کینیا کے حالات: سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
کینیا ایک غریب ملک ہے جس کے حکمران بے حد امیر اور عام آدمی بے حد غریب ہے۔ کینیا کی پہچان اس کے ایتھلیٹس ہیں جو عالمی میراتھن میں شرکت کرتے اور بہترین پوزیشنیں حاصل کرتے ہیں۔ کینیا کے کینو اور کلارک دو ایسے ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے کینیا کا پرچم بلند کیا۔ کینیا کی دوسری پہچان گنے کی فصل ہے۔ اہل پاکستان اور کینیا کا فقط اتنا ہی رشتہ ہے کہ ہمارے کچھ سیاست دانوں نے چینی بیچ کر دنیا بھر کا چین خریدا تو ان کی نظر کینیا پر پڑی پھر انہوں نے کینیا میں بھی شوگر ملیں لگائیں۔ اب پاکستان کی طرح کینیا میں بھی شوگر مافیا کینیا کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے، لوٹ میں کینیا سرکار کو وافر حصہ ملتا ہے۔ کینیا میں بھی پاکستان کی طرح کرپشن اور رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ کینیا میں تمام حقوق اور سہولیات اشرافیہ اور اس کے گماشتوں کے لئے ہیں۔ سال ہا سال پیٹھوں پر تازیانے کھانے کے بعد بالآخر ہوش کے ناخن لئے۔ کینیا میں گزشتہ ماہ بجٹ پیش کیا گیا جس میں حکومت کی طرف سے ملک کی معیشت کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانے اور استحکام کی جانب گامزن کرنے کے لیے ٹیکسوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا۔ کینیا ٹیکس محصولات کا 61 فیصد قرضوں کی ادائیگی اور 37 فی صد یعنی ایک تہائی قرضوں کے سود کی مد میں خرچ ہوتا ہے۔
پٹرول، گیس، بجلی کے بل، کھانے پینے کی اشیاء، ادویات، رئیل اسٹیٹ، کھاد زرعی ادویات، خدمات کی فراہمی، برقی و زرعی آلات، کپڑے، جوتے، کتابیں، سٹیشنری غرض کہ عام آدمی کے استعمال کی ہر شے پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا۔ صدرِ ولیم روٹو نے کہا کہ حکومت کا فنانس بل ’ملک کو قرض سے نجات دلانے اور اس کی خودمختاری‘ کے لیے ضروری ہے۔ بجٹ ایوان میں پیش ہوا تو اپوزیشن نے بھرپور مخالفت کی پھر اچانک ملک و قوم کے ”وسیع تر مفاد“ میں حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کا فیصلہ ہوا اور کینیا کی پارلیمان نے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے باوجود نئے ٹیکس نافذ کرنے کی منظوری دی۔ ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مرد خواتین بوڑھے بچے سڑکوں پر آ گئے، براہ راست، احتجاج کا فیصلہ ہوا تو حکومت نے اس احتجاج کو کچلنے کا فیصلہ کر لیا۔ پولیس نے نصف شب گھروں پر چھاپے مارے گرفتاریاں کیں۔ عورتوں اور مردوں کے ساتھ ساتھ کم سن بچوں کو بھی بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور پولیس گاڑیوں میں اٹھا اٹھا کر پھینکا گیا۔ ریلیوں پر واٹر کینن سے گرم پانی برسایا گیا۔ گولیاں چلائی گئیں۔ بغاوت کے مقدمات بنائے گئے، لیکن ظلم کے تمام ضابطوں کے اطلاق کے باوجود احتجاج کا سیل رواں بڑھتا گیا۔
ملک گیر ہڑتالیں ہوئیں، بالآخر سرکاری املاک اور دفاتر کو آگ لگا دی گئی، سرکاری افسروں اور اہلکاروں نے چہروں پر ماسک چڑھا کر عوام کی نظروں سے بچنے کی کوششیں کی لیکن عوام نے انہیں ڈھونڈ نکالا اور کیفر کردار تک، پہنچایا۔ احتجاج کرنے والوں پر بے پناہ تشدد کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق ہو گئے۔ جاں بحق افراد کی لاشیں بہ حق سرکار ضبط کرنے پر ملک کے کونے کونے میں آگ بھڑک اٹھی۔ عوامی احتجاج کی شدت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا اور اندر گھس کر عمارت کے مختلف حصوں کو آگ لگادی، گورنر ہاؤس جلا دیا، سپریم کورٹ میں کھڑی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا، مظاہرین سینٹ میں گھس گئے، یہاں تک کہ ٹیکس بڑھانے کی تجویز دینے والے رکن پارلیمنٹ کی سپر مارکیٹ کو بھی آگ لگادی۔ اراکین پارلیمنٹ کو زیر زمین سرنگوں کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ چند مظاہرین نے پارلیمان کے اختیار کی علامت سمجھا جانے والا عصا بھی چرا لیا۔ ابتداء میں صدر نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ پر حملے اور لوٹ مار کے پیچھے جرائم پیشہ عناصر ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اپنی بجٹ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا فنانس بل ’ملک کی معیشت کو بہتر بنانے، قرض کی تکلیف سے نجات دلانے اور اس کی خودمختاری‘ کے لیے ضروری تھا۔ نوجوان نسل نے ان کی اس منطق کو ماننے سے انکار کر دیا، جس پر کینیا کے صدرولیم روٹو نے ”بل“ واپس لے کر ، قوم سے معذرت کی اور ریلیف کا وعدہ کیا۔ وہ کفایت شعاری کا ایک نیا پروگرام متعارف کروا کر معاشی استحکام حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس پروگرام کے تحت ان کے اپنے دفتر کے اخراجات میں بھی کٹوتی ہو گی۔ انھوں نے اس بات کو بھی قبول کیا کہ یہ مظاہرے عوامی غصے کا ایک جائز اظہار تھے۔
پاکستان کی طرح کینیا کی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول کی سطح پر معاہدے ہونے جس کا خمیازہ عوام کو ٹیکسوں کی بہتات کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اس لیے فنانس بل میں 27 ارب ڈالر کے نئے ٹیکس لگائے گئے۔ بھاری ٹیکسوں کے قانون کو پارلیمان نے منظور کر لیا اس لیے شہریوں کے احتجاج کا رخ پارلیمان کی طرف ہو گیا ایسے ہی کچھ مناظر ایک برس قبل سری لنکا میں دیکھنے کو ملے جو حکمرانوں کی کرپشن اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے ڈیفالٹ کر گیا تھا۔ معاشی حالات سے تنگ عوام نے حکمرانوں کے محلات پر ہلہ بول دیا تھا اور وزرا کو گاڑیوں سمیت ندی میں بہا دیا تھا۔
جن ممالک میں سیاسی قیادت کمزور اور منظم پرامن جدوجہد میں ناکام ہو وہاں ایسے پرتشدد ردعمل سامنے آتے ہیں جس کا تازہ منظر کینیا میں دکھائی دیا۔ پاکستان کے حکمرانوں، سیاست دانوں اور عوام کو اس واقعے سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اس لیے کہ پاکستان کے حالات کینیا سے بھی زیادہ سنگین ہیں، حالات کی تبدیلی کے لیے اگر کوئی پرامن اور منظم تحریک نہ چلائی گئی تو لاوا یہاں بھی پھٹ سکتا ہے۔ جن معاشروں میں امیر اور غریب کا فرق زمین و آسمان جیسا ہو جائے وہاں عوام کا آمادہ تشدد ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ معاشی اعتبار سے پاکستان کے حالات بھی سری لنکا اور کینیا سے مختلف نہیں فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان کے عوام تا حال صابر و شاکر ہیں۔ حکومت کا ہر ٹیکس مقدر کا لکھا ہوا جان کر زہر کا کڑوا گھونٹ پی رہے ہیں۔ حکیم ناصر کے بقول:
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصرؔ
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
نہ جانے کب تک عوام غم سہنے کا مزہ لیتے رہیں گے۔ خدا کرے کہ ہماری اشرافیہ نوشتہ دیوار پڑھ لے، سری لنکا اور کینیا جیسے مناظر دیکھنے سے پہلے حالات کی نزاکت کو سمجھ لیں اور نوجوان نسل کا پیمانہ اس طرح لبریز نہ ہو کہ:
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے۔
پاکستان میں بھی صبر و شکر کے یہ زمزمے تابکے بہہ سکتے ہیں۔ عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہوا تو پھر پاکستان میں بھی سری لنکا اور کینیا کے مناظر دکھائی دے سکتے ہیں۔ اس سے پہلے معاملات کو سدھارنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ حال ہی میں آزاد کشمیر کے عوام کا صبر کا پیمانہ چھلک پڑا تو حکمرانوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔ معیشت کی ہر بیماری کا علاج ٹیکس بڑھانا نہیں۔ عوام کی قوت برداشت تو جواب دیے رہی ہے۔ مہنگائی کا بوجھ سہنے والوں کی کمر کو زمین سے لگا کر ملک کو کس طرح معاشی خوشحالی دی جا سکتی ہے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ڈھول ریاست کے گلے میں لٹکا کر سرمایہ کار اور سیاحوں کو بھگایا جا رہا ہے۔ جس ملک میں سرمایہ کار اور سیاح نہ آئیں وہاں معاشی بدحالی کیسے خوشحالی میں بدل سکتی ہے۔ سارا انحصار آئی ایم ایف کے قرض اور کچھ مخیر ملکوں کی امداد پر ہے۔ گویا کہ پاکستان کو پیراسائٹ سٹیٹ بنا دیا گیا ہے جو صرف آئی ایم ایف کے مستعار خون پر اپنے دن گزار رہی ہے۔ ’
کیا کینیا میں بوتل سے باہر آئے عوامی غیظ و غضب کے جن کو دوبارہ قید کرنا ممکن ہو گا، اس کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔ اس واقعہ کی گونج کئی دوسرے ممالک میں بھی سنی جا سکتی ہے۔ افریقہ کی آبادی کا تقریباً تین چوتھائی 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور پاکستان میں کم عمر کی تعداد 60 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ جس کے باعث یہاں عوامی غیظ و غضب پھوٹ پڑا تو اس کی شدت کتنی ہو گی؟


