معصوم کونپلوں کا خون چوستی موٹی تازی آکاس بیل

قواعد و ضوابط کیا ہیں، محض رکاوٹیں! جہاں پیسہ چلتا ہے وہاں کسی اور کی ایک نہیں چلتی۔ دوسرا شہر؟ دوسری ٹیم ؟ اس میں دلچسپی لینے والے شائقین۔ وہ میرا چینل دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے؟ مجھے فرق نہیں پڑتا۔ چینل عوام دیکھتے ہیں اور عوام سوچتے ہی کہاں ہیں؟ میرا چینل ہے، میری ہی ٹیم کی تشہیر ہوگی، بے انتہا ہوگی بغیر کسی ضابطے کے ہوگی۔
میرا بھی ایک چینل ہے، اخبار بھی، اور بھی بہت کچھ۔ بڑے میرے سگریٹ بیچا کرتے تھے۔ میں بھی سیٹھ ہوں، ایک کامیاب کاروباری، وہ کیا کہتے ہیں بزنس مین۔ میرے بڑوں نے بھی پیسہ بنایا۔ اتنا پیسہ کہ مجھے بھی پتہ نہیں کتنا پیسہ۔ پھر ہم نے بھی دل لگی کو ایک عدد ٹیم خرید لی۔ وہ کیا کہتے ہیں سپانسر شپ کے نام پر خریدی۔ آپ کو بتاتا چلوں ہر چیز برائے فروخت ہے بس بڑھیا بولی لگائیں اور من کی مراد پائیں۔
کبھی کبھی مجھے خود حیرانی ہوتی ہے، سوچتا ہوں، مجھے کتنا نوازا گیا ہے؟ شاید میں قابل ہی اتنا ہوں،یا پھر دوسرے بہت بے وقوف ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں اندھوں میں کانا راجہ۔ اب اس مملکت کو ہی دیکھ لیجیے کتنا کمزور نظام ، مجھ جیسے چند لوگوں کے ہاتھوں سارے کا سارا نظام یرغمال ہے۔ میں ہی جمہوریت کا ٹھیکےدار بھی ہوں، آزادی اظہار رائے کا بھی، میں ہی سونے کا بھی سوداگر اور میں ہی خبروں کا تاجر بھی، میں ہی سگریٹ بیچوں اور میں ہی اخلاقیات بھی۔ حکومتیں بنوا بھی سکتا ہوں اور تڑوا بھی۔ میری امر بیل بڑھتی رہے، پھلتی پھولتی رہے، معصوم کونپلوں کا خون چوستی موٹی تازی آکاس بیل۔
تو میں کہہ رہا تھا۔ میرے پاس بہت پیسہ ہے، میرے باپ کا چینل ہے اور دل لگی کو خریدی گئی ایک ٹیم۔ اب ا س کا میچ ہے۔ میرے حق میں بولنے والے نوکروں نے ماحول کو خوب گرمایا ہوا ہے۔ آپ سب عوام جو دیکھتے سب ہیں مگر سوچتے نہیں،لمبی قطاروں میں لگیں،مہنگے ترین ٹکٹ خریدیں اور میری ٹیم کا میچ دیکھیں۔

