ترکیہ اور پاکستان :ادبی اور ثقافتی رشتے


(یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ، پاکستان، شعبہ اردو، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”اکیسویں صدی میں ادب، تاریخ اور ثقافت کے تناظر میں ترکیہ پاکستان کے باہمی روابط“ میں بہ بطور مہمان خصوصی پیش کی جانے والی چند سطور)

جب ترکیہ کو خلافت عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا تھا تب سے ہمیں یہ ملک اپنا اپنا لگتا ہے ؛ ہمیشہ سے دل کے قریب۔ جدید تر عہد کا ترکیہ جس طرح اپنی خوبیوں اور خامیوں سمیت ایک مثالی ریاست کی صورت سامنے آیا ہے ؛ اپنے ارادوں میں، اپنی قومی حمیت میں اور اپنے ترقی پسند چلن میں ؛ وہ ہمارے جیسے ملکوں کے لیے قابل رشک اور سمت نما بھی ہے۔ اس ملک نے کئی طرح کے زمانے دیکھے ماضی کی خلافت عثمانیہ والی سلطنت کا عروج و زوال، بادشاہت کی جاہ و حشمت، مارشل لا کا جبر، مصطفی کمال پاشا کا جدید ترکی اور اب رجب طیب ایردوان کا ایک نئے چہرے والا ترکیہ۔ زمانہ کوئی سا بھی رہا ہمارے دل ترکوں کے ساتھ دھڑکتے رہے ہیں۔

میں نے اپنے بچپن سے ایک بار ابا جان کو تحریک خلافت پر بات کرتے پایا تو شفیق رامپوری کی نظم کے یہ اشعار بھی سنے تھے جو اب تک میری یادداشت میں تازہ ہیں :

بولیں اماں محمد علیؔ کی /جان بیٹا خلافت پہ دے دو
ساتھ تیرے ہیں شوکتؔ علی بھی/جان بیٹا خلافت پہ دے دو
گر ذرا سست دیکھوں گی تم کو /دودھ ہرگز نہ بخشوں گی تم کو

پھر جب میں کہانیاں لکھنے لگا اور جب جب ترکیہ کا اس حوالے سے ذکر ہوتا رہا دھیان سجاد حیدر یلدرم کی طرف چلا جاتا۔ وہ ملازمت کے سلسلہ میں تین سال تک بغداد میں رہے تھے، جہاں انھوں نے ترکی زبان پر عبور حاصل کیا اور ترکی زبان کی کتب کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جیسے زہرا، ثالث بخیر، جلال الدین خوارزم شاہ وغیرہ۔ وہ ترکی سے اتنے متاثر تھے کہ اپنے نام میں ترکی زبان کے یلدرم کا اضافہ کر لیا تھا۔ یہ اردو افسانے کے آغاز کا زمانہ تھا۔

انہوں نے ترکی افسانوں سے ماخوذ کہانیاں لکھیں۔ اگرچہ ڈاکٹر مسعود رضا خاکی اور ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے علامہ راشد الخیری کو اردو کا پہلا افسانہ نگار قرار دے رکھا ہے اور پروفیسر وقار عظیم نے پریم چند کو مگر پروفیسر احتشام حسین نے سجاد حیدر یلدرم اور پریم چند دونوں کو اولیت کا حقدار سمجھا تھا۔ اردو افسانے کے آغاز کی اس بحث میں سجاد حیدر یلدرم کے وہ افسانے بہت اہم ہو جاتے ہیں جو ترکی کہانیوں سے ماخوذ تھے اور اردو افسانے کا مزاج متعین کر رہے تھے۔

تراجم کا وہ سلسلہ جو یلدرم سے چلا تھا اب تک چلا آتا ہے۔ یشار کمال کا ناول ”بوئے گل“ ، اورحان پاموک کے ناول ”سرخ میرا نام“ سفید قلعہ ”،“ خانہ معصومیت ”اور“ جہاں برف گرتی ہے ”، ایلف شفق کا “ ناموس ”اور“ چالیس چراغ عشق کے ”، اِسکندر پالا کا “ شاہ اور سلطان ”، خالدہ ادیب خانم کا “ دختر سمرنا ”اور عزیز نہ سن کے افسانوں کے مقبول اردو تراجم اور قدیم صوفی شاعر یونس ایمرے سے لے کر ناظم حکمت، اِلہان بِرک اور نیسپی فاضل وغیرہ جیسے جدید شاعروں تک کی شاعری اب اردو ادب کا حصہ ہے۔

یہاں میں ان اردو سفرناموں کا ذکر کرنا چاہوں گا جو ترکیہ اور ہمارے درمیان مذہبی، ثقافتی، ادبی اور تہذیبی رشتوں پر گواہ ہو گئے ہیں۔ یہ سلسلہ خلافت عثمانیہ کے زمانے میں شروع ہو گیا تھا اور اس باب کی اولیت شبلی نعمانی کے 1928 میں شائع ہونے والا ”سفرنامہ روم و مصر و شام“ کو حاصل ہے۔ اسی سفر نامہ کے صفحہ 77 پر عطیہ فیضی کے والد حسن علی آفندی کا ذکر ملتا ہے جن سے ان کی ملاقات قسطنطنیہ میں ہوئی تھی۔ حسن آفندی کی وساطت سے شبلی نعمانی کی رسائی سلطان عبد الحمید ثانی تک ہوئی اور انہیں سلطان کی طرف سے ان کی علمی ادبی خدمات پر تمغا بھی دیا گیا۔

دونوں ممالک کے درمیان علمی ادبی اور ثقافتی خدمات کے اعتراف اور تمغہ جات عطا کیے جانے کا سلسلہ جو تب شروع ہوا تھا ابھی تک چلا آتا ہے۔ 2019 ء میں ترکیہ کے صدر جناب رجب طیب اردوان نے معروف شاعر امجد اسلام امجد کو ”نجیب فاضل ایوارڈ“ عطا کیا۔ پاکستان بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہے۔ یونس ایمرے سنٹر پاکستان کے سربراہ جناب خلیل طوقار اور انقرہ یونیورسٹی میں اردو شعبے کی سربراہ آسمان بیلن اوزجان کو ان کی اردو خدمات پر صدارتی تمغوں سے نوازا گیا۔ خلیل طوقار کی خدمات کا اس سے بڑھ کر اور اعتراف کا ہو گا کہ ان کا مونوگراف اکادمی ادبیات پاکستان نے ”پاکستانی ادب کے معمار“ کی ذیل میں شائع کیا ہے۔

بات شبلی نعمانی کے زمانے کے سفرنامے سے چلی تھی۔ کچھ ذکر جدید ترکیہ کے اردو سفرناموں کا بھی کیے دیتا ہوں۔ اور ضمن میں مجھے مستنصر حسین تارڑ کا پہلا سفرنامہ ”نکلے تیری تلاش میں“ یاد آ گیا ہے جس کا ایک حصہ ترکیہ کے سفرنامے پر مشتمل تھا۔ اسی کتاب سے تارڑ صاحب کی ایک ادیب کے طور پر شناخت بنی تھی۔ جو سفرنامے میری نظر سے گزرتے رہے اور یاد بھی رہ گئے ہیں ان میں محمد خالد اختر کے دو سفرنامے ”استنبول کے گنبد“ اور ”کیا ہم ابھی قونیہ میں ہیں“ اور سلمیٰ اعوان کا ”استنبول کہ عالم میں منتخب“ شامل ہیں۔

اسی طرح محمد حمزہ فاروقی کا مختلف ممالک کے اسفار کا تذکرہ جس میں ترکیہ کا سفر بھی شامل ہے یہ سفرنامہ ”قید مقام سے گزر“ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ ”زبان یار من ترکی“ کے نام سے شائع ہونے والے دو سفرنامے ہیں ؛ پہلا جسٹس (ر) خواجہ محمد شریف کا ، جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک ستر رُکنی وفد کے ساتھ ترکیہ گئے تھے اور دوسرا آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا ، جنہیں اسلامی تاریخ سے دلچسپی اور مشہور ترکی ڈرامہ ”ارطغرل“ ترکیہ لے گیا تھا۔

اسی قطار میں ڈاکٹر اے بی اشرف کی ترکیہ سے متعلق بہت اہم یادداشتوں کو بھی رکھ لیجیے جو ان کی کتاب ”ذوق دشت نوردی“ میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ترکیہ میں رہے اور وہاں کی مختلف یونیورسٹیوں میں اُردو زبان و ادب پڑھاتے رہے۔ دیگر سفر ناموں میں حسنین نازش کا ”قاردش“ ، محمد اشرف کمال کا ”یورپ کی دہلیز پر “ ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم کا ”ترکی بہ ترکی“ اور زاہد منیر عامر کا ”دیار شمس“ ہے جو میری نظر سے گزرے۔ ان سب سفر ناموں میں اس خاص تعلق کی آنچ کو محسوس کیا جاسکتا ہے جو دونوں ممالک کے لوگوں کو محبت کے رشتے میں باندھے ہوئے ہے۔

ترکیہ میں اقبال شناسی کے باب میں قابل قدر کام ہوا ہے۔ اقبال کے اردو اور فارسی کلام کے علاوہ نثر کے ترکی زبان میں تراجم ہوئے۔ ان پر ترکی میں سوانحی، تشریحی اور توضیحی کام ہوا۔ اس موضوع پر کام کرنے والوں میں خلیل طوقار، صلاح الدین یشار، رمضان تو نچ، علی علوی تو روجو، ترگت آگمان، ایم علی اوزکان، آزار قلیج توتن، پروفیسر علی نہاد تارلان اور کئی دوسرے محققین اور مترجمین شامل ہیں جس کی تفصیل اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ایک سکالر خالد مبین نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے ”ترکی میں اقبال شناسی“ میں فراہم کر رکھی ہے۔

کچھ کتابوں کا ذکر ہوا تو ترکیہ کے ادیبوں کی تین تازہ کتابیں یاد آ گئی ہیں جو اردو میں شائع ہوئی ہیں۔ پہلی، ”جدید ترک شاعری سے انتخاب“ ہے۔ یہ انتخاب اور ترجمہ آسمان بیلن اوزجان کا ہے۔ دوسری کتاب، جو حال ہی میں اردو میں شائع ہوئی ترکیہ کی ادیبہ اور مترجم طاہر ہے گونیش کی ”کہانیوں کا قاف“ ہے جس کی نثر بہت سی خوبیاں لیے ہوئے ہے۔ جب کہ تیسری کتاب ترجمہ کی صورت میں ڈاکٹر خلیل طوقار کی عطا ہے، جو پاکستانی بچوں کے لیے ایک نادر تحفہ ہے ؛ جی میری مراد ان کی کتاب ”ملا نصیرالدین“ ہے جسے بہت اہتمام سے شائع کیا گیا ہے۔

ہماری زبان اردو کا ترکی زبان سے لین دین رہا۔ کچھ محققین کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ترکی زبان میں کم و بیش نو ہزار الفاظ ایسے ہیں جو اردو زبان کا بھی کسی نہ کسی صورت میں حصہ ہو چکے ہیں۔ ہماری ماؤں نے ہمیں بچپن میں ملا نصرالدین کی دلچسپ کہانیاں اور سعدی شیرازی کی حکایات سنا سنا کر بڑا کیا۔ امیر خسروؔ اور مرزاغالبؔ تُرک نژاد ہو کر بھی ہمارے اپنے ہو گئے۔ ہمارے اقبال کو ترکیہ کے قومی ترانے کے خالق محمد عاکف ایرصوئے نے اپنے ہاں متعارف کرایا؛ یوں کہ اسے اپنا بنا لیا۔

قونیہ میں ہمارے دل دھڑکتے ہیں۔ ترکیہ کی آٹھ سو سالہ قدیم تہذیبی روایت ”رقصِ درویش“ پر ہم بھی بے ساختہ ”می رقصم“ کہہ کر رومی سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم مدینہ اپنے آقا کے در پر حاضرین دیں اور گنبد خضریٰ کو دیکھیں یا اس کے 67 روشن دانوں کو تو ہمیں ترکیہ والوں کا عشق رسول یاد آتا ہے۔ ہماری سیاسی، تہذیبی اور ثقافتی کہانی میں آغاز سے ترکیہ دخیل ہے اور ہمارے افسانوں اور ناولوں کا ماحول اور کردار ایک دوسرے کے لیے حد درجہ مانوس ہیں۔

وہاں کے ڈرامے یہاں مقبول ہیں۔ بہ قول ترکیہ کے ایک محقق سلیمان زارع کے ؛ دونوں مرچیلے کھانے کھاتے ہیں اور اونچی آواز میں ہنستے ہیں۔ کہہ لیجیے ہماری تہذیبی اقدار کے کئی مشترکہ علاقے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان گہری دوستی کی ایسی الف لیلیٰ مرتب ہوتی چلی گئی ہے جس میں ہر کہانی سے خود بہ خود ایک نئی کہانی سے نکلتی چلی جا رہی ہے۔

آپ جانتے ہوں گے کہ یونس ایمرے کا مزار ایسکی شہر کے قرب میں ہے۔ وہاں چنار کے ایک درخت پر اس عظیم شاعر کا ایک قول درج ہے۔ اس قول کا اردو ترجمہ طاہرے گونیش نے کر رکھا ہے۔ یونس ایمرے کا کہا آپ کی نذر کر کے اجازت چاہتا ہوں۔ :

”آئیں ایک دوسرے سے واقف ہوں۔
کام آسان کریں۔ آئیں پیار کریں اور چاہے جائیں۔
دنیا کسی کے لیے بھی باقی رہنے والی نہیں ہے۔ ”

Facebook Comments HS