جرمنی میں نیا نیشنلٹی ایکٹ


جرمنی میں گزشتہ جمعرات، مورخہ پچیس جون سے نیا نیشنلٹی ایکٹ نافذالعمل ہو چکا ہے۔
اس قانون کے تحت، جرمنی میں رہنے والے غیر ملکیوں کو ، جرمنی میں آٹھ سالہ قیام کی بجائے اب پانچ سالہ قیام کے بعد جرمن شہریت مل سکے گی بشرطیکہ وہ نیشنلٹی ایکٹ میں لکھی گئیں تمام شرائط پر پورا اتریں۔ قانون میں لکھا گیا ہے کہ ہر غیر ملکی کو جلد از جلد نیشنلٹی ملنی چاہیے۔

لیکن عملی طور پر بہت سے غیر ملکی تمام شرائط پر پورا اترنے کے باوجود کئی کئی مہینوں سے یہ موسٹ ڈیزائرایبل ڈاکومنٹ یعنی جرمن پاسپورٹ، حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ فون پہ فون، ایمیلوں کی بھرمار کے باوجود ان کی خواہشات پوری نہیں ہو رہی ہیں۔ جرمنی کے تمام شہروں کے انتظامی دفتروں میں پرسونل عملے کا شدید فقدان ہے۔ میرے ذاتی جاننے والے غیر ملکیوں کی، جنہوں نے گزشتہ سال، سابقہ نیشنلٹی ایکٹ کی رو سے جرمن شہریت کے لئے درخواستیں دی تھیں، ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کل جرمنی کے اکثریتی پبلک ڈیلنگ دفتروں میں درخواست کنندہ کو صرف اپائنٹمنٹ لے کر ہی اپنا کیس فالو کرنا ہوتا ہے۔ اپائنٹمنٹ کی تاریخ لینے کے لئے مہینوں پہلے دفتر میں رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ بہت سے شہروں کے انتظامی اداروں نے امسال 2024 کے لئے اپائنٹمنٹس دینا بھی، کوٹہ پورا ہونے اور /یا پرسونل عملے کی کمی کے باعث، بند کر دیا ہے اور ابھی سے ہی 2025 کے لئے لوگوں کی درخواستیں لے کر اپائنٹمنٹس دینا شروع کیا ہوا ہے۔

یہ نیشنلٹی حاصل کرنے والوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ دوسرے تمام کاموں کے لئے بھی یہی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ صحت کے حوالے سے یا دوسرے معاملات ہوں ہر طرف مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ جو غیر ملکی اپنے فیمیلی ری یونین نامی قانون کے تحت اپنے بیوی بچوں کو اپنے آبائی ملکوں سے، جرمنی بلوانا چاہتے ہیں انہیں سالہا سال انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جرمنی کی 83.25 ملین کی کل آبادی میں تقریباً چودہ فیصد غیر جرمن باشندے بستے ہیں۔ ان میں تقریباً پانچ اعشاریہ تین ملین، کم از کم دس سال سے یہاں مقیم ہیں۔ سال 2022 میں 168545 غیر ملکیوں نے جرمن شہریت کے لئے درخواستیں دی تھیں۔ درخواستیں دینے کی انتہائی کم شرح کی وجہ سے، موجودہ سہ جماعتی حکومت کو نیشنلٹی ایکٹ میں ترمیم کر کے نیا نیشنلٹی ایکٹ بنانا پڑا۔

نئے نیشنلٹی ایکٹ کے تحت اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
ضروری نہیں کہ آپ جرمن شہریت لینے کے بعد اپنی سابقہ شہریت ہر صورت میں کھو دیں گے۔

سابقہ آٹھ سال قیام کی شرط کو پانچ سال کر دیا گیا ہے۔ بلکہ جو غیر ملکی، جرمنی میں جرمن اقدار کے مطابق زندگی گزار رہا ہو گا اسے تین سال کے بعد بھی جرمن شہریت مل سکے گی

جرمنی میں پیدا ہونے والے بچوں کو آٹومیٹکلی جرمن شہریت ملے گی اگر ان کے والدین میں سے کوئی ایک کم از کم پانچ سالوں سے قانونی طور پر جرمنی میں سکونت پذیر ہے

ساٹھ/ ستر کی دہائیوں میں، جرمنی میں آئے ہوئے نام نہاد ”مہمان ورکرز“ کے لئے نیشنلٹی کے لئے ”شہریت ٹیسٹ“ تحریری طور پر پاس کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف زبانی کلامی جرمن زبان آنی چاہیے۔

جرمن طرزِ زندگی اپنانے کی شرط کو نہایت ٹھوس وجوہات کی بناء پر استثنا دیا جا سکے گا لیکن ایک سے زیادہ منکوحہ عورتیں رکھنا یا مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کو نظر انداز کرنے والوں کو جرمن شہریت نہیں مل سکے گی۔

یہود مخالف، نسل پرستانہ یا دیگر غیر انسانی نظریات/اقدامات، جو جرمنی کے انسانی وقار کی ضمانت جیسے بنیادی قانون سے انحراف ہیں، کے حامل غیر ملکیوں کو جرمن شہریت نہیں ملے گی۔

اس کے علاوہ ہر درخواست گزار، جرمن ریاست کی تاریخی ذمہ داری کو تسلیم کرے کہ نازی دور میں غیر قانونی حکومت اور اس کے نتائج حقیقت پر مبنی تھے اور وہ یہودیوں کی زندگی کے تحفظ، پرامن بقائے باہمی یعنی تمام اقوام کا مل کر رہنا اور خصوصاً جارحیت کی جنگ لڑنے کی مخالفت کرتا ہے۔

اس قانون کے علاوہ جرمنی کے آزاد جمہوری بنیادی نظام کو ماننا اور درخواست میں حلفیہ بیانات کا اندراج ضروری ہو گا اور غلط کوائف کا اندراج، شہریت کے حصول میں رکاوٹ ہو گا۔

Facebook Comments HS