پیش بین (اٹلی کی ایک ترجمہ کہانی)

  افسانہ: لوئیجی پراندیلو ترجمہ: جاوید بسام نینو میندولا اپنے فارم  سے واپس آ رہا تھا، جب گاڑی سڑک کے کنارے سان بیاجیو کے چھوٹے گرجے پر پہنچی تو اس نے پہاڑی پر واقع قبرستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ جان سکے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور قبرستان کے نگراں نوچو پمپینا کے بارے میں بلدیہ کو جو شکایات موصول ہوئی ہیں ان میں کتنی سچائی ہے۔ نینو میندولا تقریباً ایک سال سے بلدیہ کا کونسلر

Read more

ڈاکیے کا تھیلا (کونسٹنٹین اوشینسکی کا افسانہ)

کولیا ایک خوش مزاج، مگر غائب دماغ لڑکا تھا۔ اس نے پیٹرزبرگ میں اپنی دادی کو ایک بہت اچھا خط لکھا۔ جس میں انہیں برائٹ ہالیڈے کی مبارکباد دی، اپنے گاؤں کی زندگی کے بارے میں بتایا، اور یہ کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، وہ اپنا وقت کیسے گزارتا ہے، سب تفصیل سے بیان کیا۔ ایک جملے میں بس یہ کہا جا سکتا تھا کہ خط بہت اچھا لکھا گیا تھا، لیکن کولیا نے خط کے بجائے خالی کاغذ

Read more

افسانہ جوتے: انتون چیخوف

مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت کا پلستر گرا ہے یا اس نے ابھی اپنے کمرے میں کوئی بھوت دیکھا ہے۔ ”سیمیون خدا کو مانو!“ خادم کو اپنی طرف سرعت سے آتا

Read more

باپ کے گھر کی چابی

کہانی: لیانا ڈسکالووا (بلغاریہ) مترجم: جاوید بسام (کراچی) سات بار ناپیں، ایک بار کاٹیں، ایک مشہور روسی کہاوت ہے۔ کیوں کہ اگر غلطی ہو جائے تو اس کا سدباب ممکن نہیں، دوسرے لفظوں میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ہر طرح سے سوچ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ صحیح عمل کر رہے ہیں۔ مگر لڑکے؟ کیا بے صبرے لڑکے یہ کرتے ہیں؟ ایک دن پیٹرچو نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ اسے کہاں اور کیسے

Read more

 آخری خواہش۔ کہانی: اورلن واسیلیف – بلغاریہ

ترجمہ: جاوید بسام۔ (کراچی۔ ) خزاں نے جنگل میں آباد ان خوش و خرم اور بے پروا پرندوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا جو ہر وقت درختوں پر چہچہاتے رہتے تھے۔ پہاڑوں پر سے برفیلی جسم چھیدنے والی ہوا چل رہی تھی۔ رات کو خزاں کی بارش بھی ہوئی تھی، درختوں پر سے رہے سہے پتے بھی جھڑ گئے تھے۔ جنگل میں ہر طرف نمی، کیچڑ اور ٹھنڈک تھی، لیکن بوڑھی چیونٹی کے گھر میں آتش دان گرم

Read more

لینن اور چولہا بنانے والا

تحریر: چیبیکن روسٹیسلاؤ۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ مجھے یاد ہے کہ ایک چولہا بنانے والے آدمی یاکوف کونڈراٹی پیٹرووچ، سشینسکوئے (سائبریا) گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ اپنی مہارت اور ہنر کے باعث پورے ضلعے میں مشہور تھا۔ اس نے ہمیشہ بہترین چولہے بنائے۔ کیوں کہ اسے اپنا کام پسند تھا۔ وہ اکثر کہتا: ”اگر آپ کا چولہا ٹھیک کام نہیں کر رہا تو مجھ سے رابطہ کریں میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں۔“ اس باعث کونڈراٹی کو ہمیشہ بہت پیار

Read more

سورج اور سایہ: لیوگی پیراندیلو کا افسانہ

پرانے شہر کی دیواروں کے ساتھ طویل گزرگاہ پر، درختوں کی شاخیں یوں مل رہی تھیں کہ سبز اور سایہ دار برآمدہ سا بن گیا تھا۔ ان شاخوں کے درمیان اچانک چاند حیرت سے نمودار ہوا اور اس ویران اندھیرے راستے پر بے وقت قدم اٹھاتے تنہا دراز قد آدمی سے یوں مخاطب ہوا۔ ”ہاں، میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔“ اور جیسے ہی اُس آدمی نے خود کو ظاہر ہوتا محسوس کیا۔ وہ رک گیا اور اپنا ہاتھ سینے پر

Read more

تھامس مان کا افسانہ: الماری

وہ سرد اور دھند آلود شام تھی۔ جب برلن سے روم جانے والی تیز رفتار ٹرین ایک چھوٹے سے اسٹیشن کے قریب پہنچی۔ درجہ اول کے ایک ڈبے میں تنہا سفر کرنے والا مسافر البرخت وان ڈیر کوالن ایک کشادہ اور پھولدار جھالر لگی مخملی نشست پر بیدار ہو گیا۔ جوں ہی وہ جاگا۔ اس نے اپنے منہ میں کڑواہٹ محسوس کی اور جسم نے اس ناخوشگوار احساس کا تجربہ کیا جو اچانک لمبے سفر کے رک جانے پر ہوتا

Read more

تھامس مان کا افسانہ: چرج یارڈ کا راستہ

مترجم: جاوید بسام چرج یارڈ کا راستہ ہائی وے کے متوازی، مسلسل ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ تاآنکہ اپنی منزل یعنی چرچ یارڈ تک نہ پہنچ جائے۔ اس کے دوسری طرف ایک نئی مضافاتی انسانی بستی تھی، جس میں کچھ مکانات زیر تعمیر تھے، اس سے پرے کچھ کھیت تھے۔ سڑک پرانے سفیدے کے درختوں سے گھری تھی، اس کا جزوی حصہ پختہ اور جزوی حصہ کچا تھا۔ راستہ باریک بجری سے پر تھا۔ جس نے اسے ایک معقول فٹ پاتھ

Read more

لیمپ۔ ایک روسی کہانی

لیمپ۔ چیبیکن روسٹیسلاو۔ جب گاؤں کے کونے کونے سے فساد اور قتل عام کی خبریں آنے لگیں تو میرے پر نانا نے میز پر بیٹھ کر مٹی کے تیل کا لیمپ جلایا اور تورات پڑھنے لگے۔ آخر وہ فساد ان کے گھر سے دو گھروں کے فاصلے پر آ کر رک گیا اور کسی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کی اصل وجہ تورات نہیں بلکہ لیمپ ہے۔ تب سے نانا نے لیمپ کئی بار جلایا۔ یہاں تک

Read more

سچائی – اطالوی افسانہ

افسانہ: لؤئیجی پیراندیلو۔ (اٹلی) مترجم: جاوید بسام۔ (کراچی) سارا ارجنٹو کو جس کی عرفیت ترارا تھی، جوں ہی کمرہ عدالت کے باقی حصوں سے باڑ لگا کر کٹہرے میں لایا گیا۔ اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی جیب سے پیلے پھولوں والا ایک سرخ سوتی رومال نکالا اور نشست پر احتیاط سے پھیلا دیا۔ تاکہ اس کے تہوار جیسے لباس پر داغ نہ لگے، لباس اور رومال بالکل نیا تھا۔ جب وہ آرام سے بیٹھ گیا تو کسانوں

Read more

جوزف پینے برینن کی کہانی: آخری حربہ

مترجم: جاوید بسام۔ ”یور آنر! میں اپیل کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔“ کیلتھ نے کہا۔ ایک لمحے کے لیے کمرہ عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ بس ایک ہلکی سی گونج سنائی دے رہی تھی۔ پھر روبوٹ جج نے جواب دیا۔ ”درخواست منظور کی جاتی ہے۔“ کیلتھ نے سوچا ایک آزاد سرکٹ متحرک ہو گیا ہے۔ اپیلیں بغیر کسی استثنا کے ہمیشہ منظور ہو جاتی ہیں۔ ایک احمقانہ کوشش جس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلتا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور

Read more

لوئیجی پیراندیلو کا افسانہ: مرتبان

افسانہ: لوئیجی پیراندیلو۔ مترجم: جاوید بسام۔ زیتون کی فصل کے لیے وہ سال اچھا رہا تھا۔ فارم کے سب درخت پکے پھلوں سے لد گئے۔ حالاں کہ پچھلے سال دھند نے ان کے پھولوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ زرافہ کے پرائموسول میں واقع فارم لیکوٹ پر زیتون کے کافی درخت تھے۔ اس نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ تہہ خانے میں رکھے پانچ پرانے مرتبان نئی فصل سے کشید ہونے والے تیل کو رکھنے میں ناکافی ہوں گے۔

Read more

کل اور آج: لیوگی پیراندیلو کا افسانہ

عنوان: کل اور آج۔ مصنف: لیوگی پیراندیلو۔ (اٹلی) جنگ کا آغاز حال ہی میں ہوا تھا۔ مارینو لرنا نے رضاکارانہ طور پر افسران کے اسکول میں داخلہ لیا اور تیزی سے نصاب مکمل کر کے انفنٹری لیفٹیننٹ کے درجے پر فائز ہوا۔ اپنے کنبے کے ہمراہ آٹھ دن کی تعطیلات گزارنے کے بعد وہ اپنے یونٹ کیسیل بریگیڈ کی بارہویں رجمنٹ میں مکیراٹا چلا گیا۔ اسے امید تھی کہ محاذ پر جانے سے پہلے ایک یا دو ماہ بھرتی ہونے

Read more

ہاؤس آف ڈیتھ الارم۔ افسانہ: لیوگی پیرآندیلو۔ اٹلی

HOUSE OF DEATH ALARM. Luigi Pirandello. ترجمہ: جاوید بسام۔ مہمان نے گھر میں داخل ہوتے ہی بلاشبہ اپنا نام بتا دیا تھا، لیکن بوڑھی اور لاغر سیاہ فام نوکرانی جس نے اس کے لیے دروازہ کھولا تھا اور جو ایپرن باندھے بندر کی طرح لگتی تھی، اس نے یا تو سنا نہیں یا اس کے بارے میں فوراً بھول گئی۔ یوں وہ بے نام بھلا مانس پونے گھنٹے سے گھر کی خاموشی میں ”وہاں“ انتظار کر رہا تھا۔ ”وہاں“ سے

Read more

جریب کش اور یولکا: یوگوسلاویہ سے آئیو ایندریک کا افسانہ

آج صبح جریب کش ”پ“ نے جس کا تعلق ”س“ سے تھا، میری دہلیز پر اپنا تعارف کرایا۔ وہ ان ملاقاتیوں میں سے ایک تھا جو ضد یا اپنی ثابت قدمی کے ذریعے زبردستی گھر میں داخل نہیں ہوتے، بلکہ نچلی منزل پر واقع نشست گاہ میں اچانک نمودار ہو جاتے ہیں، غالباً وہ تحمل اور سکون سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ ہوش میں آتا، اس ملنسار اور بن بلائے مہمان کو اپنے سامنے

Read more

 سلام پاشا کی خالہ۔ مصری افسانہ: محمود تیمور

ترجمہ: جاوید بسام۔ کراچی اس دن دارالحکومت سے نکلنے والے شام کے اخبارات میں سانحہ ارتحال کے صفحے پر سیاہ حاشیے کے درمیان ایک طویل پیغام شائع ہوا تھا۔ ”آہ بدقسمتی! گہرا غم! ایک نیک، پرہیزگار اور متقی خاتون اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہو گئیں۔ وہ محترم محمد سلام پاشا کی خالہ تھیں جو ایک سابق سرکاری افسر اور اپنی مفید اور شاندار سرگرمیوں کی وجہ سے اشرافیہ کے مشہور ترین نمائندوں میں سے ایک ہیں۔ وہ

Read more

جنت سے ایک خوان۔ یوسف ادریس کا افسانہ

منیات النصر کی گلیوں میں کسی کو بھاگتے ہوئے دیکھنا ایک عجیب بات تھی۔ وہاں لوگ کم ہی بھاگتے تھے۔ اگر عجلت کی کوئی وجہ نہ ہو تو کوئی کیوں بھاگے؟ قصبے میں وقت کا حساب منٹوں اور سیکنڈوں میں نہیں ہوتا تھا۔ ٹرینیں بھی روشنی میں چلتیں۔ پہلی طلوع آفتاب کے بعد ، دوسری جب سورج نصف النہار پر ہوتا اور تیسری غروب آفتاب سے پہلے۔ وہاں کوئی شور شرابا نہیں ہوتا تھا جو اعصاب کو برانگیختہ اور جلدی

Read more

قرض۔ برنارڈ میلامڈ کا افسانہ

عنوان: قرض۔ کہانی: برنارڈ میلامڈ۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ نانبائی لائب کے تندور میں روٹیاں ابھی بھوری نہیں ہوئی تھیں، لیکن خریدار اس کی اشتہا انگیز خوشبو سے وہاں چلے آئے تھے۔ لائب کی دوسری بیوی بیسی کاؤنٹر کے پیچھے تیاری میں مصروف تھی کہ اس کی نظر لوگوں کے درمیان ایک خستہ حال اجنبی پر پڑی جو گیند بازوں کی ٹوپی پہنے کھڑا تھا۔ اگرچہ وہ چاق و چوبند خریداروں کے درمیان کافی بے ضرر لگ رہا تھا، لیکن بیسی

Read more

جادوگر نے رکابی ہتھیا لی: نجیب محفوظ کا افسانہ

عنوان: جادوگر نے رکابی ہتھیالی۔ افسانہ: نجیب محفوظ۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ ایک دن ماں نے مجھ سے کہا۔ ”وقت آ گیا ہے کہ تم کام میں میرا ہاتھ بٹاؤ۔“ پھر جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے مزید کہا۔ ”یہ ایک پیاستر لو اور بازار سے کچھ پھلیاں خرید لاؤ، لیکن کھیل میں مت لگ جانا اور احتیاط کرنا کسی گاڑی سے ٹکرا نہ جاؤ۔“ میں نے رکابی لی، چپلیں پہنیں اور ایک دھن گنگناتے ہوئے دروازے سے باہر نکل گیا۔ جس

Read more

شیطان کی عدالت

مترجم: جاوید بسام۔ (سلاوی لوک کہانی) بس ایسا ہی ہوتا ہے۔ جہاں کچھ گڑبڑ ہو، جھگڑا ہو یا کوئی بدقسمتی ہو شیطان فوراً یاد آ جاتا ہے، لیکن شیطان دنیا کی سب سے بری چیز نہیں ہے۔ آپ، شیطان کو کم از کم اس کے سینگ، دو کھروں اور ایک لمبی دم کی وجہ سے فوراً پہچان لیتے ہیں۔ جب کہ ایک برے شخص کو پہچاننے میں ہمیشہ مشکل ہوتی ہے۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے آپ کے پاس آتا

Read more

بڑا مقدمہ – آئزک باشیوس سنگر کا افسانہ

تحریر: آئزک باشیوس سنگر۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ (کراچی) میرے والد کے پاس جو تنازعات حل ہونے کے لیے آتے تھے۔ وہ سب چھوٹے اور غیر اہم ہوتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ بیس یا شاید پچاس روبل کے، لیکن میں جانتا تھا کہ ایسے ربی بھی ہیں جو بڑی رقم کے لیے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جن میں ہزاروں روبل کا کاروبار ہوتا ہے۔ وہاں ہر فریق کی نمائندگی اس کے ثالث کے ذریعے کی جاتی تھی، لیکن

Read more

لانتوخ: آئزک بشواس سنگر کا افسانہ

(مغربی لوک کہانیوں میں ڈوموائے Domovoy ایک گھریلو ماورائی کردار ہے۔ وہ بڑے کانوں اور سینگوں والا عجیب الخلقت بونا ہے۔ مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ اس میں ایک نام لانتوخ بھی ہے۔ وہ گھروں میں چولہے کے پیچھے، تہہ خانوں اور سیڑھیوں وغیرہ کے نیچے رہتے ہیں۔ لانتوخ جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہے ان سے پیار یا نفرت کرتا ہے اور غیرجانبدار بھی ہوتا ہے۔ ) ”بس وہ سب لانتوخ ہی ہوتے ہیں۔“ چاچی ینٹل نے کہا۔

Read more

پرستار

تحریر: آئزک بشواس سنگر۔ مترجم: جاوید بسام۔ پہلے مجھے اس کی جانب سے ایک طویل ستائشی خط ملا۔ دوسری باتوں کے علاوہ اس نے اعتراف کیا تھا کہ میری تحریروں نے اسے خود شناسی میں مدد کی ہے۔ پھر اس نے فون کیا اور ہم نے ملاقات کا دن طے کیا۔ بعد ازاں پھر فون کی گھنٹی بجی، پتا چلا کہ اس دن اس نے ایک اور میٹنگ پہلے ہی طے کر رکھی تھی اور ملاقات کی دوسری تاریخ تجویز

Read more

گیبریل گارسیا مارکیز کی کہانی کا ترجمہ

پنجرہ تیار ہو گیا تھا۔ بلتزار نے عادت کے مطابق اسے دکان کے چھجے سے لٹکا دیا اور جب وہ ظہرانے سے فارغ ہوا تو پورا قصبہ اس بات پر متفق تھا کہ یہ دنیا کا سب سے خوبصورت پنجرہ ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے اتنے لوگ آئے کہ گھر کے سامنے ہنگامہ برپا ہو گیا۔ آخر بلتزار کو پنجرا ہٹا کر اپنی ترکھان کی دکان بند کرنا پڑی۔ ”تمہیں داڑھی مونڈنے کی ضرورت ہے۔ اس میں تم راہب لگ

Read more

داڑھی

تحریر: آئزک باشیوس سنگر۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ (کراچی) یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ ایک یدش زبان کا ادیب کبھی اپنے بڑھاپے میں امیر ہو سکتا ہے، لیکن بینڈٹ پپکو کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ وہ یک چشم، چیچک زدہ چہرے والا ایک مخنی سا بیمار آدمی تھا۔ جس کی ایک ٹانگ مڑتی نہیں تھی۔ طویل عرصے تک جسمانی بیماریوں سے نبردآزما رہنے کے باعث وہ اپنے ڈرامے مکمل نہیں کر سکا تھا، اس کی نظمیں کوئی نہیں پڑھتا

Read more