ہنی ٹریپ!


 

ہم ایک دوست کے مہمان تھے جہاں دو تین نوجوانوں نے گویا اپنی محفل جمائی ہوئی تھی اور کبھی ہلکے اور کبھی بلند آواز میں قہقہے لگا رہے تھے۔ اپنے وجود اور موجودگی کا احساس ہم نے بھی دلانے کی کوشش نہیں کی اور ایک حد تک نظر انداز کرنے کی ایکٹنگ ہی کرتے رہے اور غالب گمان یہ ہے کہ انھوں نے بھی ہمیں خاطر میں لانا اپنا توہین سمجھا ہو گا۔ یہ تو اچھا تھا کہ ہم دو ہی ساتھی تھے اور وہ بھی ”سوشل میڈیا ایکٹوسٹ“ جو اپنے اپنے موبائل میں مصروف تھے۔

قصہ مختصر یہ کہ ایک چیز جس نے مجھے چونکا دیا اور دھیان ان ہی کی طرف کھینچ ہی لیا وہ یہ کہ ایک نوجوان بڑے فخر کے ساتھ اپنی کارکردگی بیان کر رہا تھا کہ کس طرح وہ لوگوں کے ساتھ چیٹنگ کیا کرتا ہے اور رنگین باتوں سے لوگوں کو انگیج کر کے اور جذبات کو انگیخت کراتے ہوئے باتیں نکالنے میں کتنا ماہر ہے۔ ساتھیوں کو سکرین شارٹس دکھاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ دیکھو یہ فلاں حاجی صاحب ہے، فلاں امیر صاحب ہے، فلاں قاری صاحب ہے، فلاں ہیڈ ماسٹر صاحب ہے، فلاں ناظم ہے، فلاں ممبر ہے، فلاں ٹھیکیدار ہے، فلاں وکیل ہے اور یہ ان کی گفتگو اور خیالات ہیں۔

چونکہ ہم ساتھ ہی بیٹھے تھے تو اس دفعہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے بھی اپنے وجود کا احساس دلانے کے غرض سے شریک محفل رہے۔

نوجوان سے بالکل سیدھا سیدھا پوچھا کہ جن لوگوں کی ”بداخلاقی“ کا آپ نے تذکرہ کیا، چیٹنگ کا آغاز انھوں نے کیا تھا یا آپ نے، بتایا کہ ایک آدھ کے علاوہ باقی کے ساتھ میں نے کیا تھا۔

پھر تو آپ نے دوستی کا بھی حلف دیا ہو گا، محبت کی بھی قسمیں کھائیں ہوگی اور اعتماد دلانے کا بھی، اپنی خوش اخلاقی، تہذیب یافتہ ہونے اور خاندانی ہونے کی بھی یقین دہانیاں کرائی ہو گی۔ جی بالکل۔ اب وہ کچھ سنجیدہ سا ہونے لگا۔

تو کیا یہ بد اخلاقی نہیں ہو گی کہ کسی کی قربت پا کر اور بے تکلف ہو کر گپ شپ لگائے اور پھر ”قابلِ اعتراض“ باتوں کو بیچ چوراہے پہ نیلام کیا کرے، یہ تو خود بندے کی اخلاقی تربیت بلکہ خاندان پر بہت سارے سوالات لا کھڑا کیا کرتے ہیں۔ نوجوان نے تو سر جھکایا اور کوئی جواب ہی نہیں دیا البتہ ایک دوسرے نوجوان نے ہماری بات کی تائید کرتے ہوئے کہا، بالکل جی ایسا کرنا بہت برا ہے اور لوگ اچھے خاصے عزت دار لوگوں کو پھنسا کر ان کی پگڑیاں اچھالنے کی تراکیب کیا کرتے ہیں۔

یعنی کہ لوگ اعتماد، بھروسا کی آڑ میں بلیک میلنگ کیا کرتے ہیں۔ ہماری غصیلے انداز کو دیکھ کر ”بلیک میلر بھائی“ نے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا، جی ہم نے تو کبھی کسی سے پیسوں کی ڈیمانڈ نہیں کی ہے تو بلیک میلنگ کا کیا مطلب؟

برخوردار،

کسی کو مضطرب رکھنا، اسے پریشان رکھنا، اسے وسوسوں میں ڈالنا، ان کی مسکراہٹ چھین لینا، انھیں موضوع گفتگو بنوانا، اسے لوگوں کی نظروں میں مشکوک ٹھہرانا اور خود اپنی نظروں سے گرانا اور اپنے آپ کو مجرم گردان لینا ہی بلیک میلنگ ہوتی ہے۔

یار،

اعتماد، بھروسا اور کچھ بھرم کا تو خیال رکھا کر، اگر یہ چیزیں ناپید ہو جائیں تو زندگی کیسی بسر کی جائے، سوشل لائف بھی کیا چیز ہوتی ہے، اس کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، لوگوں کے ساتھ گھل مل جانا ہوتا ہے، سننا اور سنانا پڑتا ہے اور بے تکلفی کا اظہار بھی کرنا ہوتا ہے کہ ہر انسان کے احساسات اور جذبات ہوتے ہیں، بندہ روبوٹ تو نہیں بن سکتا!

بہت ساری باتوں کے آخر میں ہم نے اسے متنبہ کیا اور ہمدردانہ انداز میں کہا،
دیکھو،

تجسّس کرنا یعنی لوگوں کی برائیوں کی ٹوہ میں لگے رہنا اور اسے عام کر کے اسے بے توقیر کرنا گناہ ہے اور بہت بڑی بداخلاقی۔

چِکنی چُپڑی باتیں کَرنا اور آخر میں لوگوں کو بے عزت کرانے کے منصوبے بنانا اور عملی طور پہ کر کے دکھانا بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی بے توقیری اور رسوائی پر بہت خفا ہوتا ہے۔

یاد رکھئے،
پہیہ گھوم لیا کرتا ہے، کل آپ کی باری ہو گی۔

دوسروں کی عزتوں سے کھیلنا خود اپنی عزت کو نیلام کرانے کا مترادف ہے۔ اللہ کے بندوں کے پردوں کو چاک کرنا اور رازوں کو افشا کرنا خود ننگا ہونے کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔

حدیث رسول اللہ ﷺ کے مطابق جس نے کسی مسلمان بھائی کو بے پردہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس جگہ اسے بے پردہ کیا کرے گا جہاں اسے پردے میں رہنے کی ضرورت ہو، اور اللہ کے نبی نے قسم کھائی ہے کہ موت نہیں آئے گی جب تک اس دنیا میں اسے بے عزت نہ ہونا پڑے۔

رسولُ اللہ ﷺ نے اِرشاد فرمایا:

”جو اپنے مسلمان بھائی کے عیب تلاش کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے عیب کھول دے گا اور جس کے عیب اللہ عَزَّوَجَلَّ ظاہر کرے وہ مکان میں ہوتے ہوئے بھی ذلیل و رسوا ہو جائے گا“

دو تین دن بعد اسی نوجوان کا مسینجر میں میسج آیا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ یہ گندا مشغلہ ان کا رہا ہے لیکن اب اس پر ندامت ہے اور آئندہ نہ کرنے کا عزم ہے۔

میں نے اسے تفہیم القرآن سے سورہ حجرات ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھنے کی نصیحت کی جسے اس نے قبول کیا اور قریباً ہفتہ بعد میسج کے ذریعے بتایا کہ بہت ہی اعلیٰ تفسیر ہے اور اسے پڑھنے سے میں نے اپنی زندگی میں خوشگوار تبدیلی کے آثار بھی محسوس کیے ۔

حضرت،

آپ بھی احتیاط کیا کریں۔ کب تک کا کے بنتے رہوں گے۔ فی الحال تک آپ سوشل میڈیا کے رموز و اوقاف سے آگاہ نہیں ہے، اس کے شاطر خیالوں سے واقفیت نہیں رکھتے اور اس کی تباہ کاریوں کا ادراک بھی نہیں رکھ پاتے۔

ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی،
محبت کے ہر بول حقیقتاً ایسے نہیں ہوتے جیسا آپ سمجھ رہے ہوتے ہیں
اعتماد کا ہر دلاسا لائق اعتبار نہیں ہوتا
سامنے نظر آنے والا بچہ، وہ نہیں ہوتا
بہت حسین چہروں میں چھپے اور بہت کریہہ، مکروہ اور بدبودار چہرے ہوتے ہیں۔

اپنے جذبات اور خیالات پر پہرہ بٹھا دیجیے گا اور جو بھی اسے انگیخت کرنے کی شرارت کرتا ہے اسے ”بلاک“ مار کر دفن کیجئے گا۔

انجان اور ناشناسا لوگوں کو شک کی نظروں سے دیکھ لوں گے تو ممکن ہے کہ بچ جاؤ گے۔

اصل چیز تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم نہ ہو اور وہی علیم و خبیر ذات پردہ پوشی اور حفاظت نہ کریں تو بچنا ناممکن ہے۔

 

Facebook Comments HS