں، میں میمن میوزک ڈائریکٹر بنا تھا۔ میرا یہ کردار ہٹ ہو گیا۔ اسی ڈرامہ میں غلام محی الدین پہلی مرتبہ ہیرو آیا تھا۔ یہ ’منٹو راما‘ کا ڈرامہ تھا۔ اس میں میری اداکاری دیکھ کر فلم ڈائریکٹر منور رشید نے مجھے پکڑ لیا کہ لاہور چل کر فلم کرو۔ ’پیار کا موسم‘ میری پہلی فلم تھی۔ یہ کامیڈی فلم تھی۔ میرا پہلا شاٹ عظیم کامیڈین منور ظریف صاحب کے ساتھ ہوا۔ اُنہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ اِس فلم میں لہری اور ننھا بھی تھے۔ میرا کردار میمن سیٹھ کا تھا“ ۔
” منور ظریف کے ساتھ سین فلم بند کرنے کے بعد اُن کا کیا رد عمل آیا؟“ ۔
” انہوں نے گرم جوشی سے گلے لگایا۔ اب اُس جیسے فنکار پیدا نہیں ہو سکتے۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے کہ کراچی کے تمام آرٹسٹ بہت اچھے ہیں لیکن میں کراچی کے کامیڈی ڈراموں میں تم ہی کو پسند کرتا ہوں۔ منور ظریف فی البدیہہ، برمحل اور برجستہ جملے بولنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اُن کے ساتھ میں بھی فی البدیہہ بولا۔ سین کے بعد وہ بہت خوش ہوئے اور کہا مزہ آیا“ ۔
” اِس کے بعد پرویز ملک صاحب نے مجھ سے فلم ’پہچان‘ میں کام لیا۔ یہ فلم سُپر ہٹ گئی۔ اِس فلم کی شوٹنگ کے دوران مجھے ندیم صاحب نے کہا کہ نذر الاسلام سے کیوں نہیں ملتے؟ وہ خود مجھے نذر الاسلام صاحب کے پاس لے کر گئے۔ انہوں نے مجھے اپنی فلم ’حقیقت‘ میں کردار دیا۔ اِس کے علاوہ ’کوشش‘ ، ’خوش نصیب‘ ، ’بیوی ہو تو ایسی‘ میں بھی اداکاری کی۔ پھر لاہور کی فلمی دنیا میں غیر پیشہ ور لوگ آ گئے اور معیاری فلمیں بننا کم ہو گئیں لہٰذا میں بھی کراچی آ گیا۔ میں نے یہاں کی فلموں میں بھی کام کیا“ ۔
فلم کا تجربہ:
” تم کو فلم میں کام کرنا کیسا لگا؟“
” فلم کا تجربہ بہت اچھا لگا۔ لاہور میں تین چار ڈائریکٹر تھے جن کو معلوم تھا کہ فلم کیسے بنتی ہے۔ وہ پرویز ملک، نذر الاسلام اور منور رشید ( فلم ’نئی لیلیٰ نیا مجنوں‘ والے ) تھے۔ اُس وقت بہت کام ہو رہا تھا۔ میں 1974 میں فلموں میں گیا تھا۔ منور رشید کے بعد پرویز ملک اور ایم اے رشید، اور دوسرے ہدایت کاروں نے بھی کاسٹ کیا۔ نذر الاسلام کی فلم“ حقیقت ”میں، میں وحید مراد کے ساتھ تھا۔ فلم“ درد ”میں اقبال اختر نے کاسٹ کیا۔ میں نے“ کوشش ”،“ شرمیلی ”،“ ملن ”،“ اچھے میاں ”وغیرہ میں بھی کام کیا۔ لاہور میں میری آخری فلم“ زنجیر ”تھی۔“ ۔
” یا شیخ ویزا بھیج“ :
خالد نظامی کی ٹیلی وژن اور کراچی میں دوبارہ آمد خوشگوار ثابت ہوئی:
” یہاں میں نے“ ان کہی ”میں کام کیا۔ اِسی زمانے میں معین اختر آدم جی ہال میں تھیٹر کر رہا تھا۔ رزاق راجو اُن کی ٹیم کا ایک ذہین ڈائریکٹر اور کامیڈین تھا۔ ایک ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی تھی جِس میں عمر شریف نے بھی اداکاری کرنا تھی۔ کسی وجہ سے وہ پہلے روز نہ آ سکا۔ مجھے رزاق راجو نے کہا کہ عمر شریف کے مکالمے بول لو تا کہ ریہرسل ٹھیک ہو۔ دوسرے روز پھر یہی کہانی ہوئی اور عمر شریف نہیں آیا۔ تیسرے روز بھی جب عمر شریف نہیں آیا تو میں نے اُس کے مکالمے باقاعدہ اداکاری کے ساتھ ادا کیے۔ اِس طرح سات ریہرسلوں میں عمر شریف نہیں آیا۔ میں نے اُس کے مکالمے بول کر باقی اداکاروں کی ریہرسل کروائی۔ شو سے ایک رات قبل رزاق راجو میرے گھر آیا اور کہا کہ عمر شریف نے آنے سے معذرت کر لی ہے۔ اب تم نے اُس کا کردار ادا کرنا ہے۔ ڈرامے کا نام تھا ’یا شیخ ویزہ بھیج‘ ۔ اُس دور میں ڈرامہ ٹیم میں لاہور سے ایک بڑا اداکار لازمی ہو تا تھا۔ ہمارے شو میں اورنگ زیب لغاری تھے۔ پہلا ہی شو ہاؤس پیک رہا۔ ہم نے 15 شو کیے۔ تمام ہاؤس فُل۔ ہمارے ڈرامے کے فوراً بعد ڈرامہ ’فرق صاف ظاہر ہے‘ اسی ہال میں پیش کیا گیا۔ اِس ڈرامے میں لاہور کے ادا کار شجاعت ہاشمی تھے۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ ڈرامہ ہمارے ڈرامے سے کہیں زیادہ
کامیاب ہو گا اور ’فرق صاف ظاہر ہو جائے گا‘ ۔ مگر جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے؟ ان کی ٹیم کا پہلا ہی شو فلاپ گیا۔ اپنے باقی کے 14 شو ہم کو دے دیے۔ یوں پھر سے ’یا شیخ ویزہ بھیج‘ پیش کیا گیا۔ اورنگ زیب لغاری کی جگہ وہ کردار شجاعت ہاشمی نے ادا کیا۔ اِس ڈرامے کے تمام 29 شو ہاؤس پیک گئے ”۔
اسٹیج کی کمپیرنگ میں تبدیلی:
” کراچی اسٹیج کی کمپیرنگ بھی میں نے بدلی۔ پہلے ’آج کی رات‘ سے شروعات ہوتی تھیں۔ میں نے کامیڈی اور بات چیت شروع کی۔ پھر ایک گلوکار کو بلا لیا۔ اس نے تین چار گانے گائے پھر میں نے دو ایک لطیفے سنائے۔ ہلا گلا کیا پھر ایک گلوکار کو بلا لیا۔ یہ اسٹائل میں نے دیا۔ باقیوں نے مجھ سے سیکھا۔ معین کو میوزک کی سمجھ تھی اس لئے اچھا آرٹسٹ تھا۔ امریکہ میں پروموٹر کَنّو بھائی چَو و َان نے راحت فتح علی خان کے پروگرام کی کمپیرنگ مجھ سے کروائی۔ یہ شو نیو یارک میں ہوا۔ تین ہزار افراد کا ہال تھا۔ جب تک بڑے آرٹسٹ نہ ہوں امریکہ میں پانچ سو آدمی اکٹھے کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ اُس پروگرام میں بارہ سو آدمی واپس ہوئے۔ کیسے علم ہوا؟ فائر ڈپارٹمنٹ والوں نے بتایا۔ وہاں گنجائش سے زیادہ ایک آدمی اندر نہیں جا سکتا۔ پروگرام کے بعد ایک اور پروموٹر شرما جی بھی آ گئے۔ باتوں باتوں میں، میں نے کہا کہ آپ کے شو میں اگر پاکستانی نہ آئیں تو شو فلاپ ہو جائے۔ وہ سب کہنے لگے خالد نظامی صحیح کہہ رہا ہے۔ بھارتی شو میں ہزار میں سے چھ سو پاکستانی ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستانی شو آپ لوگ دیکھنے نہیں آتے۔ کہنے لگے ہم مہدی حسن، غلام علی کے علاوہ کسی پاکستانی فنکار کو جانتے ہی نہیں۔ صرف ان ہی کو دیکھنے آتے ہیں۔ بلکہ ان شو میں اکثریت بھارتیوں کی آتی ہے“ ۔
موسیقی کو شروع سے دبا دیا گیا:
” اس وقت بننے والی فلمیں، ٹی وی ڈرامے اور موسیقی کس طرف جا رہے ہیں؟“
” فلمیں اور ٹی وی ڈرامے بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ پہلے فلمی دنیا اور ٹیلی وژن پروڈکشن میں پڑھے لکھے لوگ نہیں تھے۔ اس وقت 100 فی صد ہیں۔ کیمرہ مین، ڈائریکٹر، ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر، تکنیکی ماہرین، اداکار، معاون اداکار وغیرہ سب پڑھے لکھے ہیں۔ رہی موسیقی! تو ہمارے ہاں میوزک کو شروع سے دبا دیا گیا ہے“ ۔
اداکار میں موسیقی کی سمجھ بوجھ:
” جس اداکار کو موسیقی کی سمجھ نہیں وہ ادھورا ہے۔ اس وقت یہاں جتنے اداکار کام کر رہے ہیں سب ’بے تالے‘ ہیں۔ ردھم کے اندر تالی نہیں دے سکتے، ردھم میں یہ لوگ ناچ نہیں سکتے، چل نہیں سکتے۔ بھارتی ایکٹروں کے اندر میوزک بھرا ہوا ہے۔ جس کو میوزک کی الف بے معلوم ہے وہی سمجھ دار ہے۔ منور ظریف تو گانے بجانے کی غضب کی سمجھ رکھتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی ظریف نے تو پنجابی فلموں میں گانے بھی گائے ہیں“ ۔
جونی لیور اور خالد نظامی:
میں نے پچھلی ملاقات میں خالد نظامی کی بیٹھک میں بہت سی تصاویر دیوار پر آویزاں دیکھیں۔ ان میں بھارتی کامیڈین جونی لیور کے ساتھ ان کی ایکشن کی تصویر سے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا: ”جونی لیور اور دیگر بھارتی اداکار امریکہ میں مجھ سے ملے تو انہوں نے میری بڑی عزت کی۔ جونی ایک جگہ میرے ساتھ کاسٹ بھی ہوئے۔ میں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں قادر خان کے چار شو کیے۔ بہت مزہ آیا“ ۔
پونا فلم اکیڈمی اور خالد نظامی:
” اداکاری اور پروڈکشن سکھانے کے لئے پونا فلم اکیڈمی میں پاکستان ٹیلی وژن کے ڈرامے رکھے ہوئے ہیں۔ باقی اداکاروں کے ایک ایک دو دو اور میرے چار ڈرامے ہیں۔ ’انکل عرفی‘ ، ’ان کہی‘ ، ’شہزوری‘ اور ’سائبان‘ ۔ ان کو دیکھ کر وہاں کے طلباء سیکھتے ہیں“ ۔
ٹی وی پر اداکاری:
ماضی قریب کے ٹی وی ڈراموں، جیسے ہم ٹی وی کے لئے روبینہ اشرف کا ’میں ماں نہیں بننا چاہتی‘ میں خالد نظامی کا جعلی پیر کا منفی کردار تھا۔ ہم ٹی وی سے ہی مہرین جبار کی ایک ٹیلی فلم ’ہم آ گئے‘ میں اِن کے ساتھ مرینہ خان اور حنا دلپذیر تھیں۔
ہم ٹی وی سے ’محبوب آپ کے قدموں میں‘ اور اے پلس سے ’مالا میر‘ بھی مقبول ہوئے۔
” تم پر پِیر کے کردار کی چھاپ کیوں لگ گئی؟“ ۔ میں نے ایک ملاقات میں اُس سے پوچھا۔
” یہ محض اتفاق ہے! ہم ٹی وی کے ڈرامے ’میں ماں نہیں بننا چاہتی‘ میں، میں نے ایک جعلی پیر کا کردار ادا کیا۔ اُس کے ڈائریکٹر فرقان تھے۔ اب پھر ہم ٹی وی سے فرقان کے ڈرامے میں پیر کا کردار نکلا تو انہوں نے کہا کہ خالد نظامی نے پہلے بھی پیر کا کردار اچھا کیا تھا لہٰذا اس میں بھی مجھے ہی بلوایا گیا۔ مجھے داڑھی لگانے کو کہا گیا۔ میں نے کہا کہ نقلی میں مزا نہیں آئے گا۔ کہنے لگے پھر؟ میں نے کہا داڑھی بڑھانے کے لئے ایک مہینہ دو۔ اس سے کردار میں جان پڑ جائے گی۔ اس دوران آپ دوسرے مناظر کر لیں۔ پھر اس کے بعد ان کی اپنی کاسٹ میں کوئی مسئلہ ہو گیا۔ یوں مزید دیر ہو گئی۔ اس دوران مجھے ’مالا میر‘ مل گیا۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ پیر کا کردار ہے۔ میں نے اس پر بے ساختہ کہا : آپ لوگوں کو میری اصلیت پتہ کیسے لگی؟ کہ میں اداکاروں اور فنکاروں کا جعلی پیر ہوں“ ۔
پاکستان سے امریکہ جانا:
خالد نظامی 1986 میں امریکہ نقلِ مکانی کر گیا۔ نیو یارک، ڈی سی (واشنگٹن) بالٹی مور (ریاست میری لینڈ) میں اسٹیج اور فنکشن کیے۔ پھر وہاں آڈیو اسٹوڈیو اور ایک بینڈ قائم کیا۔ اُس کے تمام میوزیشن جنوبی ہندوستان کے اور مرکزی گلوکارہ راجھستان کی نازنین تھی۔ میں اُس زمانے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست لوزیانا میں رہتا تھا۔ 14 اگست کے فنکشن میں مجھے بھی آرلِنگٹَن، ٹیکساس میں اپنے اسکول کے ہم جماعت محمد عشرت چوہدری کی طرف سے ایک پروگرام میں شرکت کی دعوت ملی۔ وہاں میں
نے خالد نظامی کو پھر سے کراچی والے ایکشن میں دیکھا۔ وہ بہت خوش ہوا اور مجھ سے اسٹیج پر گیت سنوائے۔ وہ دوبارہ 2013 میں پاکستان آیا لیکن یہاں آنے کے بعد علم ہوا کہ صرف پاکستان میں رہ کر دال روٹی چلانا مشکل ہے اِس لئے پھر ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور پاکستان آنا جانا لگا رہا۔
خالد نظامی بیک وقت اچھا کمپیئر، سنجیدہ اور مزاحیہ اداکار، موسیقار، ارینجر، میوزشن اور گلو کار ہے۔ یہ خاکسار اپنے اس دوست کے جس ہنر کو سب سے مقدم مانتا ہے وہ اُس کا کمپوزر اور ارینجر ہونا ہے۔ آج سے 52 سال پہلے اس نے جو گانا کمپوز اور ارینج کیا۔ صرف وہ ہی اِس کو عظیم تر بنانے کو کافی ہے۔ دعا ہے کہ خالد نظامی کو صحت اور عافیت والی زندگی عطا ہو۔


