نام سے امکان تک
مجھ سے اکثر سوال پوچھا جاتا ہے کہ اردو ادب کی موجودہ دور میں کیا صورتحال ہے۔ماضی میں جھانک کر دیکھتے ہیں تو اک طویل بہترین نظم و نثر لکھنے والے کی قطار ملتی ہے۔بہترین افسانہ نگاروں سے لے کر آزاد نظموں اور غزل لکھنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے آنے سے کیا لکھنے والے کم ہو گئے ہیں؟ اور اس سے بھی اہم سوال کہ اچھے لکھنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟
کیا اردو ادب کا مستقبل روشن قیاس کیا جا سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب میں گذشتہ تین چار سالوں سے بہتر معنوں میں کھوجتا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔چند نووارد نام ایسے ہیں جو اچھا اور شوق سے لکھنے کی ہمہ تن جہد کر رہے ہیں۔اس پہ طرفہ تماشا کہ ابھی وہ زیر تعلیم ہیں یا ابھی باقاعدہ جابز میں سیٹل نہیں ہو سکے ہیں۔ان چند نوجوان آوازوں کا تعارف احباب کی نذر کر رہا ہوں۔ جنہیں پڑھ کر مجھے محسوس ہوا ہے کہ اردو ادب میں تازہ ہوا بھی چلے گی۔اور یہ آوازیں مستقبل میں مزید مستحکم اور تناور درختوں کی مانند ابھر کر سامنے آئیں گی۔
حمزہ ہاشمی سوز بھی ایک ایسی تازہ آواز ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے آل پاکستان سی ایس ایس مقابلہ میں اٹھارویں پوزیشن کلیئر کی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوان کی عمر بمشکل اٹھائیس سال ہے اور ابھی تک ان کی دو شایع شدہ کتابیں ردائے خورشید اور بادِ سرکش میری نظر سے گزر چکی ہیں۔شعر گوئی کے معاملہ میں ان کی طبیعت میں فیض احمد فیض اور احمد فراز کے اثرات ملتے ہیں۔ وہیں انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کی وجہ سے برطانوی ادیبوں سے بھی متاثر معلوم ہوتے ہیں۔
اک جگہ لکھتے ہیں:
کتنی مشکل سے تقاضا پس گفتار کھلا
تو کہیں جا کے یہ پیرایہ اظہار کھلا
کون وارد ہوا بستی میں کہ سب سوداگر
چھوڑ کے آئے ہیں بازار کا بازار کھلا
اور ایک دوسرا شعر بطور نمونہ پیش خدمت ہے:
ہاتھ جس پر وہ رکھے گا وہی یوسف اس کا
جنس وافر ہیں بہت گرمیِ بازار کے ساتھ
صدف شاہد ورچوئل دنیا میں آزاد نثری نظموں کے حوالہ سے اچھا لکھنے کی کامیاب کوشش کر رہی ہیں۔ان کا تعلق ناروال سے ہیں اور ابھی زیر تعلیم ہیں۔ مگر کیا کہتے ہیں کہ ایک بار ادب کا چسکہ لگ جائے تو جان جائے مگر یہ نہیں جاتا ہے۔حال ہی میں ان کی نظم ’زندگی سراب سی‘ تسطیر میں شایع ہوئی ہے۔ میں نے ان کے مختصر افسانوں کا مطالعہ بھی کیا ہے۔ان کے نثری کام میں سوشل ریئل ازم کی کامیاب کوشش ملتی ہے۔ جب کے نظموں میں امرتا پریتم سے کافی حد تک متاثر معلوم ہوتی ہیں۔اک جگہ پہ لکھتی ہیں:
یہ مورتیاں
جو پائل پہنے آتی کنیا کماریوں کو
بہت غور سے دیکھتی ہیں
ان کا سر اپنے سامنے جھکا دیکھ کر
خوش ہوتی ہیں
یہ مورتیاں بیاہی عورتیں ہیں
انہیں گاڑھ دیا گیا ماضی میں
بغاوت کی وجہ سے
مورتی کے سامنے ناریل پھوڑتی کنیا کماری
ناریل خالی نکلنے پہ
دھتکار دی جاتی ہے
اس کا کلیجہ آنسو ٹپکاتا ہے
اور وہ سوکھے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا لیپ دیتی ہے
یہ کنیا کماریاں نئی نویلی دلہنیں ہیں
سولہ سنگھار کیے یہ عورتیں
خالی ناریل کو دل میں بند کیے
ہر لمحہ اس پہ آہوں کا پانی چڑھاتی ہیں
گھٹ گھٹ کر مرتی ہیں
اور مر مر کر جیتی ہیں
یہ ساڑھی پہنے ہوئے
خالی کوکھ میں دھتکار کا درد برداشت کرتی عورتیں
کل کی ظالم مورتیاں ہیں
غالب امکان ہے کہ امسال ہی ان کی پہلی کتاب ہمیں پڑھنے کو ملے گی۔
تیسری اہم آواز صفی ربانی کی ہے جو اسلام آباد میں اردو لیکچرار کے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ادب میں طبع آزمائی کر رہے ہیں۔اس نوجوان کو اکثر ادبی محافل میں پراعتماد انداز میں شعر کہتے ہوئے اور پھر داد سمیٹتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ میری ناقص رائے میں کلام بھرپور لکھ چکے ہیں مگر اولین کتاب کی اشاعت ابھی باقی ہے۔اک جگہ لکھتے ہیں:
یارو اغیار ادھر کھینچ رہے مجھ کو
اور ادھر ایک صدا آؤ فنا کی جانب
اک دوسری جگہ صفی رقمطراز ہیں:
درخت چلنے لگے تھے ہوا رکی ہوئی تھی
میان دشت کوئی زندگی پڑی ہوئی تھی
وہ بوند بوند پگھلنے لگی جدائی کی شام
مرے خیال میں پتھر کی جو بنی ہوئی تھی
میں گاؤں زاد نہ سمجھا وفا کے معنی کو
وہ شہر زادی تو اچھی بھلی پڑھی ہوئی تھی
یہیں جہاں مرے خوابوں کی راکھ باقی ہے
یہیں کہیں مری ڈائری پڑی ہوئی تھی
چکوال سے تعلق رکھنے والے سید عاطف کاظمی نے حال ہی میں اپنی تازہ کتاب بطور خاص مجھے روانہ کی ہے۔ مذکورہ کتاب کا عنوان ’آجڑی‘ ہے اور پنجاب بالخصوص چکوال کے رہن سہن پہ بھرپور انداز میں اظہار کیا ہے۔ وہاں کی ثقافت، لسانی اشارے اور استعارے اس معاشرتی ناول کو جاندار بناتے ہیں۔ خدا پرست کے قلمی نام سے مشہور لکھاری نے افسانہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کو آزمایا ہے۔ مجھے بطورِ خاص ان کے کام میں بولڈ موضوعات کو طریقے سے چھیڑنا پسند آیا ہے۔ قوی امید ہے کہ سماج کے ان کونے کھدروں کو کھرچ کر وہ ہمارے سامنے لائیں گے جو سماج کی بڑھوتری میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اپنے حالیہ ناول میں اک اہم نکتہ قارئین تک پہنچاتے ہیں:
جیدی: لوگ مسجد کو دلہن بناتے رہے اور مفلس کی بیٹی کنواری رہی۔
جوابا ناول کا اک اہم کردار مندری کہتا ہے:
تو کون سا مسجد کے پنکھے بیچ کر بہن کو داج دے گا؟ سیدھا کہو چرس نہیں ہے۔
(بحوالہ: آجڑی صفحہ نمبر 80)
آخری اہم آواز میمونہ مونشاہ کی ہے۔ زیادہ تر نظمیں لکھتی ہیں اور کئی کام کو لیب میں بھی کیے ہیں۔ ان کی آواز میں حساسیت ہے جسے ہم ان کی کتاب ”سفنوں کے بکھرتے رنگ” میں پڑھ کر ادبی حظ اٹھا سکتے ہیں۔کلر کہار سے تعلق رکھنے والی شاعرہ کی خاص بات یہ ہے کہ آپ بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کیلیے بھی ادب تخلیق کر رہی ہیں۔راپنزل کے بال (بچوں کی کہانیاں) بھی اسی سلسلہ کی اک کامیاب کوشش ہے۔
میمونہ اک جگہ پہ لکھتی ہیں:
میں کہ اک ویران باغ
جسے اپنی اجڑی ہوئی حالت میں بسے رہنے کی عادت ہے
مجھے خود پر اوڑھی گئی
بوسیدگی سے
گھن محسوس نہیں ہوتی
میری یادوں میں وہ سہانہ وقت زندہ ہے
جب مجھ میں ہی لگے پودوں پر
ڈھیروں پھول کھِل کر جواں ہوئے تھے
ان اہم مگر نئے ناموں کو اکثر پڑھتے ہوئے مجھے اردو ادب کا مستقبل تروتازہ و پڑھے اذہان کے سپرد ہوتا نظر آ رہا ہے۔
گو سفر طویل ہے اور ادبی میدان میں لمبی اور بہترین رفتار سے بھاگنے والے شہسوار ہی کامیاب ہوں گے۔
ہاں ان ناموں کو دیکھ،پڑھ اور جان کر بہتر مستقبل کی امید رکھنے میں قطعی مضائقہ نہیں ہے۔


