شاہ صاحب کی کرامات
روجھان میں میرا قیام پانچ ماہ تک رہا۔ مرغوں کی لڑائیاں کروانا لوگوں کا مرغوب مشغلہ تھا۔ جس جگہ مرغے لڑ رہے ہوتے وہاں تماشبینوں کی کافی تعداد اپنے اپنے مرغوں کو بغل میں دبائے موجود نظر آتی۔ آپ یہ بات سن کر حیران ہوں گے کہ وہ لوگ اپنے اپنے مرغوں کو اس لڑائی میں استعمال کیے جانے والے داؤ پیچ سے واقفیت حاصل کروانے کے لیے یہاں لایا کرتے تھے۔ شوٹنگ والی بال بھی یہاں کا مقبول عام کھیل تھا۔یہاں پر بھی تماشائی اپنے اپنے مرغوں کے ساتھ موجود ہوتے تاکہ وہ بھی اس کھیل کو دیکھ لطف اندوز ہو سکیں۔
طرز تعمیر میں لمبی لمبی بیرکیں کھڑ کیوں کے بغیر صرف ایک دروازے پر مشتمل ہوتیں۔ جن کے اندر دن کو بھی رات کا گمان گزرتا۔ ان دنوں عطاء ﷲ عیسیٰ خیلوی ایک ابھرتے ہوئے گلوکار کی حیثیت سے متعارف ہو رہا تھا۔ سارا دن چائے خانوں اور ہوٹلوں میں بلند آواز میں اس کے گانے سنے جا رہے ہوتے۔ عیسٰی خیلویٰ کی بہت سی ناکام عشقیہ داستانیں بھی زبان زد عام تھیں۔ اور اس کی آواز میں پائے جانے والے قدرتی سوز و گداز اور شاعری میں موجود ہجر و فراق کو بھی عموماً انہی داستانوں کا شاخسانہ قرار دیا جاتا۔
ہمارا قیام سکول ہوسٹل میں تھا۔ جو دو لمبی لمبی بیرکوں پر مشتمل تھا۔ ایک میں پانچ چھ غیر مقامی اساتذہ کرام رہائش پذیر تھے۔ اور ایک ہیڈماسٹر صاحب کے زیر استعمال تھی۔ ہیڈماسٹر ہر وقت دو لٹھ بردار سکول ملازمین کو اپنے باڈی گارڈ کی حیثیت سے اپنے ساتھ رکھتے جو رات کو بھی اس کے سو جانے کے بعد اس کی چارپائی کی پائنتی اور سرہانے موجود رہتے۔ حالانکہ یہاں پر مکمل پر سکون ماحول تھا اور اس چیز کی قطعاً ضرورت نہ تھی بلکہ یہ بات بڑی حد تک مضحکہ خیز سی معلوم ہوتی تھی۔
میری ہیڈ ماسٹر سے پہلے دن سے ہی بگڑ چکی تھی وجہ تسمیہ یہ تھی کی جب میں نے سکول کو جائن کیا تو موصوف موجود نہیں تھے۔میں نے 20 دسمبر کو جائن کیا 21 کو وہاں قیام کیا اور 22 دسمبر کو واپس گھر آ گیا جبکہ موسم سرما کی تعطیلات کے لیے سکول 25 دسمبر سے یکم جنوری تک بند کیا جانا تھا۔ اور میری واپسی بھی پہلی جنوری کی بجائے غالباً تین یا چار کو ہوئی تھی۔ سردیوں کی تعطیلات کے بعد جب میں واپس سکول پہنچا تو شاہ صاحب دفتر میں موجود تھے ۔
پچاس پچپن کے پیٹے میں چھوٹی چھوٹی داڑھی، مائل با پستی قد اور گندم گوں رنگت کے ساتھ عام سی شخصیت کے مالک تھے۔ میں نے بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن جواب برفانی قسم کی سرد مہری سے دیا گیا۔ حاضری رجسٹر پر حاضری لگانے کے بعد میں اپنے سائنس روم میں آ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد نائب قاصد کرموں ایک آرڈر بک کے ساتھ آ دھمکا۔ آرڈر بک پر ہماری طرف سے کی گئی محکمانہ بے ضابطگیوں کی ایک طویل فہرست درج تھی۔
چھٹیاں ہونے سے پہلے گھر چلے جانا۔ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد دو دن کی تاخیر سے واپس آنا۔ سٹیشن لیو (station leave) لیے بغیر ڈیوٹی کے مقام سے رخصتی ۔غیر حاضر ایام کیلئے چھٹی کی درخواست نہ کرنا۔ غیر حاضری کے بارے میں ہیڈماسٹر دفتر کو آگاہ نہ کرنا جائن کرتے وقت سکول کے عملے کو غیر قانونی طور پر دھمکانا۔ اس آرڈر بک کے مطابق تو چھٹیوں میں بھی مجھے گھر جانے کے لیے ہیڈ ماسٹر صاحب سے ایک بار پھر چھٹی (station leave) لینا درکار تھی۔ میں نے تین چار بار بغور آرڈر بک پڑھی اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچا کہ تعداد میں اس قدر زیادہ اور مقدار میں اس قدر بڑے بڑے اور گھناؤ نے جرم مجھ سے سرزد ہوچکے ہیں کہ بندہ نا چیز، حقیر پر تقصیر ان کے دفاع کی صلاحیت سے محروم ہے۔
اس لیے اس سلسلے میں خاموشی ہی بہتر ہے۔ میں نے آرڈر بک بند کر کے کرموں کے حوالے کر دی۔وہ بولا کہ شاہ صاحب فرماتے تھے کہ جواب لے کر آنا ہے۔ میں نے کہا کہ شاہ صاحب سے کہو میں یہ نوکری چھوڑ کر آج ہی واپس جا رہا ہوں۔ دس منٹ کے بعد شاہ صاحب میرے سامنے بیٹھے تھے۔ اور ایک بزرگ کی حیثیت سے نوکری کے گر بتا رہے تھے۔ اور میں بڑی بیزاری سے یہ سب کچھ سن رہا تھا۔ بہر حال مک مکا اس بات پر ہوا کہ وہ آرڈر کینسل کر دیں گے اور میں اپنا واپسی کا پروگرام تبدیل کر دوں گا کیونکہ دو تین ماہ بعد ہی دسویں جماعت کا امتحان ہونے والا تھا اور میرے علاوہ سائنس پڑھانے کے لیے کوئی ٹیچر موجود نہیں تھا۔ اکبر خان ہمارے سکول میں زراعت ٹیچر تھا۔ ایک دن شاہ صاحب نے اسے دفتر بلایا۔اور کہا کہ اکبر خان تمہیں اب جیل جانے سے کوئی نہیں بچا سکتا اس نے حیرانگی سے دریافت کیا کہ شاہ صاحب میرا قصور شاہ صاحب نے فرمایا کہ سکول کی سالانہ انسپکشن میں صرف ایک ہفتہ باقی ہے اور پورے سکول میں سبزہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے تمہارا بچنا محال ہے۔
وہ بولا شاہ صاحب بس اتنی سی بات ہے ۔ آپ بے فکر ہوجائیں معائنے والے دن سارا سکول سرسبز و شاداب نظر آئے گا۔ اس کے اس دعوے پر سبھی حیران تھے کہ ایک ہفتے میں یہ سب کس طرح ممکن ہو گا۔ بہر حال دن گزر رہے تھے۔ اور اکبر خان بے فکری سے پھر رہا تھا۔ انسپکشن سے ایک دن پہلے تک حالت جوں کی توں ہی تھی۔ اس کے باوجود اکبر خان سب کو تسلیاں دیتا پھر رہا تھا۔ جب انسپکشن والے دن ہم سکول میں داخل ہوئے تو ماحول کو یکسر بدلا ہوا پایا۔
گراؤنڈ کے چاروں طرف چھوٹے بڑے پیڑ اور پودے باقاعدہ نالیاں بنا کر لگائے گئے تھے۔ اور گراؤنڈ کے اندر بھی ہری بھری گھاس اُگی ہوئی تھی۔ وہ ساری رات ہی سکول ملازمین اور کچھ دوسرے مزدوروں کے ساتھ اس کام میں مصروف رہا۔ سکول کی صورت حال بہتر نظر آ رہی تھی۔ لیکن جوں جوں وقت گزر رہا تھا۔ پیڑ اور پودوں کے پتے مرجھائے مرجھائے سے لگ رہے تھے۔ وہ بار بار شاہ صاحب کے پاس جاتا کہ افسران بالا کو بلوانے میں جلدی کریں۔ اس وقت موبائل تو موجود نہیں تھے۔
فون پر پتہ چلا کہ متعلقہ افسران اپنے دفتر سے معائنہ کے لیے نکل چکے ہیں۔ سکول پہنچتے پہنچتے دوپہر ہوچکی تھی اور درختوں کے پتوں کی حالت بھی کافی غیر ہوچکی تھی۔ بلکہ اب تو اکا دکا زمین پر گرنے بھی شروع ہوچکے تھے۔ صاحب معائنہ سکول میں داخل ہوئے شاہ صاحب نے گیٹ پر ان کا استقبال کیا ۔ دونوں افسران باتوں میں مشغول دفتر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ چلتے چلتے اچانک ہی معائنہ افسر نے ایک بڑے سے پیڑ کو ہاتھ سے پکڑ کر اوپر کھینچا تو وہ نہایت ہی تابعداری سے اوپر کھینچتا ہی چلا آیا۔
موصوف نے پہلے اس پیڑ کو بغور دیکھا۔ پھر شاہ صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا۔ شاہ صاحب بڑی کرامات ہیں آپ کے پاس تو جڑوں کے بغیر ہی پودے اگائے ہوئے ہیں۔عام تام سکولوں اور کھیتوں کھلیانوں میں پودوں کی جڑیں پہلے بنتی ہیں اور تنا اور پتے بعد میں لیکن آپ کے یہاں تو لگتا ہے کہ جڑ آخر میں ہی کہیں جا کر بنے گی اور اس معائنے کے بعد اکبر خان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا اندازہ آپ بھی بخوبی لگا سکتے ہیں۔


