کیا بائیڈن امریکی صدارتی دوڑ سے باہر ہو جائیں گے؟


امریکہ میں جمعہ کی رات ہونے والے پہلے صدارتی مباحثہ کے بعد صدر جو بائیڈن پر انتخابی مہم سے علیحدہ ہونے کا دباؤ بڑھنے لگا ہے۔ سی این این کے تحت منعقد ہونے والے اس مباحثہ میں صدر بائیڈن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مناسب مقابلہ کرنے اور اپنا سیاسی پیغام واضح طور سے سامنے لانے میں ناکام رہے تھے۔

اس بحث میں بائیڈن کے طرز عمل، لڑکھڑانے اور بھول جانے کے متعدد مواقع کی وجہ سے امریکہ میں یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کو کوئی دوسرا تازہ دم اور چست و چالاک امیدوار میدان میں لانا چاہیے۔ البتہ اب یہ معاملہ پارٹی سے زیادہ جو بائیڈن کے ہاتھ میں ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں مباحثہ کے دوران میں جو بائیڈن کے طرز عمل کو لاپرواہی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس مباحثہ میں صدر بائیڈن چار سال والے پہلے جیسے نہیں تھے۔ وہ اگر قوم کی کوئی خدمت کر سکتے ہیں تو ان کا صدارت کی دوڑ سے علیحدہ ہونا بہت بڑی عوامی خدمت ہو گی‘ ۔ کسی بڑے اخبار کی طرف سے ایسا سخت حملہ پرائمری جیت جانے والے ایک صدارتی امیدوار اور ملک کے صدر کی صلاحیت اور کارکردگی پر متعدد سوالات سامنے لاتا ہے۔ یہ سوالات محض میڈیا ہی کی حد تک زیر بحث نہیں ہیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی، جو بائیڈن کی حمایت کرنے والے مشہور لوگ اور ان کی مہم کے لیے فنڈز فراہم کرنے والے گروہ بھی اس قسم کی پریشانی اور بدحواسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

آٹھ ہفتے پہلے تک جو بائیڈن انتخابی فنڈ اکٹھا کرنے میں ڈونلڈ ٹرمپ سے کہیں آگے تھے۔ وہ اپنے مدمقابل کے برعکس ایک سو ملین ڈالر زیادہ فنڈ جمع کرچکے تھے لیکن تازہ ترین صورت حال میں بائیڈن کا انتخابی فنڈ ٹرمپ کے مقابلے میں 28 ملین کم تھا۔ ٹرمپ کی مہم کے پاس اس وقت 240 ملین ڈالر ہیں لیکن بائیڈن مہم کے پاس 212 ملین ڈالر کے فنڈ ہیں۔ اور سب سے پریشانی کی بات یہ ہے کہ دو دن پہلے ہونے والے مباحثہ کے بعد اب اہم ڈونرز کی طرف سے فنڈز روکنے کا اقدام دیکھنے میں آیا ہے۔

اگرچہ بائیڈن پر صدارتی مہم سے باہر ہونے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور ایک اطلاع کے مطابق ان کے متوقع جانشین اگرچہ بظاہر جو بائیڈن سے مکمل وفاداری کا اعلان کر رہے ہیں لیکن درپردہ پارٹی حلقوں میں ان اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے کہ بائیٖڈن کے علاوہ کسے صدارتی امیدوار بنایا جائے تاکہ ڈیموکریٹک پارٹی ٹرمپ کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرسکے۔ اس کھینچا تانی میں ممکنہ طور پر یہ پوزیشن حاصل کرنے کے خواہاں افراد واشنگٹن میں لابی کرنے میں سرگرم ہیں۔ تاہم میڈیا مباحث اور پارٹی حلقوں کی شدید تنقید کے باوجود اس بات کا حتمی فیصلہ بہر حال جو بائیڈن کو ہی کرنا ہے کہ وہ انتخابی مہم سے دست بردار ہو کر کسی جواں سال امیدوار کو میدان میں اترنے کا موقع دیں۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ جو بائیڈن ہمیشہ سے سخت گیر اور ہٹ دھرم رہے ہیں۔ وہ دوسرے کی بات سن کر یا دباؤ میں اپنا موقف تبدیل نہیں کرتے۔ اسی لیے جمعرات کی رات کو مباحثہ، میں شدید ناکامی کے بعد جمعہ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن نے واضح کیا کہ وہ انتخابات میں پوری مستعدی سے حصہ لینے کے لیے تیار ہیں کیوں کہ وہ نہ صرف کامیاب ہوسکتے ہیں بلکہ صدر کے طور پر بہتر خدمات بھی انجام دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اگر دل و جان سے یہ یقین نہ رکھتا کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں تو کبھی صدارتی امیدوار بننے پر راضی نہ ہوتا۔ مجھے پتہ ہے کہ میں اپنی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے پوری کر سکتا ہوں‘ ۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ بائیڈن کے علاوہ بہت سے لوگ 27 جون کے مباحثہ کے بعد ان کے اس دعوے کی تائید پر تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ بائیڈن کی انتخابی مہم کی انچارج نے کہا ہے کہ ’یہ مباحثہ ایک بری رات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ہمیں اب آگے دیکھنا ہے‘ ۔ لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت میں جو عناصر جو بائیڈن کی انتخابی مہم سے دست برداری اور کسی نئے امیدوار کو سامنے لانے کی بات کر رہے ہیں، انہیں سینیٹ میں اکثریتی لیڈر چک شومر کی حمایت بھی حاصل ہے۔ حالانکہ شومر بائیڈن کے چالیس سال پرانے دوست ہیں اور سیاسی طور سے ان کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تاہم جمعرات کو رات گئے ہونے والے مباحثہ میں بائیڈن کی کارکردگی دیکھنے کے بعد ان کے بہت سے حامی بھی ان کی کامیابی کے بارے میں شبہات کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ قانونی مشکلات کا شکار ہونے اور ایک دیوانی مقدمہ میں عدالتی جیوری میں مجرم ٹھہرائے جانے کے باوجود بائیڈن جیسے کمزور امیدوار سے سبقت لے جائیں گے۔

واضح رہے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب امریکی تاریخ میں سخت ترین مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے دونوں امیدواروں کے درمیان ایسا سخت مقابلہ دیکھنے میں نہیں آیا تھا اور نہ ہی ٹرمپ جیسے امیدوار کی صورت میں امریکی نظام کو ایسا شدید خطرہ لاحق تھا کہ اسے روکنے کی شدید ضرورت محسوس کی جاتی۔ ٹرمپ قانونی مشکلات کے باوجود اپنی ذاتی مقبولیت کی وجہ سے ری پبلیکن پارٹی کے پرائمری انتخاب میں شاندار کامیابی حاصل کر کے پارٹی کے امیدوار بننے کے لیے تیار ہیں۔ اسی طرح جو بائیڈن نے بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمریوں میں کامیابی کے بعد صدارتی امیدوار نامزد ہونے کے لیے بڑی تعداد میں ڈیلگیٹ جیت چکے ہیں۔ البتہ دونوں پارٹیوں کی کانگرس بلاترتیب جولائی اور اگست میں منعقد ہو گی جن کے دوران دونوں کو باقاعدہ امیدوار نامزد کیا جائے گا۔

اس پس منظر میں اس بات پر حیرت کا اظہار بھی سامنے آیا ہے کہ روایت سے برعکس صدر جو بائیڈن انتخابات سے کئی ماہ پہلے صدارتی مباحثہ پر کیوں راضی ہو گئے۔ عام طور سے صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثے انتخابات سے نزدیک ہوتے ہیں تاکہ امیدوار غیر یقینی ووٹروں کو قائل کرنے کی کوشش کرسکیں۔ البتہ مباحثہ میں بائیڈن کی ناقص کارکردگی کے بعد اس حوالے سے نت نئی قیاس آرائیاں سننے میں آ رہی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ بائیڈن سے کوئی لغزش ہو جائے تو ان کی انتخابی مہم کے پاس اس کی اصلاح کے لیے کچھ وقت موجود ہو۔ بائیڈن اور ان کی انتخابی مہم کے نمائندے بظاہر اسی کوشش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک یہ رائے بھی سامنے لائی جا رہی ہے کہ جو بائیڈن نے جان بوجھ کر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاکہ وہ اس عذر پر صدارتی دوڑ سے باہر ہوجائیں اور کوئی تازہ دم امیدوار میدان میں آ کر ٹرمپ کی انتخابی مہم اور ری پبلیکن پارٹی کو حیران کردے۔

البتہ مباحثہ میں بائیڈن کی منمناہٹ، لڑکھڑاہٹ اور بھلکڑ پن کی وجہ سے ان کی صحت اور صلاحیت کے بارے میں سنجیدہ مباحث ہونے لگے ہیں۔ وسیع تر عوامی حلقے بھی سنجیدگی سے اس پہلو سے غور کرنے پر مجبور ہیں کہ 81 سال کی عمر اور متعدد طبی مسائل کی وجہ سے کیا جو بائیڈن چار سال تک صدارتی ذمہ داریاں پوری کرنے کے اہل بھی ہیں۔ یہ بحث سامنے لانے والے عناصر کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف ایک مباحثے یا انتخاب جیتنے کا نہیں ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا جیتنے والا شخص آئندہ چار سال تک ہوش و حواس اور عمدہ طریقے سے امریکہ جیسے بڑے ملک کی سربراہی کرنے کا اہل بھی رہے گا۔ اس بارے میں دوست دشمن یکساں طور سے پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔

اگرچہ صدر بائیڈن نے انتخابی دوڑ سے باہر ہونے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ اس حوالے سے آئندہ چند روز بے حد اہم ہیں۔ بائیڈن کے علیحدہ ہونے کی خواہش رکھنے والے عناصر کا خیال ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اس لیے متبادل امیدوار کا فیصلہ جلد ہوجانا چاہیے تاکہ متعلقہ امیدوار ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے مناسب حکمت عملی تیار کرسکے اور عوام میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کی بے یقینی دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز ہو سکے۔ البتہ اس بات پر سب ہی متفق ہیں کہ جو بائیڈن اگر رضاکارانہ طور سے صدارتی دوڑ سے علیحدہ نہیں ہوتے تو متبادل امیدوار لانے کا کوئی طریقہ موثر نہیں ہو سکتا۔ پارٹی کانگرس میں جو بائیڈن کو ووٹ دینے کے لیے منتخب ہونے والے ڈیلگیٹ روایتی طور سے صرف انہیں ہی ووٹ دے کر پارٹی کا امیدوار نامزد کرنے کے پابند ہیں۔ اگرچہ تھیوری کی حد تک یہ ڈیلی گیٹ اپنے ’ضمیر کے مطابق اور خود کو منتخب کرنے والے لوگوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے ووٹ دینے کے پابند ہیں‘ ۔ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگر موجودہ صورت حال میں پارٹی ڈیلگیٹس کی اکثریت بائیڈن کی بجائے کسی دوسرے کو صدارتی امیدوار بنانا چاہے تو اس کی راہ میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے لیکن مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہو گا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اس وقت جو بائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن کے علاوہ سابق صدر باراک اوبامہ اور ان کی اہلیہ مشل اوبامہ ہی بائیڈن کو صدارتی دوڑ سے دست بردار ہونے پر راضی کر سکتے ہیں۔ وہ ان کے علاوہ کسی کی بات نہیں سنیں گے۔ اس لیے یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ جو بائیڈن کی کارکردگی سے مایوس ہونے والے لوگ اب باراک اوبامہ کو ساتھ ملانے اور انہیں جو بائیڈن سے بات کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوششیں کس حد تک بارآور ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں ہی صورت حال واضح ہو سکے گی۔ البتہ اگر جو بائیڈن نیویارک ٹائمز اور دیگر ’خیر خواہوں‘ کے مشورے پر صدارتی دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں تو بھی ڈیموکریٹک پارٹی کا آئندہ امیدوار نامزد کرنے کا عمل سادہ اور آسان نہیں رہے گا۔ خیال ہے کہ بائیڈن اگر دوڑ سے باہر ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ڈیموکریٹک پارٹی 4 ہزار کے لگ بھگ ڈیلی گیٹس کو مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کی آزادی دینے پر مجبور ہوگی۔ تاہم اس صورت میں متعدد امیدوار ان ڈیلی گیٹس کی حمایت کے لیے تگ و دو کر سکتے ہیں۔ یہ صورت حال بھی پارٹی اور اس کے امیدوار کو کمزور کرنے کا سبب بنے گی۔

یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بائیڈن سے جلد از جلد کوئی مناسب فیصلہ کرنے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ امید وار کے بارے میں اتفاق رائے پیدا ہو سکے۔ بائیڈن کے دست بردار ہونے کی صورت میں نائب صدر کامیلا ہیرس کے علاوہ کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم اور مشی گن کی گورنر گریچن وٹمیر ممکنہ امیدوار منتخب ہوسکتے ہیں۔ ان میں کامیلا ہیرس کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ ان کی عوامی مقبولیت کی ریٹنگ بہتر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ خاتون ہونے کے علاوہ وہ سیاہ فام ہیں جو امریکی انتخابات میں ایک منفی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح اصل مقابلہ کیلی فورنیا اور مشی گن کے گورنروں کے درمیان ہو گا۔ البتہ ایسا کوئی دنگل دیکھنے کے لیے جو بائیڈن کے اس اعلان کا انتظار کرنا ہو گا کہ وہ نومبر کے صدارتی انتخاب میں امیدوار نہیں ہوں گے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali