پیسے آلیا بہار ای
گزرے وقتوں میں جب گھر کے بچے بڑے ہو کر شادی کی عمر کو پہنچتے تھے تو بڑوں میں سے کسی ایک کا خون جوش مارتا اور وہ خاندانی شرافت و نجابت مدنظر رکھتے ہوئے آناً فاناً رشتے طے کر ڈالتے، زیادہ تر تو خاندان میں ہی کھپائے جاتے اور جن کی قسمت کے فیصلے کیے جاتے، خال ہی ان میں سے کوئی اختلاف کرتا نظر آتا۔ مزے کی بات یہ کہ ایسی شادیاں کامیاب بھی ٹھہرتی تھیں۔ پھر زمانہ بدلتا گیا یا یوں کہہ لیں کہ زمانہ تو وہیں رہا لیکن لوگوں کے نظریات و خیالات میں بتدریج تبدیلی آتی چلی گئی، آہستہ آہستہ یہ فیصلے کرنے والے بڑے کہیں پس پشت چلے گئے اور نئی نسل کی اکثریت نے یہ ذمہ داری خود سنبھال لی، اس میں بھی کوئی حرج نہیں تھا کیوں کہ ’لو میرج‘ بھی بڑوں کی پسند دیکھ کر یا ان کی رضامندی لیتے ہوئے مذہبی حدود و قیود دیکھ کر کی جاتی تھیں۔
پھر ایک ٹوئسٹ آیا اور ہمیں سوشل میڈیا نام کی ایک ’بلا‘ چمٹی جو دنیا بھر میں ترقی کا ذریعہ بنی اور ہمارے یہاں تعلیم کی اہمیت کو پس پشت ڈال کر کمائی کا ایسا ذریعہ بنا لیا گیا کہ پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔ اس کا نشہ نوجوان نسل کو ایسے اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے کہ ’گل ودھتی‘ ہی جا رہی ہے اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ بھیا جی کون سے اصول اور کون سے ضابطے؟ کہاں کا خاندان اور کیسی شرافت؟ ٹک ٹاک پر آؤ اور پیسہ کماؤ۔ شہرت کے ساتھ عزت (منہ پر ہی سہی) بھی پاؤ۔
اس کمائی کا یقین نہیں آتا تو دو نوجوان ٹک ٹاکرز حسین ترین اور ربیکا خان کی ’تقریب منگنی‘ کی ہی مثال لے لیں، جنہوں نے ایشیا بھر میں سب سے امیر امبانی فیملی کو بھی ایسے پیچھے چھوڑا کہ اننت امبانی اور رادھیکا مرچنٹ بھی سوچتے ہوں گے، کیا فائدہ ایسی دولت کا ۔ اتنے فنکشن تو ہم نے کیے ہی نہیں۔ انگوٹھیوں کے تبادلے سے قبل اسی قبیل کی سوشل میڈیائی بریگیڈ کے جذبات کو ’بات پکی‘ ، ’قوالی نائٹ، ‘ ڈھولکی ’، ‘ پر نسزڈے ’، ‘ ڈانڈیاں ’، ‘ مہندی لگوائی ’اور پری انگیجمنٹ فوٹوشوٹ‘ کے نام پر خوب بھڑکایا گیا اور آخر میں شادی کے بجائے ’منگنی‘ کا یادگار سرپرائز دے دیا گیا۔
منگنی کے فنکشن پر مستقبل کے دُلہے راجا نے ایسی انٹری ماری کہ کیا کہنے، مہنگی ترین گاڑیوں کا قافلہ تو ایک طرف، خود جس گاڑی میں مُنڈی باہر نکالے شاید جلد پہنچنے کے چکر میں خود ہی ٹریفک کلیئر کروا رہے تھے، اس پر ’مافیا‘ کے جلی حروف تو کیا ہی کہنے، سوچنے والے گاڑی کے مالک کی خوداعتمادی کا عالم خود ہی سوچ لیں۔
فکر نہ کریں، پیسے بہت تو پکچر بھی ابھی باقی ہے، ربیکا نے اس ’عظیم الشان فریضے‘ کے بعد مزید کمائی کے لیے یوٹیوب پر اپ لوڈ کیے جانے والے وی لاگ میں منگنی پر ملنے والے تحائف کھولتے ہوئے خبر دی ہے کہ، ’ابھی تو صرف منگنی ہوئی ہے، ابھی بہت سی تقریبات باقی ہیں۔ ‘ چیری آن دی ٹاپ یہ ہے کہ اس خوشخبری کا سہرا اپنے فالوورز کے سر سجاتے ہوئے ربیکا نے مزید انکشاف کیا ہے، ’فینز طویل عرصے سے چاہتے تھے کہ ہم دونوں ایک ہوجائیں‘ ۔ ان فرینڈز کو تو اللہ ہی پوچھے جنہیں ’دونوں‘ کو ’ایک‘ دیکھنے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔
یہ صرف ان دونوں کا حال نہیں، نئی نسل کو ٹرک کی اس بتی کے پیچھے لگانے والے بیشتر ٹاک ٹاکرز اور یوٹیوبرز کا یہی حال ہے اور نہ جانے کس آس امید پر یا کون سے جذبے کی تسکین کے لیے انہیں فالو کرنے والے ان کا بے سروپا کانٹینٹ دیکھتے ہی چلے جا رہے ہیں، جس کا نہ حاصل نہ وصول۔ یہی وقت اگر کچھ مثبت سیکھنے میں لگائیں تو دیکھنے والے اِن کے بجائے اپنا طرز زندگی بہتر کر سکتے ہیں۔ ای کامرس کا دور ہے بھیا، اس کی متعلقہ مہارتیں سیکھ لو، ڈیٹا انٹری سیکھ کر فری لانسنگ کرلو، اپنی انگریزی اچھی کرلو، کرنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن اس کے لیے فکری سوچ چاہیے جس سے یہ قوم اب کوسوں دور جا چکی ہے۔
رہ گئے اس قسم کے ٹک ٹاکرز، وی لاگرز، یوٹیوبرز تو ان کا پنجابی زبان کی ایک اکھان والا حال ہے کہ، ’پیسے آلیا بہار ای‘ ۔ یعنی ان کے نزدیک ’بس پیسہ ہو اور بہت سا ہو تو ہماری زندگی گل و گٓلزار ہے‘ ، باقی اپنی زندگی کا تم خود سوچ لو۔


