تھامس مان کا افسانہ: الماری
وہ سرد اور دھند آلود شام تھی۔ جب برلن سے روم جانے والی تیز رفتار ٹرین ایک چھوٹے سے اسٹیشن کے قریب پہنچی۔ درجہ اول کے ایک ڈبے میں تنہا سفر کرنے والا مسافر البرخت وان ڈیر کوالن ایک کشادہ اور پھولدار جھالر لگی مخملی نشست پر بیدار ہو گیا۔ جوں ہی وہ جاگا۔ اس نے اپنے منہ میں کڑواہٹ محسوس کی اور جسم نے اس ناخوشگوار احساس کا تجربہ کیا جو اچانک لمبے سفر کے رک جانے پر ہوتا ہے۔ پہلے پہیوں کی گڑگڑاہٹ کم ہونے سے دفعتاً خاموشی چھا گئی، پھر یکایک بیرونی آوازیں در آئیں خاص طور پر مسافروں کی بات چیت اور انجن کی وسل واضح طور پر سنائی دیں۔ ہمارے حواس گہری نیند یا مدہوشی سے بیدار ہونے کے بعد فوراً بحال نہیں ہوتے۔ ہم خالی الذہن یا غنودگی میں ہوتے ہیں۔ وان ڈیر کوالن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اس نے اٹھ کر ہلکی سی انگڑائی لی اور کھڑکی کے پاس جاکر شیشہ ہٹایا۔ پھر باہر جھانکا ڈاک گاڑی کے اردگرد ہلچل مچی تھی۔ کچھ لوگ خطوط کے بنڈل اور پارسلوں کے گٹھے اتار اور چڑھا رہے تھے۔
ٹرین کا انجن تھوڑی دیر ہڑبڑاتا، بڑبڑاتا اور چھینک کر بھاپ چھوڑتا رہا پھر کسی تانگے کے گھوڑے کی طرح خاموش اور ساکت ہو گیا، جو پہلے کچھ دیر کانپتا ہے، اپنے سموں پر قدم جماتا ہے، اپنے کانوں کو مروڑتا ہے اور بے صبری سے اشارے کا منتظر رہتا ہے۔ ایک لمبی گداز بدن عورت لمبے برساتی کوٹ میں ملبوس تھکن زدہ سی، آنکھوں میں خوف اور چہرے پر عجلت کے آثار لیے بھاری بیگ کو گھٹنے کے پاس گھسیٹتی گاڑیوں کی طرف بھاگی جا رہی تھی۔ اس کا پسینے کے قطروں سے چمکتا ہوا اوپری ہونٹ غیر معمولی اور ناقابل بیان حد تک دل چھو لینے والا تھا۔ وان ڈیر کوالن نے سوچا۔ ”آہ پیاری! کاش میں آپ کی مدد کر سکتا، میں آپ کو سایہ دیتا، آپ کو آرام دیتا، صرف آپ کے اوپری ہونٹ کی خاطر، لیکن ایسا ہے کہ ہر کوئی اپنے لیے جیتا ہے اور میں اب خوف محسوس نہیں کر رہا۔ میں یہاں کھڑا ہوں اور آپ کو ایک آوارہ بھونرے کی طرح دیکھ رہا ہوں۔“
شام اسٹیشن کے چھوٹے سے پلیٹ فارم پر اتر چکی تھی۔ وہ صبح تھی یا شام؟ وان ڈیر کوالن کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتنی دیر سویا ہے۔ دو، پانچ یا بارہ گھنٹے؟ یہ اندازہ لگانا ناممکن تھا۔ کیا ایسا نہیں لگتا کہ میں پورا دن سوتا رہا ہوں یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ کوئی آواز سنے یا جانے بغیر گہری، بہت گہری نیند؟ اس نے مخملی کالر والا گہرے بھورے سرما کا مختصر کوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کے چہرے سے عمر کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ شاید اس کی عمر پچیس سے چالیس سال کے درمیان ہو سکتی تھی، چہرے کا رنگ گہرا زرد تھا اور آنکھیں کوئلے کی طرح کالی اور چمکتی ہوئی نیلگوں تھیں۔ وہ کچھ برا بیان کر رہی تھیں۔ کئی ڈاکٹروں نے سنجیدگی سے وان ڈیر کوالن کے روبرو انکشاف کیا تھا کہ اس کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف چند ماہ رہ گئے ہیں۔ اس نے اپنے سیاہ بالوں میں سلیقے سے کنگھی کر کے بائیں طرف کی مانگ نکالی ہوئی تھی۔
اگرچہ وان نے برلن سے اپنا سفر شروع نہیں کیا تھا، لیکن نادانستہ طور پر وہ اپنے سرخ بیگ کے ساتھ ایک تیز رفتار ٹرین پر سوار ہو گیا تھا۔ بعد ازاں وہ جلد ہی سو گیا اور اب بیدار ہو کر اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ وقت کی قید سے نکل گیا ہے۔ یہ مسرت انگیز تجربہ تھا۔ اس کے پاس گھڑی نہیں تھی۔ اسے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس کے گلے میں پہنی ہوئی سونے کی پتلی زنجیر سے لٹکی چیز، جو اس کے بنیان کی جیب میں چھپی ہے، ایک تمغہ ہے۔ وہ، یہ جاننا نہیں چاہتا تھا کہ کیا وقت ہوا ہے، حتی کہ آج ہفتے کا کون سا دن ہے اور یہ کون سا مہینہ ہے۔ اس نے کافی عرصے سے اِس پر دھیان دینا چھوڑ دیا تھا کہ آج کیا تاریخ، کون سا مہینہ یا سال ہے۔ ”سب کچھ ہوا میں ہونا چاہیے۔“
وہ عموماً سوچتا تھا۔ بلاشبہ، یہ کسی حد تک غیر واضح اظہار، معنی کی کافی مقدار رکھتا تھا۔ اس کی لاعلمی سے گڑبڑ شاذ و نادر ہی ہوتی، تقریباً کبھی نہیں، کیوں کہ اس نے اپنے آپ کو اس سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔
کیا اس کے لیے یہ کافی نہیں تھا کہ وہ اندازہًٰ جان لے کہ موسم کیسا ہے؟ ”اب خزاں آ گئی ہو گی۔“ اس نے اسٹیشن پر چھائے ہوئے نم اور دھندلے اندھیرے میں جھانکتے ہوئے سوچا۔ ”میں کچھ نہیں جانتا، کیا مجھے یہ معلوم ہے کہ میں کہاں ہوں؟ اس خیال پر اس نے جو اطمینان محسوس کیا تھا۔ اس کی جگہ اچانک خوشی کے احساس نے لے لی۔ نہیں، وہ واقعی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں ہے؟ ابھی تک جرمنی میں؟ بلاشبہ، شاید شمال میں؟ اسے اس بات کا یقین نہیں تھا۔ یہ سچ تھا کہ اس کی آنکھوں نے جو ہنوز نیند میں ڈوبی ہوئی تھیں، ڈبے کی کھڑکی کے باہر ایک تختی کو گزرتے دیکھا تھا۔ جہاں بظاہر اسٹیشن کا نام نظر آیا تھا، لیکن اس کے ذہن میں ایک حرف بھی واضح نہیں تھا۔ وہ ابھی تک اونگھ رہا تھا، اس نے سفر کے دوران کئی بار ٹکٹ چیکر کو اپنا نام پکارتے ہوئے سنا تھا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور اب وہاں سامنے صبح یا شام کی دھندلاہٹ میں تا حدِ نظر ایک انجانا شہر پھیلا ہوا تھا۔ جس کا نام وہ نہیں جانتا تھا۔
وان ڈیر کوالن نے جال سے اپنا فیلٹ ہیٹ نکالا اور ایک سرخ چمڑے کا بیگ لیا، جو سرخ اور سفید چیک دار اونی پٹے سے بندھا ہوا تھا اور جس کے ساتھ چاندی کے ہینڈل والی چھتری منسلک تھی۔ اگرچہ اس کے پاس فلورنس کا ٹکٹ تھا، مگر اس نے ڈبے کو اس تنگ پلیٹ فارم پر چھوڑ دیا، اپنا سامان مختص کھڑکی پر جمع کروایا، سگریٹ جلایا اور اوور کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چل دیا۔ اس نے نہ چھڑی ساتھ لی تھی اور نہ ہی چھتری، تقریباً ویران اسٹیشن کے باہر چوک پر نم اور دھندلے ویرانے میں کئی کوچوان اپنی گاڑیوں کے پاس کھڑے گھوڑوں کو ہوشیار کرنے کے لیے چابک گھما رہے تھے، ان میں سے ایک نے جو لمبے اوور کوٹ میں لپٹا تھا اور سر پر ریشمی حاشیے دار ٹوپی پہنے ہوئے تھا، سردی سے کانپتے ہوئے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔ ”ہوٹل جناب؟“
وان ڈیر کوالن نے شائستگی سے اس کا شکریہ ادا کیا اور سیدھا آگے بڑھ گیا۔ راہ میں جن لوگوں کو اس نے گزرتے دیکھا۔ انھوں نے اپنے کوٹ کے کالر اٹھا رکھے تھے۔ اس نے بھی ایسا ہی کیا اور اپنی ٹھوڑی کو کوٹ کے مخملی کالر میں چھپا لیا اور بغیر توقف کیے سگریٹ پیتا رہا۔
وہ ایک ہی سمت میں سست روی سے اور نہ ہی عجلت میں چلتا ہوا پتھر کی ایک پستہ قد دیوار کے پاس سے گزرا۔ پھر ایک قدیم دروازہ نظر آیا جس میں دو بڑے مینار تھے۔ تا آنکہ ایک پل پر قدم رکھا، جس کے چبوترے پر مجسمے کھڑے تھے اور نیچے دریا اپنے سست پانیوں میں اداس انداز میں بہے جا رہا تھا۔ ایک لمبی بوسیدہ کشتی گزری۔ جس کے کونے پر ایک آدمی بیٹھا لمبے چپو سے کشتی چلا رہا تھا۔ وان ڈیر کوالن کچھ دیر کے لیے رکا اور جنگلے پر ہاتھ رکھ کر نیچے دیکھنے لگا۔ ”دیکھو کوئی دریا ہے۔“ اس نے سوچا۔ ”دریا بس ایک دریا ہے۔ یہ اچھا ہے کہ میں اس کا واہیات نام نہیں جانتا۔“ یہ سوچتے ہوئے وہ پھر اپنی راہ پر چل دیا۔ کچھ دیر تک وہ ناک کی سیدھ میں ایک انجان راستے کے فٹ پاتھ پر چلتا رہا، جو نہ زیادہ چوڑا تھا اور نہ زیادہ تنگ، پھر بائیں جانب مڑ کر پہلی گلی میں داخل ہوا۔ شام ہو چکی تھی۔ آرک لیمپ روشن ہو رہے تھے۔ وہ کچھ ٹمٹمانے کے بعد دہکتے، سسکارتے پھر آہستہ آہستہ دھند میں بھڑک اٹھتے۔ دکانیں بند تھیں۔ ”چنانچہ یہ تمام اشارے ہم سے کہہ رہے ہیں کہ یہ موسم خزاں ہے۔“ وان ڈیر کوالن نے گیلے سیاہ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے سوچا۔ وہ گولوشز کے بغیر چلا آیا تھا، لیکن اس کے جوتے غیر معمولی طور پر چوڑے، مضبوط اور پائیدار تھے اور ان کی خوبصورتی سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ عجلت میں بائیں طرف مڑ گیا۔ لوگ اپنے معمولات زندگی سے فارغ ہو کر تیزی سے اس کے پاس سے گزر رہے تھے۔ ”میں لوگوں کے درمیان چل رہا ہوں۔“ اس نے سوچا، ”اور میں اس وقت اتنا الگ تھلگ اور اتنا یکا و تنہا ہوں کہ دنیا میں کوئی اور نہیں۔ میرا کوئی کام نہیں، کوئی مقصد نہیں۔ میرے پاس سہارا لینے کے لیے چھڑی بھی نہیں ہے۔ مجھ سے زیادہ بے آرام، زیادہ آزاد اور لاپروا ہونا ناممکن ہے۔ کوئی میرا مقروض نہیں اور میں کسی کا مقروض نہیں ہوں۔ خدا نے کبھی اپنا داہنا ہاتھ میری طرف نہیں بڑھایا، وہ مجھے بالکل بھی نہیں دیکھتا۔ دائمی دکھ، جو رحم سے ٹھیک نہیں ہوتے، واقعی اچھے ہوتے ہیں۔ میں سکون سے اپنے آپ سے کہہ سکتا ہوں کہ میں رب کا کچھ بھی مقروض نہیں ہوں۔“
وان ڈیر شہر کی حدود میں پہنچ گیا۔ عین ممکن ہے کہ اس نے اپنا سفر اس کے برعکس محض مرکز سے شروع کیا ہو۔ اب اس نے خود کو ایک چوڑی مضافاتی گلی میں درختوں اور حویلیوں کے درمیان پایا۔ وہ دائیں طرف مڑ کر تین یا چار گلیوں سے گزرا جو کہ دیکھنے میں دیہاتی طرز کی تھیں اور فقط گیس لیمپوں سے روشن تھیں۔ آخرکار وہ ایک نسبتاً کشادہ گزرگاہ میں بڑھتے ہوئے لکڑی کے ایک پھاٹک پر جا کر رک گیا جو ایک انتہائی عام سے گھر کے دائیں جانب تھا۔ گھر پر گندا سا زرد رنگ کیا گیا تھا۔ وہ گھر دوسروں سے صرف اپنی کھڑکیوں میں لگے دھندلے شیشوں کی وجہ سے ممتاز تھا، جن سے اندر کا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ بہرحال، گیٹ پر ایک تختی لٹکی تھی۔ جس پر لکھا تھا۔ ”گھر کی تیسری منزل پر کمرے کرائے کے لیے دستیاب ہیں۔“ ”اچھا ایسا ہے؟“ وان ڈیر کوالن نے خود کلامی کی، سگریٹ پھینکا، پھاٹک میں داخل ہوا اور اس باڑ کے پاس سے گزرا جو اس عمارت کو پڑوسی عمارت سے جدا کر رہی تھی۔ اس نے بائیں طرف کا دروازہ کھولا اور چند قدموں میں اس گزرگاہ کو عبور کیا، جہاں ایک خستہ حال قالین بچھا ہوا تھا۔ پھر لکڑی کے ایک عام سے زینے پر چڑھنے لگا۔ اس منزل پر تاروں کی جالی کے پیچھے دھندلے شیشوں والے دروازے کسی بھی طور پر اس کی توجہ مبذول نہیں کرسکے تھے۔ بعض جگہ وہ رہائشیوں کے ناموں سے مزین تھے اور زینے مٹی کے تیل کے لیمپوں سے روشن تھے، لیکن تیسری آخری منزل پر جس کے بعد ایک اٹاری تھی، سیڑھیوں کے دائیں اور بائیں دو عام بھورے رنگ کے داخلی دروازے بھی تھے۔ اسے وان ڈیر کوالن کا نام کہیں کندہ نظر نہیں آیا۔ وان نے درمیانی دروازے کے قریب پیتل کی گھنٹی کے ہینڈل کو کھینچا۔ ٹن ٹن۔ آواز آئی لیکن اندر سے کوئی آہٹ سنائی نہیں دی۔ اس نے بائیں دروازے پر دستک دی۔ کوئی جواب نہیں آیا۔ اس نے دائیں طرف دستک دی۔ آہستہ آہستہ قدموں کی آہٹ سنائی دی اور دروازہ کھل گیا۔ دروازے پر ایک دبلی پتلی، بوڑھی اور کمزور عورت نمودار ہوئی۔ جس نے لمبے جامنی ربن والی ٹوپی اور پرانے وضح کا سیاہ لباس پہنا ہوا تھا۔ اس نے اپنا جھریوں زدہ چہرہ وان کی طرف گھمایا۔ وان کو اس کے ہیٹ کے نیچے ماتھے پر بالوں کا ایک گچھا لٹکا ہوا نظر آیا۔ جو ایک عجیب و غریب کائی کی روئیدگی سے مشابہ تھا۔ وہ کافی ناگوار لگ رہا تھا۔
”شام بخیر! کمرہ؟“ وان ڈیر کوالن نے کہا۔
بوڑھی عورت نے احتراماً سر ہلایا۔ پھر اطمینان سے مسکرائی اور اپنے خوبصورت، اجلے اور دراز بازو سے بائیں دروازے کی طرف اشارہ کیا اور اندر چلی گئی۔ جلد ہی وہ چابی لے کر واپس آئی اور قفل کھولنے لگی۔ وان ڈیر کوالن اس کے پیچھے کھڑا سوچ رہا تھا۔ ”میڈم! آپ ایک مہربان بھوت کی طرح نظر آتی ہیں، بالکل ہوفمین کے کردار کی طرح۔“
عورت نے مٹی کے تیل کا لیمپ کھولا اور اپنے مہمان کو اندر کا راستہ دکھایا، کمرہ نیچی اور بھورے رنگ کی چھت کے ساتھ چھوٹا سا تھا۔ اس کی اوپری دیواریں تنکوں کی پیلی چٹائیوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ ایک سفید ململ کے پردے نے تنگ لمبی تہوں میں گرتے ہوئے کھڑکی کو چھپا دیا تھا۔ دائیں طرف اگلے کمرے کی طرف جانے والا دروازہ تھا۔ عورت نے دروازہ کھول کر لیمپ جلایا۔ اس کمرے میں سفید سپاٹ دیواروں کے ساتھ سرخ بید کی تین کرسیاں رکھی تھیں۔ جیسے کریم کے اوپر اسٹرابیری سجی ہوں، دائیں دیوار کے درمیان سرخ پالش والی ایک الماری، دوسری طرف آئینے کے ساتھ ایک واش بیسن۔ اور کمرے کے بیچوں بیچ ایک مہاگنی کی لکڑی کی شاندار مسہری بچھی تھی۔
”آپ کو کسی چیز پر اعتراض تو نہیں؟“ عورت نے اپنے خوبصورت لمبے سفید ہاتھ سے ماتھے پر کائی کے ٹکڑے کو ہلکے سے چھوتے ہوئے پوچھا۔ وہ یہ الفاظ یوں ہی کہہ رہی تھی، گویا اس وقت اسے موقع کی مناسب کوئی اور جملہ یاد نہ ہو۔ اس نے مزید کہا۔ ”بس برائے تذکرہ۔“
”نہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“ وان ڈیر کوالن نے جواب دیا۔ ”کمرے کافی خوبصورتی سے آراستہ ہیں۔ میں یہ لیتا ہوں۔ اور کسی کے ذمے یہ کام سونپ دیں کہ وہ اسٹیشن سے میرا سامان لے آئے۔ یہ رہی رسید اور آپ کی بہت مہربانی ہوگی اگر آپ میرے لیے بستر اور رات کی میز تیار کر دیں اور مجھے بیرونی دروازے اور کمروں کی چابیاں دے دیں، ساتھ ہی دو تین تولیے بھی مہیا کر دیں۔ میں تازہ دم ہونا چاہتا ہوں، پھر کھانے کے لیے شہر جاؤں گا اور دیر سے لوٹوں گا۔“
یہ کہہ کر اس نے اپنی جیب سے نکل چڑھا ہوا ڈبہ نکالا اور اس میں سے صابن برآمد کیا۔ پھر واش بیسن پر جاکر ہاتھ منہ دھونے لگا۔ اس دوران اس نے کھڑکی کے بھاری خمیدہ شیشے سے نیچے مضافاتی علاقوں کی گندگی سے ڈھکی گلیوں کو دیکھا، جو گیس کے لیمپوں سے روشن تھیں۔ حویلیوں اور آرک لیمپوں کی طرف بھی اس نے نظر ڈالی۔ پھر ہاتھ پونچھتا ہوا الماری کے قریب آیا۔ وہ بلوط کی لکڑی سے بنی ایک چوکور الماری تھی، تھوڑی سی بوسیدہ، جس کے اوپری حصے میں نقش و نگار تراشے گئے تھے۔ وہ دائیں دیوار کے بیچ میں بنائی گئی تھی، دوسرے سفید دروازے کے بالکل سامنے، بظاہر، وہ اپارٹمنٹ میں کھلتا تھا۔ جہاں مرکزی درمیانی دروازہ سیڑھیوں سے اترتا تھا۔ ”اس دنیا میں کوئی بھی چیز اتنی ذہانت سے ترتیب نہیں دی گئی۔“ وہ الماری طاق میں کھڑی اس طرح گھور رہی تھی۔ جیسے کہ اسے کسی خاص مقصد سے بنایا گیا ہو۔ وان نے دروازے کھول دیے۔ الماری بالکل خالی تھی، اس کی چھت پر خالی کانٹوں کی کئی قطاریں تھیں۔
وان ڈیر کوالن نے الماری بند کی، اپنا ہیٹ لیا، پہلے کی طرح اوور کوٹ کا کالر اوپر کیا اور موم بتی بجھا دی۔ پھر باہر نکل گیا۔ جب وہ پہلے کمرے سے گزرا تو اسے لگا کہ اس کے قدموں کی سرسراہٹ کے علاوہ پڑوس کے ایوان سے کوئی اور آواز بھی سنائی دے رہی ہے۔ ایک ہلکی، مگر صاف چاندی کی گھنٹی بجنے جیسی، لیکن کون جانے، شاید یہ اس کا تخیل ہو؟ ”یہ ایسا تھا جیسے چاندی کے پیالے میں سونے کی انگوٹھی گر گئی ہو۔“ اس نے سامنے کے دروازے کو تالا لگاتے ہوئے سوچا۔ وہ سیڑھیاں اُتر کر باہر احاطے میں گیا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے شہر کی طرف چل دیا۔ کچھ دور چلنے کے بعد وہ ایک پر ہجوم سڑک پر پہنچا اور ایک جگمگاتے ریستوراں میں داخل ہوا۔ پھر ابتدائی میزوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا، اس کی پیٹھ باقی لوگوں کی طرف تھی۔ اس نے سلائس کے ساتھ سبزیوں کا سوپ کھایا، انڈے کے ساتھ سٹیک، کمپوٹ شراب پی، سبز گورگونزولا پنیر چکھا اور آدھی ناشپاتی کھائی، ادائیگی کرنے اور اوور کوٹ پہننے کے بعد ، اس نے کئی روسی سگریٹ پھونکے، پھر سگار جلایا اور باہر سڑک پر چلا آیا۔ شہر میں تھوڑا سا گھومنے کے بعد اس نے فطری طور پر مضافات میں واپسی کا راستہ تلاش کیا اور آہستہ آہستہ وہاں سے روانہ ہو گیا۔
پلیٹ گلاس ہاؤس اندھیرے میں خاموش کھڑا تھا وان ڈیر کوالن نے بیرونی دروازہ کھولا اور اندھیرے میں سیڑھیاں چڑھنے لگا، اوپر پہنچ کر اس نے تیلی جلائی اور بائیں جانب تیسری منزل پر اپنے کمرے کا خاکی دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا، پھر اس نے اوور کوٹ اور ٹوپی اتار کر صوفے پر رکھ دیے اور لکھنے کی میز پر رکھا لیمپ جلایا تو اسے اپنا بیگ اور چھتری رکھی نظر آئی۔ اس نے پٹا کھولا، کونیک کی ایک بوتل نکالی اور بیگ سے گلاس نکال کر کرسی پر بیٹھ گیا، سگار ختم کیا اور وقتاً فوقتاً ایک ایک گھونٹ لیتا رہا۔ ”کتنا اچھا ہے۔“ اس نے سوچا، ”کہ دنیا میں کم از کم کونیک موجود ہے۔“ تھوڑی دیر بعد وہ سونے کے کمرے میں گیا، پلنگ کے کنارے پر ایک موم بتی جلائی، کمرے کا لیمپ بجھایا اور کپڑے اتارنے لگا۔ یکے بعد دیگرے اس نے بیڈ کے پاس سرخ کرسی پر اپنا سرمئی سوٹ اتار کر رکھا جو کافی عرصے سے اس کے زیر استعمال تھا، لیکن اسی لمحے، جب اس نے اپنے گیٹس کو کھولا تو اسے اچانک یاد آیا کہ اوور کوٹ اور ہیٹ ابھی تک صوفے پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس نے انہیں اٹھایا اور الماری کھولی۔ پھر اچانک گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا اور مسہری کے کونے پر سجاوٹ کے لیے لگی گہری سرخ مہاگنی کی گیند کو سہارے کے لیے پکڑ لیا، ننگی سفید دیواروں والا کمرہ، جہاں بید کی سرخ کرسیاں کریم میں اسٹرابیری کی طرح چمک رہی تھیں، ایک ٹمٹماتی ہوئی موم بتی سے روشن تھا۔ وہاں، الماری میں، جس کے دروازے کھلے ہوئے تھے، کوئی کھڑا تھا، کوئی جسم، کوئی مخلوق، ایسی دلکشی سے بھری ہوئی کہ وان ڈیر کوالن کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا، لیکن پھر فوراً ہی نرم روی سے دوبارہ دھڑکنے لگا۔
وہ مکمل طور پر برہنہ تھی دبلی، نازک اور لمبی۔ اس نے ایک ہاتھ اٹھا کر اپنی شہادت کی انگلی سے الماری کی چھت پر لگے ہک کو پکڑ رکھا تھا اور اس کے لہریے دار لمبے بھورے بال اس کے نوخیز کندھوں پر گرے تھے۔ وہ ایسی سحر انگیز سانسیں لے رہی تھی کہ انہیں دیکھ کر کوئی رو بھی سکتا تھا اور اس کی بادام نما سیاہ آنکھوں میں شمع کے شعلے کی چمک تھی۔ گو کہ اس کا منہ بہت بڑا تھا، لیکن تاثرات نیند سے بھرے ہوئے ہونٹوں کی طرح میٹھے تھے، جو دن بھر کی مشقت کے بعد ہماری پیشانی سے چمٹ جاتے ہیں۔ اس کی ایڑیاں مضبوطی سے بند تھیں اور پتلی ٹانگیں ایک دوسرے سے سختی سے چپکی ہوئی تھیں۔ وان ڈیر نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ پھیر کر دوبارہ دیکھا۔ اسے نیچے دائیں کونے میں الماری میں خاکی رنگ کا کینوس پھٹا ہوا نظر آیا۔
”تم کیا چاہتی ہو؟“ اس نے پوچھا۔ ”کیا تم اندر آنا پسند کروں گی؟ یا۔ بلکہ باہر نکلنا۔ کونیک کا ایک یا آدھا گلاس؟“
لیکن اسے جواب کی توقع نہیں تھی اور نہ ہی اسے جواب موصول ہوا۔ اس کی چھوٹی اور چمکتی آنکھیں، اتنی سیاہ تھیں کہ وہ اظہار سے بالکل عاری، بے کراں اور گونگی لگ رہی تھیں۔ وہ اس پر جمی تھیں، لیکن قصداً یا بے خیالی میں نہیں۔ ان آنکھوں کی چمک دھیمی تھی جیسے وہ اسے بالکل نہیں دیکھ رہی ہو۔
”آپ کو بتائیں؟“ اچانک اس نے پرسکون اور مدھم آواز میں پوچھا۔
”بتاؤ۔“ وان نے چونک کر جواباً کہا اور بستر کے کنارے پر بیٹھ گیا، کوٹ اس کے گھٹنوں پر رکھا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ باندھ رکھے تھے۔ اس کا منہ قدرے کھلا ہوا تھا، پلکیں آدھی بند تھیں، لیکن ہیجان انگیز خون اس کے جسم میں نرمی سے بہہ رہا تھا اور کانوں میں ایک خاموش گونج تھی۔
وہ الماری کے نچلے حصے میں بیٹھ گئی اور ایک ٹانگ لٹکا کر دوسرے گھٹنے کو اپنے نرم ہاتھوں سے پکڑ کر سینے سے لگا لیا۔ اس کے سینے کے چھوٹے ابھار بازوؤں کے درمیان دبے ہوئے تھے اور اس کے گھٹنے کی جلد چمک رہی تھی۔ جبکہ موم بتی کے شعلے خاموش سے رقص کر رہے تھے۔ وہ دھیمی آواز میں بولی۔
”دونوں میدان کے اس پار چل دیے، اس کا سر اس کے کندھے پر ٹکا ہوا تھا۔ شام کی سفید دھند زمین سے اٹھ رہی تھی اور ہر طرف پھولدار پودوں کی نشہ آور خوشبو پھیلی تھی۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا۔ وہ گیت کی لے میں بہتے چلے گئے۔ جس کی موسیقی پرسکون اور شیریں انداز میں ترتیب دی گئی تھی۔ جیسا کہ بعض اوقات رات کو ہوتا ہے، جسے ہم گہری نیند کی وجہ سے بھول جاتے ہیں، لیکن سب کچھ بری طرح ختم ہوا۔ انجام اس سے زیادہ افسوس ناک نہیں ہو سکتا تھا۔ دونوں جب ایک اٹوٹ ہم آغوشی میں ڈوبے تھے اور جب ان کے منہ آپس میں مل گئے تو ایک نے دوسرے کے سینے میں چوڑا خنجر گھونپ دیا۔ گو کہ بہترین نیت کے ساتھ سب کچھ ختم ہو گیا۔“
پھر وہ انتہائی سکون اور نرم روی کے ساتھ اٹھی، خاکی کینوس کو نیچے دائیں کونے میں کیا، جو الماری کی پچھلی دیوار کا کام کرتا تھا اور غائب ہو گئی۔
اُس دن کے بعد ہر شام وہ اسے الماری میں پاتا اور اس کی کہانیاں سنتا۔ کتنی شامیں؟ اس نے اس اپارٹمنٹ میں، اس شہر میں، کتنے دن، ہفتے یا مہینے گزارے؟ تعداد یاد رکھنے کا کیا فائدہ۔ آخر کون اس دکھی شخص میں دلچسپی لے گا۔ ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ کئی ڈاکٹروں نے وان ڈیر کوالن کو صرف چند ماہ کا وقت دیا تھا۔ اس نے امید اور تشفی کے بغیر غمگین کہانیاں سنائیں، لیکن وہ دل پر ایک شیریں خوش کن بوجھ کی طرح لگیں۔ جس کے باعث اس کی دھڑکن دھیمی اور مسرت انگیز ہو گئی۔ وان اکثر بھول جاتا تھا کہ اس میں خون دوڑ رہا ہے، اس نے لڑکی کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس نے مزاحمت نہیں کی،
لیکن اس کے بعد وہ اسے مسلسل کئی شاموں تک الماری میں نہیں ملی۔ جب وہ نمودار ہوئی تو اس نے کئی شاموں تک مزید کچھ نہیں کہا۔ یہ دھیرے دھیرے ہوا۔ یہاں تک کہ اسے لگا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔
یہ کتنے عرصے تک چلا؟ کون جانتا ہے؟
کون جانتا ہے کہ البرخت وان ڈیر کوالن واقعی اس شام بیدار ہوا اور انجان شہر میں گھومنے لگا۔ شاید یا حقیقتاً، وہ درجہ اول کے ڈبے میں سوتا رہا، جبکہ برلن سے روم جانے والی کورئیر ٹرین اسے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ دور دراز علاقوں تک لے گئی۔ ہم میں سے کون اپنے خوف اور خطرے پر اس سوال کا یقین کے ساتھ جواب دینے کی جرآت کرے گا۔ یہ کلی طور پر غیر واضح ہے۔ ”سب کچھ ہوا میں ہونا چاہیے۔“










